کلامی مواقف کی بے معنی تلفیقات :اصلاحی و ندوی گروپ پر نقد

Published On January 26, 2026
غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط سوم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط سوم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ منصب رسالت اور اس پر متفرع احکام کا قرآن وسنت کی روشنی میں جائزہ: ۔ ۔1 ۔  منصب رسالت اور نبوت میں یہ تفریق کوئی قطعی بات نہیں ، اس سے اختلاف کی گنجائش ہے اور ہوا بھی ہے اور یہ رائے زیادہ وزنی بھی نہیں ۔ اس کی بنیاد پر قرآنی آیات و...

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط دوم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط دوم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ   قرآن اور غامدی صاحب کا تصور جہاد:۔ یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ قرآن میں جہاد اقدامی اور اس کے عموم اور تا ئید کے سلسلے میں واضح احکامات موجود ہیں جن سے انکار کیا جا سکتا ہے اور نہ آسانی کے ساتھ انہیں نظر انداز کیا جا...

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط اول )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط اول )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ اسلام کا جنگی نظام " جہاد " عرصہ دراز سے مخالفین اسلام کے طعن و تشنیع اور اعتراضات کا ہدف رہا ہے۔ علماء امت ہر زمانے میں اس کے جوابات بھی دیتے رہے ہیں لیکن ماضی قریب میں جب سے برقی ایجادات عام ہو ئیں ، پرنٹ میڈیا اور انٹرنیٹ پوری...

تصورِ جہاد ( قسط چہارم)

تصورِ جہاد ( قسط چہارم)

شعیب احمد غامدی تصورِ جہاد؟ شهادت علی الناس:۔ شہادت علی الناس کا سیدھا اور سادہ معروف مطلب چھوڑ کر غامدی صاحب نے ایک اچھوتا مطلب لیا ہے جو یہ ہے کہ جیسے رسول اپنی قوم پر شاہد ہوتا ہے اور رسول اللہ ﷺ صحابہ پر شاہد تھے ، ایسے ہی صحابہ کو اور صرف صحابہ کو دیگر محدود...

تصورِ جہاد ( قسط سوم)

تصورِ جہاد ( قسط سوم)

شعیب احمد غامدی تصورِ جہاد؟  غامدی صاحب کے دلائل کا جائزہ:۔ ویسے تو کسی نظریے کے غلط ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ امت کے اجتماعی ضمیر کے فیصلے سے متصادم ہے، لیکن اگر کچھ نادان امت کے اجتماعی ضمیر کو اتھارٹی ہی تسلیم نہ کرتے ہوں اور اپنے دلائل پر نازاں ہوں تو...

تصورِ جہاد ( قسط دوم)

تصورِ جہاد ( قسط دوم)

شعیب احمد غامدی تصورِ جہاد غامدی تصور جہاد کی سنگینی اور انوکھا پن:۔ پوری اسلامی تاریخ میں اہل سنت کا کوئی قابل ذکر فقیہ مجتہد، محدث اور مفسر اس اچھوتے اور قطعی تصور جہاد کا قائل نہیں گذرا، البتہ ماضی قریب میں نبوت کے جھوٹے دعویدار مرزا غلام احمدقادیانی نے اس قبیل کی...

ڈاکٹر زاہد مغل

متاخرین کے ہاں کلامی مواقف کے مابین تلفیق پیدا کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم ماضی کے سب بڑے علما کو اچھی نظر سے دیکھتے اور اپنا مشترکہ ورثہ سمجھتے ہیں اور خواہش رکھتے ہیں کہ ان کی ہر اختلافی رائے کی ایسی توجیہ کرلیں جس سے سب کی سب آراء کے بارے میں حسن ظن پیدا ہو، چاہے اس کاوش میں ان کے اصل مواقف کتنے ہی بگڑ جائیں۔ یہ علمی طریقہ نہیں ہے۔ ذیل میں ہم اس کی ایک مثال پیش کرتے ہیں جو حال ہی میں ایک محترم دوست کے ساتھ گفتگو ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ آخر آپ شیخ ابن تیمیہ کے کلامی موقف پر نقد کیوں کرتے ہیں، کیا ہم الحاد کے خلاف بحث میں ان کے موقف کا لحاظ کرتے ہوئے ایک جامع موقف نہیں اپنا سکتے تاکہ سب گروہ ایک دوسرے سے سیکھ بھی سکیں اور مختلف سنی اراء جمع ہوجائیں؟

ہم نے ان سے پوچھا کہ اچھا یہ بتائیں کہ شیخ کے مطابق حوادث لا اول لھا انفائنائٹ ریگریس آف ایونٹس جائز ہے جبکہ متکلمین اشاعرہ و ماتریدیہ کے نزدیک یہ محال ہے۔ اس اختلاف کو کیسے جمع کریں؟ انہوں نے کہا کہ دونوں دلائل میں وجہ اشتراک لے لی جائے اور وہ ہے محدث کا ثبوت۔

اس حل میں متعدد مسائل ہیں، ذیل میں بظاہر اس سادہ سے حل کا ایک پہلو واضح کیا جاتا ہے۔

دیکھئے متکلمین کا موقف یہ ہے کہ حوادث لا اول لھا محال ہے اور جو محال ہو اس پر مزید کسی حقیقت کا ثبوت کھڑا نہیں ہوسکتا اس لئے کہ محال معدوم ہے (impossible is nothing)۔

جبکہ شیخ ابن تیمیہ کیا کہتے ہیں؟ یہ کہ حوادث لا اول لھا ممکن ہے اور اس سے بھی آپ کے بقول محدث ثابت ہوجاتا ہے۔ ٹھیک؟

آپ کا حل یہ ہے: ہم کامن فیکٹر کو لے لیں۔

اچھا تو باقی کا کیا کریں؟

چنانچہ اصل میں آپ مجھے یہ کہہ رہے ہیں کہ میں اپنا مقدمہ چھوڑ دوں اور شیخ ابن تیمیہ کی بات مان لوں کہ یہ آکسی مورون ممکنات میں سے ہے۔ اس کے بعد متکلمین اشاعرہ و ماتریدیہ کا موقف کیسے باقی رہا یہ بتائیں؟ بات یہ ہے کہ ان دو مواقف کے مابین “محدث کا ثبوت ہوجانا” مشترک ہے ہی نہیں، متکلمین ایسے ثبوت کی تردید کرتے ہیں۔

اور کیا اس کے بعد میں کسی ملحد کے سامنے انفائینائیٹ ریگریس محال ہونے کی دلیل پیش کرسکتا ہوں جبکہ میں خود ہی مان رہا ہوں کہ ایسا ہونا جائز ہے؟ چنانچہ یہاں جمع بین الاقوال نہیں ہوا بلکہ ایک قول کا ابطال ہورہا ہے اور وہ ہمارا ہے۔

اچھا اب ذرا آگے بڑھیں۔

اگر میں نے ایک مرتبہ شیخ ابن تیمیہ کا یہ اصول مان لیا کہ حوادث لا اول لھا جائز ہے تو اب وہ مجھے کہیں گے کہ اس سے ثابت ہوا کہ جو محل حوادث ہو اس کا حادث ہونا لازم نہیں، لہذا تمہارا خدا کو محل حوادث ہونے سے ماوراء کہنا غلط ہوگیا۔ یوں ہمارے ہاتھ سے خدا کی تنزیہات کے باب میں مخالفة الحوادث کا اصول جاتا رہا۔

پھر شیخ ابن تیمیہ کہیں گے کہ خدا محل حوادث ہوتے ہوئے بھی قدیم ہوسکتا ہے، جیسے حوادث لا اول لھا میں تم اسے ممکن مان چکے۔

پھر وہ بعض نصوص کے ظاہر سے خدا کے لئے جہت، حد، مقدار وغیرہ ثابت ماننے پر اصرار کریں گے وہ بھی حقیقی معنی میں، بس کیفیت مجہول ہے لیکن وہ ثابت ہے۔

پھر جب میں ان سے پوچھوں گا کہ حضرت وجود باری کے علم کی دلیل کے لئے عالم کے ممکن ہونے کی بنیاد کیا ہے؟

تو وہ کہیں گے کہ استدلال کی کوئی ضرورت ہی نہیں، وجود باری کا ادراک بس فطری ہے جو عالم کو دیکھتے ہی حاصل ہوجاتا ہے۔

پھر جب میں انہیں کہوں گا کہ جمہور متکلمین اس کے خلاف ہیں کہ خدا محل حوادث ہو؟

تو وہ کہہ دیں گے کہ فلسفہ پڑھنے سے ان کی فطرت مسخ ہوگئی تھی کیونکہ انسان فطری طور پر جانتا ہے کہ وجود مکانی ہوتا ہے۔

اللہ اللہ خیر سلا، یوں شیخ ابن تیمیہ ہمارے اصول و فروع سب کو زمین بوس کردیں گے، اور انہوں نے درحقیقت یہی کاوش کی تھی۔

چنانچہ حوادث لا اول لھا محض ایک سادہ اصول نہیں ہے، شیخ ابن تیمیہ کا اس کے پیچھے ایک پورا ریسرچ پروگرام ہے۔ میں کوئی اتنا سادہ نہیں ہوں کہ پہلے قدم پر پھسل کر شیخ ابن تیمیہ کو متکلمین کے خلاف چوکے چھکے لگانے دوں۔

اب اگر کوئی ان کے ساتھ چلنا چاہتا ہے تو علی وجہ البصیرت چلے۔ کیونکہ ندوی و اصلاحی گروپ کے اکثر زعماء شیخ ابن تیمیہ سے پہلے کا کلام ٹھیک سے نہیں پڑھتے، لہذا ان کی اکثریت کو علم نہیں کہ شیخ ابن تیمیہ کا اصل ٹارگٹ کیا تھا۔ یہ لوگ بس “خدا کا وجود فطری ہے” کو ایک الگ تھلگ اصول کے طور پر اٹھا لیتے ہیں اور متکلمین پر چڑھائی کردیتے ہیں۔

چنانچہ یہ طریقہ بحث ٹھیک نہیں ہے کہ مختلف کلامی مواقف کے بے معنی قسم کے ملغوبے صرف اس لئے تیار کئے جائیں کہ ہم اپنے سب اسلاف کے اختلافات میں فصل نزاع کے لئے کوئی نہ کوئی توجیہ کرکے ذہنی سرور حاصل کرنا چاہتے ہیں کہ دیکھو سب کی بات درست ثابت ہوگئی۔ درست طریقہ یہ ہے کہ جہاں جس قدر اختلاف ہے اسے بتایا جائے، ورنہ ہوتا یہ ہے کہ ہمارے ذہین نوجوان یہ فرق مستشرقین کی تحریروں میں کسی بگڑی ہوئی شکل میں جان لیتے ہیں۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…