(2) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

Published On January 7, 2026
مجمل مفتقر الی البیان کا معنی

مجمل مفتقر الی البیان کا معنی

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE

علم النبیﷺ پر غامدی صاحب کے لئے سوالات

علم النبیﷺ پر غامدی صاحب کے لئے سوالات

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE

چند اجماعی مسائل اور جاوید احمد غامدی : قسط دوم

چند اجماعی مسائل اور جاوید احمد غامدی : قسط دوم

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE

چند اجماعی مسائل اور جاوید احمد غامدی : قسط دوم

چند اجماعی مسائل اور جاوید احمد غامدی : قسط اول

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE

حجیتِ اجماع  غامدی صاحب کے شبہات کا ازالہ : قسط چہارم

حجیتِ اجماع غامدی صاحب کے شبہات کا ازالہ : قسط چہارم

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE

حجیتِ اجماع  غامدی صاحب کے شبہات کا ازالہ : قسط چہارم

حجیتِ اجماع غامدی صاحب کے شبہات کا ازالہ : قسط سوم

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE

محمد عامر گردز

غامدی صاحب کے موقف کا تنقیدی و تجزیاتی مطالعہ

 ذیل میں غامدی صاحب کے نقطہ نظر اور ان کے متند رات کا تفصیلی علمی و تنقیدی جائزہ پیش کیا جائے گا۔

غامدی صاحب کی راے کے مندرجہ بالا بیان میں ایک بنیادی مقدمہ ان کا یہ کہنا ہے کہ زیر بحث مسئلے میں ان کے موقف واستدلال کی بنیاد کوئی حدیث نہیں ہے، بلکہ حج و عمرہ کے مناسک میں موجود ‘ عبادت نذرا کی اساس ہے جو ان عبادات میں اجتماع و تواتر سے ثابت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قربانی کرنے والوں کے لیے عشروزی الحجہ میں جسم کے بالوں اور ناخن کاٹنے کی پابندی اختیار کرنا اور پھر قربانی کے بعد بڑھے ہوئے بالوں کو کتروانا یا سر کا حلق کرانا غامدی صاحب کے نزدیک در اصل نذر کی ایک مکمل عبادت کے مراسم ہیں جو سنت ثابتہ کی حیثیت سے حج و عمرہ کے مناسک میں پہلے ہی اجماع و تواتر سے چلے آرہے ہیں۔ چناں چہ اپنے موقف کے بیان میں غامدی صاحب نے یہ صراحت کہا ہے کہ ان کے استدلال کی بنیاد خبر واحد کے طور پر نقل ہونے والی کوئی روایت نہیں ہے۔ بلکہ حج و عمرہ کی شریعت میں موجود نذر کی اس عبادت کے یہی ثابت شدہ مراسم ہیں۔

اس پہلے مقدمے پر عرض یہ ہے کہ غامدی صاحب نے اپنی کتاب میزان میں قربانی کا مجمع علیہ قانون شریعت بیان کرنے کے بعد خود لکھا ہے کہ : نبی صلی الم نے البتہ ، اس کے بارے میں چند باتوں کی وضاحت فرمائی ۔ (۸) یعنی قرآن و سنت میں موجود قربانی کی شریعت کے احکام کے بارے میں چند باتوں کی وضاحت خود نبی سلیم نے فرمائی ہے۔ آپ سے ملنے والی یہ وضاحت، بالبداہت واضح ہے کہ خبر واحد ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ بات بیان کرنے کے بعد غامدی صاحب نے رسول اللہ صلی علیم ہی کی نسبت سے منقول سیدہ ام سلمہ اور عبد اللہ بن عمر و علی خان کی دو روایتوں کے حوالے بہ طور استدلال نقل کرتے ہوئے قربانی سے پہلے اور بعد کے زیر بحث آداب بیان کیے ہیں۔ اس سے صاف واضح ہے کہ قربانی سے پہلے اور اس کے بعد کے جن تین آداب کو بجالانے کی بات غامدی صاحب کر رہے ہیں، عید الاضحیٰ کے متعین موقع پر وہ خود بھی اس حکم کا استناد نبی صلی قیام سے اخبار آحاد ہی کی بنیاد پر پیش کر رہے ہیں۔ لہذا ثابت ہوا کہ عشرہ ذی الحجہ اور عید الاضحی کے دن کے ان احکام کے لیے استدلال کی بنیاد غامدی صاحب کے ہاں تنہا دو اخبار آحاد ہی ہیں۔ ان اخبار کو پیش کیے بغیر بر اور است حج و عمرہ کے مناسک سے غیر حجاج کے لیے عید الاضحی کے موقع پر ان مراسم کو بجالانے کا حکم ، ظاہر ہے کہ قطعا نہیں نکالا جا سکتا۔

علاوہ ازیں غور کیجیے کہ غامدی صاحب اپنے موقف کے مذکورہ بالا بیان میں بھی متعدد مقامات پر خود فرمارہے ہیں کہ قربانی سے پہلے اور بعد کے یہ مراسم نبی صلی علیہم کی ہدایت کے مطابق ادا کیے جائیں گے ۔ ان احکام کی تعمیل کی ہدایت ہمیں آپ ہی نے فرمائی ہے ۔ اگر قربانی کا جانور میسر نہ ہو، تب بھی آپ ہی کی تلقین کے مطابق نذر کے یہ مراسم آدمی تطوع بھی انجام دے سکتا ہے ۔ عید الاضحیٰ کے موقع پر قربانی کے ساتھ یا قربانی کے بغیر اس کی ہدایت نبی صلی ﷺ نے فرمائی ہے ۔ ان احکام کی تعمیل کی ہدایت نبی سلا ہم نے قربانی کرنے والوں پر

ایک امر مستحب کے طور پر فرمائی ہے۔ (۲)

