حاسہ باطنی کی تعبیر اور غامدی صاحب

Published On February 25, 2026
ذو الوجہین : من وجہ اقرار من وجہ انکار

ذو الوجہین : من وجہ اقرار من وجہ انکار

محمد خزیمہ الظاہری پہلے بھی عرض کیا تھا کہ غامدی صاحب نے باقاعدہ طور پر دو چہرے رکھے ہوئے ہیں. ایک انہیں دکھانے کے لئے جو آپ کو منکر حدیث کہتے ہیں اور یہ چہرہ دکھا کر انکار حدیث کے الزام سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میزان میں بارہ سو روایتیں ہیں وغیرہ...

( اہلِ غزہ کے معاملے میں غامدی صاحب کی اصولی غلطیاں (قسط دوم

( اہلِ غزہ کے معاملے میں غامدی صاحب کی اصولی غلطیاں (قسط دوم

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد پچھلی قسط کے اختتام پر لکھا گیا کہ ابھی یہ بحث پوری نہیں ہوئی، لیکن غامدی صاحب کے حلقے سے فوراً ہی جواب دینے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اگر جواب کی طرف لپکنے کے بجاے وہ کچھ صبر سے کام لیتے اور اگلی قسط پڑھ لیتے، تو ان حماقتوں میں مبتلا نہ ہوتے جن میں...

(اہلِ غزہ کے معاملے میں غامدی صاحب کی اصولی غلطیاں (قسط اول

(اہلِ غزہ کے معاملے میں غامدی صاحب کی اصولی غلطیاں (قسط اول

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد غامدی صاحب فرماتے ہیں کہ حج اور جہاد کی فرضیت صرف اسی کےلیے ہوتی ہے جو استطاعت رکھتا ہو۔ بظاہر یہ بات درست محسوس ہوتی ہے، لیکن اس میں بہت ہی بنیادی نوعیت کی غلطی پائی جاتی ہے اور اس غلطی کا تعلق شرعی حکم تک پہنچنے کے طریقِ کار سے ہے۔ سب سے پہلے...

جہاد، قادیانی اور غامدی صاحب، اصل مرض کی تشخیص

جہاد، قادیانی اور غامدی صاحب، اصل مرض کی تشخیص

حسان بن علی بات محض حکمت عملی کے اختلاف کی نہیں کہ مسلمان فی الحال جنگ کو چھوڑ رکھیں بلکہ بات پورے ورلڈ ویو اور نظریے کی ہے کہ غامدی صاحب کی فکر میں مسلمانوں کی اجتماعی سیادت و بالادستی اساسا مفقود ہے (کہ خلافت کا تصور ان کے نزدیک زائد از اسلام تصور ہے)، اسى طرح...

مولانا فراہی کی سعی: قرآن فہمی یا عربی دانی ؟

مولانا فراہی کی سعی: قرآن فہمی یا عربی دانی ؟

ڈاکٹر خضر یسین مولانا فراہی رحمہ اللہ کی عمر عزیز کا بیشتر حصہ قرآن مجید کی خدمت میں صرف ہوا ہے۔ لیکن یہ قرآن مجید کے بجائے عربی زبان و ادب کی خدمت تھی یا تخصیص سے بیان کیا جائے تو یہ قرآن مجید کے عربی اسلوب کی خدمت تھی۔ قرآن مجید کا انتخاب صرف اس لئے کیا گیا تھا کہ...

خدا پر ایمان : غامدی صاحب کی دلیل پر تبصرہ اور علم کلام کی ناگزیریت

خدا پر ایمان : غامدی صاحب کی دلیل پر تبصرہ اور علم کلام کی ناگزیریت

ڈاکٹرزاہد مغل علم کلام کے مباحث کو غیر ضروری کہنے اور دلیل حدوث پر اعتراض کرنے کے لئے جناب غامدی صاحب نے ایک ویڈیو ریکارڈ کرائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قرآن سے متعلق دیگر علوم جیسے کہ اصول فقہ، فقہ و تفسیر وغیرہ کے برعکس علم کلام ناگزیر مسائل سے بحث نہیں کرتا اس لئے کہ...

محمد حسنین اشرف

یہ بات بہرحال غامدی صاحب کو ہی ثابت کرنی ہے کہ حاسہ باطنی سے مراد کونسی حسیات ہیں اور ان کے لیے “حس” کی اصطلاح کیوں موزوں ہے؟ سر دست یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کیوں یہ اصطلاح بہت حوالوں سے غیر موزوں ہے:
۱۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہ اصطلاح خلط مبحث پیدا کرتی ہے اور یہ تاثر دیتی ہے کہ جیسے ہم ان حسیات سے ویسے ہی واقف ہیں جیسے ہم دیکھنے، سونگھنے وغیرہ سے واقف ہیں۔ اس طرح کیا ہم ان حسیات سے اور جس شے تک ہمیں یہ حسیات رسائی دیتی ہیں ویسے ہی واقف ہیں جیسے ظاہری حسیات کے باب میں واقف ہیں؟ مثلا میں ظاہری حس یعنی آنکھ کو علیحدہ، آنکھ جس شے کو دیکھتی ہے اٗسے علیحدہ اور عقل کو علیحدہ سمجھتا ہوں (کم از کم ایک عامیانہ سطح پر یہ تقسیم دیکھی جاسکتی ہے)۔ ایسی واضح تقسیم باطنی حسیات میں پائی نہیں جاتی سو اس صورت میں ان کو کس معنی میں حسیات کہا جاسکتا ہے؟
۲۔ ہم بہت اچھے سے واقف ہیں کہ ہماری یہ حسیات ہمیں دھوکہ دیتی ہیں اور اس سے برآمد شدہ نتائج اکثر اوقات غلط ثابت ہوتے ہیں اور ہم ان حسیات کی تحدید سے بھی واقف ہوتے ہیں۔ اب غامدی صاحب ان حسیات کے بارے میں، دو میں سے ایک رائے رکھ سکتے ہیں:
الف: باطنی حسیات ظاہری حسیات کے مانند دھوکہ کھا سکتی ہیں۔
ب: یہ دھوکہ نہیں کھاتیں!
ان دونوں سے مزید مسائل جنم لیں گے مثال کے طور اگر باطنی حسیات ظاہری حسیات کی طرح ہمیں دھوکہ دیتی ہیں تو تمام تر بوجھ عقل کی فعالیت پر آن پڑے گا۔ غامدی صاحب کے نزدیک عقل کم و بیش اندھی ہے بایں معنی کہ اسے خارج اور باطن تک رسائی کے لیے حسیات درکار ہیں۔ حسیات دھوکہ دیتی ہیں اور اب ہمیں عقل کی جناب میں سجدہ ریز ہونا پڑے گا اور یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ عقل دھوکہ نہیں کھاتی سو جو کمی و کجی ظاہری و باطنی حسیات سے رہ جاتی ہے وہ عقل پوری کرتی ہے۔ اگر آپ یہ کہیں گے کہ عقل حاکم ہے اور وہ دھوکہ نہیں کھا سکتی تو آپ کو یہ بتانا پڑے گا کہ پھر ہمارے نتائج کیونکر غلط ہوتے ہیں؟ کیا عقل کبھی باطنی حواس کا دھوکہ پکڑ لیتی ہے اور کبھی ناکام رہتی ہے؟ اگر وہ ہمیشہ کامیاب رہتی ہے تو ہم غلطی کیونکر کرتے ہیں۔
اگر میں باطنی احساس سے غامدی صاحب کا اشارہ درست سمجھا ہوں تو اس کی ایک مثال لیجیے، انسان اکثر بھوک اور پیاس کے معاملے میں خطا کھاتا ہے۔ یہ خطا کہاں سے پیدا ہوتی ہے؟ (اس کنفیوژن پر سائنسی لٹریچر دیکھا جاسکتا ہے)
اب باطنی حسیات دھوکہ نہیں کھاتیں تو ہم یہ جانتے ہیں کہ باطن میں پیدا ہونے والے احساسات غلط ہوسکتے ہیں۔ اب مزید سوال یہ باقی رہ جائے گا کہ اس “غلطی” کو کس پر ڈالا جائے؟ اگر باطنی حسیات دھوکہ نہیں کھاتیں تو انسان باطنی احساسات کے معاملے میں غلطی کہاں سے کرتا ہے؟ پھر یا تو عقل خام ہوگی یا حسیات خام ہوں گی۔
مندرجہ بالا گفتگو سے صرف یہ دکھانا مقصود ہے کہ باطنی حسیات پر “حس” کے حوالے سے (احساس کے حوالے سے نہیں) کلام کیے بغیر آپ بات واضح نہیں کرسکتے بلکہ یہ اصطلاح استعمال کرنا خلط مبحث پیدا کرتا ہے۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ یہاں سے غامدی صاحب تمام تر “یقینی علم” کی عمارت اٗٹھا رہے ہیں اور یہاں سے یقینی علم کی عمارت اٹھانا اور وہ بھی ان سوالوں کے جواب دیے بغیر شاید مفید نہیں ہے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

No Results Found

The page you requested could not be found. Try refining your search, or use the navigation above to locate the post.