(3) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

Published On January 9, 2026
اسلام، ریاست، حکومت اور غامدی صاحب: قسط اول

اسلام، ریاست، حکومت اور غامدی صاحب: قسط اول

مسرور اعظم فرخ اسلام اور ریاست: ایک جوابی بیانیہ‘‘اور ’’ریاست اور حکومت‘‘کے عنوانات سے جاوید غامدی صاحب کے دو مضامین روزنامہ ’’جنگ‘‘ میں شائع ہو چکے ہیں۔ پہلا 22جنوری2015ء کو اور دوسرا 21فروری 2015ء کو شائع ہوا۔پہلا مضمون اگر محض الجھاؤ کا شکا ر تھا تو اس کی وضاحت میں...

خلافت : ایک قطعی فرضِ الہی

خلافت : ایک قطعی فرضِ الہی

عمر علی اول ۔ امام الجزيری، جو کہ چودھویں صدی ہجری کے معروف عالم ہیں اور ان کی رائے تقابلی فقہ میں مستند مانی جاتی ہے، نے نقل کیا ہے کہ چاروں امام (ابو حنیفہ، مالک، شافعي، احمد،رحمۃ اللہ عليھم) امامت (خلافت) کو ایک فرض سمجھتے تھے اور اس بات پر بھی متفق تھے کہ مسلمانوں...

عورت کا سوال اور غامدی صاحب کا غلط جواب

عورت کا سوال اور غامدی صاحب کا غلط جواب

ناقد : مولانا طارق مسعود صاحب تلخیص : زید حسن غامدی صاحب سے ایک خاتون نے  رجم کی بابت سوال کیا  کہ " امتِ مسلمہ کی روایت میں تمام بڑے آئمہ محصن کے زنا کی سزا رجم بتاتے ہیں لیکن آپ کہتے ہیں کہ اسکی سزا رجم نہیں بلکہ کوڑے ہیں ۔ تو کیا انہیں قرآن سمجھ میں نہیں آیا تھا" ...

منکرینِ حدیث کا رد : جاوید غامدی کو جواب

منکرینِ حدیث کا رد : جاوید غامدی کو جواب

ناقد : سیف اللہ محمدی  صاحب تلخیص : زید حسن منکرینِ حدیث عمل سے بھاگنے اور خود کو بچانے کے لئے احادیث کا انکار کرتے ہیں ۔ کیونکہ قرآن میں احکامات کا اجمال ہے جبکہ اسکی تفصیل احادیث میں موجود ہے ۔ جیسے قرآن کہتا ہے : نماز پڑھو ، زکوۃ دو  یا بیت اللہ کا حج کرو ۔ اب ان...

فکرِ غامدی : قرآن فہمی کے بنیادی اصول ( قسط چہارم)

فکرِ غامدی : قرآن فہمی کے بنیادی اصول ( قسط چہارم)

ناقد :ڈاکٹرحافظ محمد زبیر تلخیص : وقار احمد اس ویڈیو میں ہم غامدی صاحب کے اصول تدبر قرآن میں میزان و فرقان میں قرات کے اختلاف پر گفتگو کریں گے غامدی صاحب لکھتے ہیں۔۔۔ایک یہ کہ قرآن میں بعض مقامات پر قراء ت کے اختلافات ہیں ۔یہ اختلافات لفظوں کے اداکرنے ہی میں نہیں...

فکرِ غامدی : قرآن فہمی کے بنیادی اصول ( قسط چہارم)

فکرِ غامدی : مبادیء تدبرِ قرآن ، میزان اور فرقان (قسط سوم، حصہ دوم)

ناقد :ڈاکٹرحافظ محمد زبیر تلخیص : وقار احمد اس ویڈیو میں زبیر احمد صاحب غامدی صاحب کے نظریہِ تفہیم و تبیین پر گفتگو فرمائی ہے۔وہ فرماتے ہیں کہ غامدی صاحب کا ماننا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرآن مجید کے کسی حکم کی تحدید و تخصیص نہیں کرسکتے ہاں البتہ تفہیم...

