پروفیسر عبدالرحیم قدوائی
پانچ ضخیم جلدوں پر مشتمل غامدی کی اردو تفسیر البیان ۲۰۱۰ء میں طبع ہوئی، جو ہزاروں مبسوط تفسیری حواشی سے مزین ہے، بد قسمتی سے جن میں سے زیادہ تر مذموم تفسیر بالرائے کے آئینہ دار ہیں۔ اس کا ثبوت رڈ غامدیت پر مشتمل متعدد کتب اور مقالات ہیں۔
میرے پیش نظر انگریزی تصنیف دا قرآن ٹرانسلیشن ہے، جس کے انگریزی مترجم غامدی کے دست راست اور تیس سالہ قدیم ہم مشرب رفیق شہزاد سلیم ہیں ۔ بہ طور مصنف غامدی صاحب ہی کا نام سرورق پر جلی حروف میں درج ہے اور ان ہی کے ادارہ المورد سے شائع ہوا ہے۔ اس انگریزی ترجمہ میں دیباچہ اور مقدمہ البیان کی جلد اول سے یہ جنسہ مستعار ہے اور انگریزی متن ترجمہ بھی البیان ہی کا چربہ ہے، البتہ کئی ہزار تفسیری حواشی کے بجائے انداز اً صرف سو (۱۰۰) حواشی ہی شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ البیان کی ہزاروں صفحات کی ضخامت کے بالمقابل یہ انگریزی ترجمہ صرف نو سو ( ۹۰۰) صفحات پر مشتمل ہے، جب کہ البیان کی صرف جلد اول، جو محض سورہ الفاتحہ سے سورۃ المائدہ کو محیط ہے، سات سو (۷۰۰) صفحات کی ہے۔ مکمل البیان کا ترجمہ کیوں نہیں پیش کیا گیا؟ اس کی صرف تلخیص پر کیوں اکتفا کیا گیا؟ اصل تصنیف کے تفسیری حواشی کو کیوں حذف کر دیا گیا ؟ کیا وہ ایسے متنازعہ تھے کہ انگریزی ترجمے میں ان کی شمولیت سے احتراز کیا گیا ؟ اگر یہی امر واقعہ ہے تو اردو تفسیر میں ان کی اشاعت کا کیا جواز ہے؟
یہ نکتہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ انگریزی تصنیف میں مندرج تفسیری حواشی البیان کے حواشی کی بہ نسبت کہیں کم شنیع ہیں ۔ بعض متنازعہ بیانات یقیناً جلوہ گر ہیں، لیکن ان میں احکام قرآن ، اسلامی عقائد اور مسلمات دین سے ایسا انحراف نہیں جس کے رد عمل میں غامدی افکار کے خلاف ہر مسلک کے نمائندہ اہل قلم کی کثیر تعداد میں احتجاجی اور تردیدی تصانیف وجود میں آئی ہیں۔
ہر چند کہ اس انگریزی ترجمے میں مترجم شہزاد سلیم کا شذرہ موجود ہے، لیکن البیان کے متن سے انحراف اور اس کی حد درجے تلخیص کی کوئی وجہ بیان نہیں کی گئی ہے۔ کسی بھی نئے ترجمے کے دیباچے میں اس کاوش کا کوئی جواز پیش کیا جاتا ہے، اس کے امتیازات کو نمایاں کیا جاتا ہے، اپنے پیش روں پر سبقت کا اظہار ہوتا ہے اور مناسب عجز و انکسار کے ساتھ اپنے کارنامے کو قارئین کے سامنے رکھا جاتا ہے، لیکن ان ضروری امور کے بجائے مترجم نے جسارت یہ کی ہے کہ متن قرآن میں مبینہ استقام کا طومار باندھا ہے۔ محذوفات ہر ادبی شہ کار میں پیوست ہوتے ہیں، عربی میں ان کا رواج اور زیادہ ہے۔ یہ عبارت طرز ادا میں حسن نہ کہ فتح کا باعث ہوتے ہیں۔ مترجم نے استخفاف کےساتھ متن قرآن کے اس پہلو پر نازیبا حملہ کیا ہے۔ وہ رقم طراز ہیں:
