(7) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

Published On January 19, 2026
کلامی مواقف کی بے معنی تلفیقات :اصلاحی و ندوی گروپ پر نقد

کلامی مواقف کی بے معنی تلفیقات :اصلاحی و ندوی گروپ پر نقد

ڈاکٹر زاہد مغل متاخرین کے ہاں کلامی مواقف کے مابین تلفیق پیدا کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم ماضی کے سب بڑے علما کو اچھی نظر سے دیکھتے اور اپنا مشترکہ ورثہ سمجھتے ہیں اور خواہش رکھتے ہیں کہ ان کی ہر اختلافی رائے کی ایسی توجیہ کرلیں جس سے سب کی سب آراء کے بارے میں...

سنت کے تصور پر غامدی صاحب کی پر تکلف دلیل و تاویل پر تبصرہ

سنت کے تصور پر غامدی صاحب کی پر تکلف دلیل و تاویل پر تبصرہ

ڈاکٹر زاہد مغل غامدی صاحب کا کہنا ہے کہ سنت قرآن سے مستقل اعمال ہیں جو آپﷺ نے دین ابراہیمی کی روایت کی اتباع میں جاری فرمائے۔ بغور جائزہ لینے پر معلوم ہوتا ہے کہ سنت و غیر سنت کا آخری پیمانہ ان کے نزدیک یہ ہے کہ جو عمل تواتر سے پہنچا وہ سنت اور دوسرا قرآن کی وہ تبیین...

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 4

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 4

پروفیسر عبدالرحیم قدوائی   ۔(6) غامدی کے ہاں معروف اصول تفسیر اور جمہور کے مسلمہ عقائد سے انحراف عام ہے۔ طرہ یہ کہ اپنی آرا کے لیے وہ کوئی سند یا دلیل نہیں پیش کرتے ، صرف اپنا قول فیصل صادر کر دیتے ہیں۔ ان کی رائے میں سورۃ الاحزاب، آیات ۳۲ تا ۳۵ میں مذکور احکام...

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 4

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 3

پروفیسر عبدالرحیم قدوائی تصنیف کے آغاز میں غامدی کا چند سطری دیباچہ ہے تعلی کے اس بلند و بانگ اعلان کے طور پر: " تراجم کی تاریخ کے لحاظ سے یہ پہلا ترجمہ قرآن ہے جس میں قرآن کا نظم اس کے ترجمے ہی سے واضح ہو جاتا ہے۔ وہ اولیت کے اس خود ساختہ مقام پر ہے۔ مجھے وہ ساختہ...

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 4

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 2

پروفیسر عبدالرحیم قدوائی پانچ ضخیم جلدوں پر مشتمل غامدی کی اردو تفسیر البیان ۲۰۱۰ء میں طبع ہوئی، جو ہزاروں مبسوط تفسیری حواشی سے مزین ہے، بد قسمتی سے جن میں سے زیادہ تر مذموم تفسیر بالرائے کے آئینہ دار ہیں۔ اس کا ثبوت رڈ غامدیت پر مشتمل متعدد کتب اور مقالات ہیں۔ میرے...

محمد عامر گردز

اس مسئلے میں غامدی صاحب کے تصور کے مطابق ام سلمہ اور ابن عمر و نی جگہ سے مروی دونوں روایتیں اگر قبول کرلی جائیں تو اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ پہلے حدیث ام سلمہ نے قربانی کی شریعت پر مسلمانوں کے لیے دس روزہ دو پابندیوں کا اضافہ کیا اور پھر ایک دیہاتی آدمی کے اتفاقی واقعے نے تمام مسلمانوں کے لیے عید کے دن بال اتارنے کے قلم کا اضافہ بھی کیا ہے۔ یعنی عبادت نذر کے دو مراسم حدیث ام سلمہ میں اور ایک حکم اس بدو شخص کے اتفاقی واقعے میں بیان ہوا ہے۔ اس طرح کا استدلال و استنباط ، ظاہر ہے کہ نہایت کم زور اور ناقابل قبول ہے۔ راقم الحروف کے نزدیک زیر بحث واقعے سے غامدی صاحب کا موقف قطعا ثابت نہیں ہوتا، اس لیے کہ تدبر سے دیکھیے کہ اس میں نہ عید کی قربانی کا ذکر ہے اور نہ حدیث ام سلمہ میں بیان ہونے والی دونوں پابندیوں کی کوئی تعلقین اس میں بیان ہوئی ہے۔ بلکہ ایک نادار شخص کو، جسے قربانی کا جانور میسر نہیں تھا، آپ کی طرف سے عید کے دن بال کٹوانے، ناخن تراشنے ، مونچھیں پست کرنے اور زیر ناف کے بال مونڈنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ جب کہ حج و عمرہ کے مناسک میں قربانی کے بعد یا اُس کے بغیر حالت احرام سے نکلنے کے لیے صرف سر کے بالوں کے حلق یا قصر کا حکم ہے۔ حالت احرام سے نکل جانے کے بعد ناخن تراشنے یا جسم کے دوسرے حصوں سے بالوں کو صاف کرنے کا حج و عمرہ کے احکام و مناسک سے قطعا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس سے بالید بہت واضح ہے کہ نامدی صاحب کی راے کے برعکس اس واقعے میں تلقین کیے جانے والے آداب کا مناسک حج و عمرہ سے کسی نوعیت کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

