جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 4

Published On January 23, 2026
کیا مسئلہ “ربط الحادث بالقدیم” کا دین سے تعلق نہیں؟  غامدی صاحب کا حیرت انگیز جواب

کیا مسئلہ “ربط الحادث بالقدیم” کا دین سے تعلق نہیں؟ غامدی صاحب کا حیرت انگیز جواب

ڈاکٹر محمد زاہد مغل محترم غامدی صاحب سے جناب حسن شگری صاحب نے پروگرام میں سوال کیا کہ آپ وحدت الوجود پر نقد کرتے ہیں تو بتائیے آپ ربط الحادث بالقدیم کے مسئلے کو کیسے حل کرتے ہیں؟ اس کے جواب میں جو جواب دیا گیا وہ حیرت کی آخری حدوں کو چھونے والا تھا کہ اس سوال کا جواب...

۔”حقیقت نبوت”: غامدی صاحب کے استدلال کی نوعیت

۔”حقیقت نبوت”: غامدی صاحب کے استدلال کی نوعیت

ڈاکٹر محمد زاہد مغل محترم غامدی صاحب اکثر و بیشتر دعوی تو نہایت عمومی اور قطعی کرتے ہیں لیکن اس کی دلیل میں قرآن کی آیت ایسی پیش کرتے ہیں جو ان کے دعوے سے دور ہوتی ہے۔ اس کا ایک مشاہدہ حقیقت نبوت کی بحث سے ملاحظہ کرتے ہیں، اسی تصور کو بنیاد بنا کر وہ صوفیا کی تبدیع و...

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط ہفتم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط ہفتم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ اقدامی جہاد اور عام اخلاقی دائرہ:۔ یہاں اس بات کا جائزہ لینا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جہا د اقدامی اور اس سے متعلقہ احکامات عام اخلاقی دائرے سے باہر ہیں یا نہیں؟ خالق کا ئنات نے انسان کو اپنا خلیفہ بنا کر پیدا کیا ہے واذ قال ربك...

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط ششم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط ششم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ  اقدامات صحابہ اور غامدی صاحب کا تصور جہاد:۔ قرآن وحدیث کے بعد اگلا مقدمہ یہ قائم کرتے ہیں کہ صحابہ کے جنگی اقدامات کے جغرافیائی  اہداف محدود اور متعین تھے اور وہ جہاد اور فتوحات کے دائرے کو وسیع کرنے کی بجائے محدود رکھنے کے خواہش...

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط پنجم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط پنجم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ احادیث اور غامدی صاحب کا تصور جہاد:۔ جہاں تک احادیث کا تعلق ہے تو کوئی بھی ایک حدیث ایسی پیش نہیں کر سکے جو اس بات کی تائید کرے کہ جہاد کے اہداف محدود ہیں اور اس مشن کے پیش نظر صرف روم اور فارس کی سلطنتیں ہیں ۔ تاہم ایک حدیث ایسی...

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط چہارم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط چہارم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ احکامات اسلام اور خطابات قرآنیہ کی عمومیت:۔ غامدی حضرات کا دوسرا نکتہ یہ ہے کہ اقدامی قتال یا اسلام ، جزیہ اور قتل کا مطالبہ سامنے رکھنا عام خلاقی دائرے سے باہر ہے اس لیے وہ آیات واحادیث جن میں اس قسم کے احکامات مذکور ہیں ان کے...

پروفیسر عبدالرحیم قدوائی

 

۔(6) غامدی کے ہاں معروف اصول تفسیر اور جمہور کے مسلمہ عقائد سے انحراف عام ہے۔ طرہ یہ کہ اپنی آرا کے لیے وہ کوئی سند یا دلیل نہیں پیش کرتے ، صرف اپنا قول فیصل صادر کر دیتے ہیں۔ ان کی رائے میں سورۃ الاحزاب، آیات ۳۲ تا ۳۵ میں مذکور احکام قرآنی صرف امہات المومنین پر منطبق ہوتی ہیں، ان کا عام عورتوں سے کوئی تعلق نہیں۔ 14 ان آیات کے خطاب کو حافظ صلاح الدین یوسف نے اس طرح بہ حسن و خوبی متعین کیا ہے :۔