چناں چہ یہ بات پوری طرح واضح ہے کہ غامدی صاحب کا اوپر بیان کردہ پو را موقف در اصل رسول الله سلیم ہی کی نسبت اور ان سے نقل ہونے والی دو اختیار آحاد پر کھڑا ہے۔ اس باب میں وہ جو کچھ بیان کر رہے ہیں، نبی صلی علیم ہی کے استناد پر بیان کر رہے ہیں ، نہ کہ بر اور است دین ابراہیمی سے منے والے مناسک حج و عمرہ سے اخذ و استنباط کی بنیاد پر ۔ غامدی صاحب نے یہ صراحت دو حدیثوں کو استدلال کے طور پر پیش کر کے ان کا حوالہ دیا ہے۔ لہذا ان کے اپنے بیان سے یہ بات صاف واضح ۔ امعاصر دوسرے علما کی طرح اُن کے نزدیک بھی موضوع بحث علم کا ماخذ اصلاً حدیث باب ہی ہے۔ لہذا ان کا اپنے موقف کی توضیح میں یہ کہنا کہ ان کے استدلال کی بنیاد کوئی خبر واحد نہیں ہے، کسی طرح نہیں مانا جا سکتا۔ ایسا واقعتا اگر ہوتا تو وہ اپنی کتاب میزان میں قربانی سے متعلق یہ حکم مذکورہ بالا دونوں روایتوں کے سہارے اور حوالے کے ساتھ بالکل بیان نہ کرتے۔

راقم الحروف کے اس مقدمے کا کہ اس مسئلے میں غامدی صاحب کی بناے استدلال خبر واحد ہی ہے۔ ایک مزید شاہد یہ بھی ہے کہ عید الاضحیٰ کے موقع پر جن آداب کو وہ نذر کی ایک مکمل عبادت کے طور پر قربانی کرنے والے یا نہ کرنے والے، دونوں کے لیے مستحب قرار دیتے ہیں ؛ ان کو بجالانے کو وہ بھی پورے عشرہ ذی الحجہ ہی کے لیے مندوب مانتے ہیں، اور پورے عشرے کی ان دو پابندیوں کا بالبداہت واضح ہے کہ مناسک حج سے کوئی تعلق نہیں ہے، بلکہ اس حکم کا تنہا ماخذ سیدہ ام سلمہ سے مروی ایک خبر واحد ہی ہے، اس لیے کہ حاجیوں کے لیے مناسک حج اور تمام منظورات احرام کا آغاز ہی ۸ رذی الحجہ کو ہوتا ہے۔ قربانی کرنے والوں کے لیے پورے عشرے کی ان پابندیوں کا کوئی ماخذ مناسک حج میں موجود نہیں ہے؛ چناں چہ اس سے بھی ثابت ہوا کہ غامدی صاحب کی بناے استدلال یہ خبر واحد ہی ہے۔

علاوہ ازیں غامدی صاحب نے اوپر جو یہ بات فرمائی ہے کہ : ” کوئی عبادت جب شریعت میں یہ طور سنت ایک مرتبہ جاری کر دی جائے تو پھر اس بات کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہو جاتی کہ اس کو تطوع کے طور پر انجام دینے کے لیے بھی ایک باقاعد و سنت قائم کی جائے، تدبر سے دیکھیے کہ اپنے اس جملے میں بھی غامدی صاحب خود اعتراف کر رہے ہیں کہ زیر بحث مسئلے میں اس نقل عبادت کے اثبات کے لیے اخبار آحاد کفایت کرتی ہیں، اس کے لیے جاری و ساری سخت ثابتہ کا ہو ناضروری نہیں ہے۔ اور ظاہر ہے کہ یہاں اُن کا اشار دانھی دور و ابتوں کی طرف ہے جن کو انھوں نے اپنی دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔

یہ بھی واقعہ ہے کہ روایتوں کے ذخیرے میں اس باب کی حدیث ام سلمہ کا وجود نہ ہوتا تو علمی بحث تو بعید بات ہے، عید الاضحی کی قربانی سے متعلق زیر بحث احکام کا کوئی تصور و خیال بھی مسلمانوں میں کہیں موجود نہ ہوتا۔ یہ بات کہ نامدی صاحب کے استدلال کی بنیاد کوئی حدیث نہیں ہے، اس وقت کہی جاسکتی تھی کہ جب وہ نبی صلی علیم کی ان روایتوں کے استناد اور حوالوں کے بغیر عید الاضحیٰ کی قربانی سے متعلق ان آداب کو بر اور است حج و عمرو ای کی نسبت سے اخذ و استنباط کے ذریعے ۔ یہاں یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ مناسک حج و عمرہ کے اندر موجود بعض احکام کی نشان دہی سے غامدی صاحب در اصل اپنے فہم کی بنیاد پر حدیث باب کے حکم کی اساس دکھا رہے ہیں جس کو ختم کا ماخذ یا بناے استدلال قطعا نہیں کہا جا سکتا۔ علاوہ ازیں یہ کہ اسلامی شریعت کی مستقل بالذات عبادات کے اندر کسی تعبدی حکم کی بنیاد د کھانے کا عمل بہ ذات خود اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ وہ حکم اپنی ذات میں فرعی اور دین کے اصل ماخذ سے باہر کی چیز ہے۔

غامدی صاحب کے موقف کی مذکورہ بالا تفصیلات میں اُن کا دوسرا اہم مقدمہ یہ ہے کہ قربانی سے قبل اور بعد کے اُن کے بیان کردہ تینوں آداب کی اساس نذر کی قدیم روایت ہے جو حج و عمرہ میں ایک سنت ثابتہ کی حیثیت سے جاری ہے ۔ نبی علی ایم نے عید کی قربانی کرنے والوں کو ان آداب کی ہدایت نذر کی اس روایت کی مطابقت میں فرمائی ہے۔