اسی طرح دیکھ لیجیے کہ دیہاتی آدمی کے اس واقعے میں بھی نذر کی روایت کا کوئی عنوان یا اسم مذکور ہے، نہ جسم کے بالوں اور ناخن کاٹنے کے ان آداب عید کے حج و عمرہ سے متعلق ہونے کا کوئی قرینہ اس میں موجود ہے۔ لہذا واضح ہوا کہ غامدی صاحب نے جن مناسک حج و عمرہ کو اس روایت میں زیر بحث احکام کی اساس بتایا ہے، استدلال کے طور پر خود ان کی پیش کی گئی اس روایت کا متن و مضمون بھی اس اصل سے بالکل مطابقت نہیں رکھتا۔ غرضے کہ غامدی صاحب کا موقف اس واقعے سے بھی قطعا ثابت نہیں ہوتا۔

اس واقعے کی تفصیل کے مطابق سوال کرنے والا ایک دیہاتی آدمی قربانی کی استطاعت نہیں رکھتا تھا اور نبی صلی الہ ہم نے بھی اسے اس سے رخصت دے دی تھی۔ چناں چہ غامدی صاحب کے موقف کی تائید اس واقعے سے اسی صورت میں ہوتی، جب اس میں ان کے بہ قول اب جانور کی قربانی بجائے نذر کی دو پابندیاں اختیار کرنے اور پھر تحمیل نذر کے اظہار کے لیے عید کے دن صرف سر کے حلق یا قصر کا حکم به صراحت بیان ہوتا، تا کہ زیر بحث حکم کو غامدی صاحب حج و عمرہ کے مناسک سے جس طرح متعلق کر رہے ہیں، اُس میں اور اس روایت میں پوری طرح موافقت اور ہم آہنگی ثابت ہو جاتی جب کہ روایت کے مشمولات واضح طور پر اس کے منافی ہیں، اس لیے کہ نبی ملی ہم نے اس نادار شخص کو نہ دو پابندیاں اختیار کرنے کی ہدایت فرمائی ہے اور نہ عید کے دن صرف سر کے حلق یا قصر کی تلقین فرمائی ہے۔

اس تفصیل سے یہ بات بھی واضح ہوئی کہ عبد اللہ بن عمرو یا جنا سے مروی زیر بحث قصے سے غامدی صاحب کا یہ استدلال کرنا بھی قطعا درست نہیں ہے کہ آدمی قربانی کی استطاعت نہ رکھتا ہو ، جب بھی نذر کی عبادت کے تین آداب کو بجالا نا اُس کے لیے مستحب ہے۔ ایسی کوئی بات اس روایت میں بیان ہوتی ہے، نہ اس کا کوئی قرینہ یا اشارہ اس میں دکھایا جا سکتا ہے۔