اس کی مخاطب، اگر چہ ازواج مطہرات ہیں، جنھیں امہات المومنین قرار دیا گیا ہے، لیکن انداز بیان سے صاف واضح ہے کہ مقصد پوری امت کی عورتوں کو سمجھانا اور متنبہ کرنا ہے، اس لیے یہ ہدایات تمام مسلمان عورتوں کے لیے ہیں ۔ اے یہی صائب موقف سید مودودی کی تفہیم القرآن ۱۸ اور عبد الماجد دریا بادی کی تفسیر ماجدی  میں بھی ملتا ہے۔

۔(۷) صنفی مساوات کے بارے میں غامدی کی تائید و تصویب نا قابل دفاع ہے۔ سورہ الاحزاب، آیت ۵۹ میں جلا بیبر پر دے حجاب سے متعلق قرآنی حکم کو انھوں نے اس طرح قطع و برید کر کے پیش کیا ہے :۔

ان الفاظ سے واضح ہے اور حکم کا سیاق و سباق بھی بتا رہا ہے کہ یہ عورتوں کے لیے پردے کا کوئی حکم نہیں تھا، جیسا کہ عام طور پر لوگوں نے سمجھا ہے، بلکہ مسلمان عورتوں کے لیے ان کی الگ شناخت قائم کر دینے کی ایک وقتی تدبیر تھی۔ ۲۰

۔(۸) سورۂ ص، آیت ۳۴ میں مذکور ہے: ” اور ہم نے سلیمان کی آزمائش کی اور اس کے تخت پر ایک جسم ڈال دیا، پھر اس نے رجوع کیا۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم میں اس تلمیح کی عقدہ کشائی کے لیے مستند احادیث مروی ہیں، لیکن غامدی نے اس واقعے کو افسانوی اور سیاسی رنگ دے دیا ہے:

 

یعنی ( سلیمان ) کو ایسا بے بس اور غم زدہ بنادیا تھا کہ اس کے تخت پر گویا صرف ایک جسم پڑا ہوا رہ گیا، جس میں سے روح نکل گئی تھی۔ یہ ان حالات کی طرف اشارہ ہے جب دشمنوں نے یورش کر کے ان کے بیش تر علاقے چھین لیے اور باقی مقامات پر بھی ایسی گڑ بڑ پھیلا دی تھی کہ نظم حکومت بالکل درہم برہم ہو گیا تھا …. قرآن نے اس پوری صورت حال کو کمال بلاغت کے ساتھ ایک جملے میں سمیٹ دیا ہے کہ ہم نے سلیمان کواس کے تخت پر ایک دھڑ کی طرح ڈال دیا۔ ۲۱

۔(۹) سورۂ محمد، آیت ۴ جنگی قیدیوں کے بارے میں ہے۔ اس ضمن میں ارحم الراحمین اللہ اور رحمۃ للعالمین رسول اکرم ﷺ نے یقیناً اصلاحات فرمائیں۔ یہ ذہنیت تبدیل ہوئی کہ جنگی قیدی گویا انسان ہی نہیں اور ان کا قتل اور ان پر ہر طرح کا ظلم اور تشد دروا ہے۔ لیکن غامدی نے اس ضمن میں شاعرانہ مبالغہ کرتے ہوئے یہاں تک دعوی کر دیا ہے:۔

قرآن نے قیدیوں کو غلام بنانے کا رواج ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا اور اس طرح غلامی کی جڑ کاٹ دی ۔ ۲۲

اسلام نے غلامی کے خلاف یقیناً اصلاحات کیں، لیکن غلامی به طور ادارہ افسوس ناک حد تک صدیوں تک جاری رہا۔ اس میں طامع ، خود غرض حکم رانوں کی بد نیتی اور شامت اعمال تھی ، لیکن تاریخ کے تلخ حقائق کو بہ یک جنبش قلم مستر د نہیں کیا جا سکتا۔ بعض عرب ممالک میں غلامی کی روایت ۱۹۸۰ء تک جاری رہی تھی ۔

