کلامی مواقف کی بے معنی تلفیقات :اصلاحی و ندوی گروپ پر نقد

Published On January 26, 2026
غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 8)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 8)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی نے جو تیسری آیت اس سلسلہ میں استدلال کے لیے پیش کی ہے  وہ سورۃ المائدہ کی 48 نمبر آیت ہے ۔وہ پھر ان تین آیتوں سے کچھ  مصنوعی قواعد بناتے ہیں ۔ جس کا ہم آگے چل کر تجزیہ پیش کرینگے ۔ مگر اس آیت کا تعلق  ماضی کے صحیفوں سے ہے ۔کہ قرآن ان پر...

دورانِ عدت نکاح پر غامدی صاحب کی غلط فہمیاں

دورانِ عدت نکاح پر غامدی صاحب کی غلط فہمیاں

پروفیسر ڈاکٹر محمد مشتاق احمد عدت کے دوران میں نکاح کے متعلق غامدی صاحب اور ان کے داماد کی گفتگو کا ایک کلپ کسی نے شیئر کیا اور اسے دیکھ کر پھر افسوس ہوا کہ بغیر ضروری تحقیق کیے دھڑلے سے بڑی بڑی باتیں کہی جارہی ہیں۔ اگر غامدی صاحب اور ان کے داماد صرف اپنا نقطۂ نظر...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 8)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 7)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی نے قرآن مجید کے متعلق بھی مختصر سی بحث کی ہے ۔جس پر بہت کچھ کہنے کے لیے موجود ہے  مگر ہم اس کی تفصیل کرنے سے بقصدِ اختصار اعراض کرتے ہیں ۔ جناب نے قرآن کے اوصاف میں ایک وصف ،، فرقان ،،  ذکر کیاہے ۔اور دوسرا وصف ،، میزان ،، ذکرکیاہے ۔پھراس...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 8)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 6)

مولانا واصل واسطی ہم اس وقت ،، حدیث وسنت ،، کے موضوع سے ایک اور بحث کی طرف توجہ کرتے ہیں۔ کیونکہ جناب غامدی نے ،، حدیث اور سنت ،، نے مبحث کو مختلف مقامات میں پھیلا رکھاہے۔درمیان میں دیگر مباحث چھیڑ دیئے ہیں ، ہم بھی انہیں کے مطابق چلنے کی کوشش کرتے ہیں ۔جاوید غامدی نے...

غامدی اور خضریاسین: تفسیر وتفہیم کے معاملے پر میرا نقطہ نظر

غامدی اور خضریاسین: تفسیر وتفہیم کے معاملے پر میرا نقطہ نظر

گل رحمان ہمدرد غامدی صاحب نے مقامات میں دبستانِ شبلی کے بارے بتایا ہے کہ اس کے دو اساسی اصولوں میں سے ایک اصول یہ تھا کہ دین کی حقیقت جاننے کےلیۓ ہمیں پیچھے کی طرف جانا ہوگا ”یہاں تک کہ اُس دور میں پہنچ جاٸیں جب قرآن اتر رہا تھا اور جب خدا کا آخری پیغمبر خود انسانوں...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 8)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 5)

مولانا واصل واسطی ہم نے اوپر جناب غامدی کی ایک عبارت پیش کی ہے کہ ،، چنانچہ دین کی حیثیت سے اس دائرے سے باہر کی کوئی چیز نہ حدیث ہوسکتی ہے اور نہ محض حدیث کی بنیاد پر اسے قبول کیاجاسکتاہے (میزان ص15) میں نے کہیں جناب غامدی کا اپنا قول غالبا،، اشراق ،، کے کسی شمارے میں...

ڈاکٹر زاہد مغل

متاخرین کے ہاں کلامی مواقف کے مابین تلفیق پیدا کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم ماضی کے سب بڑے علما کو اچھی نظر سے دیکھتے اور اپنا مشترکہ ورثہ سمجھتے ہیں اور خواہش رکھتے ہیں کہ ان کی ہر اختلافی رائے کی ایسی توجیہ کرلیں جس سے سب کی سب آراء کے بارے میں حسن ظن پیدا ہو، چاہے اس کاوش میں ان کے اصل مواقف کتنے ہی بگڑ جائیں۔ یہ علمی طریقہ نہیں ہے۔ ذیل میں ہم اس کی ایک مثال پیش کرتے ہیں جو حال ہی میں ایک محترم دوست کے ساتھ گفتگو ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ آخر آپ شیخ ابن تیمیہ کے کلامی موقف پر نقد کیوں کرتے ہیں، کیا ہم الحاد کے خلاف بحث میں ان کے موقف کا لحاظ کرتے ہوئے ایک جامع موقف نہیں اپنا سکتے تاکہ سب گروہ ایک دوسرے سے سیکھ بھی سکیں اور مختلف سنی اراء جمع ہوجائیں؟

ہم نے ان سے پوچھا کہ اچھا یہ بتائیں کہ شیخ کے مطابق حوادث لا اول لھا انفائنائٹ ریگریس آف ایونٹس جائز ہے جبکہ متکلمین اشاعرہ و ماتریدیہ کے نزدیک یہ محال ہے۔ اس اختلاف کو کیسے جمع کریں؟ انہوں نے کہا کہ دونوں دلائل میں وجہ اشتراک لے لی جائے اور وہ ہے محدث کا ثبوت۔

اس حل میں متعدد مسائل ہیں، ذیل میں بظاہر اس سادہ سے حل کا ایک پہلو واضح کیا جاتا ہے۔

دیکھئے متکلمین کا موقف یہ ہے کہ حوادث لا اول لھا محال ہے اور جو محال ہو اس پر مزید کسی حقیقت کا ثبوت کھڑا نہیں ہوسکتا اس لئے کہ محال معدوم ہے (impossible is nothing)۔

جبکہ شیخ ابن تیمیہ کیا کہتے ہیں؟ یہ کہ حوادث لا اول لھا ممکن ہے اور اس سے بھی آپ کے بقول محدث ثابت ہوجاتا ہے۔ ٹھیک؟

آپ کا حل یہ ہے: ہم کامن فیکٹر کو لے لیں۔

اچھا تو باقی کا کیا کریں؟

چنانچہ اصل میں آپ مجھے یہ کہہ رہے ہیں کہ میں اپنا مقدمہ چھوڑ دوں اور شیخ ابن تیمیہ کی بات مان لوں کہ یہ آکسی مورون ممکنات میں سے ہے۔ اس کے بعد متکلمین اشاعرہ و ماتریدیہ کا موقف کیسے باقی رہا یہ بتائیں؟ بات یہ ہے کہ ان دو مواقف کے مابین “محدث کا ثبوت ہوجانا” مشترک ہے ہی نہیں، متکلمین ایسے ثبوت کی تردید کرتے ہیں۔

اور کیا اس کے بعد میں کسی ملحد کے سامنے انفائینائیٹ ریگریس محال ہونے کی دلیل پیش کرسکتا ہوں جبکہ میں خود ہی مان رہا ہوں کہ ایسا ہونا جائز ہے؟ چنانچہ یہاں جمع بین الاقوال نہیں ہوا بلکہ ایک قول کا ابطال ہورہا ہے اور وہ ہمارا ہے۔

اچھا اب ذرا آگے بڑھیں۔

اگر میں نے ایک مرتبہ شیخ ابن تیمیہ کا یہ اصول مان لیا کہ حوادث لا اول لھا جائز ہے تو اب وہ مجھے کہیں گے کہ اس سے ثابت ہوا کہ جو محل حوادث ہو اس کا حادث ہونا لازم نہیں، لہذا تمہارا خدا کو محل حوادث ہونے سے ماوراء کہنا غلط ہوگیا۔ یوں ہمارے ہاتھ سے خدا کی تنزیہات کے باب میں مخالفة الحوادث کا اصول جاتا رہا۔

پھر شیخ ابن تیمیہ کہیں گے کہ خدا محل حوادث ہوتے ہوئے بھی قدیم ہوسکتا ہے، جیسے حوادث لا اول لھا میں تم اسے ممکن مان چکے۔

پھر وہ بعض نصوص کے ظاہر سے خدا کے لئے جہت، حد، مقدار وغیرہ ثابت ماننے پر اصرار کریں گے وہ بھی حقیقی معنی میں، بس کیفیت مجہول ہے لیکن وہ ثابت ہے۔

پھر جب میں ان سے پوچھوں گا کہ حضرت وجود باری کے علم کی دلیل کے لئے عالم کے ممکن ہونے کی بنیاد کیا ہے؟

تو وہ کہیں گے کہ استدلال کی کوئی ضرورت ہی نہیں، وجود باری کا ادراک بس فطری ہے جو عالم کو دیکھتے ہی حاصل ہوجاتا ہے۔

پھر جب میں انہیں کہوں گا کہ جمہور متکلمین اس کے خلاف ہیں کہ خدا محل حوادث ہو؟

تو وہ کہہ دیں گے کہ فلسفہ پڑھنے سے ان کی فطرت مسخ ہوگئی تھی کیونکہ انسان فطری طور پر جانتا ہے کہ وجود مکانی ہوتا ہے۔

اللہ اللہ خیر سلا، یوں شیخ ابن تیمیہ ہمارے اصول و فروع سب کو زمین بوس کردیں گے، اور انہوں نے درحقیقت یہی کاوش کی تھی۔

چنانچہ حوادث لا اول لھا محض ایک سادہ اصول نہیں ہے، شیخ ابن تیمیہ کا اس کے پیچھے ایک پورا ریسرچ پروگرام ہے۔ میں کوئی اتنا سادہ نہیں ہوں کہ پہلے قدم پر پھسل کر شیخ ابن تیمیہ کو متکلمین کے خلاف چوکے چھکے لگانے دوں۔

اب اگر کوئی ان کے ساتھ چلنا چاہتا ہے تو علی وجہ البصیرت چلے۔ کیونکہ ندوی و اصلاحی گروپ کے اکثر زعماء شیخ ابن تیمیہ سے پہلے کا کلام ٹھیک سے نہیں پڑھتے، لہذا ان کی اکثریت کو علم نہیں کہ شیخ ابن تیمیہ کا اصل ٹارگٹ کیا تھا۔ یہ لوگ بس “خدا کا وجود فطری ہے” کو ایک الگ تھلگ اصول کے طور پر اٹھا لیتے ہیں اور متکلمین پر چڑھائی کردیتے ہیں۔

چنانچہ یہ طریقہ بحث ٹھیک نہیں ہے کہ مختلف کلامی مواقف کے بے معنی قسم کے ملغوبے صرف اس لئے تیار کئے جائیں کہ ہم اپنے سب اسلاف کے اختلافات میں فصل نزاع کے لئے کوئی نہ کوئی توجیہ کرکے ذہنی سرور حاصل کرنا چاہتے ہیں کہ دیکھو سب کی بات درست ثابت ہوگئی۔ درست طریقہ یہ ہے کہ جہاں جس قدر اختلاف ہے اسے بتایا جائے، ورنہ ہوتا یہ ہے کہ ہمارے ذہین نوجوان یہ فرق مستشرقین کی تحریروں میں کسی بگڑی ہوئی شکل میں جان لیتے ہیں۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

No Results Found

The page you requested could not be found. Try refining your search, or use the navigation above to locate the post.