جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 3

Published On January 23, 2026
تبیین و تخصیص اور غامدی صاحب کا موقف : دلیلِ مسئلہء رجم کا جائزہ: پہلی قسط

تبیین و تخصیص اور غامدی صاحب کا موقف : دلیلِ مسئلہء رجم کا جائزہ: پہلی قسط

ڈاکٹر زاہد مغل محترم جناب غامدی صاحب “رجم  کی سزا” پر لکھے گئے اپنے  مضمون میں کہتے ہیں کہ قرآن مجید اور کلام عرب کے اِن شواہد سے صاف واضح ہوتا ہے کہ ’تبیین‘ کا لفظ کسی معاملے کی حقیقت کو کھول دینے ، کسی کلام کے مدعا کو واضح کر دینے اور کسی چیز کے خفا کو دور کر کے...

امریکی جہاد اور غامدی صاحب کے بدلتے بیانیے

امریکی جہاد اور غامدی صاحب کے بدلتے بیانیے

پروفیسر ڈاکٹر محمد مشتاق احمد دو ہزار ایک (2001ء) میں غامدی صاحب نے فرمایا تھا کہ افغانستان پر امریکی حملہ دہشت گردی نہیں تھا۔ ارتقا کے منازل طے کرنے کے بعد 2019ء میں غامدی صاحب نے اسے ظلم و عدوان کےخلاف جہاد کی مثال قرار دیا! مزید دو سال بعد امریکا کو بے آبرو ہو کر...

رعایتِ صلاۃ میں غامدی صاحب کے قطعی الدلالۃ کا حال

رعایتِ صلاۃ میں غامدی صاحب کے قطعی الدلالۃ کا حال

ڈاکٹر زاہد مغل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قطعی الدلالۃ کے موضوع پر مکتب فراہی کے ابہامات پر متعدد انداز سے بات ہوچکی۔ ایک مثال لیجیے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوا کہ جب تم سفر کے لئے نکلو تو تمہارے لئے نماز قصر کرنے میں کچھ حرج نہیں۔ اس آیت سے ماخوذ دیگر احکام کے علاوہ...

غامدی صاحب اور انکارِ حدیث

غامدی صاحب اور انکارِ حدیث

ڈاکٹر حافظ محمد زبیر دوست کا سوال ہے کہ غامدی صاحب کو "منکر حدیث" کہہ سکتے ہیں یا نہیں؟ جواب: دیکھیں، اصل یہ ہے کہ آپ کی "انکار حدیث" سے مراد کیا ہے؟ اگر تو انکار حدیث سے مراد کلی طور پر حدیث کا انکار ہے تو ایسا غامدی صاحب نہیں کرتے۔ بہر حال یہ ماننا پڑتا ہے کہ وہ...

امام غزالی کا تصورِ کشف اور غامدی صاحب کا طریقہ واردارت

امام غزالی کا تصورِ کشف اور غامدی صاحب کا طریقہ واردارت

ڈاکٹر زاہد مغل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غامدی صاحب نے تصوف کے خلاف اپنی ظاہر پرستی پر مبنی مضمون میں متفرق علماء اور صوفیاء کی الگ تھلگ عبارات کو پیش کرکے یہ منظر کشی کرنے کی کوشش کی ہے کہ "یہ سب لوگ" نبوت کے بعد نبوت کے قائل ہوگئے تھے۔ سرِدست مجھے ان سب حوالوں کا...

تصورِ بیان (اصولیین بمقابلہ مکتبِ فراہی)

تصورِ بیان (اصولیین بمقابلہ مکتبِ فراہی)

ڈاکٹر زاہد مغل مولانا اصلاحی صاحب کتاب “مبادی تدبر حدیث” میں فرماتے  ہیں سنت قرآن کی تفسیر، تعریف اور تبیین کرتی ہے، یہ سوال بالکل خارج از بحث ہے کہ کوئی حدیث یا سنت قرآن کی ناسخ ہوسکے اس کی وجہ وہ یہ بیان کرتے ہیں جہاں تک حدیث کا تعلق ہے، اس میں ضعف کے اتنے پہلو...

پروفیسر عبدالرحیم قدوائی

تصنیف کے آغاز میں غامدی کا چند سطری دیباچہ ہے تعلی کے اس بلند و بانگ اعلان کے طور پر: ” تراجم کی تاریخ کے لحاظ سے یہ پہلا ترجمہ قرآن ہے جس میں قرآن کا نظم اس کے ترجمے ہی سے واضح ہو جاتا ہے۔ وہ اولیت کے اس خود ساختہ مقام پر ہے۔ مجھے وہ ساختہ کیسے فائز ہو گئے؟ کیا یہ امتیاز فراہی اور اصلاحی کے ہاں بھی مفقود ہے؟ ان کا منہج کیا ہے؟ وہ اپنے پیش روؤں سے کیسے مختلف اور منفرد ہے؟ ان اہم سوالوں کا کوئی جواب نہیں۔مطلق دعوی اور دلیل یا ثبوت کوئی نہیں ۔ کیا بوالعجبی ہے؟! ہر مصنف اپنے امتیاز کا جواز کسی نہ کسی حد تک فراہم کرتا ہے۔ غامدی غالباً اپنے آپ کو ان خالصہ علمی مطالبوں اور تقاضوں سے بالا تر تصور کرتے ہیں۔

