جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 4

Published On January 23, 2026
قرآن میں لفظ مشرک کا استعمال و اطلاق اور حلقہ غامدی کا مؤقف

قرآن میں لفظ مشرک کا استعمال و اطلاق اور حلقہ غامدی کا مؤقف

تجلی خان میراموضوع بھی ’’دلیل‘‘ پر شائع ہونے والے زیر بحث مسئلہ جو تکفیر کے جواز یا عدم جواز سے متعلق ہے، سے ملتا جلتا ہے اور اس کا تعلق بھی ان ہی لوگوں سے ہے جو جاوید احمد غامدی صاحب کے شاگرد یا پیروکار ہیں۔ لیکن ان دونوں میں فر ق بس صرف اتنا ہی ہے کہ یہاں لفظ...

قطعی الدلالہ اور ظنی الدلالہ یا واضح الدلالہ اور خفی الدلالہ

قطعی الدلالہ اور ظنی الدلالہ یا واضح الدلالہ اور خفی الدلالہ

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد عزت مآب جناب عزیز ابن الحسن صاحب نے ایک صاحبِ علم کی تحریر پر میری رائے مانگی ہے۔ چند نکات پیش ِخدمت ہیںاول ۔ یہ کہ قرآن کے قطعی الدلالہ ہونے کے لیے قرآن ہی کی آیات سے استدلال مصادرہ مطلوب کا مغالطہ ہے۔ کوئی پوچھ سکتا ہے کہ جن آیات سے آپ قطعیت...

(کیا کسی کو کافر کہنا جائز نہیں؟  گروہ غامدی کی تاویلات  (دوم

(کیا کسی کو کافر کہنا جائز نہیں؟ گروہ غامدی کی تاویلات (دوم

ڈاکٹر زاہد مغل ان مخالف دلائل کے بعد اب غامدی صاحب اور ان کے مقلدین کی چند تاویلات کا جائزہ لیتے ہیں جو یہ حضرات اپنےدفاع کے لیے پیش کرتے ہیں۔اول: کفر کا جوہر: ’انکار ایمان‘ یا ’عدم اقرار‘؟ درحقیقت غامدی صاحب کے نظریہ کفر کی بنیاد ہی غلط تصور پر قائم ہے۔ چنانچہ گروہ...

(کیا کسی کو کافر کہنا جائز نہیں؟  گروہ غامدی کی تاویلات  (دوم

(کیا کسی کو کافر کہنا جائز نہیں؟ غامدی صاحب کے نظریہ کفر کے داخلی ابہامات (اول

ڈاکٹر زاہد مغل غامدی صاحب کے شاگرد جناب حسن الیاس صاحب نے ”دلیل“ پر اپنی ایک حالیہ تحریر میں شکوہ کیا ہے کہ غامدی صاحب کے نکتہ نظر پر درست تنقید کہیں موجود ہی نہیں تو جواب کیا دیا جائے؟ لوگ یا تو ان کی بات سمجھتے ہی نہیں اور یا ان کی طرف غیر متعلق دعوے منسوب کرکے اس...

تکفیر اور انتہا پسندی: غامدی صاحب کے حلقے سے پانچ سوال

تکفیر اور انتہا پسندی: غامدی صاحب کے حلقے سے پانچ سوال

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد غامدی صاحب کے حلقے کے اصحاب سے ایک بحث جناب طارق محمود ہاشمی صاحب کی ہوئی اور اس میں جس بات نے سخت تکلیف دی وہ یہ تھی کہ غامدی صاحب کے منتسبین میں ایک نہایت سنجیدہ بزرگ بھی ہاشمی صاحب کی بات کا جواب دینے، یا اس کی غلطی واضح کرنے، کے بجائے اس کا...

غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ اور مسئلہ تکفیر: چند اعتراضات

غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ اور مسئلہ تکفیر: چند اعتراضات

طارق محمود ہاشمی راقم کا ایک مضمون ”دلیل“ پر شائع ہوا تھا۔ اس کا عنوان تھا ”جاوید غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ: تکفیر کے مسئلے پر فکری انتشار۔“ ہماری خوش نصیبی ہے کہ المورد کے صفِ اول کے سکالر، ہمارے محترم آصف افتخار صاحب نے جاوید غامدی صاحب کے دفاع کے لیے قلم اُٹھایا...

