جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ

Published On January 20, 2026
رعایتِ صلاۃ میں غامدی صاحب کے قطعی الدلالۃ کا حال

رعایتِ صلاۃ میں غامدی صاحب کے قطعی الدلالۃ کا حال

ڈاکٹر زاہد مغل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قطعی الدلالۃ کے موضوع پر مکتب فراہی کے ابہامات پر متعدد انداز سے بات ہوچکی۔ ایک مثال لیجیے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوا کہ جب تم سفر کے لئے نکلو تو تمہارے لئے نماز قصر کرنے میں کچھ حرج نہیں۔ اس آیت سے ماخوذ دیگر احکام کے علاوہ...

غامدی صاحب اور انکارِ حدیث

غامدی صاحب اور انکارِ حدیث

ڈاکٹر حافظ محمد زبیر دوست کا سوال ہے کہ غامدی صاحب کو "منکر حدیث" کہہ سکتے ہیں یا نہیں؟ جواب: دیکھیں، اصل یہ ہے کہ آپ کی "انکار حدیث" سے مراد کیا ہے؟ اگر تو انکار حدیث سے مراد کلی طور پر حدیث کا انکار ہے تو ایسا غامدی صاحب نہیں کرتے۔ بہر حال یہ ماننا پڑتا ہے کہ وہ...

امام غزالی کا تصورِ کشف اور غامدی صاحب کا طریقہ واردارت

امام غزالی کا تصورِ کشف اور غامدی صاحب کا طریقہ واردارت

ڈاکٹر زاہد مغل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غامدی صاحب نے تصوف کے خلاف اپنی ظاہر پرستی پر مبنی مضمون میں متفرق علماء اور صوفیاء کی الگ تھلگ عبارات کو پیش کرکے یہ منظر کشی کرنے کی کوشش کی ہے کہ "یہ سب لوگ" نبوت کے بعد نبوت کے قائل ہوگئے تھے۔ سرِدست مجھے ان سب حوالوں کا...

تصورِ بیان (اصولیین بمقابلہ مکتبِ فراہی)

تصورِ بیان (اصولیین بمقابلہ مکتبِ فراہی)

ڈاکٹر زاہد مغل مولانا اصلاحی صاحب کتاب “مبادی تدبر حدیث” میں فرماتے  ہیں سنت قرآن کی تفسیر، تعریف اور تبیین کرتی ہے، یہ سوال بالکل خارج از بحث ہے کہ کوئی حدیث یا سنت قرآن کی ناسخ ہوسکے اس کی وجہ وہ یہ بیان کرتے ہیں جہاں تک حدیث کا تعلق ہے، اس میں ضعف کے اتنے پہلو...

ریاست و فرد اور فکرِ غامدی کا تضاد

ریاست و فرد اور فکرِ غامدی کا تضاد

ڈاکٹر زاہد مغل غامدی صاحب نہایت دلچسپ مفکر ہیں، انکے نزدیک ریاست کو یہ حق حاصل نہیں کہ مذہب کی بنیاد پر (سواۓ دو معاملات، اقامتِ صلاۃ اور زکوۃ) افراد پر جبر کرے، مثلا انکے نزدیک ریاست افراد سے پردہ کرنے کا تقاضا نہیں کرسکتی۔ مگر دوسری طرف یہ ریاست کا حق اس قدر وسیع...

“غامدی صاحب کا اصول “قطعی الدلالہ

“غامدی صاحب کا اصول “قطعی الدلالہ

پروفیسر ڈاکٹر محمد مشتاق احمد غامدی صاحب بڑے شدّ و مدّ کے ساتھ یہ دعوی کرتے ہیں کہ قرآن پورے کا پورا قطعی الدلالہ ہے، یعنی اس کا ایک ہی مفہوم ہے اور اس کا کوئی دوسرا مفہوم نہیں ہوسکتا۔ وہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ اگر پورے قرآن کو قطعی الدلالہ نہ مانا جائے تو وہ میزان اور...

پروفیسر عبدالرحیم قدوائی

جناب جاوید احمد غامدی اپنے بعض مخصوص افکار کی بنا پر علمی حلقوں میں معروف ہیں۔ البیان کے نام سے انھوں نے اردو میں قرآن مجید کا ترجمہ کیا ہے اور تفسیر لکھی ہے۔ اس اردو ترجمہ قرآن کا انگریزی ترجمہ ڈاکٹر شہزاد سلیم نے کیا ہے، ساتھ ہی البیان کے تفسیری حواشی کی بھی تلخیص کی ہے۔ زیر نظر مقالے میں پروفیسر عبد الرحیم قدوائی نے اس کا تنقیدی جائزہ لیا ہے۔ سہ ماہی تحقیقات اسلامی میں تنقید اور استدراک کو شائع کرنے کی روایت رہی ہے۔ اگر اس تنقیدی مقالے پر کوئی استدراک موصول ہوا تو ان شاء اللہ اسے بھی شائع کیا جائے گا۔ مدیر

۱۹۳۰ء تک انگریزی ترجمہ قرآن مجید کا علمی میدان مغربی فضلا مستشرقین کے زیر تسلط تھا۔ عامۃ المسلمین کی انگریزی سے ناواقفیت کے باعث اور تردید کے خوف کے بغیر وہ ترجمہ اور تفسیری حواشی کے ذریعے انگریزی خواں قارئین کو اسلام سے متوخش و متنفر اور قرآن مجید سے مسلسل بدظن کرنے کی شرانگیز مہم میں مصروف رہے۔ قرآن مجید کے کی مہم حیات بخش پیغام کو مسخ کر کے پیش کرنا، اسے اللہ کے بجائے محمد ( رسول اللہ صلی ایم) کی تصنیف قرار دنیا، اسے تشد د اور غارت گری اور جنسی و اخلاقی بے راہ روی کا منبع و ماخذ قرار دینا ( دہشت گردی کی اصطلاح اس وقت تک ایجاد نہیں ہوئی تھی ) ، قرآن مجید کے اسلوباور زبان و بیان کو مطعون کرنا، اس کی توقیفی ترتیب اور تدوین کو رد کرنا اور اسے زمانی قالب میں پیش کرنے کی جسارت کرنا، اسے بائبل کا ملغوبہ سرقہ یا چربہ قرار دینا اور اس کے ہر پہلو کو استخفاف و استہزا کا مورد قرار دینا ان کا وتیرہ رہا۔ اس میں نمایاں نام ان انگریزی مترجمین کے ہیں: الیگزنڈر راس (سنہ اشاعت ۱۶۴۹ء ) ، جارج سیل (۱۷۳۴ء)، ہے۔ ایم۔ راڈویل (۱۸۶۱ء) ، ای ایچ پالمر (۱۸۸۰ء)، رچرڈ بیل (۱۹۳۷-۱۹۳۹ء) وغیرہ۔ اسی نکتے کا اطلاق دیگر یوروپی زبانوں: جرمن، فرانسیسی، ولندیزی، روسی، اسپینی اور

اطالوی کے قرآن مجید مترجمین اور شارحین پر بھی ہوتا ہے۔

ہندوستان میں برطانیہ کے غاصبانہ قبضے کے شر سے بہر کیف یہ جزوی خیر برآمد ہوا که هندوستانی مسلمان استشراق کے اس فتنے سے براہ راست با خبر ہوئے اور اپنی دینی حمیت نے براہ اور غیرت سے سرشار اس کی مسکت تردید کا آغاز کیا۔ اس ضمن میں سب سے روشن مثال بانی مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ سید احمد خان (۱۸۱۷ – ۱۸۹۸ء) کی ہے۔ انھوں نے برطانوی حاکم اور عیسائی مشنری ذہن کے ساختہ و پرداخته سرولیم میور (۱۸۱۹-۱۹۰۵ء) کی سیرت طیبہ کے خلاف ہفوات پر مشتمل Life of Muhammad (۱۸۵۸) کے علمی تعاقب میں خطبات احمد یہ اور Essays on the Life of Muhammad ( ۱۸۷۰۱۸۶۹) تصنیف کی جس نے غیر مسلم انگریزی قارئین تک کو متاثر کیا۔ اس کا ایک خوش گوار فائدہ یہ بھی ہوا کہ نوجوان فاضل سید امیر علی (۱۸۴۹ – ۱۹۲۸ء) کو سیرت مبارکہ پر ایک وقیع تصنیف شائع A Critical Examination of the Life and کرنے کی تحریک ملی۔ ان کی کتاب آج تک اس موضوع پر اساسی اور حوالے کی Teachings of Muhammad)1873( کتاب کا درجہ رکھتی ہے۔ ( یہاں دانستہ سید احمد خاں کی تفسیر القرآن کا ذکر نہیں کیا گیا ہے، اس لیے کہ اس میں مستند اصول تفسیر اور عقائد اہل سنت و جمہور کو پامال کیا گیا ہے۔ یہ پہلو موجودہ مقالے سے براہ راست متعلق بھی نہیں ہے۔

اصل مذکور یہ تھا کہ مشیت الہی نے ۱۹۳۰ء کے بعد معیاری اور حقیقی اسلام کے ترجمان انگریزی تراجم قرآن مجید کی راہ ہموار کی ۔ نظام حیدر آباد میر عثمان علی خان کی سرپرستی میں برطانوی نو مسلم اور ادیب شہیر محمد مار ماڈیوک پکتھال (۱۸۷۵۔ ۱۹۳۶ء) نے جامعہ الازہر کے شیوخ کی توثیق و تصویب کے بعد اپنا انگریزی ترجمہ ۱۹۳۰ء میں شائع کیا۔ بحمد اللہ اب اس شعبہ علم کی کیفیت چشمہ رواں کی سی ہے اور ۲۰۲۵ ء تک یعنی گزشتہ ایک سو سال سے بھی کم عرصے میں مسلمان مترجمین کے تقریباً سو (۱۰۰) مکمل تراجم منظر عام پر آچکے ہیں۔ ان میں تین عرب نژاد، انگریزی زبان اور مغربی تصور جہاں اور طرز معاشرت میں رسوخ کے حامل یہ مترجمین بالخصوص لائق مطالعہ ہیں : 1) احمد ذکی حماد (سن اشاعت (۲۰۰۷ء) ، ii) طریف خالدی (۲۰۰۸ء ) اور iii) مصطفیٰ خطاب (۲۰۱۶ء)۔

مسلم انگریزی تراجم کے متعدد پہلو ہیں۔ ان کے شاخسانوں کے ذکر کا یہاں محل نہیں، البتہ صرف ایک نکتے کی صراحت موجودہ مقالے سے براہ راست متعلق ہے۔ یہ بدعت ہے ترجمہ در ترجمہ کی ۔ ۱۹۷۰ ء یعنی آج سے پچاس سال قبل سے بر صغیر ہند و پاک کے مخصوص دینی ماحول، معاشرتی پس منظر اور اس سے بھی بڑھ کر بڑی حد تک مسلکی عصبیت سے متاثر یہ اردو تفاسیر، انتہائی عقیدت اور سادہ لوحی کے ساتھ ان مصنفین کے مسلکی متبعین انگلستان اور امریکہ سے ان کے انگریزی تراجم بڑی آب و تاب سے شائع کر رہے ہیں۔ ان کی خام خیالی یہ ہے کہ آج سے ۵۰ سال قبل جب ان تفاسیر نے ان کی ہدایت کا سامان بہم پہنچایا تھا ، وہ نسخہ اکسیر دیار مغرب میں آج بھی اتنا ہی کار آمد ثابت ہوگا ، جب کہ آج کے دیار مغرب کا فلک اور ہے زمین اور جن در پیش نظریاتی، علمی، معاشرتی اور ملتی مسائل سے وہاں مقیم لاکھوں مسلمان نبرد آزما ہیں، ان میں اور ۱۹۷۰ ء اور ۱۹۸۰ء کے برصغیر کے منظر نامے میں کوئی قدر مشترک نہیں ہے۔ اس سرگرمی سے البتہ اپنے اپنے مسلکی پندار کو کچھ تقویت مل جاتی ہے، لیکن قارئین کی فکری رہ نمائی اور قرآن مجید کی ابدی ہدایت سے راہ بینی کی کوئی سبیل نہیں نظر آتی ۔ گزشتہ برسوں میں دیارِ مغرب سے بڑے طمطراق سے برصغیر کے ان اردو اور فارسی مفسرین کے انگریزی تراجم شائع ہوئے ہیں: احمد رضا خان بریلوی، سید ابوالاعلیٰ مودودی، مفتی محمد شفیع ، تقی عثمانی، طاہر القادری، محمود حسن اور شبیر احمد عثمانی، طبا طبائی، باقر بهبودی، ابو الکلام آزاد، غلام احمد پرویز ، سلمان حسینی اور تازہ ترین اضافہ پاکستانی مصنف جاوید احمد غامدی (پ ۱۹۵۳ء) کا ہے۔

 

 

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

No Results Found

The page you requested could not be found. Try refining your search, or use the navigation above to locate the post.