عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

Published On January 6, 2026
انسان کا حاسہ باطنی اور غامدی صاحب

انسان کا حاسہ باطنی اور غامدی صاحب

محمد حسنین اشرف غامدی صاحب وجودی حقائق  پر مزید گفتگو کریں گے تو لطف کی شے ہوگی لیکن سر دست دو چیزوں کو دیکھنا دلچسپ ہے۔ عقل (وہ فرماتے ہیں): "(۔۔۔) ان کو سمجھنے کے لیے جو ملکہ انسان کو عطا ہوا ہے اسے ہم عقل سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہی انسان کا اصلی شرف ہے۔ اس کو جو ذرائع...

سائنس میں عقلی امکانات اور غامدی صاحب

سائنس میں عقلی امکانات اور غامدی صاحب

محمد حسنین اشرف اپنی حالیہ ویڈیو میں گفتگو کرتے ہوئے غامدی صاحب نے کچھ یوں فرمایا ہے: "حیاتیات میں نظریہ ارتقا کیا ہے؟ یعنی عقلی امکانات میں سے ایک امکان، وہ امکان بہت قوی ہوسکتا ہے اس میں ظن غالب کی حد تک آپ کسی چیز کو درست قرار دے سکتے ہیں لیکن وہ ہے عقلی امکان ہی...

کلامی مواقف کی بے معنی تلفیقات :اصلاحی و ندوی گروپ پر نقد

کلامی مواقف کی بے معنی تلفیقات :اصلاحی و ندوی گروپ پر نقد

ڈاکٹر زاہد مغل متاخرین کے ہاں کلامی مواقف کے مابین تلفیق پیدا کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم ماضی کے سب بڑے علما کو اچھی نظر سے دیکھتے اور اپنا مشترکہ ورثہ سمجھتے ہیں اور خواہش رکھتے ہیں کہ ان کی ہر اختلافی رائے کی ایسی توجیہ کرلیں جس سے سب کی سب آراء کے بارے میں...

محمد عامر گردز

عید الاضحی کی قربانی کا ارادہ کرنے والوں پر ذو الحجہ کا چاند دیکھنے کے بعد سے قربانی کر لینے ایک شرما جسم کے بالوں اور ناخن کاٹنے کی پابندیاں عائد ہوتی ہیں یا نہیں، اس مسئلے میں علما و فقہا کے مابین اختلاف ہے۔ بعض فقہا و محد ثین ان دونوں افعال کو قربانی کرنے والوں کے لیے عشرہ ذی الحجہ میں حرام قرار دیتے ہیں۔بعض فقہا کی رائے کے مطابق یہ حرام نہیں، بلکہ مکروہ ہیں، جب کہ صدر اول کے جمہور علما و فقہائے امصار کے موقف کے مطابق یہ افعال قربانی کا ارادہ کرنے والوں کے لیے ان ایام میں بھی میان ہیں۔ علم کی دنیا میں اس حکم کا تنہا ماخذ سید دام سلمہ سے منقول ایک روایت ہے جس میں وہ کہتی ہیں کہ نبی صلی ٹیم نے فرمایا: “إِذَا رَأَيْتُمْ هِلَالَ ذِي الْحِجَّةِ، وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحي، فَلْيُمْسِكْ عَنْ شَعْرِهِ وَأَظْفَاره ) ( تم جب ذی الحجہ کا چاند دیکھ او اور تم میں سے کوئی شخص قربانی کا ارادہ رکھتا ہو تو اسے چاہیے کہ اپنے بالوں اور ناخنوں کو کالنے سے باز رہے۔) اس قضیے میں علماء فقہا و محد ثین کے اختلاف کا بنیادی سبب یہ ہے کہ جن اصحاب علم کے نزدیک سیدہ ام سلمہ سے مردی اس حدیث کی نسبت نبی صلی علیم سے ثابت ہے اور اس باب میں حکم کے اثبات کے لیے ایک خبر واحد کا ثبوت کافی ہے، وہ قربانی سے متعلق اس حکم کو شرعا واجب یا مستحب مانتے ہیں۔ اور جن علما وفقہا کے نزدیک اصول علم روایت و درایت کی رو سے حدیث باب کی نسبت رسالت تاب علی ایام سے ثابت نہیں ہے اور اس نوعیت کے احکام میں خبر واحد سے حکم کا اثبات ممکن نہیں ہے، وہ زیر بحث حکم کو تسلیم نہیں کرتے۔ اس قضیے میں جناب جاوید احمد غامدی کا موقف ائمہ و فقہا کی مذ کورہ بالا تینوں آرا سے مختلف اور بعض پہلووں سے منفرد ہے۔ ذیل میں پہلے ان کے نقطہ نظر کو ان کے بیان کر دو استدلال و توضیحات کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔

جاوید احمد غامدی صاحب کا موقف

محترم غامدی صاحب اپنی کتاب میزان میں قربانی کی شریعت کے ان احکام کو بیان کرنے کے بعد جو مسلمانوں کے اجماع اور تو اتر عملی سے ثابت ہیں، لکھتے ہیں :۔

قربانی کا قانون ہیں ہے۔ کہیں سی ایم نے البتہ ۔ اس کے بارے میں چند باتوں کی وضاحت فرمائی ہے: اول یہ کہ قربانی کے مہینے میں قربانی کرنے والے حج و عمرہ میں ایک سنت ثابتہ کی حیثیت سے جاری نذر کی قدیم روایت کے مطابق قربانی سے پہلے نہ اپنے ناخن کا نہیں گے اور نہ بال کمتر وائیں گے ۔ آپ کا ارشاد ہے کہ کسی شخص کو قربانی کے لیے جانور میسر نہ ہو تو عید کے دن وہ یہ بڑھے ہوئے ناخن کاٹے اور بال کمتر وارے، اللہ کے نزدیک اس کے لیے یہی پوری قربانی ہے۔

غامدی صاحب نے اپنے مذکورہ بالا موقف کی جس طرح وضاحت کی ہے اس کے مطابق ان کا کہنا یہ ہے کہ عید الاضی کی قربانی سے متعلق نبی سل تعلیم کی ہدایت کے مطابق قربانی کرنے والے عشرہ ذی الحجہ میں نہ صرف یہ کہ اپنے جسم کے کوئی بال اور ناخن نہیں کائیں گے، علاوہ ازیں ان کو قربانی کر لینے کے بعد اپنے بڑھے ہوئے ناخن کاٹنے اور سر کے بالوں کا حلق یا قصر بھی کرانا ہو گا۔ قربانی سے پہلے اور بعد کے ان احکام کی تعمیل کی ہدایت نبی صلی ٹیم نے قربانی کرنے والوں پر ایک امر مستحب کے طور پر فرمائی ہے، اس کو لازم نہیں فرمایا ہے۔ آپ نے یہ ہدایت حج و عمرہ میں ایک سنت ثابتہ کی حیثیت سے جاری نذر کی قدیم روایت کی مطابقت میں فرمائی ہے، تا کہ قربانی کرنے والے اگر چاہیں تو جانور قربان کرنے کے علاوہ نذر کی یہ عبادت بھی پورے اہتمام کے ساتھ انجام دیں۔

غامدی صاحب نے زیر بحث مسئلے پر سوال و جواب کی بعض نشستوں میں اپنے مندرجہ بالا موقف کی تفصیلی وضاحت جس طرح خود فرمائی ہے، وہ حسب ذیل ہے۔

حج و عمرہ کی عبادات کے جو مناسک اسلامی شریعت میں سنت ثابتہ کی حیثیت سے مسلمانوں میں اجماع و تواتر سے جاری ہیں، ان میں سے چار مراسم عبودیت ایسے ہیں جن میں سے ہر ایک کو مجرد کر کے اُس کے حدود و شرائط کی رعایت کے ساتھ ایک مکمل عبادت کے طور پر مسلمان جب چاہیں یہ طور نفل ادا کر سکتے ہیں۔ ایک طواف بیت اللہ ، دوسرے صفا و مروہ کی سعی، تیسرے جانور کی قربانی اور چوتھے نذر کی عبادت ہے جو تین مراسم کی صورت میں مناسک حج و عمرہ کے اندر موجود ہے۔ یہ عبادت نذر دو پابندیوں اور ایک عمل پر مشتمل ہے۔ یعنی اس میں جسم کے کسی بھی حصے کے بال اتارنے اور ناخن تراشنے کی پابندی اور بالآخر تشکیل نذر کے اظہار کے لیے سرکے بالوں کا حلق یا قصر کرانا ہوتا ہے۔

