(6) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

Published On January 14, 2026
سود اور غامدی صاحب

سود اور غامدی صاحب

حسان بن علی غامدی صاحب کے ہاں سود دینا (سود ادا کرنا) حرام نہیں ہے (جس کی کچھ تفصیل ان کی کتاب مقامات میں بھى موجود ہے) اور جس حدیث میں سود دینے والے کی مذمت وارد ہوئی ہے، غامدی صاحب نے اس میں سود دینے والے سے مراد وہ شخص لیا ہے جو کہ سود لینے والے کے لیے گاہک تلاش...

علم کلام پر جناب غامدی صاحب کے تبصرے پر تبصرہ

علم کلام پر جناب غامدی صاحب کے تبصرے پر تبصرہ

ڈاکٹر زاہد مغل ایک ویڈیو میں محترم غامدی صاحب علم کلام پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے ایک حرف غلط قرار دے کر غیر مفید و لایعنی علم کہتے ہیں۔ اس کے لئے ان کی دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ فلسفے کی دنیا میں افکار کے تین ادوار گزرے ہیں:۔ - پہلا دور وہ تھا جب وجود کو بنیادی حیثیت دی گئی...

شریعت خاموش ہے “ پر غامدی صاحب کا تبصرہ”

شریعت خاموش ہے “ پر غامدی صاحب کا تبصرہ”

ڈاکٹر زاہد مغل ایک ویڈیو میں جناب غامدی صاحب حالیہ گفتگو میں زیر بحث موضوع پر اپنا موقف واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ دین یا شریعت خاموش ہونے سے ان کی مراد یہ نہیں ہوتی کہ شریعت نے اس معاملے میں سرے سے کوئی حکم ہی نہیں دیا بلکہ مراد یہ ہوتی ہے کہ شارع نے یہاں کوئی معین...

قرآن کا میزان و فرقان ہونا اور منشائے متکلم کا مبحث

قرآن کا میزان و فرقان ہونا اور منشائے متکلم کا مبحث

جہانگیر حنیف کلام کے درست فہم کا فارمولہ متکلم + کلام ہے۔ قاری محض کلام تک محدود رہے، یہ غلط ہے اور اس سے ہمیں اختلاف ہے۔ کلام کو خود مکتفی قرار دینے والے حضرات کلام کو کلام سے کلام میں سمجھنا چاہتے ہیں۔ جو اولا کسی بھی تاریخی اور مذہبی متن کے لیے ممکن ہی نہیں۔ اور...

خلافتِ علی رضی اللہ عنہ، ان کی بیعت اور جناب غامدی صاحب کے تسامحات

خلافتِ علی رضی اللہ عنہ، ان کی بیعت اور جناب غامدی صاحب کے تسامحات

سید متین احمد شاہ غامدی صاحب کی ایک تازہ ویڈیو کے حوالے سے برادرِ محترم علی شاہ کاظمی صاحب نے ایک پوسٹ لکھی اور عمدہ سوالات اٹھائے ہیں۔ صحابہ کی تاریخ کے مختلف پہلوؤں کے حوالے سے غامدی صاحب کی اور بھی کئی ویڈیوز ہیں۔ جس طرح انھوں نے بہت سے فقہی اور فکری معاملات میں...

حضرت عیسی علیہ السلام کا نزول اور غامدی نظریہ : قسط دوم

حضرت عیسی علیہ السلام کا نزول اور غامدی نظریہ : قسط دوم

مولانا محبوب احمد سرگودھا غامدی صاحب کے تیسرے اعتراض کی بنیاد سورہ مائدہ کی آیت ہے 117 میں موجود عیسی علیہ السلام کا روز قیامت باری تعالٰی سے ہونے والا مکالمہ ہے۔ آیت یہ ہے: فلما توفيتني كنت انت الرقيب عليهم، وانت على كل شيء شهید (قیامت کے دن بارگاہ خداوندی میں عیسی...