محمد عامر گردز

دین ابراہیمی سے چلے آنے والے حج یا عمرہ کے مناسک میں انڈر یا اس کے مترادف کسی نام اور عنوان سے کوئی مستقل بالذات منسک یا عبادت قطعا نہیں پائی جاتی۔ ایسی کوئی عبادت نہ نام کے اعتبار سے پائی جاتی ہے ،نہ تصور کے لحاظ سے اور نہ مصداق کے اعتبار سے مناسک حج و عمرہ میں دکھائی جا سکتی ہے۔ علاوی از میں دین ابراہیمی کی تاریخ سے محمد رسول اللہ نسی تعلیم کی آخری شریعت تک حج و عمرہ کے مناسک واجزاء اور اُن کے نام ہمیشہ سے معلوم و معروف رہے ہیں اور وہ یہ ہیں: احرام، تلبیہ ، استلام تحجر اسود، طواف بیت اللہ ، سعی بین الصفا والمروه، قیام منی وقوف عرقه ، و قوف مزدلفہ ، رمی جمرات ، بدی ، حلق و قصر دین اسلام کی تاریخ میں ان دونوں عبادات کے مراسم میں کوئی الگ جزو کبھی انڈر“ کی عبادت یا مراسم کے طور پر معلوم و متعارف نہیں رہا۔ احرام کی تمام پابندیاں بھی صرف ابھی دو عبادات کے اندر یکساں طور پر اور محظورات احرام ہی کے نام سے بغیر کسی تفریق و تقسیم کے متعین رہی ہیں۔ احرام کی تمام ممنوعات میں بھی اہم و عنوان کے اعتبار سے کسی نوعیت کی کوئی تمیز یا تفریق ہمیں قرآن و سنت یا احادیث میں ملتی ہے، نہ ہمارے علماوفقہا نے اپنے فقہ و ہم سے اس طرح کی کوئی تفریق کبھی کی ہے۔

یہ واقعہ ہے کہ محمد رسول اللہ صلی علیم سے ملنے والی آخری شریعت میں اندر کی کوئی مستقل عبادت مسلمانوں کے لیے مقرر کی گئی ہے، نہ آپ کے قول و فعل کی روایات ہی میں اس کا کوئی ماخذ موجود ہے۔ آپ کی وساطت سے جو متعین عبادات شریعت اسلامی میں مسلمانوں کے لیے مقرر کی گئی ہیں، وہ صرف آٹھ ہیں: نماز روزه، اعتکاف ، زکوة صدقه قطر، حج ، عمرہ اور عید الاضحی کی قربانی۔ غور کیجیے کہ ان میں صدقہ فطر کے سوا باقی تمام عبادات اسلامی شرائع کی تاریخ میں زمانہ قدیم سے چلی آرہی ہیں۔ غرض یہ کہ اندر کی کوئی مستقل عبادت نہ قرآن میں مذکور ہے، نہ دین ابراہیمی میں اس کے کوئی شواہد ہیں اور نہ محمد رسول اللہ سی ایلام کی شریعت و اخبار میں اس کے کوئی آثار دکھائے جاسکتے ہیں۔ علمی طور پر ایسا قطعا نہیں کہا جا سکتا کہ باقی تمام مناسک تو در اصل حج و عمرہ کے اپنے مناسک ہیں، البتہ ان میں سے بالوں اور ناخن کاٹنے کی ممانعت اور سر کا حلق یا قصر کراتا، یہ تین احکام در حقیقت انذر کی ایک مستقل عبادت ہیں جو حج و عمرہ میں شامل کر دی گئی ہے ، اِس لیے کہ علم کی دنیا میں اس کی کوئی دلیل پیش نہیں کی جاسکتی۔