اس مقدمے پر عرض یہ ہے کہ کسی نص شرعی کے بغیر قربانی سے پہلے اور بعد کے زیر بحث تین احکام کو عبادت نذر کی قدیم روایت قرار دینا سر تا سر ذاتی فہم پر مبنی ایک مقدمہ ہے۔ ان تین مراسم کو ایک مکمل عبادت ہے کے طور پر اور نذر کے عنوان سے نہ دین ابراہیمی کی روایت میں کبھی کہیں جانا جاتا ہے اور نہ نبی صل تعلیم کی نسبت سے ان آداب کو ایسا کوئی نام یا عنوان دینا کہیں ثابت ہے۔ قرآن وسنت اور حدیث نبوی کے پورے ذخیرے میں اس مقدمے کا کوئی ماخذ موجود نہیں ہے کہ حج و عمرہ کے مناسک میں تین ایسے احکام پائے جاتے ہیں جن سے دین اسلامی میں انڈر کی ایک مکمل عبادت وجود میں آتی ہے۔ یہ بات دین میں اگر ثابت ہو سکتی ہے تو صرف اور صرف اس کے اپنے ماخذ کی صراحت اور شارع کی تشریح ہی سے ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ تین آداب اصلا مندر کی ایک مکمل عبادت کو تشکیل دیتے ہیں، اس مقدمے کا ماخذ نہ حج و عمرہ کی شریعت میں ہے اور نہ اُن دونوں روایتوں میں اس کی کوئی دلیل موجود ہے جن کو خود غامدی صاحب نے اوپر اپنے موقف کے حق میں بہ طور استدلال پیش کیا ہے۔ تعبدی امور سے متعلق یہ اہم مقدمہ اگر دین میں ثابت کیا جا سکتا ہے تو تنبار سول اللہ صلی السلام کی تشریح ہی سے ثابت کیا جا سکتا ہے۔ اور یہ بات بالبداہت واضح ہے کہ رسول اللہ صلی علی ایم سے ملنے والے دین میں ان تین مراسم

عبودیت پر مشتمل منذر کے نام اور عنوان سے کوئی عبادت قطعا نہیں پائی جاتی۔

علاوہ ازیں یہ کہ منظورات احرام کے مابین غامدی صاحب جب یہ تفریق کرتے ہیں کہ ان میں سے بعض نذر کی ایک مکمل عبادت کا مصداق ہیں اور بعض خود حج و عمرہ کے اپنے ممنوعات ہیں تو اس پر ایک اشکال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ ایک طرف غامدی صاحب حج و عمرہ کی دونوں عبادات اور ان کے تمام مناسک کوئی الجملہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے بندے کی طرف سے خداوند کے حضور میں نذر قرار دیتے ہیں اور دوسری طرف بال اور ناخن کاٹنے کی دو پابندیوں اور علق رأس کو باقی مناسک و ممنوعات سے مجرد کر کے انھیں ایک مرتبہ پھر ان کی تنہا حیثیت میں نذر ہی کا عنوان دے رہے ہیں ؟ اس جمع و تفریق کا کیا مطلب ہوا؟ غامدی صاحب نے تو بیت اللہ کے طواف اور صفا و مروہ کی سعی کو بھی نذر ہی کے پھیرے اور قربانی کو بھی جان کی نذر قرار دیا ہے، جو کہ ایک اجتہادی راے ہے۔ ظاہر ہے کہ محظورات احرام کے مابین ان کی اس تفریق کو بھی اسی طرحایک اجتہادی راے قرار دیا جائے گا جس طرح اپنے فہم واجتہاد سے حج و عمرہ کو انھوں نے فی الجملہ اندر کی تمثیل قرار دیا ہے، اس لیے کہ دین کے ماخذ میں اس تفریق کی کوئی بنیاد موجود نہیں ہے۔

یہاں ایک نہایت قابل تدبر امر یہ بھی ہے کہ غامدی صاحب کے نزدیک احکام کے باب کی قولی احادیث رسول کا دائرہ کار صرف یہ ہے کہ وہ قرآن وسنت میں محصور شریعت کے کسی حکم کی شرح و وضاحت کریں۔ اس طرح کی قولی خبر واحد کو غامدی صاحب قرآن یا سنت میں موجود کسی علم سے صرف تفہیم و تبیین کی حیثیت سے متعلق ہونے کی صورت میں قبول کرتے ہیں ۔ ان کے اس اصول کی رو سے خود ان کی متبدل حدیث روسے ام سلمہ میں بیان ہونے والے حکم پر ایک بنیادی نوعیت کا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قربانی کرنے والوں کے لیے بیان ہونے والے عشرہ ذی الحجہ سے متعلق اس حکم میں حج و عمرہ میں جاری انھی دو پابندیوں کی تفہیم و تعیین کا کیا پہلو ہے؟ مناسک حج و عمرہ میں یہ اساس دکھانے کے بعد روایت میں بیان کر دو ان دونوں پابندیوں کو عید کی قربانی کے موقع کے لیے شرح ووضاحت تو کسی طرح نہیں کہا جاسکتا۔ چناں چہ اس سے واضح ہے کہ اخبار آحاد کے رو و قبول کے باب میں خود نامدی صاحب کے اصول کے اعتبار سے حدیث ام سلمہ کو قبول کرنا محل نظر ہے، اس لیے کہ اُن کی طرف سے حج و عمرہ میں متعین کی گئی بنیاد سے اس روایت کا شرح ووضاحت کا تعلق اس میں مفقود ہے۔ اس اشکال کی رو سے متحقق ہوا کہ حدیث باب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے غامدی صاحب کا یہ کہنا محل نظر ہے کہ نبی صلی ام نے عید کی قربانی کرنے والوں کو ان احکام کی ہدایت نذر کی اس روایت کی مطابقت میں فرمائی ہے ، اس لیے کہ ان کے اپنے اصول کے مطابق اس طرح کی قولی خبر واحد میں حکم شریعت کی مطابقت میں نہیں ، بلکہ اس کی شرحو وضاحت کے طور پر آنا چاہیے۔