غامدی صاحب کہتے ہیں کہ مناسک حج و عمرہ میں سنت ثابتہ کی حیثیت سے جاری مذکورہ بالا چار مراسم عبودیت میں سے پہلے دور یعنی طواف بیت اللہ اور صفا و مروہ کی سعی، ظاہر ہے کہ شریعت میں اپنے مقرر کردہ مقامات ہی کے ساتھ خاص ہیں۔ تاہم مسلمان جب چاہیں ، طواف وسعی کے یہ پھیرے اپنے متعین مقامات پر تطوع کے طور پر بھی لگا سکتے ہیں۔ تیسرے جانور کی قربانی ہے جس میں زمان و مکان کی کوئی قید و شرط نہیں ہے۔ آدمی جب چاہے اور جہاں چاہے، نقلی قربانی کر سکتا ہے۔ جہاں تک چوتھے ملک، یعنی نذر کی عبادت کا تعلق ہے جس میں بندہ مومن اپنے جسم کے بالوں اور ناخن کاٹنے کی پابندیاں اختیار کرتا اور بالآخر اللہ کے حضور میں اپنی نذر کی تکمیل کے اظہار کے لیے سر کا حلق یا قصر کراتا ہے؛ دین ابراہیمی کی روایت سے آخری شریعت تک حج و عمرہ کے مناسک میں موجود انڈر کی یہ عبادت انھی تین احکام کو بجالانے سے عبارت ہے ۔ یہ بذات خود ایک مکمل عبادت ہے۔ مسلمان بطور تطوع اسے جب چاہیں اور جہاں چاہیں ادا کر سکتے ہیں۔ یعنی جانور کی قربانی کی طرح اس میں بھی زمان و مکان کی کوئی قید و شرط نہیں ہے۔ نبی صلی علیم نے عید الاضحی کے موقع پر قربانی کے ساتھ یا قربانی کے بغیر بھی در حقیقت اسی عبادت نذر کو بجالانے کی ہدایت فرمائی ہے جو اصلا حج و عمرہ میں ایک سنت نتاجہ کے طور پرجاری ہے۔

غامدی صاحب نے اپنی گفت گو میں یہ وضاحت بھی فرمائی ہے کہ جس طرح حج و عمرہ میں نذر کے یہ تینوں مراسم قربانی کے بغیر بھی ادا کیے جاتے ہیں، اسی طرح عید الاضحی کے موقع پر آدمی کو قربانی میسر نہ ہو اتب بھی یہ تینوں احکام وہ نبی صلی ا کی تلقین کے مطابق نقل کے طور پر بجا لا کر اپنی نذر کی عبادت بہر حال انجام دے سکتا ہے، اس لیے کہ نذر کی عبادت کے یہ تینوں مراسم بھی، طواف، سعی اور قربانی کی طرح اپنی مستقل حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ قربانی کی عبادت پر منحصر نہیں ہیں، جیسا کہ مناسک حج و عمرہ سے واضح ہے۔

