جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 2

Published On January 23, 2026
ذو الوجہین : من وجہ اقرار من وجہ انکار

ذو الوجہین : من وجہ اقرار من وجہ انکار

محمد خزیمہ الظاہری پہلے بھی عرض کیا تھا کہ غامدی صاحب نے باقاعدہ طور پر دو چہرے رکھے ہوئے ہیں. ایک انہیں دکھانے کے لئے جو آپ کو منکر حدیث کہتے ہیں اور یہ چہرہ دکھا کر انکار حدیث کے الزام سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میزان میں بارہ سو روایتیں ہیں وغیرہ...

( اہلِ غزہ کے معاملے میں غامدی صاحب کی اصولی غلطیاں (قسط دوم

( اہلِ غزہ کے معاملے میں غامدی صاحب کی اصولی غلطیاں (قسط دوم

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد پچھلی قسط کے اختتام پر لکھا گیا کہ ابھی یہ بحث پوری نہیں ہوئی، لیکن غامدی صاحب کے حلقے سے فوراً ہی جواب دینے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اگر جواب کی طرف لپکنے کے بجاے وہ کچھ صبر سے کام لیتے اور اگلی قسط پڑھ لیتے، تو ان حماقتوں میں مبتلا نہ ہوتے جن میں...

(اہلِ غزہ کے معاملے میں غامدی صاحب کی اصولی غلطیاں (قسط اول

(اہلِ غزہ کے معاملے میں غامدی صاحب کی اصولی غلطیاں (قسط اول

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد غامدی صاحب فرماتے ہیں کہ حج اور جہاد کی فرضیت صرف اسی کےلیے ہوتی ہے جو استطاعت رکھتا ہو۔ بظاہر یہ بات درست محسوس ہوتی ہے، لیکن اس میں بہت ہی بنیادی نوعیت کی غلطی پائی جاتی ہے اور اس غلطی کا تعلق شرعی حکم تک پہنچنے کے طریقِ کار سے ہے۔ سب سے پہلے...

جہاد، قادیانی اور غامدی صاحب، اصل مرض کی تشخیص

جہاد، قادیانی اور غامدی صاحب، اصل مرض کی تشخیص

حسان بن علی بات محض حکمت عملی کے اختلاف کی نہیں کہ مسلمان فی الحال جنگ کو چھوڑ رکھیں بلکہ بات پورے ورلڈ ویو اور نظریے کی ہے کہ غامدی صاحب کی فکر میں مسلمانوں کی اجتماعی سیادت و بالادستی اساسا مفقود ہے (کہ خلافت کا تصور ان کے نزدیک زائد از اسلام تصور ہے)، اسى طرح...

مولانا فراہی کی سعی: قرآن فہمی یا عربی دانی ؟

مولانا فراہی کی سعی: قرآن فہمی یا عربی دانی ؟

ڈاکٹر خضر یسین مولانا فراہی رحمہ اللہ کی عمر عزیز کا بیشتر حصہ قرآن مجید کی خدمت میں صرف ہوا ہے۔ لیکن یہ قرآن مجید کے بجائے عربی زبان و ادب کی خدمت تھی یا تخصیص سے بیان کیا جائے تو یہ قرآن مجید کے عربی اسلوب کی خدمت تھی۔ قرآن مجید کا انتخاب صرف اس لئے کیا گیا تھا کہ...

خدا پر ایمان : غامدی صاحب کی دلیل پر تبصرہ اور علم کلام کی ناگزیریت

خدا پر ایمان : غامدی صاحب کی دلیل پر تبصرہ اور علم کلام کی ناگزیریت

ڈاکٹرزاہد مغل علم کلام کے مباحث کو غیر ضروری کہنے اور دلیل حدوث پر اعتراض کرنے کے لئے جناب غامدی صاحب نے ایک ویڈیو ریکارڈ کرائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قرآن سے متعلق دیگر علوم جیسے کہ اصول فقہ، فقہ و تفسیر وغیرہ کے برعکس علم کلام ناگزیر مسائل سے بحث نہیں کرتا اس لئے کہ...

