محمد عامر گردز
غامدی صاحب نے اپنے موقف کے لیے جن دور وایتوں کو بہ طور استدلال پیش کیا ہے، ان میں سے ایک روایت سیدہ ام سلمہ سے مروی ہے جس کا ایک متن صحیح مسلم میں اس طرح نقل ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی علیم نے ارشاد فرمایا: ” مَنْ كَانَ لَهُ ذِبْحٌ يَذْبَحُهُ فَإِذَا أُهِلَّ هِلَالُ ذِي الحِجَّةِ، فَلَا يَأْخُذَنَّ مِنْ شَعْرِهِ، وَلَا مِنْ أَطْفَارِهِ شَيْئًا حَتَّى يُضَحْيَ. ” شخص کے پاس قربانی کے لئے کوئی زریعہ موجود ہو تو ذی الحجہ کا چاند نظر آجانے کے بعد جب تک وہ قربانی نہ کرلے ، اپنے بال اور ناخن ہر گز نہ کاٹے۔
زیر بحث مسئلے میں غامدی صاحب کے موقف کے تناظر میں حدیث ام سلمہ کے اس معتدل کو پیش نظر رکھ کر دیکھ لیجیے۔ اس کے متن میں نہ حج و عمرہ کا کوئی ذکر ہے، نہ اس میں نذر کی کوئی عبادت اور اس کے مراسم زیر بحث ہیں، نہ عید الاضحی کے دن سر کے بالوں کا حلق یا قصر کرانے کا کوئی حکم اس میں مذکور ہے اور نہ اس کے اسلوب بیان میں زبان کے اعتبار سے ایسی کوئی دلیل موجود ہے جس کی بنیاد پر یہ کہا جا سکے کہ نبی سلا ہم نے اس میں بیان کردہ احکام کو نقل کے طور پر بجالانے کی ہدایت فرمائی ہے۔ اس روایت کے تمام متون میں صرف عید الاضحی کی قربانی کرنے والوں کے لیے عشرہ ذی الحجہ کی دو پابندیوں کا ذکر ہے۔ غامدی صاحب کی راے کے مطابق عید الاضحی کے اس موقع پر اگر حج و عمرہ کے مناسک میں سے تین احکام کو بجالانا مطلوب ہوتا تو اس حدیث میں بال اور ناخن کاٹنے کی پابندیوں کے علاوہ قربانی کے بعد سر کے حلق یا قصر کا حکم بھی لازما ہوتا۔ علاوہ از میں نامدی صاحب کے موقف کے مطابق ان تینوں احکام کو حدیث میں نذر کی عبادت یا مراسم کے اسم سے بھی موسوم کیا جاتا۔ بالبداہت واضح ہے کہ حدیث نبوی میں اس تفصیل کا پایا جانا اس لیے نا ممکن تھا کہ اسلامی شریعت میں مندر’ نامی کوئی مستقل بالذات عبادت موجود ہی نہیں ہے جس سے دین اسلامی نے مسلمانوں کو متعارف کرایا ہو ۔ مسلمان ایسی کسی عبادت سے بھی واقف نہیں ہوئے۔ روایت میں بیان ہونے والے احکام اگر حج و عمرہ میں موجود نذر کے مراسم بی کی نبوی تلقین ہیں تو ان میں حلق یا قصر کرانے کا آخری حکم کیوں بیان نہیں ہوا؟ اس سے صاف واضح ہے کہ اس قضیے میں غامدی صاحب کا اپنے موقف کے لیے سیدہ ام سلمہ سے منقول اس روایت کو پیش کرنا علمی لحاظ سے درست نہیں ہے، اس لیے کہ اس مسئلے میں اُن کا تصور اور بیان کردہ علمی مقدمات اس حدیث سے بالکل ثابت نہیں ہوتے۔
