کلامی مواقف کی بے معنی تلفیقات :اصلاحی و ندوی گروپ پر نقد

Published On January 26, 2026
علمِ کلام کی ضرورت و معنویت اور جاوید احمد غامدی صاحب کی رائے پر تبصرہ

علمِ کلام کی ضرورت و معنویت اور جاوید احمد غامدی صاحب کی رائے پر تبصرہ

مشرف بیگ اشرف جس طرح مسلمانوں کی تاریخ میں، قانون کے لیے فقہ، اور قانون کي نظری بنیادوں اور مسلمانوں کے ہاں رائج لسانی نظریات کے لیے اصول فقہ میدان رہا ہے، اسی طرح علمیات، وجودیات، الہیات، قضیہ عقل ونقل اور نظریہ اخلاق کی بحث کے لیے علم کلام میدان رہا ہے۔ یہی وجہ ہے...

نظریہ ارتقا اور غامدی صاحب

نظریہ ارتقا اور غامدی صاحب

محمد حسنین اشرف حالیہ ویڈیو میں غامدی صاحب نے نظریہ ارتقا پر بات کرتے ہوئے ایک بہت ہی صائب بات فرمائی کہ نظریہ ارتقا سائنس کا موضوع ہے اور اسے سائنس کا موضوع ہی رہنا چاہیے۔ دوسری بات انہوں نے یہ فرمائی کہ اپنے بچوں کو سائنس کی تحلیل سکھانی چاہیے۔ یہ بات بھی صائب ہے...

تصوف پر جناب احمد جاوید صاحب اور جناب منظور الحسن صاحب کے تبصرے پر تبصرہ

تصوف پر جناب احمد جاوید صاحب اور جناب منظور الحسن صاحب کے تبصرے پر تبصرہ

ڈاکٹر زاہد مغل صاحب محترم جناب احمد جاوید صاحب نے تصوف سے متعلق حال ہی میں اس رائے کا اظہار فرمایا ہے کہ فقہ و کلام وغیرہ کی طرح یہ ایک انسانی کاوش و تعبیر ہے وغیرہ نیز اس کے نتیجے میں توحید و نبوت کے دینی تصورات پر ذد پڑی۔ ساتھ ہی آپ نے تصوف کی ضرورت کے بعض پہلووں پر...

تصوف پر جناب منظور الحسن صاحب کے ایک اعتراض کا جائزہ

تصوف پر جناب منظور الحسن صاحب کے ایک اعتراض کا جائزہ

ڈاکٹر زاہد مغل صاحب مکتب فراہی کے منتسبین اہل تصوف پر نت نئے الزامات عائد کرنے میں جری واقع ہوئے ہیں۔ یہ سلسلہ مولانا امین احسن اصلاحی صاحب و جناب غامدی صاحب سے گزرتا ہوا اب ان کے شاگردوں میں بھی حلول کررہا ہے۔ جس غیر ذمہ داری سے مولانا اصلاحی و غامدی صاحبان اہل تصوف...

شریعت اور فقہ میں فرق نہیں ہے

شریعت اور فقہ میں فرق نہیں ہے

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد صاحب   کچھ دن قبل اس موضوع پرفیسبک پر مختصر پوسٹ کی تھی کہ یہ فرق غیرمنطقی، غیر اصولی اور غیر ضروری ہے۔ جسے آپ شریعت کہتے ہیں وہ آپ کا فہم شریعت ہی ہوتا ہے۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ مثال کے طور پر غامدی صاحب نے اپنے تئیں شریعت کو فقہ کے انبار...

۔”خدا کو ماننا فطری ہے”  مولانا امین احسن اصلاحی صاحب کی گفتگو پر تبصرہ

۔”خدا کو ماننا فطری ہے” مولانا امین احسن اصلاحی صاحب کی گفتگو پر تبصرہ

ڈاکٹر زاہد مغل صاحب علم کلام کو لتاڑنے والے حضرات کی باتوں میں سے ایک یہ ہے کہ وجود باری پر یقین رکھنا بدیہیات میں سے ہے، لہذا متکلمین دلائل دے کر بے مصرف و غیر قرآنی کام کرتے ہیں۔ یہاں مولانا امین احسن اصلاحی صاحب کی کتاب "فلسفے کے بنیادی مسائل قرآن مجید کی روشنی...

ڈاکٹر زاہد مغل

متاخرین کے ہاں کلامی مواقف کے مابین تلفیق پیدا کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم ماضی کے سب بڑے علما کو اچھی نظر سے دیکھتے اور اپنا مشترکہ ورثہ سمجھتے ہیں اور خواہش رکھتے ہیں کہ ان کی ہر اختلافی رائے کی ایسی توجیہ کرلیں جس سے سب کی سب آراء کے بارے میں حسن ظن پیدا ہو، چاہے اس کاوش میں ان کے اصل مواقف کتنے ہی بگڑ جائیں۔ یہ علمی طریقہ نہیں ہے۔ ذیل میں ہم اس کی ایک مثال پیش کرتے ہیں جو حال ہی میں ایک محترم دوست کے ساتھ گفتگو ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ آخر آپ شیخ ابن تیمیہ کے کلامی موقف پر نقد کیوں کرتے ہیں، کیا ہم الحاد کے خلاف بحث میں ان کے موقف کا لحاظ کرتے ہوئے ایک جامع موقف نہیں اپنا سکتے تاکہ سب گروہ ایک دوسرے سے سیکھ بھی سکیں اور مختلف سنی اراء جمع ہوجائیں؟

ہم نے ان سے پوچھا کہ اچھا یہ بتائیں کہ شیخ کے مطابق حوادث لا اول لھا انفائنائٹ ریگریس آف ایونٹس جائز ہے جبکہ متکلمین اشاعرہ و ماتریدیہ کے نزدیک یہ محال ہے۔ اس اختلاف کو کیسے جمع کریں؟ انہوں نے کہا کہ دونوں دلائل میں وجہ اشتراک لے لی جائے اور وہ ہے محدث کا ثبوت۔

اس حل میں متعدد مسائل ہیں، ذیل میں بظاہر اس سادہ سے حل کا ایک پہلو واضح کیا جاتا ہے۔

دیکھئے متکلمین کا موقف یہ ہے کہ حوادث لا اول لھا محال ہے اور جو محال ہو اس پر مزید کسی حقیقت کا ثبوت کھڑا نہیں ہوسکتا اس لئے کہ محال معدوم ہے (impossible is nothing)۔

جبکہ شیخ ابن تیمیہ کیا کہتے ہیں؟ یہ کہ حوادث لا اول لھا ممکن ہے اور اس سے بھی آپ کے بقول محدث ثابت ہوجاتا ہے۔ ٹھیک؟

آپ کا حل یہ ہے: ہم کامن فیکٹر کو لے لیں۔

اچھا تو باقی کا کیا کریں؟

چنانچہ اصل میں آپ مجھے یہ کہہ رہے ہیں کہ میں اپنا مقدمہ چھوڑ دوں اور شیخ ابن تیمیہ کی بات مان لوں کہ یہ آکسی مورون ممکنات میں سے ہے۔ اس کے بعد متکلمین اشاعرہ و ماتریدیہ کا موقف کیسے باقی رہا یہ بتائیں؟ بات یہ ہے کہ ان دو مواقف کے مابین “محدث کا ثبوت ہوجانا” مشترک ہے ہی نہیں، متکلمین ایسے ثبوت کی تردید کرتے ہیں۔

اور کیا اس کے بعد میں کسی ملحد کے سامنے انفائینائیٹ ریگریس محال ہونے کی دلیل پیش کرسکتا ہوں جبکہ میں خود ہی مان رہا ہوں کہ ایسا ہونا جائز ہے؟ چنانچہ یہاں جمع بین الاقوال نہیں ہوا بلکہ ایک قول کا ابطال ہورہا ہے اور وہ ہمارا ہے۔

اچھا اب ذرا آگے بڑھیں۔

اگر میں نے ایک مرتبہ شیخ ابن تیمیہ کا یہ اصول مان لیا کہ حوادث لا اول لھا جائز ہے تو اب وہ مجھے کہیں گے کہ اس سے ثابت ہوا کہ جو محل حوادث ہو اس کا حادث ہونا لازم نہیں، لہذا تمہارا خدا کو محل حوادث ہونے سے ماوراء کہنا غلط ہوگیا۔ یوں ہمارے ہاتھ سے خدا کی تنزیہات کے باب میں مخالفة الحوادث کا اصول جاتا رہا۔

پھر شیخ ابن تیمیہ کہیں گے کہ خدا محل حوادث ہوتے ہوئے بھی قدیم ہوسکتا ہے، جیسے حوادث لا اول لھا میں تم اسے ممکن مان چکے۔

پھر وہ بعض نصوص کے ظاہر سے خدا کے لئے جہت، حد، مقدار وغیرہ ثابت ماننے پر اصرار کریں گے وہ بھی حقیقی معنی میں، بس کیفیت مجہول ہے لیکن وہ ثابت ہے۔

پھر جب میں ان سے پوچھوں گا کہ حضرت وجود باری کے علم کی دلیل کے لئے عالم کے ممکن ہونے کی بنیاد کیا ہے؟

تو وہ کہیں گے کہ استدلال کی کوئی ضرورت ہی نہیں، وجود باری کا ادراک بس فطری ہے جو عالم کو دیکھتے ہی حاصل ہوجاتا ہے۔

پھر جب میں انہیں کہوں گا کہ جمہور متکلمین اس کے خلاف ہیں کہ خدا محل حوادث ہو؟

تو وہ کہہ دیں گے کہ فلسفہ پڑھنے سے ان کی فطرت مسخ ہوگئی تھی کیونکہ انسان فطری طور پر جانتا ہے کہ وجود مکانی ہوتا ہے۔

اللہ اللہ خیر سلا، یوں شیخ ابن تیمیہ ہمارے اصول و فروع سب کو زمین بوس کردیں گے، اور انہوں نے درحقیقت یہی کاوش کی تھی۔

چنانچہ حوادث لا اول لھا محض ایک سادہ اصول نہیں ہے، شیخ ابن تیمیہ کا اس کے پیچھے ایک پورا ریسرچ پروگرام ہے۔ میں کوئی اتنا سادہ نہیں ہوں کہ پہلے قدم پر پھسل کر شیخ ابن تیمیہ کو متکلمین کے خلاف چوکے چھکے لگانے دوں۔

اب اگر کوئی ان کے ساتھ چلنا چاہتا ہے تو علی وجہ البصیرت چلے۔ کیونکہ ندوی و اصلاحی گروپ کے اکثر زعماء شیخ ابن تیمیہ سے پہلے کا کلام ٹھیک سے نہیں پڑھتے، لہذا ان کی اکثریت کو علم نہیں کہ شیخ ابن تیمیہ کا اصل ٹارگٹ کیا تھا۔ یہ لوگ بس “خدا کا وجود فطری ہے” کو ایک الگ تھلگ اصول کے طور پر اٹھا لیتے ہیں اور متکلمین پر چڑھائی کردیتے ہیں۔

چنانچہ یہ طریقہ بحث ٹھیک نہیں ہے کہ مختلف کلامی مواقف کے بے معنی قسم کے ملغوبے صرف اس لئے تیار کئے جائیں کہ ہم اپنے سب اسلاف کے اختلافات میں فصل نزاع کے لئے کوئی نہ کوئی توجیہ کرکے ذہنی سرور حاصل کرنا چاہتے ہیں کہ دیکھو سب کی بات درست ثابت ہوگئی۔ درست طریقہ یہ ہے کہ جہاں جس قدر اختلاف ہے اسے بتایا جائے، ورنہ ہوتا یہ ہے کہ ہمارے ذہین نوجوان یہ فرق مستشرقین کی تحریروں میں کسی بگڑی ہوئی شکل میں جان لیتے ہیں۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…