پروفیسر عبدالرحیم قدوائی

پانچ ضخیم جلدوں پر مشتمل غامدی کی اردو تفسیر البیان ۲۰۱۰ء میں طبع ہوئی، جو ہزاروں مبسوط تفسیری حواشی سے مزین ہے، بد قسمتی سے جن میں سے زیادہ تر مذموم تفسیر بالرائے کے آئینہ دار ہیں۔ اس کا ثبوت رڈ غامدیت پر مشتمل متعدد کتب اور مقالات ہیں۔

میرے پیش نظر انگریزی تصنیف دا قرآن ٹرانسلیشن ہے،  جس کے انگریزی مترجم غامدی کے دست راست اور تیس سالہ قدیم ہم مشرب رفیق شہزاد سلیم ہیں ۔ بہ طور مصنف غامدی صاحب ہی کا نام سرورق پر جلی حروف میں درج ہے اور ان ہی کے ادارہ المورد سے شائع ہوا ہے۔ اس انگریزی ترجمہ میں دیباچہ اور مقدمہ البیان کی جلد اول سے یہ جنسہ مستعار ہے اور انگریزی متن ترجمہ بھی البیان ہی کا چربہ ہے، البتہ کئی ہزار تفسیری حواشی کے بجائے انداز اً صرف سو (۱۰۰) حواشی ہی شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ البیان کی ہزاروں صفحات کی ضخامت کے بالمقابل یہ انگریزی ترجمہ صرف نو سو ( ۹۰۰) صفحات پر مشتمل ہے، جب کہ البیان کی صرف جلد اول، جو محض سورہ الفاتحہ سے سورۃ المائدہ کو محیط ہے، سات سو (۷۰۰) صفحات کی ہے۔ مکمل البیان کا ترجمہ کیوں نہیں پیش کیا گیا؟ اس کی صرف تلخیص پر کیوں اکتفا کیا گیا؟ اصل تصنیف کے تفسیری حواشی کو کیوں حذف کر دیا گیا ؟ کیا وہ ایسے متنازعہ تھے کہ انگریزی ترجمے میں ان کی شمولیت سے احتراز کیا گیا ؟ اگر یہی امر واقعہ ہے تو اردو تفسیر میں ان کی اشاعت کا کیا جواز ہے؟

یہ نکتہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ انگریزی تصنیف میں مندرج تفسیری حواشی البیان کے حواشی کی بہ نسبت کہیں کم شنیع ہیں ۔ بعض متنازعہ بیانات یقیناً جلوہ گر ہیں، لیکن ان میں احکام قرآن ، اسلامی عقائد اور مسلمات دین سے ایسا انحراف نہیں جس کے رد عمل میں غامدی افکار کے خلاف ہر مسلک کے نمائندہ اہل قلم کی کثیر تعداد میں احتجاجی اور تردیدی تصانیف وجود میں آئی ہیں۔

ہر چند کہ اس انگریزی ترجمے میں مترجم شہزاد سلیم کا شذرہ موجود ہے، لیکن البیان کے متن سے انحراف اور اس کی حد درجے تلخیص کی کوئی وجہ بیان نہیں کی گئی ہے۔ کسی بھی نئے ترجمے کے دیباچے میں اس کاوش کا کوئی جواز پیش کیا جاتا ہے، اس کے امتیازات کو نمایاں کیا جاتا ہے، اپنے پیش روں پر سبقت کا اظہار ہوتا ہے اور مناسب عجز و انکسار کے ساتھ اپنے کارنامے کو قارئین کے سامنے رکھا جاتا ہے، لیکن ان ضروری امور کے بجائے مترجم نے جسارت یہ کی ہے کہ متن قرآن میں مبینہ استقام کا طومار باندھا ہے۔ محذوفات ہر ادبی شہ کار میں پیوست ہوتے ہیں، عربی میں ان کا رواج اور زیادہ ہے۔ یہ عبارت طرز ادا میں حسن نہ کہ فتح کا باعث ہوتے ہیں۔ مترجم نے استخفاف کےساتھ متن قرآن کے اس پہلو پر نازیبا حملہ کیا ہے۔ وہ رقم طراز ہیں:

قرآن کا یہ اسلوب ہے کہ وہ کوئی سبب بیان کرتا ہے، لیکن اکثر اس کا مالہ و ما علیہ حذف کر دیتا ہے، بلکہ بیانیے کے بعض اجزا بھی غائب کر دیتا ہے، الفاظ سے ان کا اظہار نہیں کرتا ہے، پیش تر مقامات پر التفات بالکل سرسری ہوتا ہے، پے در پے جوابات درج ہوتے ہیں، لیکن اصل سوال ہی مفقود رہتا ہے،اعتراضات اور شبہات کی تصریح کے بغیر ان کی تردید کرتا ہے۔“ (ص ۱۰)

 

اپنی گراں قدر تصنیف دا انیمیٹیبل قرآن (اعجاز قرآن) میں خالد یمی بلنکن شپ نے التفات اور محذوفات کے قرآنی محاسن کی بہ حسن و خوبی وضاحت کی ہے ۔ کے شہزاد سلیم کا جہل مرکب عبرت ناک ہے اور قابل ملامت بھی۔ ایسی عبارت پر تو گمان قرون وسطی کے اسلام دشمن زہر میں بھی ہوئی کسی مستشرق کی تحریر کا ہوتا ہے۔

ان کی مزید تحقیق یہ ہے کہ قرآن مجید میں نظم (آیات اور سورتوں کا باہمی تعلق ) کی حقیقت کو واشگاف کرنے کا شرف بیسویں صدی عیسوی میں بر صغیر ہند و پاک کے صرف دو مفسرین : حمید الدین فراہی (۱۸۶۳ – ۱۹۳۰ء) اور امین احسن اصلاحی (۱۹۰۴ – ۱۹۹۷ء) کو حاصل ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ قرآن مجید کا یہ پہلو متقدمین مفسرین پر بھی خوب روشن تھا۔ عبد القاهر الجرجانی (م ۱۰۷۹/۵۴۷۱ء) کی تصنیف دلائل الاعجاز نے اسے شرح وبسط کے ساتھ فتح کیا ہے۔ سے

انگریزی مترجم شہزاد سلیم کو اپنے ممدوح استاد غامدی ایسے عزیز ہیں کہ انھوں نے نظریہ نظم قرآن کے ضمن میں امین احسن اصلاحی کی خدمت کو بھی مسترد کر دیا ہے اور ان کے منبج تفسیر کو قدماء کا تابع مہمل قرار دیا ہے۔

