ڈاکٹر فرخ نوید
۔1- آیات کے معانی کی تعیین کے لئے مکتب فراہی بشمول غامدی صاحب نظم کو ضروری قرار دیتا ہے۔ لیکن نظم کو ملحوظ رکھ کر معنی کی تعیین تو خود ایک انسانی کاوش اور استنباطی عمل ہے کیونکہ نظم قرآن کی روشنی میں ایک ہی آیت کے مدعا و معنی کو متعین کرنے میں بھی اختلاف رائے ہو سکتا ہے۔ اگر ایسا ہے تو تمام آیات کا ایک ہی معنی و مفہوم تو مراد نہیں لیا جا سکتا۔ خود مکتب فراہی ہی کو لیجئے جہاں دعوی تو یہ کیا جاتا ہے کہ نؑظم کو ملحوظ رکھیں تو ایک ہی معنی ہونے چاہیئں مگر کیا عملا بھی ایسا ہی ہوتا ہے؟ کیا مولانا فراہی ‘ اصلاحی ‘ اور غامدی صاحب پورے قرآن کی تمام آیات کا (بشمول و آیات جو متضاد مفاہیم کی متحمل ہیں) نظم قرآن کی روشنی میں ایک ہی مطلب مراد لیتے ہیں؟ لہذا یہ دعوی کرنا کہ سیاق و سباق کی روشنی میں ایک سے زائد معانی کی گنجائش نہیں رہتی محل نظر ہے۔۔
۔2-دوسری بات یہ ہے کہ وہ آیات جو بظاہر متضاد مفاہیم کی متحمل ہیں (جیسے” والمطلقات یتربصن بانفسھن ثلاثة قروء ” یہاں لفظ قروء سے حیض و طہر دونوں مراد لیے جا سکتے ہیں) وہاں اگر کوئی صاحب علم نظم قرآن ہی کی روشنی میں اس کا ایک مفہوم مثلا طہر متعین کرتا ہے تو اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ جو مفہوم اس نے نظم کی روشنی میں متعین کیا ہے اس سے ہٹ کر کوئی اور مفہوم مراد نہیں لیا جا سکتا۔ اگر بعد میں آنے والے کوئی صاحب علم نظم ہی کی روشنی میں اس کا مخالف معنی مراد لیتے ہیں تو پھر یہ دعوی تو برقرار نہیں رہتا کہ نظم کی روشنی میں ایک ہی مفہوم مراد لیا جانا چاہیئے۔
۔3– مکتب فراہی نظم کی روشنی میں جو معنی متعین کرنے کی کوشش کرے گا اس میں خطاء کا امکان ہو گا یا نہیں؟ اگر آپ نظم کی روشنی میں معنی کی تعیین میں امکان خطاء تسلیم نہیں کرتے تو یہ تو صرف نبوت کا خاصہ ہے کہ نبی کی بات میں خطاء کا احتمال نہیں ہوتا۔ اور اگر آپ امکان خطاء تسلیم کرتے ہیں تو اس معنی کو حتمی حجت کیسے قرار دے سکتے ہیں۔
۔4- کیا صرف سورت میں موجود واقعات کے درمیان ربط قائم کرنا نظم ہے اور کیا آیت کے سیاق و سباق سے احکام کا استدلال نظم میں داخل ۔نہیں
۔5-کیا نظم کا مقصود حقیقت کلام واضح کرنا نہیں بلکہ صرف حکمت کلام واضح کرنا ہے ۔ اگر بات صرف اتنی سی ہے تو اس پہ اتنا فوکس کیوں کیا جاتا ہے۔ فراہی تفسیری مکتبہ فکر کا مابہ الامتیاز ہی نظم ہے۔
۔6- نظم کی روشنی میں معنی کا تعین کرنا اور بات ہے اور اس اخذ کردہ معنی کو حتمی حجت قرار دینا دوسری بات۔ آپ اپنے استنباطی معنی کو حجت کیسے قرار دے سکتے ہیں یہ کہتے ہوے کہ ایک معنی کے سوا کوئی اور معنی مراد نہیں لیا جا سکتا۔ حالانکہ خود صحابہ کرام میں مختلف آیات کی تشریح میں اختلاف ہوا ہے۔