حدیث ام سلمہ میں بیان ہونے والی پابندیوں کے حج و عمرہ سے متعلق کرنے کا کوئی قرینہ روایت میں پایا جاتا ہے، نہ نذر کی مستقل عبادت ہونے کا کوئی اشارہ اس میں موجود ہے۔ بلکہ اس روایت میں تو صرف دو پابندیاں قربانی کی عبادت کے تعلق سے اور صرف قربانی کرنے والے مسلمانوں کے لیے بیان ہوئی ہیں۔ مزید بر آن اس روایت کے کسی طریق میں یہ بات بھی کہیں مذکور نہیں ہے کہ جس شخص کے پاس قربانی کا جانور میسر نہ ہو، وہ بھی چاہے تو قربانی کے بغیر ان احکام کو نقل کے طور پر بجالائے۔ چناں چہ ثابت ہوا کہ جو تنہا روایت حکم کے اصل ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے، خود اس کے متن و مضمون میں موضوع بحث مسئلے کا وہ تصور بالکل بیان نہیں ہوا جو غامدی صاحب بیان کر رہے ہیں۔
مزید یہ کہ سیدہ ام سلمہ سے منقول اس روایت پر قدیم و معاصر متعدد محققین کی با قاعدہ تحقیق اس بات کو علمی طور پر ثابت کرتی ہے کہ قول رسول کی حیثیت سے یہ ایک ضعیف، شاذ ، منکر اور امعلل، روایت ہے۔ (۲۳) تو اللہ علم حدیث کی رو سے اس کا استناد نبی مسی السلام سے ثابت ہوتا ہے، نہ یہ اصول درایت کے معیار پر پورا اترتی ہے۔ سندا روایت غریب مطلق بھی ہے، (۲۴) یعنی طبقہ صحابہ میں سوائے ام سلمہ کے یہ کسی دوسرے صحابی کی وساطت سے قول رسول کے طور پر قطعا کہیں نقل نہیں ہوئی ہے۔ علاوہ ازیں عید الاضحیٰ کے موقع پر مخود رسول اللہ علی ایم کا برسوں کا عمل اس روایت کے حکم کے بر خلاف مستند ترین روایتوں سے ثابت ہے۔ (12) یہ روایت قرون اولی کے تمام مسلمانوں کے عمل کے بھی خلاف ہے۔ صدر اول کے جمہور فقہائے امصار نے اس روایت کو (۲۵)یہ روایت قرون اولی کے تمام مسلمانوں کے عمل کے بھی خلاف ہے۔ صدر اول کے جمہور فقہائے امصار نے اس روایت کو یکسر رد کیا ہے۔ یہاں تک کہ امام مالک نے خود مدار روایت رادی سعید بن مسیب کا اپنا فتوی بھی اس کے بر خلاف نقل کیا ہے ۔ (۲۲)
زیر بحث قضیے میں غامدی صاحب نے اپنے موقف کے لیے یہ طور استدلال حدیث ام سلمہ کے علاوہ ایک تائیدی روایت بھی پیش کی ہے جو عبد اللہ بن عمرو بن عاص جن سے مروی ہے۔ ذیل میں پہلے اُس حدیث کا روایت و درایت کی رو سے جائزہ لیا جائے گا۔
عبد اللہ بن عمرو بن عاص کا بیان ہے کہ نبی صلی ﷺ نے ایک بدو کو اپنے پاس بلا کر فرمایا: “أمرت بِيَوْمِ الْأَضْحَى، جَعَلَهُ اللهُ عِيدًا لِهَذِهِ الْأُمَّةِ، فَقَالَ الرَّجُلُ : أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَجِدُ إِلَّا مَنِيحَةَ ابْنِي، أَفَأَضَحي بِهَا؟ قَالَ: لَا ، وَلَكِنْ تَأْخُذُ مِنْ شَعْرِكَ، وَتُقَلِّمُ أَظْفَارَكَ، وَتَقُصُّ شَارِبَكَ، وَتَخْلِقُ عَانَتَكَ، فَذَلِكَ تَمامُ أَضْحِيَّتِكَ عِندَ الله ” مجھے قربانی کے دن کا حکم دیا گیا ہے۔ اللہ تعالی نے اس
امت کے لیے اس دن کو عید کا دن قرار دیا ہے۔ اس شخص نے دریافت کیا: ( یار سول اللہ) یہ بتائیے کہ اگر مجھے اپنے بیٹے کی دودھ دینے والی بکری کے سوا کوئی جانور میسر نہ ہو تو کیا مجھے اس کی قربانی کرنا ہو گی ؟ آپ نے جواب میں فرمایا: نہیں، بلکہ تم ( عید کے دن) اپنے سر بال کے کا شما، ناخن تراشنا، مونچھیں پست کرتا اور زیر ناف کے بال مونڈنا۔ اللہ تعالی کے نزدیک یہی کام تمھاری طرف سے پوری قربانی شمار ہوں گے ۔
جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ غامدی صاحب کے نزدیک عشرہ ذی الحجہ کے آغاز سے جسم کے بالوں اور ناخن کاٹنے کی پابندی اختیار کرنا اور عید الاضحی کے دن سر کے بالوں کا حلق یا قصر کر اتنا؛ ان تینوں اعمال سے مل کر نذر کی ایک مکمل نقل عبادت وجود میں آتی ہے۔ ان دو پابندیوں کے لیے غامدی صاحب نے حدیث ام سلمہ سے استدلال کیا تھا اور عید کے دن حلق یا قصر کرانے کے علم کے لیے وہ عبد اللہ بن عمرو سے مروی مندرجہ بالا واقعے سے استدلال کرتے ہیں۔ ذیل میں اب روایت اور اس سے کیے گئے استدلال کا تنقیدی جائزہ لیا جائے گا۔
شيخ ناصر الدین البانی اور بعض دوسرے اہل علم نے اگرچہ اس واقعے کو سنداً ضعیف قرار دیا ہے، (۲۸) یہ ہم اس کے بارے میں اہل علم کی محقق راے نہیں ہے کہ یہ ایک “حسن” درجے کی روایت ہے، جیسا کہ شیخ شعیب ارناؤوط نے واضح کیا ہے۔ (۲۹) یہ امر ، البته قابل توجہ ہے کہ حدیث ام سلمہ کی طرح یہ روایت بھی ہندا غریب مطلق ہے۔ یعنی طریقہ صحابہ میں سے یہ واقعہ بھی سواے عبد اللہ بن عمرو کے کسی دوسرے صحابی کی نسبت سے کہیں نقل نہیں ہوا ہے۔ مزید بر آن اس کی سند کے دوسرے طبقے میں بھی غرابت ہے۔ یعنی تابعین کے طبقے میں بھی اس واقعے کا صرف ایک راوی ہی ہے جس کا نام عیسی بن بلال صدفی ہے ۔ اس راوی کا کوئی متابع موجود نہیں ہے اور ائمہ کر جال کے نزدیک اسی راوی کے صدوق ہونے کی بنا پر علم روایت کی رو سے اس واقعے کی سند کو حسن کا درجہ حاصل ہوا ہے۔ (۳۰) یہ معلوم ہے کہ فن حدیث کے اعتبار سے دیکھا جائے تو محض سند کی اغرابت کسی روایت کو ضعیف قرار دینے کے لیے اگر چہ کافی نہیں ہے، تاہم اس فن میں “غرابت چوں کہ شہرت روایت کی ضد ہے، اس لیے یہ بھی ایک نوعیت کے ضعف پر بہر حال دلالت کرتی ہے۔
غریب روایت کو ائمہ حدیث کسی نظر سے دیکھتے ہیں، اس کا اندازہ ائمہ محدثین کے مندرجہ ذیل اقوال سے لگایا جا سکتا ہے:
غریب روایت کے بارے میں نام مالک کہتے ہیں : شر العلم الغريب، وخير العلم الظاهر الذي قد رواه الناس ) ( علم کا سب سے برا مانند غریب روایت ہے ، اور سب سے بہتر علم اس معلوم و معروف روایت سے حاصل ہوتا ہے جس کو بہت لوگوں نے روایت کیا ہو)۔
عبد الرزاق صنعانی کہتے ہیں: “كنا نرى أن غريب الحديث خير، فإذا هو شر ٣٣ ( پہلے هم يه سمجھتے تھے کہ غریب حدیث بھی اچھا ماخذ علم ہے، پھر واضح ہوا کہ یہ تو شہر ہے )۔
امام احمد بن حنبل کہتے ہیں: “شر الحديث الغرائب التي لا يعمل بها، ولا يعتمد عليها . ٣٣)
(سب سے بری روایتیں غریب احادیث ہوتی ہیں جن پر نہ مسلمانوں کا عمل ہوتا ہے اور نہ ان پر اعتماد کیا جاسکتا ہے )۔ متن کے اعتبار سے اس روایت میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ اُس میں اضطراب پایا جاتا ہے، جس کی نشان دہی شیخ ناصر الدین البانی نے بھی کی ہے۔ (۴۴) اس کا مطلب یہ ہے کہ اس واقعے کے تمام متون کو اگر جمع کر کے وقت نظر سے دیکھا جائے تو متن کی معلومات میں بعض اختلافات پائے جاتے ہیں۔ واقعہ تو ظاہر ہے کہ ایک ہی ہے، لیکن روای ہو بہو ایک ہی طرح کا متن اور معلومات نقل نہیں کر پائے ہیں، بلکہ اُن کی روایتوں کے بیانات باہم مختلف ہیں۔ روایت میں مذکور دیہاتی آدمی نے اپنے پاس موجود جانور کے بارے میں نبی سال ٹیم کو کیا بات بتائی تھی ؟ اس حوالے سے روایت کے طرق میں راویوں کے بیانات میں اختلاف واضطراب ہے۔ بعض طرق میں بیان ہوا ہے کہ اس نے نبی صلی علیم کو اپنے پاس صرف ایک بکری کی موجودگی کا بتایا تھا۔ (۳۵) بعض روایتوں میں بیان ہوا ہے کہ اُس نے کہا تھا کہ میرے پاس تو صرف دودھ دینے والی ایک بکری ہے جو میرے بیٹے گیا ہے۔ (۳۲) یعنی اس سے پینے کے لیے وہ دودھ حاصل کرتا تھا۔ بعض طرق میں بکری کی نسبت پینے کے بجاے باپ کی طرف بیان کی گئی ہے، ( جب کہ بعض روایتوں میں گھر والوں کی بکری یا ان کی دودھ دینے والی بکری کے الفاظ آئے (۳۸)
علاوہ ازیں نبی صلی عوام نے اس دیہاتی شخص کو قربانی سے رخصت دینے کے بعد عید کے دن جن کاموں کو بجالانے کی ہدایت فرمائی تھی ؟ اس سوال کے جواب میں بھی روایات مضطرب المتون ہیں۔ بعض روایتوں میں چار کام بیان ہوئے ہیں، یعنی بال کٹوانا ، نائن تر اثناء مونچھیں پست کرنا اور زیر ناف کے بال مونڈنا (۲۰) بعض طرق میں تین کاموں کا ذکر ہے، یعنی ناخن تراشنا، مونچھوں کو پست کرنا اور زیر ناف کے بال مونڈنا۔ (۲) سر کے بال کٹوانے کا ان میں ذکر ہی نہیں ہے۔ جب کہ بعض روایتوں میں راویوں نے آپ کی طرف سے صرف دو کاموں کی ہدایت نقل کی ہے اور وہ مونچھوں کو پست کرنا اور ناخن تراشتا ہے۔ (1) اس طرح کا اضطراب، ظاہر ہے کہ اس بات کی واضحدلیل ہے کہ اس واقعے کے راویوں کے ضبط واتقان میں ایسا نقص ہے جس کی وجہ سے وہ اس کو درست طور پر یاد نہیں رکھ پائے ہیں۔ چناں چہ متون کا یہ اضطراب بہر حال ایک درجے میں روایت کے واضح ضعف پر دلالت کرتا ہے۔
زیر بحث واقعے کو حدیث ام سلمہ میں بیان ہونے والے حکم سے عبادت نذر کے اجتہادی تصور کی بنیاد پر متعلق کرنا اپنی جگہ پر محل نظر ہے جس پر آگے تفصیلی بحث ہو گی، تاہم یہ بات ذہن نشین رہے کہ یہ ایک ثانوی امر ہے۔ بنیادی بات یہ ہے کہ خود حدیث ام سلمہ کا استناد بھی پہلے قواعد علم روایت و درایت کی رو سے نبی صلی بیاییم سے ثابت و محقق کیا جائے۔
اس واقعے پر یہ اشکال بھی قابل توجہ ہے کہ یہ تو اتفاق سے ایک سائل کے ذاتی واقعے کی ایک مضطرب المتن اور غریب مطلق روایت ہم تک پہنچ گئی، ورنہ سوچیے کہ اگر یہ سائل آپ کے پاس اس طرح کا سوال لے کر نہ آتا یا عبد اللہ بن عمرو اس واقعے کو کسی سے بیان ہی نہ کرتے تو غامدی صاحب کے موقف کے مطابق عید کے دن اندر کی عبادت کو پایہ تکمیل تک پہنچانے والا حلق یا قصر کا تعبدی حکم نبی صلی ایام سے ہم تک کیسے پہنچتا ؟ کیا مسلمانوں کے لیے عبادات سے متعلق عمومی آداب و احکام اس طرح کے ذاتی واقعات کے ذریعے سے نقل ہو سکتے ہیں ؟