شخصیت پرستی اور غلو کے بے محابا اظہار کے علاوہ یہ بیان اس لحاظ سے ناقص اور محض تاثراتی ہے کہ یہاں کوئی وضاحت نہیں ملتی کہ غامدی کا منہج کیا ہے؟ اور وہ کس لحاظ سے اصلاحی اور دیگر مفسرین کے منہج سے ممتاز یا بہتر ہے؟ مترجم نے نہایت فاتحانہ انداز میں اپنا یہ کارنامہ درج کیا ہے کہ غامدی اور ان کے انگریزی مترجم دونوں نے متن قرآن مجید کے اردو اور انگریزی ترجمے میں قوسین کے استعمال سے احتراز کیا ہے۔ به الفاظ دیگر محذوفات کو پر کرتے ہوئے ان کو ترجمہ متن کا جزو لازم بنا دیا ہے۔ متن قرآن مجید میں غیر قرآنی الفاظ جملوں کو قوسین کی بندش کے بغیر داخل کرنا غیر مسلم انگریزی مترجمین کے ہاں عام شرارت رہی ہے کہ اس سے پیغام قرآنی کو مسخ کرنے کا باب وا ہو جاتا ہے۔ کسی مسلمان مترجم سے کلام اللہ کی ایسی بے توقیری نا قابل تصور ہے، لیکن موصوف نے اسے عین خدمت مصحف گردانا ہے اور یہ اعلان کیا ہے کہ متن قرآن مجید میں جو الفاظ اور جملے معدوم ہیں، ان کو شامل کر دیا گیا ہے اور یہ اضافے قوسین میں نہیں، بلکہ اصل عبارت میں شامل ہیں ۔۵ نوبت بہ ایں جا رسید کہ مترجم نے قرآن مجید میں معدوم الفاظ ہی نہیں جملے تک دریافت کر لیے اور اپنے ترجمے کی زینت بنا دیے۔ یہ امر واقعہ ہے کہ قرآن مجید میں محذوفات ہیں۔ یہ کسی بھی متن میں ناگزیر ہیں۔ ہر اسم اور ضمیر کو بہ تکرار ادا کرنا مطلوب ہوتا ہے نہ فصاحت و بلاغت کے لحاظ سے برام اور مستحسن ۔ قارئین کی سہولت کے لیے مسلم انگریزی مترجمین قوسین میں کہیں کہیں ایسی تصریح آمیز عبارت کا اضافہ کر دیتے ہیں، جس سے افہام و تفہیم میں سہولت ہو۔ مثلاً قل جا بجا متن قرآن میں آیا ہے۔ مسلم مترجمین نے اپنے انگریزی تراجم میں قوسین میں یہ وضاحت کر دی ہے: (اے رسول اللہ ! آپ کہہ دیجیے یا بتادیجیے ) بہ الفاظ دیگر متن میں غیر قرآنی الفاظ کو داخل کیے بغیر قرآن مجید کا مافی الضمیر بے غبار طور پر قارئین پر عیاں ہو جاتا ہے۔ اگر قوین کا یہ اہتمام نہ کی جائے تو مترجم کی اپنی ذاتی مسلکی اور متنازعہ آرا کے متن قرآن مجید کی عبارت میں در آنے اور قارئین کے گم راہ ہونے اور پیغام قرآنی کے مسخ ہونے کا کھلا ہوا خدشہ رہتا ہے۔ غامدی اور ان کے مترجم کو صحت قرآن مجید کی اس سد سکندری کا مطلق لحاظ نہیں، جو کہ نا قابل فہم ہے اور نا قابل دفاع بھی۔ اس نکتے کا اعادہ ضروری ہے کہ ہر مسلم مترجم نے قوسین کا التزام کیا ہے، ورنہ اس بندش سے آزادی غیر مسلم مستشرق مترجمین کا طرہ ہے کہ ان کی دانست میں متن قرآن مجید کا کوئی تقدس ہی نہیں ہوتا ۔ مترجم نے قرآن مجید کے اسلوب مبین پر خالصہ مستشرقین کے طرز فکر اور خبث باطن کی مانند یہ اعتراض وارد کیا ہے کہ عبارت قرآن مجید سے یہ اکثر کھلتا ہی نہیں کہ محمد کو کیا پیغام ارسال کرنا ہے؟ اور اللہ کا بیان کہاں سے شروع اور کہاں ختم ہوتا ہے ۔ سیاق و سباق اور التفات (علم البلاغہ ) سے ایسی نا واقفیت اور حوصلہ کلام اللہ کے ترجمے اور ترجمانی کا۔ کچھ کیفیت چراغ مردہ کجا شمع آفتاب کجا کی سی۔ ایک اور تکلیف دہ پہلو مذکورہ بالا اقتباس کا یہ ہے کہ رسول اکرم ﷺ کے اسم گرامی سے پیغمبر کا لاحقہ اور بعد میں کوئی تعظیمی لقب حتی کہ ص، اور ، تک کے مخففات ندارد۔ ایک مسلمان مصنف سے ایسا استخفاف رسول اور وہ بھی ترجمہ اور تفسیر قرآن مجید کے ذیل میں ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون !

 

 

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…