محمد عامر گردز

غامدی صاحب کے موقف کی تنقیح مزید اور چند اہم تجزیاتی نکات

زیر بحث مسئلہ ایک تعبدی امر ہے۔ دین اسلام میں عبادات تمام تر توقیفی ہیں۔ انسانی فہم اور رائے کو ان میں کوئی دخل نہیں ہے۔ جب کہ مندرجہ بالا تجزیے سے واضح ہوتا ہے کہ اس قضیے میں غامدی صاحب کے موقف کے درج ذیل پانچ بنیادی مقدمے اُن کے ذاتی فہیم و اجتہاد پر بنی ہیں :

اسلامی عبادات میں تین مراسم پر مشتمل اندر’ کی ایک مستقل عبادت بھی ہے۔

اندر کی یہ عبادت حج و عمرہ کے مناسک میں پائی جاتی ہے۔

مندر کی یہ عبادت تطوعا مسلمان جب چاہیں جہاں چاہیں انجام دے سکتے ہیں۔

عید الاضحی کے موقع پر نبی صلی اقوام نے مسلمانوں کو یہ تلقین فرمائی ہے کہ وہ قربانی کے علاوہ محمدر” کی اس عبادت کا اہتمام بھی کریں۔

عید الاضحی کے موقع پر مندر کی یہ عبادت قربانی کی عبادت پر منحصر نہیں ہے، بلکہ یہ قربانی کے بغیر بھی ادا کی جاسکتی ہے۔

مذکورہ بالا اساسی مقدمات کے لیے قرآن و سنت نبی صلی علیم کے قول و فعل کی روایات، آخر صحابہ اور مراجع فقہ میں بھی کوئی ماخذ موجود نہیں ہے۔ یہ واقعہ ہے کہ غامدی صاحب کے بتائے ہوئے تین متنوع احکام حج و عمرہ کے مناسک کے اندر تو اپنے موقع و محل کی رعایت کے ساتھ سنت ثابتہ کی حیثیت سے دین ابراہیمی کی روایت سے چلے آرہے ہیں، لیکن ان سے مجرد کر کے ان تین مراسم عبودیت کا کوئی تصور نہ دین ابراہیمی میں موجود تھا اور نہ محمد رسول اللہ صلی نیلم کی آخری شریعت میں ان کا کوئی ماخذ ہے۔ نذر کے نام سے ایسی کوئی عبادت نہ اسلامی شریعت کی متعین عبادات میں پائی جاتی ہے اور نہ نوافل کی حیثیت سے اس کا کوئی تصور کبھی مسلمانوں میں رہا ہے۔ بالبداہت واضح ہے کہ تعبدی امور میں شارع کی تشریح کے بغیر کوئی تخم مشروع ہو سکتا ہے، نہ کوئی تصور مانا جا سکتا ہے۔

حج و عمرہ کی عبادات میں قربانی کے ساتھ اور اُس کے بغیر بال اور ناخن کاٹنے کی پابندی اور سر کا حلق یا قصر کرانا بلا شبہ متفق علیہ شریعت کے احکام ہیں، لیکن ان کے بارے میں یہ بات بالکل متعین ہے کہ یہ احکام روزہ اول سے ان دونوں عبادات کا اپنا جزو ہیں۔ نذر کی کسی الگ اور مستقل عبادت سے اخذ کر کے حج و عمرہ میں داخل نہیں کیے گئے ہیں۔ اسی طرح خدا کے پیغمبروں نے حج و عمرہ سے مجرد کر کے ان تین مراسم سے بنے والی کسی مستقل عبادت کا کوئی تصور کبھی نہیں دیا۔

غامدی صاحب دو روایتوں سے استدلال کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ نبی صلی السلام نے عید الاشی کی قربانی کے موقع پر اسی عبادت نذر کی تطوعاً تلقین فرمائی ہے۔ ایک روایت ام سلمہ سے منقول ہے اور دوسری عبد اللہ بن عمرو سے ۔ اس سے صاف واضح ہے کہ غامدی صاحب کی رائے کی بناے استدلال یہ دو اخبار آحاد ہی ہیں۔ ان روایتوں سے استدلال کیے بغیر عشرہ ذی الحجہ اور عید کی قربانی کے موقع کے لیے ان احکام کو کسی بھی حیثیت میں پیش نہیں کیا جا سکتا۔ اس صریح استدلال کے بعد وہ اگر یہ بھی فرماتے ہیں ان کے موقف کی بنائے استدلال کوئی حدیث نہیں ہے تو ظاہر ہے کہ یہ مقدمہ نا قابل قبول ہو گا۔