یہی وجہ ہے کہ صدر اول کے کم و بیش تمام فقہائے امصار نے اس قضیے میں سامنے آنے والی خبر واحد کو یکسر رد کر دیا تھا۔ (۲۰) اسلامی شریعت کی عبادات میں اس حکم کی ایسی کوئی معلوم اساس ہوتی تو قرون اولی کے ائمہ وفقہا حدیث باب کو بلاتر دو اس سے متعلق کر کے قبول کر لیتے۔ یہاں تک کہ جن چند اصحاب علم نے اس دور میں اس روایت کو قبول بھی کیا تھا، یہ واقعہ ہے کہ شریعت میں اس کی حج و عمرہ میں پائی جانے والی یہ اساس، جیسے غامدی صاحب بیان کر رہے ہیں، ان فقہا نے بھی کبھی بیان نہیں کی۔

چناں چہ یہ کہنا کہ حج و عمرہ کے مناسک کے اندر نذر کی ایک مکمل عبادت بھی پائی جاتی ہے جو تین احکام کو بجالانے سے عبارت ہے اور اسے یہ طور تطوع ہم جب چاہیں اور جہاں چاہیں ادا کر سکتے ہیں: یہ ایک تعبدی امر میں اجتہاد اور سراسر ذاتی فہم پر مبنی ایک رائے ہے، جس کا کوئی ماخذ قرآن و سنت یا حدیث نبوی کے ذخیرے میں موجود نہیں ہے۔ اندر کی کوئی عبادت نہ مسلمانوں کے علمی تصور میں کہیں پائی جاتی ہے اور نہ ان کے عمل ہی میں اس کا کہیں کوئی وجود دکھایا جا سکتا ہے۔

یہ ممکن نہیں ہے کہ کوئی عبادت دین میں اپنا وجود رکھتی ہو اور خود مسلمانوں میں اُس کا کوئی تصور و مصداق معلوم و معروف نہ ہو۔ بالخصوص عید الاضحی کے موقع پر جانور کی قربانی کے سوا اس طرح کی ایک مکمل تطوع عبادت کا کوئی ماخذ ثبوت نہیں ہے جس کو ایک مسلمان اس موقع پر قربانی کیے بغیر بھی انجام دے سکتا ہے۔ بالبداہت واضح ہے کہ ایسی کوئی عبادت مسلمانوں کے دینی علم و عمل میں کبھی کہیں زیر بحث تک نہیں آئی۔

اس تصور کی تصویب صرف اس صورت میں ممکن ہے جب یہ دو شرائط پر پورا اترے: ایک یہ کہ مناسک حج و عمرہ کے اندر موجود اس نام اور مراسم کی مستقل عبادت کا یہ تصور پہلے خود اسلامی شریعت کے مصادر یکسر رد کر دیا تھا۔ (۲۰) اسلامی شریعت کی عبادات میں اس حکم کی ایسی کوئی معلوم اساس ہوتی تو قرون اولی کے ائمہ وفقہا حدیث باب کو بلاتر دو اس سے متعلق کر کے قبول کر لیتے۔ یہاں تک کہ جن چند اصحاب علم نے اس دور میں اس روایت کو قبول بھی کیا تھا، یہ واقعہ ہے کہ شریعت میں اس کی حج و عمرہ میں پائی جانے والی یہ اساس، جیسے غامدی صاحب بیان کر رہے ہیں، ان فقہا نے بھی کبھی بیان نہیں کی۔

چناں چہ یہ کہنا کہ حج و عمرہ کے مناسک کے اندر نذر کی ایک مکمل عبادت بھی پائی جاتی ہے جو تین احکام کو بجالانے سے عبارت ہے اور اسے یہ طور تطوع ہم جب چاہیں اور جہاں چاہیں ادا کر سکتے ہیں: یہ ایک تعبدی امر میں اجتہاد اور سراسر ذاتی فہم پر مبنی ایک رائے ہے، جس کا کوئی ماخذ قرآن و سنت یا حدیث نبوی کے ذخیرے میں موجود نہیں ہے۔ اندر کی کوئی عبادت نہ مسلمانوں کے علمی تصور میں کہیں پائی جاتی ہے اور نہ ان کے عمل ہی میں اس کا کہیں کوئی وجود دکھایا جا سکتا ہے۔