علاوه از این نامدی صاحب کا کہنا ہے کہ عید الاضحیٰ کے موقع پر ان مراسم نذر کو بہ طور تطوع ادا کرنے کے موقف پر ان کے استدلال کی بنیاد خبر واحد کے طور پر نقل ہونے والی کوئی حدیث نہیں ہے، بلکہ حج و عمرہ کے مناسک میں موجود عبادت نذر کی یہی اساس ہے جو اجتماع و تواتر سے ثابت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ واضح رہے کہ جو عمل ایک مرتبہ سنت ثابتہ کی حیثیت سے عبادت کے طور پر دین میں مشروع کر دیا جائے تو قرآن نے کہا ہے کہ اس کے حدود و شرائط پورے ہو سکتے ہوں تو آدمی جب چاہے ، اس کو تطوعاً بھی ادا کر سکتا ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ﴿ وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ ) (اور جس نے اپنے شوق سے نیکی کا کوئی کام کیا تو اللہ اسے قبول کرنے والا ہے۔) اسی طرح کوئی عبادت جب شریعت میں بہ طور سنت ایک مرتبہ جاری کر دی جائے تو پھر اس بات کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی کہ اس کو تطوع کے طور پر انجام دینے کے لیے بھی ایک باقاعد ہ سنت قائم کی جائے ۔ جیسے مثال کے طور پر سجدہ نماز میں ثابت ہے اور نبی سلاتی ہم نے اپنی تلاوت کے دوران میں تطوع بھی سجدے کیے ہیں۔ اسی طرح روزے کی عبادت شریعت میں قطعیت سے ثابت ہے اور نبی صلی مقیم نے شوال کے چھے نفلی روزوں کی فضیلت بھی بتائی ہے ۔

غامدی صاحب کے مذکورہ بالا موقف کا خلاصہ یہ ہے کہ عید الاضحی کی قربانی جس طرح ایک مستقل عبادت ہے، اندر کی عبادت بھی دین میں اسی طرح اپنی مستقل حیثیت رکھتی ہے۔ عید کے موقع پر آدمی قربانی کر رہا ہو یا نہ کر رہا ہو، دونوں صورتوں میں نبی صلی یا نظم کی ہدایت کی تعمیل میں دو چاہے تو نذر کی یہ نقل عبادت انجام دے۔ اس عبادت کے تین مراسم ہیں جنہیں و د ادا کرے گا۔ عشر و ذی الحجہ کے آغاز سے وہ اپنے جسم کے کوئی بال کتروائے گا، نہ ناخن تراشے گا اور پھر عید الاضحی کے دن سر کا حلق یا قصر کرائے گا۔

غامدی صاحب کے مندرجہ بالا موقف میں بیان کردہ تفصیلات میں ان کے بنیادی مقدمات اور اہم نکات کا خلاصہ حسب ذیل ہے:۔

موضوع بحث قضیے میں غامدی صاحب کے موقف واستدلال کی بنیاد کوئی خبر واحد نہیں ہے۔

قربانی سے پہلے اور بعد کے مندرجہ بالا تینوں احکام کی اساس عبادت نذر کی قدیم روایت ہے جو حج و عمرہ میں ایک سنت ثابتہ کی حیثیت سے جاری ہے۔ نبی صل للہ ہم نے عید کی قربانی کرنے والوں کو ان مراسم کی ہدایت نذر کی اس روایت کی مطابقت میں دی ہے۔

ندر کی عبادت کے یہ تینوں مراسم چوں کہ حج و عمرہ کی شریعت میں موجود ہیں، اس لیے عید الافتی کے موقع پر اس عبادت کی نقلی متقین کے خبر واحد کے ذریعے سے ثابت ہونے میں کوئی چیز مانع نہیں ہے، بلکہ اس طرح کے حکم کے اثبات کے لیے نبی مسی تعلیم سے مروی خبر واحد کفایت کرتی ہے۔ چناں چہ یہ اس باب میں مروی سید وام سلمہ اور عبد اللہ بن عمر والی انجنا سے منقول دونوں روایتیں قابل حجت ہیں۔ عشرہ ذی الحجہ اور عید الاضحی کے موقع کے لیے ان احکام کی تعمیل کی ہدایت میں صلی علیہم نے قربانی کرنے والوں اور نہ کرنے والوں، دونوں کو ایک امر مستحب کے طور پر فرمائی ہے۔ آپ نے اس کو لازم نہیں فرمایا ہے۔ تطوع کے طور وہ چاہیں تو انھیں انجام دے سکتے ہیں۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…