جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ

Published On January 20, 2026
غامدی صاحب کے ارشادات پر ایک نظر

غامدی صاحب کے ارشادات پر ایک نظر

ابو عمار زاہد الراشدی جاوید احمد غامدی صاحب ہمارے محترم اور بزرگ دوست ہیں، صاحب علم ہیں، عربی ادب پر گہری نظر رکھتے ہیں، وسیع المطالعہ دانشور ہیں، اور قرآن فہمی میں حضرت مولانا حمید الدین رحمہ اللہ تعالیٰ کے مکتب کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان دنوں قومی اخبارات میں غامدی...

علماء کے سیاسی کردار پر جناب غامدی کا موقف

علماء کے سیاسی کردار پر جناب غامدی کا موقف

ابو عمار زاہد الراشدی اول- اس بحث کا پس منظر غالباً عید الفطر کے ایام کی بات ہے کہ محترم جاوید احمد غامدی نے پشاور پریس کلب میں جہاد، فتویٰ، زکوٰۃ، ٹیکس اور علماء کے سیاسی کردار کے حوالہ سے اپنے خیالات کا اظہار کیا جو ملک کے جمہور علماء کے موقف اور طرز عمل سے مختلف...

غامدی صاحب کے اصولوں کا ایک تنقیدی جائزہ

غامدی صاحب کے اصولوں کا ایک تنقیدی جائزہ

ڈاکٹر حافظ محمد زبیر الشریعہ کے جنوری ۲۰۰۶ کے شمارے میں ڈاکٹر محمد امین صاحب کے مضمون کے جواب میں غامدی صاحب کی تائید میں لکھی جانے والی دو تحریریں نظر سے گزریں ، جن کے حوالے سے کچھ گزارشات اہل علم کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔ جناب طالب محسن صاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 85)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 85)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی اگے سنت کے متعلق رقم طراز ہے کہ " دوم یہ کہ سنت قران کے بعد نہیں   بلکہ قران سے مقدم ہے ۔ اس لیے وہ لازما اس کے حاملین کے اجماع وتواتر ہی سے اخذ کی جائے گی ۔ قران میں اس کے جن احکام کا ذکر ہوا ہے   ان کی تفصیلات بھی اسی اجماع وتواتر پر...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 85)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 84)

مولانا واصل واسطی تیسری وجہ اس بنیاد کے غلط ہونے کی یہ ہے   کہ جناب غامدی نے قران مجید کی جن آیات کو اس کے لیے دلیل کے طور پر پیش کیاہے اس کو تسلیم کرنے کے بعد بھی انسان یہ سمجھتاہے   کہ اس کو جو  ہدایت   دی گئی ہے اور جو " شعور " عطا کیاگیا ہے وہ محض اجمالی " معرفت...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 85)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 83)

مولانا واصل واسطی دوسری بات اس خلل کے متعلق یہ ہے کہ جن لوگوں کا یہ خیال ہے کہ " شعورِخوب وناخوب کو اللہ تعالی نے انسانی فطرت میں ودیعت کیا ہے اور اسے ان کی فطرت میں رکھا ہے " اس بات تک وہ انسانی فطرت کے براہِ راست مطالعے کے نتیجے میں نہیں پہنچے ۔ نہ ان لوگوں نے براہِ...

پروفیسر عبدالرحیم قدوائی

جناب جاوید احمد غامدی اپنے بعض مخصوص افکار کی بنا پر علمی حلقوں میں معروف ہیں۔ البیان کے نام سے انھوں نے اردو میں قرآن مجید کا ترجمہ کیا ہے اور تفسیر لکھی ہے۔ اس اردو ترجمہ قرآن کا انگریزی ترجمہ ڈاکٹر شہزاد سلیم نے کیا ہے، ساتھ ہی البیان کے تفسیری حواشی کی بھی تلخیص کی ہے۔ زیر نظر مقالے میں پروفیسر عبد الرحیم قدوائی نے اس کا تنقیدی جائزہ لیا ہے۔ سہ ماہی تحقیقات اسلامی میں تنقید اور استدراک کو شائع کرنے کی روایت رہی ہے۔ اگر اس تنقیدی مقالے پر کوئی استدراک موصول ہوا تو ان شاء اللہ اسے بھی شائع کیا جائے گا۔ مدیر

۱۹۳۰ء تک انگریزی ترجمہ قرآن مجید کا علمی میدان مغربی فضلا مستشرقین کے زیر تسلط تھا۔ عامۃ المسلمین کی انگریزی سے ناواقفیت کے باعث اور تردید کے خوف کے بغیر وہ ترجمہ اور تفسیری حواشی کے ذریعے انگریزی خواں قارئین کو اسلام سے متوخش و متنفر اور قرآن مجید سے مسلسل بدظن کرنے کی شرانگیز مہم میں مصروف رہے۔ قرآن مجید کے کی مہم حیات بخش پیغام کو مسخ کر کے پیش کرنا، اسے اللہ کے بجائے محمد ( رسول اللہ صلی ایم) کی تصنیف قرار دنیا، اسے تشد د اور غارت گری اور جنسی و اخلاقی بے راہ روی کا منبع و ماخذ قرار دینا ( دہشت گردی کی اصطلاح اس وقت تک ایجاد نہیں ہوئی تھی ) ، قرآن مجید کے اسلوباور زبان و بیان کو مطعون کرنا، اس کی توقیفی ترتیب اور تدوین کو رد کرنا اور اسے زمانی قالب میں پیش کرنے کی جسارت کرنا، اسے بائبل کا ملغوبہ سرقہ یا چربہ قرار دینا اور اس کے ہر پہلو کو استخفاف و استہزا کا مورد قرار دینا ان کا وتیرہ رہا۔ اس میں نمایاں نام ان انگریزی مترجمین کے ہیں: الیگزنڈر راس (سنہ اشاعت ۱۶۴۹ء ) ، جارج سیل (۱۷۳۴ء)، ہے۔ ایم۔ راڈویل (۱۸۶۱ء) ، ای ایچ پالمر (۱۸۸۰ء)، رچرڈ بیل (۱۹۳۷-۱۹۳۹ء) وغیرہ۔ اسی نکتے کا اطلاق دیگر یوروپی زبانوں: جرمن، فرانسیسی، ولندیزی، روسی، اسپینی اور

اطالوی کے قرآن مجید مترجمین اور شارحین پر بھی ہوتا ہے۔

ہندوستان میں برطانیہ کے غاصبانہ قبضے کے شر سے بہر کیف یہ جزوی خیر برآمد ہوا که هندوستانی مسلمان استشراق کے اس فتنے سے براہ راست با خبر ہوئے اور اپنی دینی حمیت نے براہ اور غیرت سے سرشار اس کی مسکت تردید کا آغاز کیا۔ اس ضمن میں سب سے روشن مثال بانی مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ سید احمد خان (۱۸۱۷ – ۱۸۹۸ء) کی ہے۔ انھوں نے برطانوی حاکم اور عیسائی مشنری ذہن کے ساختہ و پرداخته سرولیم میور (۱۸۱۹-۱۹۰۵ء) کی سیرت طیبہ کے خلاف ہفوات پر مشتمل Life of Muhammad (۱۸۵۸) کے علمی تعاقب میں خطبات احمد یہ اور Essays on the Life of Muhammad ( ۱۸۷۰۱۸۶۹) تصنیف کی جس نے غیر مسلم انگریزی قارئین تک کو متاثر کیا۔ اس کا ایک خوش گوار فائدہ یہ بھی ہوا کہ نوجوان فاضل سید امیر علی (۱۸۴۹ – ۱۹۲۸ء) کو سیرت مبارکہ پر ایک وقیع تصنیف شائع A Critical Examination of the Life and کرنے کی تحریک ملی۔ ان کی کتاب آج تک اس موضوع پر اساسی اور حوالے کی Teachings of Muhammad)1873( کتاب کا درجہ رکھتی ہے۔ ( یہاں دانستہ سید احمد خاں کی تفسیر القرآن کا ذکر نہیں کیا گیا ہے، اس لیے کہ اس میں مستند اصول تفسیر اور عقائد اہل سنت و جمہور کو پامال کیا گیا ہے۔ یہ پہلو موجودہ مقالے سے براہ راست متعلق بھی نہیں ہے۔

اصل مذکور یہ تھا کہ مشیت الہی نے ۱۹۳۰ء کے بعد معیاری اور حقیقی اسلام کے ترجمان انگریزی تراجم قرآن مجید کی راہ ہموار کی ۔ نظام حیدر آباد میر عثمان علی خان کی سرپرستی میں برطانوی نو مسلم اور ادیب شہیر محمد مار ماڈیوک پکتھال (۱۸۷۵۔ ۱۹۳۶ء) نے جامعہ الازہر کے شیوخ کی توثیق و تصویب کے بعد اپنا انگریزی ترجمہ ۱۹۳۰ء میں شائع کیا۔ بحمد اللہ اب اس شعبہ علم کی کیفیت چشمہ رواں کی سی ہے اور ۲۰۲۵ ء تک یعنی گزشتہ ایک سو سال سے بھی کم عرصے میں مسلمان مترجمین کے تقریباً سو (۱۰۰) مکمل تراجم منظر عام پر آچکے ہیں۔ ان میں تین عرب نژاد، انگریزی زبان اور مغربی تصور جہاں اور طرز معاشرت میں رسوخ کے حامل یہ مترجمین بالخصوص لائق مطالعہ ہیں : 1) احمد ذکی حماد (سن اشاعت (۲۰۰۷ء) ، ii) طریف خالدی (۲۰۰۸ء ) اور iii) مصطفیٰ خطاب (۲۰۱۶ء)۔

مسلم انگریزی تراجم کے متعدد پہلو ہیں۔ ان کے شاخسانوں کے ذکر کا یہاں محل نہیں، البتہ صرف ایک نکتے کی صراحت موجودہ مقالے سے براہ راست متعلق ہے۔ یہ بدعت ہے ترجمہ در ترجمہ کی ۔ ۱۹۷۰ ء یعنی آج سے پچاس سال قبل سے بر صغیر ہند و پاک کے مخصوص دینی ماحول، معاشرتی پس منظر اور اس سے بھی بڑھ کر بڑی حد تک مسلکی عصبیت سے متاثر یہ اردو تفاسیر، انتہائی عقیدت اور سادہ لوحی کے ساتھ ان مصنفین کے مسلکی متبعین انگلستان اور امریکہ سے ان کے انگریزی تراجم بڑی آب و تاب سے شائع کر رہے ہیں۔ ان کی خام خیالی یہ ہے کہ آج سے ۵۰ سال قبل جب ان تفاسیر نے ان کی ہدایت کا سامان بہم پہنچایا تھا ، وہ نسخہ اکسیر دیار مغرب میں آج بھی اتنا ہی کار آمد ثابت ہوگا ، جب کہ آج کے دیار مغرب کا فلک اور ہے زمین اور جن در پیش نظریاتی، علمی، معاشرتی اور ملتی مسائل سے وہاں مقیم لاکھوں مسلمان نبرد آزما ہیں، ان میں اور ۱۹۷۰ ء اور ۱۹۸۰ء کے برصغیر کے منظر نامے میں کوئی قدر مشترک نہیں ہے۔ اس سرگرمی سے البتہ اپنے اپنے مسلکی پندار کو کچھ تقویت مل جاتی ہے، لیکن قارئین کی فکری رہ نمائی اور قرآن مجید کی ابدی ہدایت سے راہ بینی کی کوئی سبیل نہیں نظر آتی ۔ گزشتہ برسوں میں دیارِ مغرب سے بڑے طمطراق سے برصغیر کے ان اردو اور فارسی مفسرین کے انگریزی تراجم شائع ہوئے ہیں: احمد رضا خان بریلوی، سید ابوالاعلیٰ مودودی، مفتی محمد شفیع ، تقی عثمانی، طاہر القادری، محمود حسن اور شبیر احمد عثمانی، طبا طبائی، باقر بهبودی، ابو الکلام آزاد، غلام احمد پرویز ، سلمان حسینی اور تازہ ترین اضافہ پاکستانی مصنف جاوید احمد غامدی (پ ۱۹۵۳ء) کا ہے۔

 

 

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…