غامدی صاحب نے اپنے موقف کی توضیح میں ایک اہم مقدمہ یہ بھی بیان کیا ہے کہ حج و عمرہ کی عبادات کے مناسک میں سے چار مراسم عبودیت ایسے ہیں جن میں سے ہر ایک کو مجرد کر کے اُس کے حدود و شرائط کی رعایت کے ساتھ ایک مکمل عبادت کے طور پر مسلمان جب چاہیں بہ طور نفل بھی ادا کر سکتے ہیں۔ ایک طواف بیت اللہ ، دوسرے قربانی، تیسرے صفا و مروہ کے مابین سعی اور چوتھے عبادت نذر ہے، جس سے مراد جسم کے بالوں کو اتارنے اور ناخن تراشنے کی پابندی اختیار کرنا اور بالآخر اللہ کے حضور میں تکمیل نذر کے اظہار کے لیے سر کے بال مونڈنا یا قصر کرانا ہے۔ نامدی صاحب کا کہنا ہے کہ دین ابراہیمی سے آخری شریعت تک حج و عمرہ میں ندر کی یہ عبادت انھی تین احکام کو بجالانے سے عبارت ہے۔ پہلے تینوں مناسک کی طرح اپنی ذات میں یہ بھی ایک مکمل عبادت ہے اور اسے بہ طور اطوع ہم جب چاہیں اور جہاں چاہیں ادا کر سکتے ہیں۔ یعنی قربانی کی عبادت کی طرح اس میں بھی زمان و مکان کی کوئی قید و شرط نہیں ہے۔ اس مقدمے پر عرض یہ ہے کہ ان چاروں مراسم عبودیت میں سے طواف بیت اللہ اور جانور کی قربانی کا حج و عمرہ کے سو انفلی طور پر اہتمام کرنے میں تو قطعا کوئی اشکال نہیں ہے، اس لیے کہ دین اسلام میں قربانی ایک نہایت قدیم اور مستقل بالذات عبادت ہے۔ اس کی تاریخ سیدنا آدم علیہ السلام کے زمانے سے معلوم ہے۔ یعنی یہ حج و عمرو سے بھی نہایت قدیم ایک مستقل عبادت ہے۔ قرآن نے مجرد جانور کی قربانی کو صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے کہ دین اسلام میں یہ عبادت تمام امتوں کے لیے مشروع کی گئی ہے۔ (۲) شریعت موسوی میں بھی قربانی بغیر کسی اضافی حکم اور پابندی کے ایک مستقل عبادت کی حیثیت سے مشروع تھی۔ (۳) لہذا یہ بات درست ہے کہ قربانی جب چاہے اور جہاں چاہے نقل کے طور پر بھی انجام دی جاسکتی ہے۔

اسی طرح بیت اللہ کا نفلی طواف حج و عمرہ کے سوا بھی ہمیشہ سے معلوم ، متعارف اور معمول یہ رہا ہے۔ مسجد حرام میں صرف نماز کے لیے حاضر ہونے والے کے اس گھر کا نفلی طواف کرتے آئے ہیں۔ حج کے موقع پر یوم الترویہ ، یعنی ۸ ذی الحجہ سے قبل بیت الحرام پہنچنے والے حجاج وزائرین بھی اسی نفلی حیثیت میں طواف قدوم (۱۲) کیا کرتے اور اسی طرح وہ اپنے گھروں کو واپس روانہ ہوتے ہوئے بھی الوداعی نقلی طواف کا اہتمام کیا کرتے ہیں۔ بیت اللہ کا نفلی طواف گویا مسجد حرام کے لیے ہمیشہ سے التحیۃ المسجد’ کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس پر خود رسول اللہ صلی علم کا اسوہ اور بعض موقعوں پر نقلی طواف کرنے کی آپ کی ہدایت بھی مستند روایتوں سے ثابت ہے۔ (12) اور اسی پر طبقہ صحابہ سے آج تک تمام مسلمانوں کا علم و عمل بھی معلوم و معروف ہے۔

جہاں تک صفا و مروہ کی سعی کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں یہ بات تو درست ہے کہ مناسک حج و عمرہ میں یہ بھی ایک الگ منسک اور جزو کی حیثیت رکھتا ہے، لیکن حج و عمرہ کے مناسک سے مجرد کر کے ان دو پہاڑیوں کے پھیرے لگانے کا عمل نہ دین ابراہیمی کی روایت میں کہیں ملتا ہے اور نہ رسول اللہ صلی علیہم اور آپ کے صحابہ کے علم و عمل ہی سے یہ ثابت ہوتا ہے۔ خود قرآن مجید نے بھی اس کی ادائی کے حکم کو حج و عمرہ ہی کے ساتھ متعلق کر اس مقدمے پر عرض یہ ہے کہ ان چاروں مراسم عبودیت میں سے طواف بیت اللہ اور جانور کی قربانی کا حج و عمرہ کے سو انفلی طور پر اہتمام کرنے میں تو قطعا کوئی اشکال نہیں ہے، اس لیے کہ دین اسلام میں قربانی ایک نہایت قدیم اور مستقل بالذات عبادت ہے۔ اس کی تاریخ سیدنا آدم علیہ السلام کے زمانے سے معلوم ہے۔ یعنی یہ حج و عمرو سے بھی نہایت قدیم ایک مستقل عبادت ہے۔ قرآن نے مجرد جانور کی قربانی کو صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے کہ دین اسلام میں یہ عبادت تمام امتوں کے لیے مشروع کی گئی ہے۔ (۲) شریعت موسوی میں بھی قربانی بغیر کسی اضافی حکم اور پابندی کے ایک مستقل عبادت کی حیثیت سے مشروع تھی۔ (۳) لہذا یہ بات درست ہے کہ قربانی جب چاہے اور جہاں چاہے نقل کے طور پر بھی انجام دی جاسکتی ہے۔