غامدی صاحب نے اپنی کتاب میزان میں اور توفیقی گفت گو میں خود اپنا موقف جس تفصیل و صراحت سے بیان کیا ہے، اس کی رو سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ اس مسئلے میں ان کی بناے استدلال دو روایتیں ہی ہیں: حج و عمرد کے مناسک کے بعض اجزا کی طرف اشارے سے ، البتہ انھوں نے اپنے نقطہ نظر کے مطابق اس حکم کی اساس کی نشان دہی فرمائی ہے۔ اپنی کتاب میزان میں نبی سلا میڈیم ہی کی توضیح کے طور پر وہ لکھتے ہیں کہ آپ نے ہدایت فرمائی ہے کہ : ” قربانی کے مہینے میں قربانی کرنے والے حج و عمرہ میں ایک سنت ثابتہ کی حیثیت سے جاری نذر کی قدیم روایت کے مطابق قربانی سے پہلے نہ اپنے ناخن کا ئیں گے اور نہ بال کٹر وائیں گے۔ آپ کا ارشاد ہے کہ کسی شخص کو قربانی کے لیے جانور میسر نہ ہو تو عید کے دن وہ یہ بڑھے ہوئے ناخن کاٹے اور بال کروادے ، اللہ کے نزدیک اس کے لیے یہی پوری قربانی ہے “۔ (70)

اس پورے پیرے میں خط کشیدہ عبارت غامدی صاحب کا اپنا فہم ہے اور باقی پوری بات نبی صلی علی ایم کی نسبت اور روایتوں کے حوالوں کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔ جس بات کو راقم الحروف نے غامدی صاحب کا فہم کہا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ مخط کشیدہ بات یا اس کا مفہوم حوالے کے طور پر پیش کی گئی دونوں روایتوں کی نصوص اور ان کے کسی طریق میں صراحتا بیان ہوا ہے، نہ اشار تا دکھایا جا سکتا ہے۔

ایک نہایت قابل تدبر امر یہ ہے کہ اس قضیے میں غامدی صاحب کے مذکورہ بالا پورے تصور کو ان کی اپنی پیش کردہ دونوں روایتوں کی روشنی میں پر کھا جائے کہ آیا یہ اخبار آحاد ان کے موقف کو ثابت کرتی بھی ہیں یا نہیں۔ ذیل میں قارئین کے لیے غامدی صاحب کے موقف، ان کی پیش کردہ دونوں روایتوں اور حج و عمرہ کے مناسک کے مابین باہمی منافات کو واضح کیا جائے گا۔

پہلی بات یہ ہے کہ جن تین احکام کو غامدی صاحب نے عبادت نذر” کے مراسم کہا ہے، ان میں سے دور یعنی ہال اور ناخن کاٹنے کی پابندیاں ان کی پیش کردہ دونوں روایتوں میں سے صرف حدیث ام سلمہ میں بیان ہوئی ہیں، جب کہ تیسر ا حکم یعنی عید کے دن بالوں کو کتروانا عبد اللہ بن عمرو کی روایت سے مستقبطہ کیا گیا ہے۔ لہذا معلوم ہوا کہ اس عبادت کے جن تین مراسم پر مشتمل ہونے کا تصور پیش کیا گیا ہے ، وہ استدلال کے طور پر پیش کی گئی کسی ایک حدیث میں بیان ہوا ہے ، نہ کسی ایک موقع پر نبی صلی علیم نے ان تینوں کا حکم کسی کو دیا ہے ۔ ان روایتوں میں ایسی کوئی عبادت زیر بحث ہوتی تو نبی سلام اس کی صراحت کرتے اور مسلمانوں کے لیے اُس کے تمام مراسم پوری وضاحت کے ساتھ لازما ایک ہی موقع پر بیان فرماتے۔

دوسرے یہ کہ حدیث ام سلمہ میں عید الاضحی کے دن کے لیے حلق یا قصر کا حکم بیان نہیں ہوا ہے، جب کہ حج و عمرہ کی شریعت میں حلق یا قصر ایک ثابت شدہ لازمی حکم ہے۔

تیسرے یہ کہ اس روایت میں عید کی قربانی کرنے والوں کے لیے صرف دو پا بندیوں کا بیان ہے، جب کہ حج و عمرہ میں دو نہیں، بلکہ مردوں اور عورتوں پر کئی پابندیاں خود حج و عمرہ کے احرام کے تقاضے سے عائد ہوتی ہیں، خواہ وہ ان عبادات میں قربانی کر رہے ہوں یا نہ کر رہے ہوں۔ چوتھے یہ کہ اس حدیث میں دونوں پابندیاں دس دنوں کے لیے عائد کی گئی ہیں، جب کہ حج میں تمام محظورات احرام آٹھ سے دس ذی الحجہ تک ، یعنی صرف دو یا ڈھائی دن کے دور اپنے کے لیے عائد ہوتے ہیں۔