عبد الله بن عمرو عنہا سے مروی موضوع بحث واقعے کی روشنی میں غامدی صاحب کے مقدمے پر چار اشکالات وارد ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں قربانی کرنے والوں کے لیے عشرہ ذی الحجہ میں بال اور ناخن کاٹنے کی پابندیاں بیان ہوئی ہیں، نہ ان لوگوں کے لیے جو اس کی استطاعت نہیں رکھتے۔ دوسرے یہ کہ حج و عمرہ میں نامدی صاحب جس عمل کو تشکیل نذر کی علامت قرار دیتے ہیں، وہ صرف سر کا حلق یا قصر ہے۔ یہ حکم بھی اس روایت میں مذکور نہیں ہے۔ اس کے بجائے زیر بحث روایت میں نبی صلی ٹیم نے سائل کو چار کاموں کی اس طرح ہدایت فرمائی ہے کہ : تَأْخُذُ مِنْ شَعْرِكَ، وَتُقَلِّمُ أَطْفَارَكَ، وَتَقُصُّ شَارِبَكَ، وَتَحْلِقُ عَانَتَكَ ) ( تم (عید کےدن ) اپنے سر بال کے کائنا، ناخن تراشناء مونچھیں پست کرنا اور زیر ناف کے بال مونڈنا۔ اللہ تعالی کے نزدیک یہی کام تمھاری طرف سے پوری قربانی شمار ہوں گے۔ تیسرے یہ کہ غامدی صاحب نے حج و عمرہ کے مناسک کے پیش نظر تحلیل نذر کی علامت عید کے دن صرف سر کے حلق یا قصر کرانے کو قرار دیا ہے جس سے اس واقعے میں بیان ہونے چار احکام کی منافات بالکل واضح ہے۔ اب اگر بالفرض غامدی صاحب کہیں کہ اس روایت میں بیان ہونے والے چاروں ہی آداب تحمیل نذر کی علامت ہیں تو اس صورت میں حج و عمرہ میں ان کی اپنی دکھائی ہوئی اساس مزاحم و معارض ہوتی ہے، اس لیے کہ تطہیر بدن کے ان چار احکام کا حج و عمرہ کے مناسک سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ چوتھے یہ کہ عید کے دن تعمیر بدن کے لیے بیان کیے گئے آداب کو بھی نبی صلی علیم نے نذر یا اس کی تحصیل قرار نہیں دیا ہے، بلکہ فرمایا ہے کہ: ” فَذَلِكَ تَمامُ أَضْحِيَّتِكَ عِندَ الله ( اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہی کام تمھاری طرف سے پوری قربانی شمار ہوں گے۔ جب کہ غامدی صاحب کے نزدیک تو قربانی ایک الگ عبادت ہے اور مراسم نذر ایک بالکل الگ عبادت ہیں۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ حلق و قصر کا تعلق قربانی سے نہیں ہے۔

 

 

 

چناں چہ اس پہلو سے بھی روایت کے مشمولات کے ساتھ غامدی صاحب کے موقف کی عدم موافقت بالکل واضح ہے۔ اپنی کتاب میزان میں اس روایت کا حوالہ دیتے ہوئے جو بات انھوں نے اس طرح بیان کی ہے کہ : آپ کا ارشاد ہے کہ کسی شخص کو قربانی کے لیے جانور میسر نہ ہو تو عید کے دن وہ یہ بڑھتے ہوئے ناخن کاٹے اور بال کتر وادے ۔ (۳) اس سے یہ شائبہ پیدا ہو سکتا ہے کہ جیسے نبی صلی علیم نے اس روایت میں عید کے دن دو کاموں کی ہدایت فرمائی ہے ، جب کہ واقعے کی پوری تفصیل وہی ہے ، جو اوپر بیان کی گئی ہے۔

مندرجہ بالا معروضات سے یہ ثابت ہوا کہ دیہاتی آدمی کے اس واقعے کو نہ حدیث ام سلمہ کے حکم کی تائید کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے اور نہ اس سے مراسم نذر کی اس عبادت کا استنباط کیا جاسکتا ہے جس کو غامدی صاحب نے حج و عمرہ کے مناسک میں دکھایا ہے۔

در اصل اس روایت کا صحیح مفہوم وہی ہے جو علماو شارحین حدیث نے عام طور پر بیان کیا ہے کہ جو شخص قربانی کی سچی نیت کے باوجود اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو، تب بھی وہ عید کے دن شریعت کی مقرر کردہ تطہیر بدن کی عمومی سفن کا اہتمام کر کے اس مبارک دن کی خوشیوں میں شریک ہو گا اور وہ اپنی نیت کے مطابق عند اللہ قربانی ہی کا مکمل اجر بھی پائے گا۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ عید کے دن یہ نادار شخص اگر یہ کام انجام نہیں دے گا تو اس کی قربانی ادھوری شمار ہو گی ، ورنہ پوری قربانی سمجھی جائے گی ۔

قربانی کے بعد کسی بھی حیثیت سے ایسے کوئی آداب و شعائر دین میں مشروع ہوتے تو نہ صرف یہ کہ رسالت مآب منی ایام انھیں با قا عدد اپنے ماننے والوں کو اسی طرح دیتے جس طرح انھوں نے دین اسلامی کے باقی احکام و آداب دیے ہیں، بلکہ اس صورت میں عید کو جانور قربان کرنے کے علاوہ قربانی کے بعد کے یہ اضافی تعبدی احکام بھی طبقہ صحابہ سے آج تک مسلمانوں میں روایت اور عمل، دونوں اعتبارات سے معلوم و معروف ہوتے۔ جیسے مثال کے طور پر مناسک حج کو مکمل کر لینے کے بعد غیر مکی حاجیوں کے لیے بیت الحرام سے رخصت ہوتے ہوئے الوداعی طواف کرنے کی نبوئی ہدایت اور آج تک مسلمانوں کا اُس پر علم و عمل معلوم و معمول یہ ہے۔ عبد اللہ بن عمر و یا جنا سے مروی زیر بحث واقعے کے مندرجہ بالا تجزیے سے صاف واضح ہے کہ اس