اسی طرح بیت اللہ کا نفلی طواف حج و عمرہ کے سوا بھی ہمیشہ سے معلوم ، متعارف اور معمول یہ رہا ہے۔ مسجد حرام میں صرف نماز کے لیے حاضر ہونے والے کے اس گھر کا نفلی طواف کرتے آئے ہیں۔ حج کے موقع پر یوم الترویہ ، یعنی ۸ ذی الحجہ سے قبل بیت الحرام پہنچنے والے حجاج وزائرین بھی اسی نفلی حیثیت میں طواف قدوم (۱۲) کیا کرتے اور اسی طرح وہ اپنے گھروں کو واپس روانہ ہوتے ہوئے بھی الوداعی نقلی طواف کا اہتمام کیا کرتے ہیں۔ بیت اللہ کا نفلی طواف گویا مسجد حرام کے لیے ہمیشہ سے التحیۃ المسجد’ کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس پر خود رسول اللہ صلی علم کا اسوہ اور بعض موقعوں پر نقلی طواف کرنے کی آپ کی ہدایت بھی مستند روایتوں سے ثابت ہے۔ (12) اور اسی پر طبقہ صحابہ سے آج تک تمام مسلمانوں کا علم و عمل بھی معلوم و معروف ہے۔

جہاں تک صفا و مروہ کی سعی کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں یہ بات تو درست ہے کہ مناسک حج و عمرہ میں یہ بھی ایک الگ منسک اور جزو کی حیثیت رکھتا ہے، لیکن حج و عمرہ کے مناسک سے مجرد کر کے ان دو پہاڑیوں کے پھیرے لگانے کا عمل نہ دین ابراہیمی کی روایت میں کہیں ملتا ہے اور نہ رسول اللہ صلی علیہم اور آپ کے صحابہ کے علم و عمل ہی سے یہ ثابت ہوتا ہے۔ خود قرآن مجید نے بھی اس کی ادائی کے حکم کو حج و عمرہ ہی کے ساتھ متعلق کر اس مقدمے پر عرض یہ ہے کہ ان چاروں مراسم عبودیت میں سے طواف بیت اللہ اور جانور کی قربانی کا حج و عمرہ کے سو انفلی طور پر اہتمام کرنے میں تو قطعا کوئی اشکال نہیں ہے، اس لیے کہ دین اسلام میں قربانی ایک نہایت قدیم اور مستقل بالذات عبادت ہے۔ اس کی تاریخ سیدنا آدم علیہ السلام کے زمانے سے معلوم ہے۔ یعنی یہ حج و عمرو سے بھی نہایت قدیم ایک مستقل عبادت ہے۔ قرآن نے مجرد جانور کی قربانی کو صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے کہ دین اسلام میں یہ عبادت تمام امتوں کے لیے مشروع کی گئی ہے۔ (۲) شریعت موسوی میں بھی قربانی بغیر کسی اضافی حکم اور پابندی کے ایک مستقل عبادت کی حیثیت سے مشروع تھی۔ (۳) لہذا یہ بات درست ہے کہ قربانی جب چاہے اور جہاں چاہے نقل کے طور پر بھی انجام دی جاسکتی ہے۔

اسی طرح بیت اللہ کا نفلی طواف حج و عمرہ کے سوا بھی ہمیشہ سے معلوم ، متعارف اور معمول یہ رہا ہے۔ مسجد حرام میں صرف نماز کے لیے حاضر ہونے والے کے اس گھر کا نفلی طواف کرتے آئے ہیں۔ حج کے موقع پر یوم الترویہ ، یعنی ۸ ذی الحجہ سے قبل بیت الحرام پہنچنے والے حجاج وزائرین بھی اسی نفلی حیثیت میں طواف قدوم (۱۲) کیا کرتے اور اسی طرح وہ اپنے گھروں کو واپس روانہ ہوتے ہوئے بھی الوداعی نقلی طواف کا اہتمام کیا کرتے ہیں۔ بیت اللہ کا نفلی طواف گویا مسجد حرام کے لیے ہمیشہ سے التحیۃ المسجد’ کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس پر خود رسول اللہ صلی علم کا اسوہ اور بعض موقعوں پر نقلی طواف کرنے کی آپ کی ہدایت بھی مستند روایتوں سے ثابت ہے۔ (12) اور اسی پر طبقہ صحابہ سے آج تک تمام مسلمانوں کا علم و عمل بھی معلوم و معروف ہے۔