پروفیسر عبدالرحیم قدوائی

 

۔(6) غامدی کے ہاں معروف اصول تفسیر اور جمہور کے مسلمہ عقائد سے انحراف عام ہے۔ طرہ یہ کہ اپنی آرا کے لیے وہ کوئی سند یا دلیل نہیں پیش کرتے ، صرف اپنا قول فیصل صادر کر دیتے ہیں۔ ان کی رائے میں سورۃ الاحزاب، آیات ۳۲ تا ۳۵ میں مذکور احکام قرآنی صرف امہات المومنین پر منطبق ہوتی ہیں، ان کا عام عورتوں سے کوئی تعلق نہیں۔ 14 ان آیات کے خطاب کو حافظ صلاح الدین یوسف نے اس طرح بہ حسن و خوبی متعین کیا ہے :۔

اس کی مخاطب، اگر چہ ازواج مطہرات ہیں، جنھیں امہات المومنین قرار دیا گیا ہے، لیکن انداز بیان سے صاف واضح ہے کہ مقصد پوری امت کی عورتوں کو سمجھانا اور متنبہ کرنا ہے، اس لیے یہ ہدایات تمام مسلمان عورتوں کے لیے ہیں ۔ اے یہی صائب موقف سید مودودی کی تفہیم القرآن ۱۸ اور عبد الماجد دریا بادی کی تفسیر ماجدی  میں بھی ملتا ہے۔

۔(۷) صنفی مساوات کے بارے میں غامدی کی تائید و تصویب نا قابل دفاع ہے۔ سورہ الاحزاب، آیت ۵۹ میں جلا بیبر پر دے حجاب سے متعلق قرآنی حکم کو انھوں نے اس طرح قطع و برید کر کے پیش کیا ہے :۔

ان الفاظ سے واضح ہے اور حکم کا سیاق و سباق بھی بتا رہا ہے کہ یہ عورتوں کے لیے پردے کا کوئی حکم نہیں تھا، جیسا کہ عام طور پر لوگوں نے سمجھا ہے، بلکہ مسلمان عورتوں کے لیے ان کی الگ شناخت قائم کر دینے کی ایک وقتی تدبیر تھی۔ ۲۰

۔(۸) سورۂ ص، آیت ۳۴ میں مذکور ہے: ” اور ہم نے سلیمان کی آزمائش کی اور اس کے تخت پر ایک جسم ڈال دیا، پھر اس نے رجوع کیا۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم میں اس تلمیح کی عقدہ کشائی کے لیے مستند احادیث مروی ہیں، لیکن غامدی نے اس واقعے کو افسانوی اور سیاسی رنگ دے دیا ہے:

 

یعنی ( سلیمان ) کو ایسا بے بس اور غم زدہ بنادیا تھا کہ اس کے تخت پر گویا صرف ایک جسم پڑا ہوا رہ گیا، جس میں سے روح نکل گئی تھی۔ یہ ان حالات کی طرف اشارہ ہے جب دشمنوں نے یورش کر کے ان کے بیش تر علاقے چھین لیے اور باقی مقامات پر بھی ایسی گڑ بڑ پھیلا دی تھی کہ نظم حکومت بالکل درہم برہم ہو گیا تھا …. قرآن نے اس پوری صورت حال کو کمال بلاغت کے ساتھ ایک جملے میں سمیٹ دیا ہے کہ ہم نے سلیمان کواس کے تخت پر ایک دھڑ کی طرح ڈال دیا۔ ۲۱

۔(۹) سورۂ محمد، آیت ۴ جنگی قیدیوں کے بارے میں ہے۔ اس ضمن میں ارحم الراحمین اللہ اور رحمۃ للعالمین رسول اکرم ﷺ نے یقیناً اصلاحات فرمائیں۔ یہ ذہنیت تبدیل ہوئی کہ جنگی قیدی گویا انسان ہی نہیں اور ان کا قتل اور ان پر ہر طرح کا ظلم اور تشد دروا ہے۔ لیکن غامدی نے اس ضمن میں شاعرانہ مبالغہ کرتے ہوئے یہاں تک دعوی کر دیا ہے:۔

قرآن نے قیدیوں کو غلام بنانے کا رواج ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا اور اس طرح غلامی کی جڑ کاٹ دی ۔ ۲۲