یہ ممکن نہیں ہے کہ کوئی عبادت دین میں اپنا وجود رکھتی ہو اور خود مسلمانوں میں اُس کا کوئی تصور و مصداق معلوم و معروف نہ ہو۔ بالخصوص عید الاضحی کے موقع پر جانور کی قربانی کے سوا اس طرح کی ایک مکمل تطوع عبادت کا کوئی ماخذ ثبوت نہیں ہے جس کو ایک مسلمان اس موقع پر قربانی کیے بغیر بھی انجام دے سکتا ہے۔ بالبداہت واضح ہے کہ ایسی کوئی عبادت مسلمانوں کے دینی علم و عمل میں کبھی کہیں زیر بحث تک نہیں آئی۔

سے ثابت کیا جائے۔ دوسرے یہ کہ پھر اس عبادت کو حج و عمرہ سے مجرد کر کے نفلی طور پر زمان و مکان کی قید و شرط کے بغیر انجام دینا بھی خود شارع سے ثابت کیا جائے، جیسا کہ طواف بیت اللہ کے بارے میں یہ مقدمہ دین میں ثابت ہے ۔

چناں چہ متحقق ہوا کہ مناسک حج و عمرہ میں نہ کوئی مستقل عبادت نذر پائی جاتی ہے اور نہ حج و عمرہ کے کوئی مناسک ان سے مجرد کر کے یہ طور نقل عبادت کے انجام دیے جاسکتے ہیں، سواے طواف بیت اللہ کے۔

غامدی صاحب نے اپنے موقف کی تفہیم و تائید میں اس ضابطے کا ذکر بھی کیا ہے کہ : شارع کی طرف سے کوئی عبادت جب شریعت میں یہ طور سنت ایک مرتبہ جاری کر دی جائے تو پھر اس بات کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی کہ اُس کو تطوع کے طور پر انجام دینے کے لیے بھی ایک باقاعدہ سنت قائم کی جائے ۔ یعنی اس طرح کے امور میں شارع سے حکم کا اجتماع و تواتر کے ذریعے سے ثابت ہونا ضروری نہیں ہے، بلکہ اخبار آحاد بھی ہمارے لیے کافی ہیں۔ جیسے مثال کے طور پر روزہ اپنی اصل میں سنت سے ثابت ہے، اسی بنا پر نبی صلی علیم نے شوال کے چھ نفلی روزوں کی فضیلت بھی بتائی ہے جو مسلمانوں تک خبر واحد کے ذریعے سے پہنچی ہے۔

نامدی صاحب کا یہ مقدمہ اپنی اصل میں بالکل درست ہے اور سنت ثابتہ اور نفل روزوں کی مثال بھی بالکل صحیح ہے۔ بلکہ اس طرح کی ایک مثال عید الاشی کی قربانی کی سنت کی اساس پر بچے کی پیدائش کے موقع پر کی جانے والی نظمی قربانی کے لیے بھی حدیث نبوی سے بجا طور پر پیش کی جا سکتی ہے۔ یعنی رسالت ماب صلی الہ ہم نے ایک طرف عید الاضحی کی قربانی کو ایک سنت کے طور پر مسلمانوں میں جاری فرمادیا اور دوسری طرف نو مولود کی ولادت پر نقل قربانی کی تلقین بھی آپ ہی نے فرمائی ہے جو خبر واحد سے مسلمانوں کو پہنچی ہے۔