جہاں تک صفا و مروہ کی سعی کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں یہ بات تو درست ہے کہ مناسک حج و عمرہ میں یہ بھی ایک الگ منسک اور جزو کی حیثیت رکھتا ہے، لیکن حج و عمرہ کے مناسک سے مجرد کر کے ان دو پہاڑیوں کے پھیرے لگانے کا عمل نہ دین ابراہیمی کی روایت میں کہیں ملتا ہے اور نہ رسول اللہ صلی علیہم اور آپ کے صحابہ کے علم و عمل ہی سے یہ ثابت ہوتا ہے۔ خود قرآن مجید نے بھی اس کی ادائی کے حکم کو حج و عمرہ ہی کے ساتھ متعلق کر اس مقدمے پر عرض یہ ہے کہ ان چاروں مراسم عبودیت میں سے طواف بیت اللہ اور جانور کی قربانی کا حج و عمرہ کے سو انفلی طور پر اہتمام کرنے میں تو قطعا کوئی اشکال نہیں ہے، اس لیے کہ دین اسلام میں قربانی ایک نہایت قدیم اور مستقل بالذات عبادت ہے۔ اس کی تاریخ سیدنا آدم علیہ السلام کے زمانے سے معلوم ہے۔ یعنی یہ حج و عمرو سے بھی نہایت قدیم ایک مستقل عبادت ہے۔ قرآن نے مجرد جانور کی قربانی کو صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے کہ دین اسلام میں یہ عبادت تمام امتوں کے لیے مشروع کی گئی ہے۔ (۲) شریعت موسوی میں بھی قربانی بغیر کسی اضافی حکم اور پابندی کے ایک مستقل عبادت کی حیثیت سے مشروع تھی۔ (۳) لہذا یہ بات درست ہے کہ قربانی جب چاہے اور جہاں چاہے نقل کے طور پر بھی انجام دی جاسکتی ہے۔

اسی طرح بیت اللہ کا نفلی طواف حج و عمرہ کے سوا بھی ہمیشہ سے معلوم ، متعارف اور معمول یہ رہا ہے۔ مسجد حرام میں صرف نماز کے لیے حاضر ہونے والے کے اس گھر کا نفلی طواف کرتے آئے ہیں۔ حج کے موقع پر یوم الترویہ ، یعنی ۸ ذی الحجہ سے قبل بیت الحرام پہنچنے والے حجاج وزائرین بھی اسی نفلی حیثیت میں طواف قدوم (۱۲) کیا کرتے اور اسی طرح وہ اپنے گھروں کو واپس روانہ ہوتے ہوئے بھی الوداعی نقلی طواف کا اہتمام کیا کرتے ہیں۔ بیت اللہ کا نفلی طواف گویا مسجد حرام کے لیے ہمیشہ سے التحیۃ المسجد’ کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس پر خود رسول اللہ صلی علم کا اسوہ اور بعض موقعوں پر نقلی طواف کرنے کی آپ کی ہدایت بھی مستند روایتوں سے ثابت ہے۔ (12) اور اسی پر طبقہ صحابہ سے آج تک تمام مسلمانوں کا علم و عمل بھی معلوم و معروف ہے۔

جہاں تک صفا و مروہ کی سعی کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں یہ بات تو درست ہے کہ مناسک حج و عمرہ میں یہ بھی ایک الگ منسک اور جزو کی حیثیت رکھتا ہے، لیکن حج و عمرہ کے مناسک سے مجرد کر کے ان دو پہاڑیوں کے پھیرے لگانے کا عمل نہ دین ابراہیمی کی روایت میں کہیں ملتا ہے اور نہ رسول اللہ صلی علیہم اور آپ کے صحابہ کے علم و عمل ہی سے یہ ثابت ہوتا ہے۔ خود قرآن مجید نے بھی اس کی ادائی کے حکم کو حج و عمرہ ہی کے ساتھ متعلق کراس مقدمے پر عرض یہ ہے کہ ان چاروں مراسم عبودیت میں سے طواف بیت اللہ اور جانور کی قربانی کا حج و عمرہ کے سو انفلی طور پر اہتمام کرنے میں تو قطعا کوئی اشکال نہیں ہے، اس لیے کہ دین اسلام میں قربانی ایک نہایت قدیم اور مستقل بالذات عبادت ہے۔ اس کی تاریخ سیدنا آدم علیہ السلام کے زمانے سے معلوم ہے۔ یعنی یہ حج و عمرو سے بھی نہایت قدیم ایک مستقل عبادت ہے۔ قرآن نے مجرد جانور کی قربانی کو صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے کہ دین اسلام میں یہ عبادت تمام امتوں کے لیے مشروع کی گئی ہے۔ (۲) شریعت موسوی میں بھی قربانی بغیر کسی اضافی حکم اور پابندی کے ایک مستقل عبادت کی حیثیت سے مشروع تھی۔ (۳) لہذا یہ بات درست ہے کہ قربانی جب چاہے اور جہاں چاہے نقل کے طور پر بھی انجام دی جاسکتی ہے۔

اسی طرح بیت اللہ کا نفلی طواف حج و عمرہ کے سوا بھی ہمیشہ سے معلوم ، متعارف اور معمول یہ رہا ہے۔ مسجد حرام میں صرف نماز کے لیے حاضر ہونے والے بھی ہمیشہ سے اس گھر کا نفلی طواف کرتے آئے ہیں۔ حج کے موقع پر یوم الترویہ ، یعنی ۸ ذی الحجہ سے قبل بیت الحرام پہنچنے والے حجاج وزائرین بھی اسی نفلی حیثیت میں طواف قدوم (۱۲) کیا کرتے اور اسی طرح وہ اپنے گھروں کو واپس روانہ ہوتے ہوئے بھی الوداعی نقلی طواف کا اہتمام کیا کرتے ہیں۔ بیت اللہ کا نفلی طواف گویا مسجد حرام کے لیے ہمیشہ سے التحیۃ المسجد’ کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس پر خود رسول اللہ صلی علم کا اسوہ اور بعض موقعوں پر نقلی طواف کرنے کی آپ کی ہدایت بھی مستند روایتوں سے ثابت ہے۔ (12) اور اسی پر طبقہ صحابہ سے آج تک تمام مسلمانوں کا علم و عمل بھی معلوم و معروف ہے۔