مقدمہ ان دو قابل اعتراض نکات سے داغ دار ہے : 1) مصنف کے مطابق رسول کا تصور بڑی حد تک سیاسی ہے، اس کا منصب اقتدار اور تمکن کے ارد گرد مرکوزبیان کیا گیا ہے :

وہ اپنے اوپر ایمان لانے والوں کی تربیت، تطہیر اور تزکیہ کے بعد انھیں اس معرکہ حق و باطل کے لیے منظم کرتا ہے اور دار البجرۃ میں اپنا اقتدار اس قدر مستحکم کر لیتا ہے کہ اس کی مدد سے وہ منکرین کے استیصال اور اہل حق کی سرفرازی کا یہ معرکہ سر کر سکے ۔

رسول اکرم ﷺ کے بارے میں یہ تجزیہ بلا شبہ درست ہے، لیکن اس کااطلاق تمام رسولوں پر کرنا محل نظر ہے۔

دوسرا پہلو اس مقدمہ کا یہ ہے کہ غامدی نے بڑے طمطراق کے ساتھ اپنا یہ کارنامہ درج کیا ہے کہ انھوں نے پورے متن قرآن مجید کو سات ابواب میں تقسیم کیا ہے اور ہر باب کا ایک موضوع متعین کیا ہے۔ مزید جسارت یہ کہ اپنے ان سات ابواب کو سبعا من الْمَثَانِي وَالْقُرْآنَ الْعَظِيمِ ( الحجر : (۸۷) سے تعبیر کیا ہے۔ مفسرین کبار کا اجماع ہے کہ سَبْعًا مِنَ الْمَقانی سے مراد سورۃ الفاتحہ کی سات آیات ہیں، جن کی تلاوت نماز کی ہر رکعت کا جزو ہے۔ غامدی کے اس انحراف کے پس پشت محض خود رائی ہے۔ یہ ان کے مجوزہ سات ابواب قرآن مجید کی ایک معروف تقسیم منزل کے بھی مطابق نہیں ہے کہ منزل وار تقسیم سے ایک ہفتے میں ختم تلاوت مصحف کی سعادت بہ آسانی حاصل ہو جاتی ہے ۔ ان کا یہ ادعا بھی نا قابل قبول ہے کہ متعدد سورتوں پر مشتمل ان کے ہر باب کا صرف ایک ہی موضوع ہے، یعنی ان کے ابواب : ۳، ۴، ۵ اور ۶ ، جو تقریباً دو تہائی قرآن (سورہ یونس (۱۰) سے سورہ التحریم (۶۶) کو محیط ہیں، ان کا واحد موضوع انذار اور بشارت ہے ؟ ایسی تعمیم سے قرآنفہمی کا باب وانہیں، بلکہ مسدود ہو جاتا ہے۔

البیان کی بہ نسبت اس کے اس انگریزی ترجمے میں حواشی بہت کم ہیں، البتہ جمہور کے عقائد سے متصادم اور سنت اور حدیث کو نظر انداز کرنے کے پر دال ہیں۔ چند مثالیں پیش ہیں :

(1) البقرة ، آیت ۲۸۲ میں مالی معاملات میں دو خواتین کی شہادت کا نصاب مذکور ہے۔ اس پر یہ حاشیہ ملاحظہ کریں:

یہ محض ایک معاشرتی ہدایت ہے۔ اگر عورتوں کی معاشرتی صورت حال میں تبدیلی واقع ہو جائے تو اس پر عمل درآمد ضروری نہیں ہے۔ ملے

غامدی کا یہ عندیہ معلوم ہے کہ احکام قرآنی کو حالات و ظروف کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے اور ان کی پابندی وقتی مصلحتوں کے تابع رہے۔

(۲) الاعراف، آیت ۷۳ میں مذکور ہے کہ نشان الہی کے طور پر قوم ثمود کی جانب ایک اونی بھیجی گئی۔ قرطبی اور زمخشری کی تفاسیر میں اس کے ظہور کی معجزاتی شان کا تذکرہ ہے، البتہ غامدی نے اس معجزے کی حتی الامکان تضعیف کی ہے۔ ان کے بہ قول : صاح نے اپنی اونیوں میں سے ایک اپنی نامزد کردی، یہ خدا کی نذرہے، چنانچہ اس لحاظ سے اللہ کی اونٹنی ہے ۔الےیہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ ایک غیر مسلم انگریزی مترجم قرآن مجید اور سیاحایڈورڈ ہنری پالمر ۱۸۴۰ – ۱۸۸۲ء تک نے اس اونٹنی کے معجزاتی ظہور کے بارے میں اپنی یہ چشم دید شہادت رقم کی ہے:

جبل موسی کی چوٹی پر ایک پتھر پر اونٹ کا نقش قدم بالکل واضح ہے۔ مقامی بدوؤں کے لیے یہ زیارت گاہ ہے۔ یہ آثار ناقہ النبی سے موسوم ہے۔ نبی صالح کا مزار وادی الشیخ میں واقع ہے۔

(۳) غامدی کے قلب و ذہن پر انبیائے کرام کے سیاسی اقتدار اور تمکن کا تصور ایسا مستولی ہے کہ اس کی تکرار جا بہ جا ہے۔ سورہ یونس، آیات ۶۲ – ۶۴ میں یہ کلیہ اہل ایمان کی طمانینت اور تقویت کے لیے درج ہے: یاد رکھو، اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ غم گین ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور برائیوں سے پر ہیز کرتے ہیں۔ ان کے لیے دنیاوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی خوش خبری ہے۔ اللہ تعالیٰ کی باتوں میں کچھ فرق نہیں ہوا کرتا۔ یہ بڑی کام یابی ہے۔“ اس عام تلقین حق پر غامدی نے یہ سیاسی گرہ لگائی ہے :

رسولوں کے باب میں خدا کی سنت یہی ہے کہ انھیں اور ان کے ساتھیوں کو دنیا میں بھی لازما غلبہ حاصل ہوتا ہے۔

یہی تفسیر انھوں نے سورۃ النحل، آیت ۳۰ کے حاشیے میں بھی اختیار کی ہے۔

(۴) نام نہاد عقلیت پرستی اور انکار معجزات کی نے غامدی کے ہاں اتنی بلند و بانگ ہے کہ ان کی دانست میں نہ صرف اسراء و معراج کے واقعات عالم خواب کے ہیں، بلکہ موسی کے اللہ کے بندے (خضر) سے ملاقات اور مکالمے سب حالت نوم میں ہوئے۔ گویا قرآنی بیانیہ محض تخیل کا زائیدہ ان کے بہ قول اسراء ایک رؤیا تھا، جو کہ رسول اللہ ی پیتم کو دکھایا گیا۔ اسی طرح مجمع البحرین کا واقعہ عالم رؤیا کا بھی ہو سکتا ہے۔“

(۵) آدم اور حوا کی تخلیق کے ضمن میں قرآن مجید کی یہ صراحت معروف ہے کہ اللہ نے ان کے لیے ایک خاص درخت سے چکھنا بہ طور آزمائش ممنوع کر دیا دیا تھا، لیکن شیطان نے ان دونوں کو گم راہ کیا اور انھوں نے شجر ممنوعہ کو چکھ لیا۔ غامدی نے اس ضمن میں ایسی نکتہ سنجی اور دقیقہ رسی کا مظاہرہ کیا ہے کہ تخلیق انسان، اللہ کا مقصد تخلیق، آدم اور حوا کا باغ عدن سے اخراج، تو بہ اور معافی ، ان کو زمین پر بھیجے جانے اور ان کی ذریت کے لیے ہدایت الہی ، انبیاء کرام اور صحف سماوی کے مسلسل اور مستقل نظم ، بنی نوع انسان سے شیطان کی ازلی عداوت جیسے بنیادی اور کلیدی موضوعات بالکل پس پشت ہو گئے ہیں۔ غامدی کی تحقیق سے تو ایسا متبادر ہوتا ہے کہ شیطان کا منصوبہ ہی اصل تھا اور وہی کام یاب ہوا۔ سورہ طہ ، آیت ۱۲۰ پر انھوں نے یہ حاشیہ چڑھایا ہے : لفظ شجرۂ یہاں مجازی مفہوم میں ہے۔ اس سے مراد وہی شجرہ تناسل ہے جس کا پھل کھانے سے انسان اس دنیا میں اپنے آپ کو باقی رکھے ہوئے ہے۔ چنانچہ ابلیس نے یہ لالچ دے کر آدم اور حوا کو اس درخت کا پھل کھانے کی ترغیب دی کہ حیات جاوداں اور ابدی بادشاہی کا راز اسی درخت کے پھل میں ہے جس سے تمھیں محروم کر دیا گیا ہے۔ اس کا پھل کھاؤ گے تو باقی رہو گے، ورنہ جلد یا بدیر موت سے دوچار ہو جاؤ گے۔ شیطان کی یہ بات، اگر غور کیجیے تو ایسی غلط بھی نہیں تھی۔ اس لیے کہ یہ اسی درخت کا پھل ہے جس کے کھانے سے انسان کی زندگی کا تسلسل دنیا میں قائم ہے۔

سبحان اللہ ! مالک الملک، خلاق علیم اللہ کے علی الرغم انسان اس دنیا میں اپنے کو باقی رکھے ہوئے ہے۔ اور اسی درخت کا پھل ہے جس کے کھانے سے انسان کی زندگی کا تسلسل اس دنیا میں قائم ہے۔ اس گم راہ کن بیانیے میں زندگی اور موت پر قادر مطلق اللہ کا کوئی کردار ہی نہیں دکھائی دیتا۔

 

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

No Results Found

The page you requested could not be found. Try refining your search, or use the navigation above to locate the post.