پانچویں یہ کہ جس طرح حج و عمرہ کی عبادات کے اندر بجائے خود ان تین مراسم کے اندر کی مکمل عبادت ہونے کی کوئی دلیل نہیں دکھائی جاسکتی، اسی طرح خود حدیث ام سلمہ میں بھی اس نام کی عبادت ہونے کوئی ذکر یا قرینہ تک موجود نہیں ہے۔

چھلے یہ کہ غامدی صاحب فرماتے ہیں کہ عشرہ ذی الحجہ کے دوران میں ان پابندیوں کا قربانی کی عبادت سے کوئی تعلق نہیں ہے، بلکہ یہ منجملہ عبادت نذر کے مراسم کے ہیں۔ اس رائے کے بر عکس خود اس حدیث ام سلمہ میں ان دونوں پابندیوں کو بر اور است قربانی ہی سے متعلق بتایا گیا ہے، نہ کہ یہ اندرا کی کسی مستقل عبادت کے اجزا کے طور پر بیان ہوئی ہیں۔

ساتویں یہ کہ حج و عمرہ کے مناسک میں آٹھ سے دس ذی الحجہ تک اور حدیث ام سلمہ کے ظاہر الفاظ کی دلالت کی رو سے قربانی کرنے والوں کے لیے پورے عشرہ ذی الحجہ میں یہ دونوں پابندیاں اختیار کرنا لازم ہے۔ جب کہ غامدی صاحب کی رائے میں عید الاضحی کے موقع پر ان احکام کی تلقین نبی صل الم نے فضل کے طور پر فرمائی ہے، انھیں لازم نہیں کیا ہے۔

آٹھویں یہ کہ حج و عمرہ کے مناسک اور حدیث ام سلمہ کے مضمون کے بر عکس عبد اللہ بن عمر والی ان کی روایت میں عشرہ ذی الحجہ میں بال اور ناخن کاٹنے کی پابندیوں کا کوئی ذکر نہ قربانی کرنے والوں کے لیے آیا ہے اور نہ باقی مسلمانوں کے لیے۔ اس سے غامدی صاحب کا استدلال اس صورت میں درست ہو سکتا تھا جب اس روایت میں قربانی نہ کرنے والوں کے لیے بھی ان دونوں پابندیوں کو اختیار کرنے کا حکم مذکور ہوتا۔

نویں یہ کہ حج و عمرہ کے مناسک میں اپنے اپنے موقع و محل پر سر کا حلق یا قصر کر انا مر دوں اور عورتوں، دونوں پر لازم ہے۔ لیکن عبد اللہ بن عمرو علی با کی روایت میں عید الاضحیٰ کے موقع پر سر کے حلق یا قصر کرانے کا کوئی حکم مذکور نہیں ہے۔ ان کی روایت میں تو بالخصوص مردوں کے لیے عید کے موقع کی مناسبت سے تعمیر بدن کے آداب بیان ہوئے ہیں، جن کا نہ حج و عمرہ کی شریعت سے کوئی تعلق ہے اور نہ قربانی کی عبادت ہے۔ دسویں یہ کہ قربانی نہ کرنے والوں کے لیے عشرہ ذی الحجہ میں دو پابندیاں ماننے کے نتیجے میں خود حدیث ام سلمہ میں بیان ہونے والے حکم کی نفی ہو جاتی ہے، اس لیے کہ اس میں ان پابندیوں کا حکم یہ صراحت صرف قربانی کرنے والوں ہی کے لیے بیان ہوا ہے۔ نبی صلی تیم کارشاد ہے : “إذا رَأَيْتُمْ هِلَالَ ذِي الْحِجَّةِ، وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحْيَ، فَلْيُمْسِكْ عن شعره وأظفاره – (٢٢) ( تم جب ذی الحجہ کا چاند دیکھ لو اور تم میں سے کوئی شخص قربانی کا ارادہ رکھتا ہو تو اُسے چاہیے کہ اپنے بالوں اور ناخنوں کو کاٹنے سے باز رہے۔) اس روایت کو خود غامدی صاحب نے بھی بہ طور استدلال پیش کیا ہے اور یہ یہ صراحت تقاضا کرتی ہے کہ قربانی نہ کرنے والوں کے لیے اس طرح کی کوئی پابندیاں استحباب کے درجے میں بھی نہیں مانی جاسکتیں۔ چناں چہ اس پہلو سے بھی نامدی صاحب کا تصور خود ان کی پیش کر دور وایت سے بھی متعارض ہے۔

عید کی قربانی کے بعد ایک امر تعبیدی کے طور پر سر کا حلق یا قصر کرانا، خواہ اس کو استحباب ہی کے درجے میں مانا جائے؛ اس کا کوئی دینی و شرعی ماخذ موجود نہیں ہے، بلکہ ایسا کرنا قربانی کے باب میں رسول اللہ صلی علیم کے جاری و ساری عمل کے خلاف ہو گا ۔ آپ نے قربانی کی شریعت کی تفصیلات و آداب نہ صرف یہ کہ مسلمانوں کے لیے واضح فرمائے ہیں، بلکہ آپ برسوں ان پر عمل پیرا بھی رہے، لیکن عشرہ ذی الحجہ کی یہ پابندیاں اختیار کرنا اور قربانی کے بعد حلق یا قصر کر انا آپ کے ثابت شدہ عمل کے بالکل خلاف ہے۔

ضعف استدلال کے مذکورہ بالا تمام شواہد کو ایک طرف رکھ کر اگر بالفرض مان بھی لیا جائے کہ زیر بحث دونوں روایتوں سے غامدی صاحب کا استدلال اپنے مخصوص تصور کے لیے درست طور پر ثابت ہوتا ہے تو اُس صورت میں بھی اصول فراہی کے تناظر میں یہ سوال بہر حال اُن کے سامنے پیش کیا جائے گا کہ احکام کے باب کی یہ دونوں قولی روایتیں شریعت اسلامی کے کسی حکم کی تفہیم و تبیین کرتی ہیں ؟

مناسک حج و عمرہ کے اندر تین احکام پر مشتمل منذر کی کوئی مستقل عبادت بالفرض موجود بھی ہوتی تو نبی صلی الم اسے بیت الحرام کے ساتھ خاص انھی دو عبادات کے ذیل میں خود حجاج و معتمرین کے لیے مناسک حج و عمرہ سے مجرد کر کے بھی با قاعدہ مستحب قرار دیتے، بلکہ آپ خود بھی اس پر عمل پیرا ہوتے، جیسا کہ نفلی طواف کے باب میں آپ کا ارشاد و اسوہ ثابت ہے۔ اس کے برعکس آپ حج و عمرہ کے ساتھ خاص ان مراسم عبودیت کو بجالانے کا حکم غیر حجاج و معتمرین کو عید الاضحیٰ کی قربانی کے موقع پر قولی طور پر کیوں فرمائیں گے ؟ اوراں حالے کہ اس عید کے موقع پر خود آپ کا برسوں کا معمول اس کے بر خلاف ثابت ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ آپ یہ زبانی ہدایت بھی اس طرح کریں کہ نذر کی اس مکمل عبادت کے تین مراسم میں سے دو کو ایک موقع پر اپنی زوجہ ام سلمہ کے سامنے بیان کریں اور تیسرے کو ایک اتفاقی واقعے میں کسی سائل کے جواب میں بتائیں۔ اور مزید بر آن آپ خود ہر سال عید کے موقع پر مدینہ اور حرم مکہ ، دونوں میں قربانیاں کرتے رہیں اور نذر کی اس مستقل عبادت کے مراسم کو اپنے لیے عملاً قابل اعتناہی نہ سمجھیں، جیسا کہ سیدہ عائشہ میں ملا کی مستند ترین روایتوں سے آپ کا اسوہ معلوم و ثابت ہے۔ “عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنتُ أَفْتِلُ الْقَلَائِدَ قِدْيِ رَسُولِ اللَّهِ ، فَيَبْعَثُ بِهَا ثُمَّ يُقِيمُ عِنْدَنَا، وَلَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِما يَجْتَنِبُ المحرم ٢٠١٠) ( سیدہ عائشہ کا بیان ہے : میں نبی ملی تعلیم کی بدی کے جانوروں کے قلادے ( اپنے ہاتھوں سے بنا کرتی تھی۔ پھر نبی صلی ایم اے (مکہ مکرمہ) روانہ کر کے ہمارے ساتھ (مدینہ ہی میں مقیم رہتے اور جن کاموں سے آدمی حالت احرام میں اجتناب کرتا ہے، آپ ان میں سے کسی کام سے اجتناب نہیں کیا کرتے تھے۔)