جہاں تک صفا و مروہ کی سعی کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں یہ بات تو درست ہے کہ مناسک حج و عمرہ میں یہ بھی ایک الگ منسک اور جزو کی حیثیت رکھتا ہے، لیکن حج و عمرہ کے مناسک سے مجرد کر کے ان دو پہاڑیوں کے پھیرے لگانے کا عمل نہ دین ابراہیمی کی روایت میں کہیں ملتا ہے اور نہ رسول اللہ صلی علیہم اور آپ کے صحابہ کے علم و عمل ہی سے یہ ثابت ہوتا ہے۔ خود قرآن مجید نے بھی اس کی ادائی کے حکم کو حج و عمرہ ہی کے ساتھ متعلق کر کے بیان کیا ہے : ﴿ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَوف بهما ) ( چناں چہ وہ لوگ جو اس گھر کا حج یا عمرہ کرنے کے لیے آئیں، ان پر کوئی حرج نہیں کہ وہ ان دونوں میں طواف بھی کر لیں۔ چناں چہ صفا و مردہ کے مابین سعی کی صحت کے لیے یہ شرط ہے کہ اسے حج یا عمرہ کی عبادت کے مناسک کے اندر اپنے موقع و محل پر ایک منگ کے حیثیت ہی سے ادا کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ حج و عمرہ کے سوا اس پر مسلمانوں کا کبھی عمل نہیں رہا ہے ، بلکہ تمام علماء فقہا حج وعمرہ سے مجرد کر کے صفا مروہ کی نقلی سعی کو غیر مشروع قرار دیتے ہیں، اس لیے که تمام تعبدی امور سر تا سر توقیفی ہوتے اور ان کا اثبات تنبا شارع کی تشریح پر مبنی ہوتا ہے۔ انسانی فہم کو اس باب میں کوئی دخل نہیں ہے۔ (۷)

علاوہ ازیں صفا و مروہ کی سعی بھی طواف بیت اللہ ہی کی طرح معموم بلوی کی نوعیت کا ایک عمل ہے جس کا عقلی تقاضا ہے کہ یہ بھی اگر حج و عمرہ کے سوا دین میں مندوب ہوتی تو نقلی طواف ہی کی طرح دین ابراہیمی کی روایت اور رسول اللہ صلی علیم اور آپ کے صحابہ – عمل کی عمومی روایت کے طریقے پر ضرور نقل ہوتی اور نقلی طواف ہی کی طرح آج بھی مسلمان ان دونوں پہاڑیوں کے مابین نقلی سعی بھی کر رہے ہوتے۔

تطوعات کے باب میں قرآن کے بیان کردہ ضابطے ﴿وَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ ) (۸) اور جس نے اپنے شوق سے نیکی کا کوئی کام کیا تو اللہ اسے قبول کرنے والا ہے، اس سے پوری طرح باخبر ہے) کو ظاہر ہے کہ دین کی مجموعی ہدایت کی روشنی میں تطوعات کے باب میں حدود و شرائط کے ساتھ ہی سمجھا جائے گا۔ اس آیت کو پیش نظر رکھ کر کوئی شخص اپنے فہم کی بنیاد پر نماز کی عبادت کے کچھ اجزاء مثلاً قیام، رکوع یا قعدے کو اس سے مجرد کر کے انجام نہیں دے سکتا۔ اسی طرح اعتکاف کی کچھ پابندیاں اپنے اوپر عائد کر کے اُس کو تطوع عبادت نہیں کہہ سکتا۔ روزے کی تین منظورات میں سے صرف کھانے اور پینے کی پابندی اختیار کر کے اس کو نقلی عبادت قرار نہیں دے سکتا۔ ایک رکعت نفل نماز نہیں پڑھ سکتا۔ وضو کی شرط کو نظر انداز کر کے دور کعت نفل نماز بھی ادا نہیں کر سکتا اور مناسک حج و عمرہ میں سے صرف محظورات احرام کو نفلی طور پر اختیار کر کے اپنے اس عمل کو بھی تطوع عبادت قرار نہیں دے سکتا۔

لہذا تعبدی امور میں تطوعات کے بارے میں ایک بات یہ واضح رہنی چاہیے کہ مرکب اعمال یا احکام پر مشتمل جن عبادات کے نوافل ہمارے دین میں رسول اللہ صلی علی ایم کے قول و عمل سے مشروع کیے گئے ہیں، انھیں تطوعا بھی شریعت میں قائم کر دو ان کی مکمل صورت میں اور اپنے حدود وشرائط کے ساتھ ہی ادا کیا جائے گا۔ مثال کے طور پر کوئی شخص نقل نماز پڑھنا چاہتا ہے تو اُس کو شریعت کی مقرر کردہ حصول طہارت کی شرط کو بھی پورا کرنا ہو گا اور وہ کم از کم نقل نماز بھی دور کعت ہی ادا کرے گا اور دو بھی اسی طرح ادا کی جائیں گی جس طرح نماز کے اعمال واذکار کی شریعت میں مقرر و معلوم ہے۔ اسی طرح روزے، اعتکاف اور حج و عمرہ کی نقلی ادائی کو بھی سمجھ لینا چاہیے۔ مرکب افعال پر مشتمل اسلامی شریعت کی کسی بھی عبادت کے متعین ڈھانچے میں نہ کوئی ترمیم و اضافہ کیا جاسکتا ہے اور نہ اپنے ذاتی فہم کی بنیاد پر ان عبادات کے کچھ اجزا کو مجرد کر کے نقل عبادت قرار دیا جا سکتا ہے، اس لیے کہ دین اسلام میں عبادات سر تا سر توقیفی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دین کے تعیدی امور میں لوگ اپنی طرف سے اس طرح کے جو اقدام بھی کرتے ہیں، اُسے غیر مشروع اور بدعت کہا جاتا ہے۔ فقہا کے نزدیک یہ قاعد و معلوم و معروف ہے کہ ” الأصل في العبادات الحظر والتوقيف. شریعت کی مرکب اعمال پر مشتمل عبادت کا کوئی جزو اگر اس سے مجرد کر کے دین میں تطوعاً بھی مشروع ہو گا تو نبا شارع کے قول و عمل ہی سے ہو گا، جیسے مثال کے طور پر حج و عمرہ کے تمام مناسک میں اُن سے مجرد کر کے کوئی ملک اگر جزو ا مشروع ہوا ہے تو وہ صرف بیت اللہ کا نفلی طواف ہے۔ اسی طرح نماز کی عبادت کے مشروع اعمال میں سے کوئی جزو اگر نماز کے سوا بھی مشروع ہے تو وہ اللہ کے حضور میں سجدہ ریز ہو جانا ہے، جیسے مثال کے طور پر سجدہ تلاوت۔ یہ دونوں افعال اس لیے مشروع ہیں کہ یہ خود شارع سے ثابت ہیں، ورنہ تعبدی امور میں مسلمانوں کے ذاتی فہم کو کوئی دخل نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ یہ دونوں افعال اپنی ذات اور نوعیت ہی میں تعبدی حیثیت رکھتے ہیں۔ طواف بیت اللہ میں جس طرح ایک خاص پہلو اس کے تحیۃ المسجد الحرام’ ہونے کا ہے، اسی طرح سجدے کے فعل میں خاص پہلو یہ ہے کہ یہ اپنی نوعیت ہی کے لحاظ سے خالص مظہر پرستش اور اظہار تذلیل ہے، بر خلاف نماز کے قعدے، احرام کے مخصوص لباس اور دوسری بہت سی عبادات کے اجزا کے، جو اپنی مجروحیثیت میں اصلا مظاہر پرستش نہیں ہوتے۔ چناں چہ واضح ہوا کہ متعین عبادات سے مجرد کر کے جن اجزا کو بہ طور نفل ادا کر نا خود شارع سے ثابت ہو ، انھی پر عمل پیرا ہونا جائز ہو گا۔ کوئی مسلمان اپنے فہم کی بنیاد پر کسی عبادت کا کوئی جزو اس سے مجرد کر کے اُس کو تعبدی عمل قرار دینے کا مجاز نہیں ہے۔ ایسا کرنا دین میں بدعت کہلائے گا۔

یہاں تک که به ذات خود زیر بحث تینوں مناسک حج، جن کو غامدی صاحب نے عبادت نذر کے مراسم قرار دیا ہے؛ ان کا بھی وقت نظر سے جائزہ لیجیے تو معلوم ہو گا کہ انھیں بھی حج و عمرہ سے مجرد کر کے دیکھا جائے تو بال اور ناخن کاٹنے سے اجتناب کرنا اور سر منڈا وانا؛ یہ تینوں امور اپنی ذات اور نوعیت کے لحاظ سے نہ اصلا دین ہیں، نہ مظاہر پرستش ہیں اور نہ مراسم عبودیت ۔ حج و عمرہ کے سوا آدمی صرف ان تین چیزوں پر اپنی چاہت سے پورے سال بھی کار بند رہے تو یہ قطعاً کوئی عبادت نہیں کہلائی گی۔ بلکہ اس کے برعکس مستقل طور پر سر منڈوا کر رہنے کو اس کا ذاتی ذوق قرار دیا جائے گا اور جسم کے بالوں اور ناخن کو نہ کاٹنے پر وہ تطہیر بدن کی سنن کی خلاف ورزی کی بنا پر گناہ گار بھی ہو گا۔ غرض یہ کہ مجرد یہ تینوں امور اپنی ذات اور نوعیت ہی کے لحاظ سے دین یا مراسم عبودیت نہیں ہیں۔ لہذا یہ دین میں عبادت بنیں گے تو صرف اور صرف شارع کی تشریع سے اور دین اسلامی کی ثابت شدہ کسی عبادت کے اندر وقتی طور پر ہی بنیں گے، جیسا کہ حج و عمرہ کے مناسک میں بغیر کسی نزاع کے یہ مراسم عبودیت ہی مانے جاتے ہیں۔

اس تفصیل سے یہ واضح ہوا کہ غامدی صاحب کا یہ موقف کہ صفا و مروہ کی سعی اٹھی پہاڑیوں کے مابین حج و عمرہ کے سوا بھی تطوع کی جاسکتی ہے، علمی لحاظ سے درست نہیں ہے۔ اس لیے کہ ‘سعی’ کے لیے مکانی قید کے علاوہ شرعا یہ بھی لازم ہے کہ اسے بہر حال حج یا عمرہ کے اندر اس کے ایک منسک ہی کے طور پر ادا کیا جائے۔

جہاں تک نامدی صاحب کی بیان کردہ چوتھی چیز کا تعلق ہے، جس کے بارے میں انھوں نے کہا ہے کہ ایک مکمل عبادت کے طور پر مسلمان اسے بھی جب چاہیں اور جہاں چاہیں یہ طور نفل ادا کر سکتے ہیں ، وہ ان کے تصور کے مطابق حج و عمرہ میں موجود نذر کی عبادت کے وہی تین مراسم ہیں جن پر پہلے تفصیل سے گفت گو ہو چکی ہے۔ حج و عمرہ کے اپنے ان داخلی متنوع احکام و مراسم کو ان عبادات سے مجرو کر کے ایک تطوع عبادت قرار دیتا تو ایک ثانوی امر ہے، یہ ذات خود اس طرح کی مستقل عبادت کا کوئی تصور ہی دین اسلامی کے ماخذ میں موجود نہیں ہے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

غامدی سے اختلاف کیا ہے ؟ قسط 10

غامدی سے اختلاف کیا ہے ؟ قسط 10

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE

غامدی سے اختلاف کیا ہے ؟ قسط 9

غامدی سے اختلاف کیا ہے ؟ قسط 9

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE

غامدی سے اختلاف کیا ہے ؟ قسط 8

غامدی سے اختلاف کیا ہے ؟ قسط 8

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE