حاسہ باطنی کی تعبیر اور غامدی صاحب

Published On February 25, 2026
غامدی ازم میں کیا مسئلہ ہے ؟

غامدی ازم میں کیا مسئلہ ہے ؟

مقرر : مفتی یاسر ندیم الواجدی  تلخیص : زید حسن  غامدی ازم کو ہم الحاد اور لبرل ازم کا پیش خیمہ سمجھتے ہیں جسکی وجہ سے موضوعِ بحث بناتے ہیں ورنہ فرقہ وارانہ مباحث ہمارا موضوع نہیں ہیں ۔ غامدیت بھی اگرچہ ایک فرقہ ہی ہے کیونکہ انکے اصول  بالکل الگ اور مختلف ہیں ۔ اس نشست...

ایمان بالغیب صرف عقل سے حاصل ہوتا ہے، غامدی صاحب کا نیا اجتہاد (قسط چہارم )

ایمان بالغیب صرف عقل سے حاصل ہوتا ہے، غامدی صاحب کا نیا اجتہاد (قسط چہارم )

سید خالد جامعی ایک سائل نے ایک عالم سے پوچھا ’’جو شخص بحالت احرام شکار کرے اس کے بارے میں آپ کا کیا فتویٰ ہے؟ ‘‘ [شرعاً حج ادا کرنے والے شخص کے لیے شکار کھیلنا منع ہے] اس نیک سیرت اور صاحب عمل عالم نے جواب دیا: ’’آپ کا سوال مبہم اور گمراہ کن ہے، آپ کو بالصراحت بتانا...

ایمان بالغیب صرف عقل سے حاصل ہوتا ہے، غامدی صاحب کا نیا اجتہاد (قسط چہارم )

ایمان بالغیب صرف عقل سے حاصل ہوتا ہے، غامدی صاحب کا نیا اجتہاد (قسط پنجم )

سید خالد جامعی عصر حاضر کا مسئلہ یہ ہے کہ فقہا، متکلمین واعظین علماء نے لا ادری کہنا ترک کردیاہے لہٰذا وہ ہر مسئلے کا جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں اور عوام کی درست رہنمائی سے قاصر رہتے ہیں۔ نائیک صاحب نہایت اخلاص کے ساتھ ادھورے علم کے ذریعے امت کی اصلاح کے لیے نکلے ہیں...

ایمان بالغیب صرف عقل سے حاصل ہوتا ہے، غامدی صاحب کا نیا اجتہاد (قسط چہارم )

ایمان بالغیب صرف عقل سے حاصل ہوتا ہے، غامدی صاحب کا نیا اجتہاد (قسط سوم )

سید خالد جامعی ایک سائل نے ایک عالم سے پوچھا ’’جو شخص بحالت احرام شکار کرے اس کے بارے میں آپ کا کیا فتویٰ ہے؟ ‘‘ [شرعاً حج ادا کرنے والے شخص کے لیے شکار کھیلنا منع ہے] اس نیک سیرت اور صاحب عمل عالم نے جواب دیا: ’’آپ کا سوال مبہم اور گمراہ کن ہے، آپ کو بالصراحت بتانا...

ایمان بالغیب صرف عقل سے حاصل ہوتا ہے، غامدی صاحب کا نیا اجتہاد (قسط چہارم )

ایمان بالغیب صرف عقل سے حاصل ہوتا ہے، غامدی صاحب کا نیا اجتہاد (قسط دوم )

سید خالد جامعی جدیدیت پسند مسلم مفکرین کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ عقلی دلائل سے بڑے بڑے مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں لیکن محدود عقل قدم قدم پر ٹھوکر یں کھاتی ہے۔ عہد حاضر کے جدید ذہن کو، جو علمی موشگافیوں کا ماہر ہے، نت نئے سوالات سوجھتے ہیں یہ سوالات تحصیلِ علم، حصولِ...

غامدی صاحب: تصوف اور غارحرا کی روایات

غامدی صاحب: تصوف اور غارحرا کی روایات

ڈاکٹر خضر یسین کیا غار حرا اور اس سے وابستہ واقعات پر مروی احادیث واقعتا صوفیاء کی وضع کردہ ہیں اور محض افسانہ ہیں جیسا کہ غامدی صاحب کا مؤقف ہے؟کیا واقعی قرآن مجید کی سورہ والنجم کی آیات ان احادیث کی تردید کرتی ہیں جو صحیح بخاری میں “کیف بدء الوحی” کے عنوان کے تحت...

محمد حسنین اشرف

یہ بات بہرحال غامدی صاحب کو ہی ثابت کرنی ہے کہ حاسہ باطنی سے مراد کونسی حسیات ہیں اور ان کے لیے “حس” کی اصطلاح کیوں موزوں ہے؟ سر دست یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کیوں یہ اصطلاح بہت حوالوں سے غیر موزوں ہے:
۱۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہ اصطلاح خلط مبحث پیدا کرتی ہے اور یہ تاثر دیتی ہے کہ جیسے ہم ان حسیات سے ویسے ہی واقف ہیں جیسے ہم دیکھنے، سونگھنے وغیرہ سے واقف ہیں۔ اس طرح کیا ہم ان حسیات سے اور جس شے تک ہمیں یہ حسیات رسائی دیتی ہیں ویسے ہی واقف ہیں جیسے ظاہری حسیات کے باب میں واقف ہیں؟ مثلا میں ظاہری حس یعنی آنکھ کو علیحدہ، آنکھ جس شے کو دیکھتی ہے اٗسے علیحدہ اور عقل کو علیحدہ سمجھتا ہوں (کم از کم ایک عامیانہ سطح پر یہ تقسیم دیکھی جاسکتی ہے)۔ ایسی واضح تقسیم باطنی حسیات میں پائی نہیں جاتی سو اس صورت میں ان کو کس معنی میں حسیات کہا جاسکتا ہے؟
۲۔ ہم بہت اچھے سے واقف ہیں کہ ہماری یہ حسیات ہمیں دھوکہ دیتی ہیں اور اس سے برآمد شدہ نتائج اکثر اوقات غلط ثابت ہوتے ہیں اور ہم ان حسیات کی تحدید سے بھی واقف ہوتے ہیں۔ اب غامدی صاحب ان حسیات کے بارے میں، دو میں سے ایک رائے رکھ سکتے ہیں:
الف: باطنی حسیات ظاہری حسیات کے مانند دھوکہ کھا سکتی ہیں۔
ب: یہ دھوکہ نہیں کھاتیں!
ان دونوں سے مزید مسائل جنم لیں گے مثال کے طور اگر باطنی حسیات ظاہری حسیات کی طرح ہمیں دھوکہ دیتی ہیں تو تمام تر بوجھ عقل کی فعالیت پر آن پڑے گا۔ غامدی صاحب کے نزدیک عقل کم و بیش اندھی ہے بایں معنی کہ اسے خارج اور باطن تک رسائی کے لیے حسیات درکار ہیں۔ حسیات دھوکہ دیتی ہیں اور اب ہمیں عقل کی جناب میں سجدہ ریز ہونا پڑے گا اور یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ عقل دھوکہ نہیں کھاتی سو جو کمی و کجی ظاہری و باطنی حسیات سے رہ جاتی ہے وہ عقل پوری کرتی ہے۔ اگر آپ یہ کہیں گے کہ عقل حاکم ہے اور وہ دھوکہ نہیں کھا سکتی تو آپ کو یہ بتانا پڑے گا کہ پھر ہمارے نتائج کیونکر غلط ہوتے ہیں؟ کیا عقل کبھی باطنی حواس کا دھوکہ پکڑ لیتی ہے اور کبھی ناکام رہتی ہے؟ اگر وہ ہمیشہ کامیاب رہتی ہے تو ہم غلطی کیونکر کرتے ہیں۔
اگر میں باطنی احساس سے غامدی صاحب کا اشارہ درست سمجھا ہوں تو اس کی ایک مثال لیجیے، انسان اکثر بھوک اور پیاس کے معاملے میں خطا کھاتا ہے۔ یہ خطا کہاں سے پیدا ہوتی ہے؟ (اس کنفیوژن پر سائنسی لٹریچر دیکھا جاسکتا ہے)
اب باطنی حسیات دھوکہ نہیں کھاتیں تو ہم یہ جانتے ہیں کہ باطن میں پیدا ہونے والے احساسات غلط ہوسکتے ہیں۔ اب مزید سوال یہ باقی رہ جائے گا کہ اس “غلطی” کو کس پر ڈالا جائے؟ اگر باطنی حسیات دھوکہ نہیں کھاتیں تو انسان باطنی احساسات کے معاملے میں غلطی کہاں سے کرتا ہے؟ پھر یا تو عقل خام ہوگی یا حسیات خام ہوں گی۔
مندرجہ بالا گفتگو سے صرف یہ دکھانا مقصود ہے کہ باطنی حسیات پر “حس” کے حوالے سے (احساس کے حوالے سے نہیں) کلام کیے بغیر آپ بات واضح نہیں کرسکتے بلکہ یہ اصطلاح استعمال کرنا خلط مبحث پیدا کرتا ہے۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ یہاں سے غامدی صاحب تمام تر “یقینی علم” کی عمارت اٗٹھا رہے ہیں اور یہاں سے یقینی علم کی عمارت اٹھانا اور وہ بھی ان سوالوں کے جواب دیے بغیر شاید مفید نہیں ہے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

No Results Found

The page you requested could not be found. Try refining your search, or use the navigation above to locate the post.