رسول اللہ صل اللہ سے ملنے والی آخری شریعت کے بر خلاف شریعت موسوی میں بنی اسرائیل کے لیے نذارت کی ایک خاص عبادت مقرر تھی، جس میں بندہ اپنے آپ کو بہ شمول اپنی تمام خدمات و مساعی کے حقیقا خداوند کی نذر کر دیتا تھا۔ یہ نذر پیش کرنے والے کی طرف سے اپنے آپ کو خداوند کے لیے وقف کر دینے کی منت تھی۔ شریعت بنی اسرائیل میں یہ نذر ایک مستقل عبادت کا درجہ رکھتی تھی۔ ان کی اس خاص عبادت کے حوالے سے یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ ان کی شریعت میں یہ منذر” شعائر کی نوعیت کے کوئی مراسم نہیں تھے کہ جنھیں حج و عمرہ کی طرح کچھ مناسک کی صورت میں صرف ممثل کر کے دکھاتا ہو تا تھا، بلکہ یہ بندے کی طرف سے اپنی زندگی کو حقیقت میں نذر اور وقف کر دینا تھا۔ اس خاص عبادت کا ذکر تورات میں نذر اور انذارت بنی کے نام اور عنوان سے ہوا ہے۔

نذر کی اس اسرائیلی عبادت میں تنذیر (۲۸) کے لیے صرف ایک پابندی ہوا کرتی تھی اور وہ نذارت کے عرصے میں سر کے بال کاٹنے کی ممانعت تھی۔ غامدی صاحب کے نقطہ نظر اور حدیث ام سلمہ میں بیان ہونے والے حکم کے بر خلاف باقی جسم کے بال اتارنے اور ناخن کاٹنے کی کوئی پابندی نذیر کے لیے اس اسرائیکی عبادت کے قانون میں بھی نہیں تھی۔ علاوہ ازیں اس میں نذر کی تکمیل کے موقع پر بھی صرف سر کے بال اتروانے کا با قاعدہ حکم تھا، جس کے بغیر یہ نذر اپنے اتمام کو نہیں پہنچتی تھی، (1) جب کہ ہمارے سامنے ایک طرف ام سلمہ اور عبد اللہ بن عمرو ان کی روایتیں ہیں، جن میں اسرائیلی شریعت کی طرح کی نذارت کی کسی عبادت کا کوئی ذکر یا قرینہ پایا جاتا ہے، نہ ان دونوں میں سر کے بال اتارنے کا کوئی حکم ہی موجود ہے، بلکہ حدیث ام سلمہ میں نذارت کی اسرائیکی عبادت کے برخلاف عشرہ ذی الحجہ کی دو پابندیاں بیان ہوئی ہیں اور ان کو بھی یہ صراحت عید کی قربانی سے متعلق کیا گیا ہے اور دیہاتی آدمی کے قصے میں تصویر بدن کے چار آداب عید کی تلقین کی گئی ہے۔ تدبر کی نگاہ سے دیکھیے کہ اسرائیلی شریعت کی نذارت کی خاص اس عبادت کو پیش نظر رکھ کر بھی دیکھا جائے، تب بھی غامدی صاحب کا یہ پورا تصور نہ اس اسرائیلی عبادت سے موافق دکھائی دیتا ہے، نہ معدل کے طور پر پیش کی گئی دونوں روایتوں سے ثابت ہوتا ہے اور نہ حج و عمرہ کے مناسک کو بنیاد بنا کر سمجھا جا سکتا ہے۔

چناں چہ اس تنقیدی و تجزیاتی مطالعے کی روشنی میں واضح ہوا کہ موضوع بحث مسئلے میں غامدی صاحب نے اپنے مخصوص نقطہ نظر کے حق میں جو دلائل پیش کیے ہیں، وہ نہایت کم زور ہیں اور ان سے غامدی صاحب کا موقف ثابت نہیں ہوتا۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…