غامدی صاحب کے اس مقدمے کا جائزہ لینے سے پہلے راقم الحروف یہاں مذکورہ بالا دونوں مثالوں کا تجزیہ کرے گا۔ رمضان کے لازمی روزوں کی سنت امت کے اجتماع و عملی تواتر سے دین میں قطعیت کے درجے میں ثابت شدہ ہے۔ اور شوال کا نفلی روزہ بھی ہو بہو روزے کی وہی عبادت ہے جو رمضان میں فرض کی حیثیت سے مشروع ہے۔ اس تطوع روزے میں صوم رمضان کوئی اضافہ یا ترمیم کیا گیا ہے، نہ رمضان کے روزے کی شریعت کے کسی ی جزو کو اس میں مجرد کر دیا گیا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ رمضان کے روزے کے برعکس شوال کے یہ روزے نفل اور باعث اجر وفضیلت ہیں، لازم نہیں ہیں۔ لیکن یہ واضح رہے کہ ان نفلی روزوں کا ماخذ رمضان کے روزوں کی تشریح نہیں ہے، بلکہ اس باب میں نبی صلی السلام سے مروی خبر واحد ہی ہے۔ یہ روایت اگر مسلمانوں تک نہ پہنچتی تو ظاہر ہے کہ دوسرے سارے مہینوں کی طرح خاص شوال کے مہینے میں بھی چھ روزوں کی نفلی حیثیت اور خاص فضیلت کا کوئی سوال ہی پیدا نہ ہوتا۔ چناں چہ یہ روزے جب مانے جاتے ہیں تو صرف اس باب میں مروی حدیث رسول (صلی الیم) کی بنا پر مانے جاتے ہیں۔

اسی طرح قربانی کی مثال کو بھی سمجھنا چاہیے کہ عید الاضحی کی قربانی بھی مجمع علیہ سنت ہے۔ اس کو عقیقے کی نقل قربانی کے لیے شریعت میں ثابت اساس قرار دیا جا سکتا ہے، لیکن عید کی یہ قربانی عقیقے کی قربانی کا ماخذ اور بناے استدلال قطعا نہیں بن سکتی۔ عقیقے کی نفلی قربانی کا تنہا ماخذ اس باب میں مردی اخبار آحاد ہی ہیں جو ہم تک اگر نہ پہنچتیں تو عید کی قربانی پر قیاس کر کے ہم بالخصوص بچے کی پیدائش پر نفلی قربانی خود سے مشروع قرار نہیں دے سکتے تھے، جیسا کہ اظہار تشکر کے دوسرے موقعوں کے لیے اہل علم کسی نص شرعی کے بغیر مسلمانوں کے لیے اپنی طرف سے کوئی تطوع قربانی مشروع نہیں کر سکتے۔ چناں چہ بی سی عالم کی تلقین کی حیثیت سے عقیقے کی یہ نفل قربانی بھی جب مانی جاتی ہے تو آپ کے ارشاد کے اخبار آحاد ہی کی بنیاد پر مانی جاتی ہے۔ (۲۲)

چناں چہ موضوع بحث مسئلے کو بھی مذکورہ بالا مثالوں کے تناظر میں سمجھنا چاہیے۔ اس کا تنہا ماخذ بھی سیدہ ام سلمہ سے مروی ایک خبر واحد ہے۔ یہ روایت ہم تک نہ پہنچتی تو عید الاضحی کی قربانی کے ساتھ عشرہ ذی الحجہ کے ان احکام کا کوئی تصور سرے سے مسلمانوں میں پیدا ہی نہ ہوتا اور نہ عشر و ذی الحجہ کی ان پابندیوں کو انسانی فہم کی بنیاد پر عید کی قربانی کے ساتھ ملحق کیا جا سکتا تھا، اس لیے کہ یہ احکام امور تعبدی میں سے ہیں۔ شریعت میں ان کی اساس کے طور پر غامدی صاحب نے مناسک حج و عمرہ کے اندر موجود جن تین متفرق احکام کی نشان دہی کی ہے، محض ذاتی فہم پر مبنی ایک رائے ہے جس سے شریعت میں تین مراسم عبودیت پر مبنی ایک مستقل عبادت قطعاً ثابت نہیں کی جا سکتی۔

چناں چہ دقت نظر سے دیکھیے کہ شوال کے نفلی روزوں کے لیے شریعت میں اس کی اصل ، یعنی رمضان کے جو بہ روزے دکھائے جاسکتے ہیں اور عقیقے کی نفلی قربانی کی اساس کے طور پر عید الاضحی کی مجمع علیہ قربانی کی سنت بھی ہو بہو پیش کی جاسکتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ حدیث ام سلمہ اور حدیث عبد اللہ بن عمرو میں وارد ہونے والے احکام کے لیے اسلامی شریعت میں وہ کون سی متعین عبادت ہے جو ہو بہو ابھی تین مراسم پر مشتمل ہو اور جسے مسلمان جب چاہیں اور جہاں چاہیں ادا بھی کر رہے ہوں؟ قرآن و سنت اور نبی صلی علی رام کے قول و فعل کی اخبار آحاد میں ایسی کسی عبادت کا کوئی ماخذ موجود نہیں ہے۔

مزید بر آن زیر بحث قضیہ ایک پہلوت نامدی صاحب کی پیش کردہ شوال کے روزوں کی مثال سے بالکل مختلف بھی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ تطوع روزوں کی یہ مثال اپنی نوعیت کے لحاظ سے فضائل اعمال کی قسم سے ہے، جب کہ حدیث ام سلمہ میں مذکور حکم کا اجر وقضیات کی اس نوعیت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بلکہ اس میں تو قربانی کرنے والوں کو دس دنوں کے لیے دو پابندیاں اختیار کرنے کا ایک الگ حکم دیا گیا ہے۔ یہ اصلا احکام کے باب کی روایت ہے، نہ کہ فضائل اعمال کی۔ چناں چہ خاص اس پہلو سے بھی زیر بحث مسئلے کی اس مثال سے منافات بالکل واضح ہے۔ اس طرح کی مثالوں کو بیان کرنے سے اس قضیے کے حکم کو کوئی تائید حاصل ہوتی ہے، نہ ان سے یہ ثابت ہو سکتا ہے۔

غامدی صاحب کے زیر بحث مقد مے اور اس میں بیان ہونے والی مثالوں کے اس تجزیے کا مقصد یہ بتانا ہے کہ قربانی کے موضوع بحث مسئلے کے لیے اس اصول کا ذکر کرنا علمی طور پر درست نہیں ہے کہ شارع کی طرف سے کوئی عبادت جب شریعت میں بہ طور سنت ایک مرتبہ جاری کر دی جائے تو پھر اس بات کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی کہ اس کو تطوع کے طور پر انجام دینے کے لیے بھی رسول اللہ صلی علیم کی طرف ایک با قاعدہ سنت قائم اور جاری کی جائے ، اس لیے کہ اس باب میں شریعت اسلامی میں کسی مستقل سنت اور متعین عبادت کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ غامدی صاحب نے جو اساس دکھائی ہے، وہ در حقیقت اُنھوں نے اپنے ذاتی قسم واجتہاد کی بنیاد پر حج و عمرہ کی عبادات کے اندر ان کے اپنے مشروع ڈھانچے میں موجود مشابہت رکھنے والے بعض متفرق احکام کی نشان دہی کی ہے۔ اس استشہاد سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ شریعت میں ان تین مراسم پر مشتمل ہو بہو ایک مکمل اور مستقل عبادت موجود ہے۔

لہذا واضح رہے کہ غامدی صاحب نے عید الاضحیٰ کے موقع پر قربانی سے پہلے اور بعد کے جن تین مراسم کو اپنی رائے میں بیان کیا ہے، ان کی کوئی متعین اساس شریعت اسلامی کی عبادات میں بالکل معلوم و معروف نہیں ہے۔ چناں چہ قاعدہ یہی ہو گا کہ ان مراسم کے رد و قبول میں صرف پیش کی گئی اخبار آحاد ہی کو دیکھا جائے گا کہ آیا ان کا استناد اصلا نبی صلی علیم سے ثابت ہوتا ہے یا نہیں اور یہ کہ در ایتا بھی کیا ان سے وہی تینوں مراسم ثابت ہوتے ہیں جو غامدی صاحب بیان کر رہے ہیں ؟

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…