روایت میں بیان ہونے والے اعمال در اصل عید کے آداب ہیں۔ یہ نذر کے آداب کی حیثیت سے کوئی نقلی احکام نہیں ہیں جو اس غریب و مضطرب روایت کے ذریعے سے نقل ہوئے ہیں، بلکہ عید کے دن مسلمانوں کے لیے، چاہے کوئی قربانی کی استطاعت رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو، یہ تطہیر بدن کے عمومی سفن کے اہتمام کی تلقین اور استحباب کا بیان ہے۔ اس فہم کے تناظر میں اس غریب روایت کو قبول کرنے میں بھی کوئی چیز علمی طور پر مانع نہیں ہوتی۔

غامدی صاحب نے اپنے اس تصور کے لیے کہ قربانی نہ کرنے والوں کے لیے بھی عشرہ ذی الحجہ میں بالوں اور ناخن کاٹنے کی پابندیاں اختیار کرنا اور پھر عید کے دن سر کا حلق یا قصر کرانا انڈر کی ایک نفل عبادت ہے ؟ ایطور استشہاد یہ مثال دی ہے کہ حج و عمرہ میں یہ تینوں مراسم قربانی کے بغیر بھی ادا کیے جاتے ہیں۔ غامدی صاحب کی یہ مثال بھی محل نظر ہے جس کی تفصیل درج ذیل ہے:

حج و عمرہ میں یہ تینوں احکام اور دوسرے بہت سے مناسک بہر صورت ادا کیے جاتے ہیں، اس لیے کہ یہ سب حج و عمرہ کے منجملہ لازمی مناسک کے ہیں۔ جہاں تک قربانی کا تعلق ہے تو حج و عمرہ میں ہدی کی قربانی اپنے گھر سے ساتھ لے کر جانا ایک پسندید و سنت ہے، لازم نہیں ہے۔ حج افراد کی صورت میں بھی حاجی پر قربانی شر عا لازم نہیں ہوتی۔ حج تمتع و قرآن کی صورتوں میں البتہ ، شریعت نے اس کو لازم کیا ہے ۔ چناں چہ واضح رہنا چاہیے کہ حج و عمرہ کی جن صورتوں میں قربانی نہیں کی جاتی تو وہ صرف اس بنا پر کہ یہ حاجی و معتمر پر واجب نہیں ہوتی۔ حج و عمرہ میں قربانی کے وجوب اور عدم وجوب کی صورتوں کا بالوں اور ناخن کاٹنے کی پابندیوں سے کوئی تعلق ہے، نہ سر کے علق و قصر کرانے سے۔ چناں چہ بالبدایت واضح ہے کہ حج و عمرہ میں قربانی کے عدم وجوب کی صورتوں سے نہ یہ ثابت ہو سکتا ہے کہ ان عبادات کے تعین مناسک ایک الگ اور مستقل عبادت ہیں اور نہ یہ کہ اُنھیں حج و عمرو سے مجرد کر کے جب چاہے اور جہاں چاہے نفل عبادت کے طور پر ادا کیا جاسکتا ہے۔ لہذا قربانی کے بغیر کیے جانے والے حج و عمرہ کی صورتوں سے عید الاضحیٰ کے موقع کے لیے یہ استدلال و استشہاد کرنا نہایت بعید اور نا قابل التفات بات ہے کہ آدمی عید کی قربانی نہ کر رہا ہو تو اُس صورت میں بھی اُس کے لیے ناخن اور بالوں کو کاٹنے کی پابندی اختیار کرنا اور عید کے دن حلق یا قصر کر انا اس لیے ایک نقل عبادت ہے کہ یہ تینوں کام حجاج و معتمرین بغیر قربانی کے بھی کرتے ہیں۔ حج و عمرہ میں قربانی لازم ہو یا نہ ہو ، دونوں صورتوں میں صرف یہی مراسم نہیں، بلکہ بہت سے دوسرے مناسک و محظورات بہر صورت لازم ہوتے ہیں۔ اسی استشہاد کی طرح کیا کوئی شخص یہ استدلال کر سکتا ہے کہ حج و عمرہ میں قربانی کے بغیر زیر بحث تینوں مراسم کے علاوہ زان و شو کا تعلق بھی ممنوع ہوتا ہے، شکار کی پابندی بھی ہوتی ہے، مردوں پر سلا ہو ا لباس بھی منع ہوتا ہے، لہذا عید الاضحی کے موقع پر آدمی قربانی نہ بھی کر رہا ہو، تب بھی وہ عشرہ ذی الحجہ میں ان تمام محظورات کو نقل کے طور پر اختیار کر سکتا ہے، تا کہ وہ نذر کی اس مکمل صورت کو مثل کر دے جو حجاج و معتمرین کرتے ہیں؟ بالبدایت واضح ہے کہ اس طرح کا استدلال بالکل باطل ہو گا۔ ے غامدی صاحب کے موقف کے بیان میں اُن کا ایک مقدمہ یہ بھی ہے کہ عشرہ ذی الحجہ اور عید کے دن کے ان احکام کی تعمیل کی ہدایت نبی صلی علیم نے ایک امر مستحب کے طور پر فرمائی ہے، اس کو لازم نہیں کیا ہے۔ یعنی مسلمان انھیں تطوع کے طور پر انجام دے سکتے ہیں۔

 

اس مقدمے پر عرض یہ ہے کہ جب غامدی صاحب کے یہ قول ان آداب کی اساس حج و عمرہ کے مناسک میں جاری ہے اور حکم کا ماخذ اُن کے نزدیک بھی، جیسا کہ اوپر واضح کیا جا چکا ہے، حدیث ام سلمہ ہی ہے۔ اب ایک طرف حج و عمرہ میں ان احکام کو بجالانا شرعا لازم ہے اور دوسری طرف حدیث ام سلمہ کے تمام طرق میں بھی یہ حکم امر یا نہی کے جس مولد اسلوب و الفاظ میں آیا ہے، وہ بھی یہ ظاہر لازم ہونے پر دلالت کرتے ہیں نہ کہ تطوع و استحباب پر۔ روایت باب کے متون میں ایسا کوئی قرینہ بھی موجود نہیں ہے جو استحباب پر دلالت کی طرف لے جاتا ہو۔ چناں چہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ غامدی صاحب قربانی سے پہلے اور بعد کے ان مراسم کی اساس حج و عمرہ میں دکھانے اور حدیث ام سلمہ سے استدلال کرنے کے باوجود ان مراسم کے حکم کا درجہ استحباب کہاں سے اخذ کر رہے ہیں ؟ اس کی دلیل کیا ہے ؟ ایک طرف حج و عمرہ کی شریعت میں یہ لازمی احکام کا درجہ رکھتے ہیں اور دوسری طرف زبان کے اعتبار سے حدیث ام سلمہ کے الفاظ بھی دونوں پابندیوں کے لازم ہونے کی تائید کرتے ہیں۔ غامدی صاحب کے بیان کردہ یہ دونوں متندلات ان کے اس مقدمے کی نفی کر رہے ہیں کہ ان احکام کی تلقین نبی صلی علیم نے نقل و قطوع کی حیثیت سے فرمائی ہے۔ اس معاملے میں معلوم ہوتا ہے کہ غامدی صاحب روایت کے الفاظ و اسالیب اور مظاہر الفاظ کی دلالت کو نظر انداز کر کے صرف اُس کے ذریعہ انتقال کے خبر واحد ہونے کی بنا پر استحباب کا حکم اخذ کر رہے ہیں، جو کہ فکر فراہی کے تناظر میں بھی محل نظر ہے۔

 

یہ بات اپنی جگہ پر بجا ہے کہ الأمر للوجوب کا قاعدہ علی الاطلاق نہیں مانا جاسکتا۔ تا ہم نہی ہو یا امر ، ہم الفاظ، سیاق و سباق کو دیکھ کر قرائن کے بنیاد پر طے کرتے ہیں کہ کوئی امر کسی موقع کلام میں وجوب کے لیے آیا ہے، استحباب کے لیے آیا ہے یا اباحت کے لیے وارد ہوا ہے۔ چناں چہ غامدی صاحب کی اس رائے پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس معاملے میں استحباب کے حکم کے لیے اُن کے پاس حج و عمرہ کے مناسک یا حدیث باب کے الفاظ و اسالیب میں آخر قرائن کیا ہیں ؟ حدیث باب کے تمام طرق اور ان میں منقول اسالیب کی روشنی میں یہ سوال بہر حال پیدا ہوتا ہے کہ ان احکام کی تعمیل کی ہدایت نبی صلی الی ہم نے قربانی کرنے والوں پر ایک امر مستحب کے طور پر کہاں اور کن الفاظ میں فرمائی ہے ؟

 

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…