اسلام نے غلامی کے خلاف یقیناً اصلاحات کیں، لیکن غلامی به طور ادارہ افسوس ناک حد تک صدیوں تک جاری رہا۔ اس میں طامع ، خود غرض حکم رانوں کی بد نیتی اور شامت اعمال تھی ، لیکن تاریخ کے تلخ حقائق کو بہ یک جنبش قلم مستر د نہیں کیا جا سکتا۔ بعض عرب ممالک میں غلامی کی روایت ۱۹۸۰ء تک جاری رہی تھی ۔

 

زیر تبصرہ انگریزی ایڈیشن میں قرآنی اصطلاحات پر ایک مختصر فرہنگ اور قدرے مبسوط اشاریہ شامل ہیں ۔ فرہنگ کے محتویات قارئین کی رہ نمائی کے لیے اپنے انتہائی اختصار اور مبہم اور مجہول اندراجات کے باعث مفید نہیں ہیں۔ مثلاً رقیم کی یہ نا کافی تشریح : ” ایک عمارت کا نام، جو ایک غار پر تعمیر کی گئی۔ اس کی حیثیت ایک یادگار کی ہے ۔۲۳ شہداء به معنی گواہ۔ فی سبیل اللہ شہداء کا ذکر بھی یہاں درکار تھا۔ ۲۴ توحید = وحدت الہی ۔ ۲۵ اس کلیدی عقیدے کی توضیح اور تشریح مفسر کے کار منصبی کا تقاضا تھا ۔ امہ = جماعت ۔ ۲۶ اس اصطلاح کی تصریح بھی نا کافی ہے ۔ ” انظرنا = ایک عربی فقرہ، جس کے معنی ہیں ہمیں مہلت دیجیے۔ ۲۷ سیاق و سباق کی صراحت کے بغیر یہ تشریح قرآن فہمی میں ممد نہیں۔ اشاریے میں اللہ کے ذیل میں کوئی اندراج نہیں، البتہ اسماء وصفات الہی کے حوالے بالتفصیل ملتے ہیں۔

فراہی اور اصلاحی سے فرط تعلق کے باوصف پوری تصنیف میں ان کا ذکر صرف دو مقامات پر آیا ہے۔ کسی اور مفسر ، محدث یا فقیہ کو یہ اعزاز بھی میسر نہیں ہوا ہے۔ کتابیات کا خانہ بھی خالی ہے۔ انگریزی ترجمے کا معیار پست ہے۔ بعض مقامات پر افسوس ناک حد تک ژولیدہ بیانی کا شکار ہے۔

حواشی و مراجع

 

1- Jawed Ahmad Ghamidi, The Quran Translated. English Translation by Shahzad Saleem.Mumbai, Al-Mawrid,pp 915, ISBN: 9989696810322

 

2- Khalid Inimitable Yahya Blankinship, The Leiden, Brill, 2019,152-173. Quran,

 

3- Abd Al-Qahir Al-Jurjani, Dalail Al-Nazm. Edited by Mahmud Muhammad Shakir- Cairo, 1413 H/1992, 98-102.

 

4- Ghamidi, The Quran Translated, 11.

 

5-Ibid, 11

 

6- Ibid, 12

 

7- Ibid, 9

 

8- Ibid, 13-14

 

9- Ibid, 16

 

10- Ibid, 84

 

11- Ibid, 225

 

12- E.H.Palmer, Desert of Exodus, 1871,50.

 

13- Ghamidi, The Quran Translated,295 and 364

 

14- Ibid, 386 and 403

 

15- Ibid, 430

 

16- Ibid, 570

 

40

 

۱۷۔ محمد جونا گڑھی حافظ صلاح الدین یوسف، قرآن کریم مع اردو ترجمہ و تفسیر، مدینہ، شاہ فہد قرآن کریم پر نٹنگ کمپلیکس، ۱۴۱۷ھ ، ۱۱۷۷

 

18- Syed Abul Ala Mawdudi, Towards Understanding the Quran. Edited and Translated by Zafar Ishaq Ansari. Leicester, UK, Islamic Foundation, 2009,9,48

 

۱۹ – عبد الماجد دریا بادی، تفسیر ماجدی لکھنو، مجلس تحقیقات و نشریات اسلام، ۲۰۱۰، ۳۵۲،۵

 

20- Ghamidi, The Quran Translated, 575.

 

21- Ibid, 621

 

22- Ibid, 622

 

23- Ibid, 898

 

24- Ibid, 898

 

25- Ibid, 898

 

26- Ibid, 898

 

27- Ibid, 898

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…