 

زیر تبصرہ انگریزی ایڈیشن میں قرآنی اصطلاحات پر ایک مختصر فرہنگ اور قدرے مبسوط اشاریہ شامل ہیں ۔ فرہنگ کے محتویات قارئین کی رہ نمائی کے لیے اپنے انتہائی اختصار اور مبہم اور مجہول اندراجات کے باعث مفید نہیں ہیں۔ مثلاً رقیم کی یہ نا کافی تشریح : ” ایک عمارت کا نام، جو ایک غار پر تعمیر کی گئی۔ اس کی حیثیت ایک یادگار کی ہے ۔۲۳ شہداء به معنی گواہ۔ فی سبیل اللہ شہداء کا ذکر بھی یہاں درکار تھا۔ ۲۴ توحید = وحدت الہی ۔ ۲۵ اس کلیدی عقیدے کی توضیح اور تشریح مفسر کے کار منصبی کا تقاضا تھا ۔ امہ = جماعت ۔ ۲۶ اس اصطلاح کی تصریح بھی نا کافی ہے ۔ ” انظرنا = ایک عربی فقرہ، جس کے معنی ہیں ہمیں مہلت دیجیے۔ ۲۷ سیاق و سباق کی صراحت کے بغیر یہ تشریح قرآن فہمی میں ممد نہیں۔ اشاریے میں اللہ کے ذیل میں کوئی اندراج نہیں، البتہ اسماء وصفات الہی کے حوالے بالتفصیل ملتے ہیں۔

فراہی اور اصلاحی سے فرط تعلق کے باوصف پوری تصنیف میں ان کا ذکر صرف دو مقامات پر آیا ہے۔ کسی اور مفسر ، محدث یا فقیہ کو یہ اعزاز بھی میسر نہیں ہوا ہے۔ کتابیات کا خانہ بھی خالی ہے۔ انگریزی ترجمے کا معیار پست ہے۔ بعض مقامات پر افسوس ناک حد تک ژولیدہ بیانی کا شکار ہے۔

حواشی و مراجع

 

1- Jawed Ahmad Ghamidi, The Quran Translated. English Translation by Shahzad Saleem.Mumbai, Al-Mawrid,pp 915, ISBN: 9989696810322

 

2- Khalid Inimitable Yahya Blankinship, The Leiden, Brill, 2019,152-173. Quran,

 

3- Abd Al-Qahir Al-Jurjani, Dalail Al-Nazm. Edited by Mahmud Muhammad Shakir- Cairo, 1413 H/1992, 98-102.

 

4- Ghamidi, The Quran Translated, 11.

 

5-Ibid, 11

 

6- Ibid, 12

 

7- Ibid, 9

 

8- Ibid, 13-14

 

9- Ibid, 16

 

10- Ibid, 84

 

11- Ibid, 225

 

12- E.H.Palmer, Desert of Exodus, 1871,50.

 

13- Ghamidi, The Quran Translated,295 and 364

 

14- Ibid, 386 and 403

 

15- Ibid, 430

 

16- Ibid, 570

 

40

 

۱۷۔ محمد جونا گڑھی حافظ صلاح الدین یوسف، قرآن کریم مع اردو ترجمہ و تفسیر، مدینہ، شاہ فہد قرآن کریم پر نٹنگ کمپلیکس، ۱۴۱۷ھ ، ۱۱۷۷

 

18- Syed Abul Ala Mawdudi, Towards Understanding the Quran. Edited and Translated by Zafar Ishaq Ansari. Leicester, UK, Islamic Foundation, 2009,9,48

 

۱۹ – عبد الماجد دریا بادی، تفسیر ماجدی لکھنو، مجلس تحقیقات و نشریات اسلام، ۲۰۱۰، ۳۵۲،۵

 

20- Ghamidi, The Quran Translated, 575.

 

21- Ibid, 621

 

22- Ibid, 622

 

23- Ibid, 898

 

24- Ibid, 898

 

25- Ibid, 898

 

26- Ibid, 898

 

27- Ibid, 898

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…