غامدی صاحب کا تصورِ نظم : چند سوالات

Published On December 11, 2025
فکرِ غامدی : قرآن فہمی کے بنیادی اصول ( قسط چہارم)

فکرِ غامدی : قرآن فہمی کے بنیادی اصول ( قسط چہارم)

ناقد :ڈاکٹرحافظ محمد زبیر تلخیص : وقار احمد اس ویڈیو میں ہم غامدی صاحب کے اصول تدبر قرآن میں میزان و فرقان میں قرات کے اختلاف پر گفتگو کریں گے غامدی صاحب لکھتے ہیں۔۔۔ایک یہ کہ قرآن میں بعض مقامات پر قراء ت کے اختلافات ہیں ۔یہ اختلافات لفظوں کے اداکرنے ہی میں نہیں...

فکرِ غامدی : قرآن فہمی کے بنیادی اصول ( قسط چہارم)

فکرِ غامدی : مبادیء تدبرِ قرآن ، میزان اور فرقان (قسط سوم، حصہ دوم)

ناقد :ڈاکٹرحافظ محمد زبیر تلخیص : وقار احمد اس ویڈیو میں زبیر احمد صاحب غامدی صاحب کے نظریہِ تفہیم و تبیین پر گفتگو فرمائی ہے۔وہ فرماتے ہیں کہ غامدی صاحب کا ماننا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرآن مجید کے کسی حکم کی تحدید و تخصیص نہیں کرسکتے ہاں البتہ تفہیم...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 100)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 100)

مولانا واصل واسطی  جناب غامدی آگے اپنی تائید میں اپنے استاد کی عبارت پیش کرتے ہیں کہ " استاد امام امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں " نظم کے متعلق یہ خیال بالکل غلط ہے کہ وہ محض علمی لطائف کی قسم کی ایک چیز ہے جس کی قران کے اصل مقصد کے نقطہ نظر سے کوئی خاص قدروقیمت نہیں ہے "...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 100)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 99)

مولانا واصل واسطی آگے جناب غامدی"نظمِ قران " کے عنوان کے متعلق خیالات کااظہار کرتے ہیں کہ " آٹھویں چیز یہ ہے کہ قران کی ہرسورہ کا ایک متعین نظمِ کلام ہے ۔ وہ اللہ تعالی کی طرف سے الگ الگ اورمتفرق ہدایات  کا کوئی مجموعہ نہیں ہے ۔ بلکہ اس کا ایک موضوع اور اس کی تمام...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 100)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 98)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی اتمامِ حجت کے بعد عذاب کی دوقسمیں مقرر کرتے ہیں (1) اول قسم کے متعلق لکھتے ہیں کہ " پہلی صورت میں رسول کے قوم کوچھوڑدینے کے بعدیہ ذلت ان پراس طرح مسلط کی جاتی ہے کہ آسمان کی فوجیں نازل ہوتی ، ساف وحاصب کاطوفان اٹھتا اورابروباد کے لشکران...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 100)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 97)

مولانا واصل واسطی  جناب غامدی  پیغمبر کی سرگذشت کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں " رسالت ایک خاص منصب ہے جونبیوں میں چند ہی کو حاصل ہواہے ۔ قران میں اس کی تفصیلات کے مطابق رسول اپنے مخاطبین کےلیے خداکی عدالت بن کرآتا ہے اور ان کافیصلہ کرکے دنیا سے رخصت ہوتا ہے ۔ قران بتاتا...

ڈاکٹر فرخ نوید

۔1- آیات کے معانی کی تعیین کے لئے مکتب فراہی بشمول غامدی صاحب نظم کو ضروری قرار دیتا ہے۔ لیکن نظم کو ملحوظ رکھ کر معنی کی تعیین تو خود ایک انسانی کاوش اور استنباطی عمل ہے کیونکہ نظم قرآن کی روشنی میں ایک ہی آیت کے مدعا و معنی کو متعین کرنے میں بھی اختلاف رائے ہو سکتا ہے۔ اگر ایسا ہے تو تمام آیات کا ایک ہی معنی و مفہوم تو مراد نہیں لیا جا سکتا۔ خود مکتب فراہی ہی کو لیجئے جہاں دعوی تو یہ کیا جاتا ہے کہ نؑظم کو ملحوظ رکھیں تو ایک ہی معنی ہونے چاہیئں مگر کیا عملا بھی ایسا ہی ہوتا ہے؟ کیا مولانا فراہی ‘ اصلاحی ‘ اور غامدی صاحب پورے قرآن کی تمام آیات کا (بشمول و آیات جو متضاد مفاہیم کی متحمل ہیں) نظم قرآن کی روشنی میں ایک ہی مطلب مراد لیتے ہیں؟ لہذا یہ دعوی کرنا کہ سیاق و سباق کی روشنی میں ایک سے زائد معانی کی گنجائش نہیں رہتی محل نظر ہے۔۔

۔2-دوسری بات یہ ہے کہ وہ آیات جو بظاہر متضاد مفاہیم کی متحمل ہیں (جیسے” والمطلقات یتربصن بانفسھن ثلاثة قروء ” یہاں لفظ قروء سے حیض و طہر دونوں مراد لیے جا سکتے ہیں) وہاں اگر کوئی صاحب علم نظم قرآن ہی کی روشنی میں اس کا ایک مفہوم مثلا طہر متعین کرتا ہے تو اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ جو مفہوم اس نے نظم کی روشنی میں متعین کیا ہے اس سے ہٹ کر کوئی اور مفہوم مراد نہیں لیا جا سکتا۔ اگر بعد میں آنے والے کوئی صاحب علم نظم ہی کی روشنی میں اس کا مخالف معنی مراد لیتے ہیں تو پھر یہ دعوی تو برقرار نہیں رہتا کہ نظم کی روشنی میں ایک ہی مفہوم مراد لیا جانا چاہیئے۔

۔3– مکتب فراہی نظم کی روشنی میں جو معنی متعین کرنے کی کوشش کرے گا اس میں خطاء کا امکان ہو گا یا نہیں؟ اگر آپ نظم کی روشنی میں معنی کی تعیین میں امکان خطاء تسلیم نہیں کرتے تو یہ تو صرف نبوت کا خاصہ ہے کہ نبی کی بات میں خطاء کا احتمال نہیں ہوتا۔ اور اگر آپ امکان خطاء تسلیم کرتے ہیں تو اس معنی کو حتمی حجت کیسے قرار دے سکتے ہیں۔

۔4- کیا صرف سورت میں موجود واقعات کے درمیان ربط قائم کرنا نظم ہے اور کیا آیت کے سیاق و سباق سے احکام کا استدلال نظم میں داخل ۔نہیں

۔5-کیا نظم کا مقصود حقیقت کلام واضح کرنا نہیں بلکہ صرف حکمت کلام واضح کرنا ہے ۔ اگر بات صرف اتنی سی ہے تو اس پہ اتنا فوکس کیوں کیا جاتا ہے۔ فراہی تفسیری مکتبہ فکر کا مابہ الامتیاز ہی نظم ہے۔

۔6- نظم کی روشنی میں معنی کا تعین کرنا اور بات ہے اور اس اخذ کردہ معنی کو حتمی حجت قرار دینا دوسری بات۔ آپ اپنے استنباطی معنی کو حجت کیسے قرار دے سکتے ہیں یہ کہتے ہوے کہ ایک معنی کے سوا کوئی اور معنی مراد نہیں لیا جا سکتا۔ حالانکہ خود صحابہ کرام میں مختلف آیات کی تشریح میں اختلاف ہوا ہے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…