قرآن کا یہ اسلوب ہے کہ وہ کوئی سبب بیان کرتا ہے، لیکن اکثر اس کا مالہ و ما علیہ حذف کر دیتا ہے، بلکہ بیانیے کے بعض اجزا بھی غائب کر دیتا ہے، الفاظ سے ان کا اظہار نہیں کرتا ہے، پیش تر مقامات پر التفات بالکل سرسری ہوتا ہے، پے در پے جوابات درج ہوتے ہیں، لیکن اصل سوال ہی مفقود رہتا ہے،اعتراضات اور شبہات کی تصریح کے بغیر ان کی تردید کرتا ہے۔“ (ص ۱۰)
اپنی گراں قدر تصنیف دا انیمیٹیبل قرآن (اعجاز قرآن) میں خالد یمی بلنکن شپ نے التفات اور محذوفات کے قرآنی محاسن کی بہ حسن و خوبی وضاحت کی ہے ۔ کے شہزاد سلیم کا جہل مرکب عبرت ناک ہے اور قابل ملامت بھی۔ ایسی عبارت پر تو گمان قرون وسطی کے اسلام دشمن زہر میں بھی ہوئی کسی مستشرق کی تحریر کا ہوتا ہے۔
ان کی مزید تحقیق یہ ہے کہ قرآن مجید میں نظم (آیات اور سورتوں کا باہمی تعلق ) کی حقیقت کو واشگاف کرنے کا شرف بیسویں صدی عیسوی میں بر صغیر ہند و پاک کے صرف دو مفسرین : حمید الدین فراہی (۱۸۶۳ – ۱۹۳۰ء) اور امین احسن اصلاحی (۱۹۰۴ – ۱۹۹۷ء) کو حاصل ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ قرآن مجید کا یہ پہلو متقدمین مفسرین پر بھی خوب روشن تھا۔ عبد القاهر الجرجانی (م ۱۰۷۹/۵۴۷۱ء) کی تصنیف دلائل الاعجاز نے اسے شرح وبسط کے ساتھ فتح کیا ہے۔ سے
انگریزی مترجم شہزاد سلیم کو اپنے ممدوح استاد غامدی ایسے عزیز ہیں کہ انھوں نے نظریہ نظم قرآن کے ضمن میں امین احسن اصلاحی کی خدمت کو بھی مسترد کر دیا ہے اور ان کے منبج تفسیر کو قدماء کا تابع مہمل قرار دیا ہے۔
شخصیت پرستی اور غلو کے بے محابا اظہار کے علاوہ یہ بیان اس لحاظ سے ناقص اور محض تاثراتی ہے کہ یہاں کوئی وضاحت نہیں ملتی کہ غامدی کا منہج کیا ہے؟ اور وہ کس لحاظ سے اصلاحی اور دیگر مفسرین کے منہج سے ممتاز یا بہتر ہے؟ مترجم نے نہایت فاتحانہ انداز میں اپنا یہ کارنامہ درج کیا ہے کہ غامدی اور ان کے انگریزی مترجم دونوں نے متن قرآن مجید کے اردو اور انگریزی ترجمے میں قوسین کے استعمال سے احتراز کیا ہے۔ به الفاظ دیگر محذوفات کو پر کرتے ہوئے ان کو ترجمہ متن کا جزو لازم بنا دیا ہے۔ متن قرآن مجید میں غیر قرآنی الفاظ جملوں کو قوسین کی بندش کے بغیر داخل کرنا غیر مسلم انگریزی مترجمین کے ہاں عام شرارت رہی ہے کہ اس سے پیغام قرآنی کو مسخ کرنے کا باب وا ہو جاتا ہے۔ کسی مسلمان مترجم سے کلام اللہ کی ایسی بے توقیری نا قابل تصور ہے، لیکن موصوف نے اسے عین خدمت مصحف گردانا ہے اور یہ اعلان کیا ہے کہ متن قرآن مجید میں جو الفاظ اور جملے معدوم ہیں، ان کو شامل کر دیا گیا ہے اور یہ اضافے قوسین میں نہیں، بلکہ اصل عبارت میں شامل ہیں ۔۵ نوبت بہ ایں جا رسید کہ مترجم نے قرآن مجید میں معدوم الفاظ ہی نہیں جملے تک دریافت کر لیے اور اپنے ترجمے کی زینت بنا دیے۔ یہ امر واقعہ ہے کہ قرآن مجید میں محذوفات ہیں۔ یہ کسی بھی متن میں ناگزیر ہیں۔ ہر اسم اور ضمیر کو بہ تکرار ادا کرنا مطلوب ہوتا ہے نہ فصاحت و بلاغت کے لحاظ سے برام اور مستحسن ۔ قارئین کی سہولت کے لیے مسلم انگریزی مترجمین قوسین میں کہیں کہیں ایسی تصریح آمیز عبارت کا اضافہ کر دیتے ہیں، جس سے افہام و تفہیم میں سہولت ہو۔ مثلاً قل جا بجا متن قرآن میں آیا ہے۔ مسلم مترجمین نے اپنے انگریزی تراجم میں قوسین میں یہ وضاحت کر دی ہے: (اے رسول اللہ ! آپ کہہ دیجیے یا بتادیجیے ) بہ الفاظ دیگر متن میں غیر قرآنی الفاظ کو داخل کیے بغیر قرآن مجید کا مافی الضمیر بے غبار طور پر قارئین پر عیاں ہو جاتا ہے۔ اگر قوین کا یہ اہتمام نہ کی جائے تو مترجم کی اپنی ذاتی مسلکی اور متنازعہ آرا کے متن قرآن مجید کی عبارت میں در آنے اور قارئین کے گم راہ ہونے اور پیغام قرآنی کے مسخ ہونے کا کھلا ہوا خدشہ رہتا ہے۔ غامدی اور ان کے مترجم کو صحت قرآن مجید کی اس سد سکندری کا مطلق لحاظ نہیں، جو کہ نا قابل فہم ہے اور نا قابل دفاع بھی۔ اس نکتے کا اعادہ ضروری ہے کہ ہر مسلم مترجم نے قوسین کا التزام کیا ہے، ورنہ اس بندش سے آزادی غیر مسلم مستشرق مترجمین کا طرہ ہے کہ ان کی دانست میں متن قرآن مجید کا کوئی تقدس ہی نہیں ہوتا ۔ مترجم نے قرآن مجید کے اسلوب مبین پر خالصہ مستشرقین کے طرز فکر اور خبث باطن کی مانند یہ اعتراض وارد کیا ہے کہ عبارت قرآن مجید سے یہ اکثر کھلتا ہی نہیں کہ محمد کو کیا پیغام ارسال کرنا ہے؟ اور اللہ کا بیان کہاں سے شروع اور کہاں ختم ہوتا ہے ۔ سیاق و سباق اور التفات (علم البلاغہ ) سے ایسی نا واقفیت اور حوصلہ کلام اللہ کے ترجمے اور ترجمانی کا۔ کچھ کیفیت چراغ مردہ کجا شمع آفتاب کجا کی سی۔ ایک اور تکلیف دہ پہلو مذکورہ بالا اقتباس کا یہ ہے کہ رسول اکرم ﷺ کے اسم گرامی سے پیغمبر کا لاحقہ اور بعد میں کوئی تعظیمی لقب حتی کہ ص، اور ، تک کے مخففات ندارد۔ ایک مسلمان مصنف سے ایسا استخفاف رسول اور وہ بھی ترجمہ اور تفسیر قرآن مجید کے ذیل میں ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون !