وجودی حقائق اور غامدی صاحب 2

Published On February 25, 2026
وجودی حقائق اور غامدی صاحب 2

وجودی حقائق اور غامدی صاحب 2

محمد حسنین اشرف جاوید صاحب جب وجودی حقائق کی تعریف کرتے ہیں تو یوں کرتے ہیں کہ یہ ایسے حقائق ہیں جن کا انکار ممکن نہیں ہوتا۔ اب چونکہ اس میں بہت بحث تمحیص پڑتی ہے اور بہت سے ایسے حقائق جن کو وجودی حقائق مانا جا رہا تھا اور اب اٗن کا انکار ہوگیا ہے تو وہ اس پر مزید ایک...

وجودی حقائق اور غامدی صاحب 2

وجودی حقائق اور غامدی صاحب

محمد حسنین اشرف  دوسری قسط میں غامدی صاحب وجودی حقائق کی تعریف یوں کرتے ہیں: "وجودی حقائق اٗن حقائق کو کہتے ہیں کہ آپ چاہیں تو آپ اپنا سر اٗن سے ٹکرا کر اس کو پھوڑ سکتے ہیں اٗن کا انکار نہیں کرسکتے۔" اس سے قبل انہوں نے سوال کے جواب میں ہیوم کی دیکارت پر نقد (وجودی...

غامدی صاحب اور الحاد کا مقدمہ

غامدی صاحب اور الحاد کا مقدمہ

محمد حسنین اشرف باطنی حواس پر غامدی صاحب گفتگو کچھ یوں فرماتے ہیں: "جس طریقے سے ظآہری حواس کو لوگوں نے حواس کی تعبیر دی ہے، اگر آپ غور کریں تو وہ باطنی حواس کو بھی دیے ہوئے ہیں۔ ہم عام زبان میں کہتے ہیں کہ میری حس جمالیات اس سے متاثر ہوئی ہے۔ میرے حاسہ اخلاقی نے یہ...

انسان کا حاسہ باطنی اور غامدی صاحب 2

انسان کا حاسہ باطنی اور غامدی صاحب 2

محمد حسنین اشرف باطنی حواس پر غامدی صاحب گفتگو کچھ یوں فرماتے ہیں: "جس طریقے سے ظآہری حواس کو لوگوں نے حواس کی تعبیر دی ہے، اگر آپ غور کریں تو وہ باطنی حواس کو بھی دیے ہوئے ہیں۔ ہم عام زبان میں کہتے ہیں کہ میری حس جمالیات اس سے متاثر ہوئی ہے۔ میرے حاسہ اخلاقی نے یہ...

انسان کا حاسہ باطنی اور غامدی صاحب 2

انسان کا حاسہ باطنی اور غامدی صاحب

محمد حسنین اشرف غامدی صاحب وجودی حقائق  پر مزید گفتگو کریں گے تو لطف کی شے ہوگی لیکن سر دست دو چیزوں کو دیکھنا دلچسپ ہے۔ عقل (وہ فرماتے ہیں): "(۔۔۔) ان کو سمجھنے کے لیے جو ملکہ انسان کو عطا ہوا ہے اسے ہم عقل سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہی انسان کا اصلی شرف ہے۔ اس کو جو ذرائع...

محمد حسنین اشرف

جاوید صاحب جب وجودی حقائق کی تعریف کرتے ہیں تو یوں کرتے ہیں کہ یہ ایسے حقائق ہیں جن کا انکار ممکن نہیں ہوتا۔ اب چونکہ اس میں بہت بحث تمحیص پڑتی ہے اور بہت سے ایسے حقائق جن کو وجودی حقائق مانا جا رہا تھا اور اب اٗن کا انکار ہوگیا ہے تو وہ اس پر مزید ایک دلیل دیتے ہیں کہ آپ کا عمل آپ کے انکار کی تکذیب کردے گا۔ حالانکہ یہ جملہ اصلا علمیاتی گفتگو سے انحراف ہے جو علمیاتی گفتگو میں نہیں بولا جانا چاہیے کیونکہ میرا عمل محض علمیات کا پیدا کردہ نہیں ہوتا بلکہ یہ میری نفسیات سے بھی پیدا ہوتا ہے، میری عادات سے پیدا ہوتا ہے اور رائج علمیات کا اس میں بہت عمل دخل ہوتا ہے۔ سو یوں علمیاتی مسئلے کو نفسیاتی مسائل سے کنفیوز کردیا جاتا ہے۔ اسے خالص علمیاتی گفتگو سے ثابت کرنا چاہیے۔ اگر کوئی انکار ہو رہا ہے تو اس انکار کا یہ جواب الزامی جواب ہے جس کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں۔ یہ نہ صرف خلط مبحث پیدا کرتا ہے بلکہ بات سمجھنے میں بھی رکاوٹ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فرماتے ہیں: “عقل حواس سے حاصل ہونے والے علم کا تجزیہ کرتی ہے۔ اس میں ایسا ہوسکتا ہے کہ میں سراب سے دوچار ہوگیا ہوں آپ نہ ہوئے ہوں۔ میرے آپ کے مابین اختلاف ہوا تو وہ مسلمہ نہیں بنے گا۔ اس کے مسلمہ بننے کا پھر عمل ہوتا ہے یعنی یہ ایسے نہیں ہوجاتا کہ علم و عقل کے مسلمات کی فہرست چلتے چلتے بن جاتی ہے۔ اس میں یہ سارے معلاملات ہوئے ہوتے ہیں۔ براہ راست دیکھا اتفاق ہوگیا، تجزیہ کیا اتفاق ہوگیا، علمی طریقے سے مطالعہ شروع کیا اتفاق ہوگیا، عقلی امکانات پر کام شروع کیا اور کسی امکان نے واقعہ کی صورت اختیار کرلی تو اتفاق ہوگیا تو اگر غور کریں آپ تو علم و عقل کے مسلمات کی تعبیر اسی لیے اختیار کی جاتی ہے۔ جہاں سے اختلاف شروع ہوتا ہے وہاں سے مشاہدہ شروع ہوتا ہے۔ وہ کس وقت سب کی مانی ہوئی حقیقت بن جائے گا، جب وہ بن جائے گا تب وہ بنائے استدلال بنے گا۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر کل والی وجودی حقیقت آج چیلنج ہوگئی ہے اور آج والی کل ہوسکتی ہے تو یہ کس معنی میں اضطراری علم ہوا؟ اچھا آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اضطراری علم موجود ہے لیکن اس تک میری رسائی یقنی نہیں ہے، تو اگر میری رسائی یقنی نہیں ہے تو اضطراری علم میرے لیے کس صورت میں
Binding
ہوگا؟
۲۔ اسی طرح اس علم نے تو مجھ پر حاکمیت قائم کرنی تھی اور اگر میں اس کو حاصل کرنے میں دھوکے کھاتا رہوں گا بایں معنی آج میں نے کسی چیز کو وجودی حقیقت تسلیم کیا اور کل کسی نے اس سے اختلاف کیا تو وہ یہ کس معنی میں مجھ پر حاکم ہے؟
۳۔ حواس دھوکہ کھا سکتے ہیں تو عقل دھوکہ کیوں نہیں کھا سکتی؟ محض یہ کہہ دینا کہ عقل حکم لگاتی ہے اور اس پر الہام ہوا ہے ہمیں یہ نہیں بتاتا کہ
الف: اس الہام تک ہماری بلا خطا رسائی کیسے ہوتی ہے؟
ب: عقل کی کونسی فعالیت ہے جو حکم لگانے میں چوکتی نہیں ہے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ عقل بہت بار چوکتی ہے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…