جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 3

Published On January 23, 2026
سائنس میں عقلی امکانات اور غامدی صاحب

سائنس میں عقلی امکانات اور غامدی صاحب

محمد حسنین اشرف اپنی حالیہ ویڈیو میں گفتگو کرتے ہوئے غامدی صاحب نے کچھ یوں فرمایا ہے: "حیاتیات میں نظریہ ارتقا کیا ہے؟ یعنی عقلی امکانات میں سے ایک امکان، وہ امکان بہت قوی ہوسکتا ہے اس میں ظن غالب کی حد تک آپ کسی چیز کو درست قرار دے سکتے ہیں لیکن وہ ہے عقلی امکان ہی...

کلامی مواقف کی بے معنی تلفیقات :اصلاحی و ندوی گروپ پر نقد

کلامی مواقف کی بے معنی تلفیقات :اصلاحی و ندوی گروپ پر نقد

ڈاکٹر زاہد مغل متاخرین کے ہاں کلامی مواقف کے مابین تلفیق پیدا کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم ماضی کے سب بڑے علما کو اچھی نظر سے دیکھتے اور اپنا مشترکہ ورثہ سمجھتے ہیں اور خواہش رکھتے ہیں کہ ان کی ہر اختلافی رائے کی ایسی توجیہ کرلیں جس سے سب کی سب آراء کے بارے میں...

سنت کے تصور پر غامدی صاحب کی پر تکلف دلیل و تاویل پر تبصرہ

سنت کے تصور پر غامدی صاحب کی پر تکلف دلیل و تاویل پر تبصرہ

ڈاکٹر زاہد مغل غامدی صاحب کا کہنا ہے کہ سنت قرآن سے مستقل اعمال ہیں جو آپﷺ نے دین ابراہیمی کی روایت کی اتباع میں جاری فرمائے۔ بغور جائزہ لینے پر معلوم ہوتا ہے کہ سنت و غیر سنت کا آخری پیمانہ ان کے نزدیک یہ ہے کہ جو عمل تواتر سے پہنچا وہ سنت اور دوسرا قرآن کی وہ تبیین...

پروفیسر عبدالرحیم قدوائی

تصنیف کے آغاز میں غامدی کا چند سطری دیباچہ ہے تعلی کے اس بلند و بانگ اعلان کے طور پر: ” تراجم کی تاریخ کے لحاظ سے یہ پہلا ترجمہ قرآن ہے جس میں قرآن کا نظم اس کے ترجمے ہی سے واضح ہو جاتا ہے۔ وہ اولیت کے اس خود ساختہ مقام پر ہے۔ مجھے وہ ساختہ کیسے فائز ہو گئے؟ کیا یہ امتیاز فراہی اور اصلاحی کے ہاں بھی مفقود ہے؟ ان کا منہج کیا ہے؟ وہ اپنے پیش روؤں سے کیسے مختلف اور منفرد ہے؟ ان اہم سوالوں کا کوئی جواب نہیں۔مطلق دعوی اور دلیل یا ثبوت کوئی نہیں ۔ کیا بوالعجبی ہے؟! ہر مصنف اپنے امتیاز کا جواز کسی نہ کسی حد تک فراہم کرتا ہے۔ غامدی غالباً اپنے آپ کو ان خالصہ علمی مطالبوں اور تقاضوں سے بالا تر تصور کرتے ہیں۔

مقدمہ ان دو قابل اعتراض نکات سے داغ دار ہے : 1) مصنف کے مطابق رسول کا تصور بڑی حد تک سیاسی ہے، اس کا منصب اقتدار اور تمکن کے ارد گرد مرکوزبیان کیا گیا ہے :

وہ اپنے اوپر ایمان لانے والوں کی تربیت، تطہیر اور تزکیہ کے بعد انھیں اس معرکہ حق و باطل کے لیے منظم کرتا ہے اور دار البجرۃ میں اپنا اقتدار اس قدر مستحکم کر لیتا ہے کہ اس کی مدد سے وہ منکرین کے استیصال اور اہل حق کی سرفرازی کا یہ معرکہ سر کر سکے ۔

رسول اکرم ﷺ کے بارے میں یہ تجزیہ بلا شبہ درست ہے، لیکن اس کااطلاق تمام رسولوں پر کرنا محل نظر ہے۔

دوسرا پہلو اس مقدمہ کا یہ ہے کہ غامدی نے بڑے طمطراق کے ساتھ اپنا یہ کارنامہ درج کیا ہے کہ انھوں نے پورے متن قرآن مجید کو سات ابواب میں تقسیم کیا ہے اور ہر باب کا ایک موضوع متعین کیا ہے۔ مزید جسارت یہ کہ اپنے ان سات ابواب کو سبعا من الْمَثَانِي وَالْقُرْآنَ الْعَظِيمِ ( الحجر : (۸۷) سے تعبیر کیا ہے۔ مفسرین کبار کا اجماع ہے کہ سَبْعًا مِنَ الْمَقانی سے مراد سورۃ الفاتحہ کی سات آیات ہیں، جن کی تلاوت نماز کی ہر رکعت کا جزو ہے۔ غامدی کے اس انحراف کے پس پشت محض خود رائی ہے۔ یہ ان کے مجوزہ سات ابواب قرآن مجید کی ایک معروف تقسیم منزل کے بھی مطابق نہیں ہے کہ منزل وار تقسیم سے ایک ہفتے میں ختم تلاوت مصحف کی سعادت بہ آسانی حاصل ہو جاتی ہے ۔ ان کا یہ ادعا بھی نا قابل قبول ہے کہ متعدد سورتوں پر مشتمل ان کے ہر باب کا صرف ایک ہی موضوع ہے، یعنی ان کے ابواب : ۳، ۴، ۵ اور ۶ ، جو تقریباً دو تہائی قرآن (سورہ یونس (۱۰) سے سورہ التحریم (۶۶) کو محیط ہیں، ان کا واحد موضوع انذار اور بشارت ہے ؟ ایسی تعمیم سے قرآنفہمی کا باب وانہیں، بلکہ مسدود ہو جاتا ہے۔

البیان کی بہ نسبت اس کے اس انگریزی ترجمے میں حواشی بہت کم ہیں، البتہ جمہور کے عقائد سے متصادم اور سنت اور حدیث کو نظر انداز کرنے کے پر دال ہیں۔ چند مثالیں پیش ہیں :

(1) البقرة ، آیت ۲۸۲ میں مالی معاملات میں دو خواتین کی شہادت کا نصاب مذکور ہے۔ اس پر یہ حاشیہ ملاحظہ کریں:

یہ محض ایک معاشرتی ہدایت ہے۔ اگر عورتوں کی معاشرتی صورت حال میں تبدیلی واقع ہو جائے تو اس پر عمل درآمد ضروری نہیں ہے۔ ملے

غامدی کا یہ عندیہ معلوم ہے کہ احکام قرآنی کو حالات و ظروف کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے اور ان کی پابندی وقتی مصلحتوں کے تابع رہے۔

(۲) الاعراف، آیت ۷۳ میں مذکور ہے کہ نشان الہی کے طور پر قوم ثمود کی جانب ایک اونی بھیجی گئی۔ قرطبی اور زمخشری کی تفاسیر میں اس کے ظہور کی معجزاتی شان کا تذکرہ ہے، البتہ غامدی نے اس معجزے کی حتی الامکان تضعیف کی ہے۔ ان کے بہ قول : صاح نے اپنی اونیوں میں سے ایک اپنی نامزد کردی، یہ خدا کی نذرہے، چنانچہ اس لحاظ سے اللہ کی اونٹنی ہے ۔الےیہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ ایک غیر مسلم انگریزی مترجم قرآن مجید اور سیاحایڈورڈ ہنری پالمر ۱۸۴۰ – ۱۸۸۲ء تک نے اس اونٹنی کے معجزاتی ظہور کے بارے میں اپنی یہ چشم دید شہادت رقم کی ہے:

جبل موسی کی چوٹی پر ایک پتھر پر اونٹ کا نقش قدم بالکل واضح ہے۔ مقامی بدوؤں کے لیے یہ زیارت گاہ ہے۔ یہ آثار ناقہ النبی سے موسوم ہے۔ نبی صالح کا مزار وادی الشیخ میں واقع ہے۔

(۳) غامدی کے قلب و ذہن پر انبیائے کرام کے سیاسی اقتدار اور تمکن کا تصور ایسا مستولی ہے کہ اس کی تکرار جا بہ جا ہے۔ سورہ یونس، آیات ۶۲ – ۶۴ میں یہ کلیہ اہل ایمان کی طمانینت اور تقویت کے لیے درج ہے: یاد رکھو، اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ غم گین ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور برائیوں سے پر ہیز کرتے ہیں۔ ان کے لیے دنیاوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی خوش خبری ہے۔ اللہ تعالیٰ کی باتوں میں کچھ فرق نہیں ہوا کرتا۔ یہ بڑی کام یابی ہے۔“ اس عام تلقین حق پر غامدی نے یہ سیاسی گرہ لگائی ہے :

رسولوں کے باب میں خدا کی سنت یہی ہے کہ انھیں اور ان کے ساتھیوں کو دنیا میں بھی لازما غلبہ حاصل ہوتا ہے۔

یہی تفسیر انھوں نے سورۃ النحل، آیت ۳۰ کے حاشیے میں بھی اختیار کی ہے۔

(۴) نام نہاد عقلیت پرستی اور انکار معجزات کی نے غامدی کے ہاں اتنی بلند و بانگ ہے کہ ان کی دانست میں نہ صرف اسراء و معراج کے واقعات عالم خواب کے ہیں، بلکہ موسی کے اللہ کے بندے (خضر) سے ملاقات اور مکالمے سب حالت نوم میں ہوئے۔ گویا قرآنی بیانیہ محض تخیل کا زائیدہ ان کے بہ قول اسراء ایک رؤیا تھا، جو کہ رسول اللہ ی پیتم کو دکھایا گیا۔ اسی طرح مجمع البحرین کا واقعہ عالم رؤیا کا بھی ہو سکتا ہے۔“

(۵) آدم اور حوا کی تخلیق کے ضمن میں قرآن مجید کی یہ صراحت معروف ہے کہ اللہ نے ان کے لیے ایک خاص درخت سے چکھنا بہ طور آزمائش ممنوع کر دیا دیا تھا، لیکن شیطان نے ان دونوں کو گم راہ کیا اور انھوں نے شجر ممنوعہ کو چکھ لیا۔ غامدی نے اس ضمن میں ایسی نکتہ سنجی اور دقیقہ رسی کا مظاہرہ کیا ہے کہ تخلیق انسان، اللہ کا مقصد تخلیق، آدم اور حوا کا باغ عدن سے اخراج، تو بہ اور معافی ، ان کو زمین پر بھیجے جانے اور ان کی ذریت کے لیے ہدایت الہی ، انبیاء کرام اور صحف سماوی کے مسلسل اور مستقل نظم ، بنی نوع انسان سے شیطان کی ازلی عداوت جیسے بنیادی اور کلیدی موضوعات بالکل پس پشت ہو گئے ہیں۔ غامدی کی تحقیق سے تو ایسا متبادر ہوتا ہے کہ شیطان کا منصوبہ ہی اصل تھا اور وہی کام یاب ہوا۔ سورہ طہ ، آیت ۱۲۰ پر انھوں نے یہ حاشیہ چڑھایا ہے : لفظ شجرۂ یہاں مجازی مفہوم میں ہے۔ اس سے مراد وہی شجرہ تناسل ہے جس کا پھل کھانے سے انسان اس دنیا میں اپنے آپ کو باقی رکھے ہوئے ہے۔ چنانچہ ابلیس نے یہ لالچ دے کر آدم اور حوا کو اس درخت کا پھل کھانے کی ترغیب دی کہ حیات جاوداں اور ابدی بادشاہی کا راز اسی درخت کے پھل میں ہے جس سے تمھیں محروم کر دیا گیا ہے۔ اس کا پھل کھاؤ گے تو باقی رہو گے، ورنہ جلد یا بدیر موت سے دوچار ہو جاؤ گے۔ شیطان کی یہ بات، اگر غور کیجیے تو ایسی غلط بھی نہیں تھی۔ اس لیے کہ یہ اسی درخت کا پھل ہے جس کے کھانے سے انسان کی زندگی کا تسلسل دنیا میں قائم ہے۔

سبحان اللہ ! مالک الملک، خلاق علیم اللہ کے علی الرغم انسان اس دنیا میں اپنے کو باقی رکھے ہوئے ہے۔ اور اسی درخت کا پھل ہے جس کے کھانے سے انسان کی زندگی کا تسلسل اس دنیا میں قائم ہے۔ اس گم راہ کن بیانیے میں زندگی اور موت پر قادر مطلق اللہ کا کوئی کردار ہی نہیں دکھائی دیتا۔

 

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…