حاسہ باطنی کی تعبیر اور غامدی صاحب

Published On February 25, 2026
غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 15)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 15)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی دوباتیں باربار دہراتے ہیں مگر ان کے لیے دلائل فراہم کرنا اپنی ذمہ داری نہیں مانتے ۔ایک بات جو ابھی ابھی گذری ہے  کہ قران کے الفاظ کی دلالات اس کے مفہوم پر بالکل قطعی ہیں ، وہ جوکچھ کہنا چاھتاہے  پوری قطعیت کے ساتھ کہتاہے اور کسی معاملے میں...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 15)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 14)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی جیساکہ گزرا تمام الفاظ ، جمل ، اورتراکیب و اسالیب کو قطعی الدلالة قراردیتے ہیں ۔انھوں فخرِرازی کی ایک عبارت نقل کی ہے جو ان کے ،، استاد امام ،، نے بھی نقل کی ہے کہ کلامِ لفظی مفیدِقطع ویقین نہیں ہے ۔فخرِرازی کی اس بات پر جناب غامدی نے شاہ...

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط دہم)

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط دہم)

ڈاکٹر خضر یسین ہر سنجیدہ متن میں "نظم کلام" بہت ضروری شے ہوتا ہے۔ متن کی نوعیت چاہے علمی ہو، عملی ہو، ادبی ہو یا روحانی، "نظم کلام" کے بغیر قابل فہم ہی نہیں، قابل قرآت بھی نہیں ہوتا۔ قرآن مجید میں بھی "نظم کلام" موجود ہے۔ یہ نظم "سیاق کلام" کا پیدا کردہ ہے۔ غامدی صاحب...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 15)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 13)

مولانا واصل واسطی ہم نے گذشتہ پوسٹ میں قران کے قطعی الدلالة ہونے کی طرف اشارہ کیا تھا ، کہ قران کی تمام آیات اپنے مفہوم میں قطعی الدلالة نہیں ہیں ، بعض الفاظ ، اسالیب اور تراکیب ظنی الدلالة بھی ہوتے ہیں ، لیکن جناب غامدی قران کی تمام آیات اور تمام کلمات کو قطعی...

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط دہم)

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط نہم)

ڈاکٹر خضر یسین غامدی صاحب قرآن مجید کو ہدایت کے بجائے دعوت مانتے ہیں، نہیں صرف دعوت ہی نہیں بلکہ اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سرگزشت انذار کا عنوان دیتے ہیں۔ جس کا مطلب بالکل واضح ہے کہ مابعد دور رسالت میں قرآن مجید کی حیثیت الوہی ہدایت کے بجائے، نبی صلی اللہ علیہ...

بیان کی بحث پر غامدی صاحب اور ان کے مدافعین کا خلط مبحث

بیان کی بحث پر غامدی صاحب اور ان کے مدافعین کا خلط مبحث

ڈاکٹر زاہد مغل اس پر ہم پہلے بھی روشنی ڈال چکے ہیں، مزید وضاحت کی کوشش کرتے ہیں۔ محترم غامدی صاحب کا فرمایا ہے کہ تبیین کا مطلب کلام کے اس فحوی کو بیان کرنا ہے جو ابتدا ہی سے کلام میں موجود ہو۔ کلام کے وجود میں آجانے کے بعد کیا جانے والا کسی بھی قسم کا تغیر تبیین نہیں...

محمد حسنین اشرف

یہ بات بہرحال غامدی صاحب کو ہی ثابت کرنی ہے کہ حاسہ باطنی سے مراد کونسی حسیات ہیں اور ان کے لیے “حس” کی اصطلاح کیوں موزوں ہے؟ سر دست یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کیوں یہ اصطلاح بہت حوالوں سے غیر موزوں ہے:
۱۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہ اصطلاح خلط مبحث پیدا کرتی ہے اور یہ تاثر دیتی ہے کہ جیسے ہم ان حسیات سے ویسے ہی واقف ہیں جیسے ہم دیکھنے، سونگھنے وغیرہ سے واقف ہیں۔ اس طرح کیا ہم ان حسیات سے اور جس شے تک ہمیں یہ حسیات رسائی دیتی ہیں ویسے ہی واقف ہیں جیسے ظاہری حسیات کے باب میں واقف ہیں؟ مثلا میں ظاہری حس یعنی آنکھ کو علیحدہ، آنکھ جس شے کو دیکھتی ہے اٗسے علیحدہ اور عقل کو علیحدہ سمجھتا ہوں (کم از کم ایک عامیانہ سطح پر یہ تقسیم دیکھی جاسکتی ہے)۔ ایسی واضح تقسیم باطنی حسیات میں پائی نہیں جاتی سو اس صورت میں ان کو کس معنی میں حسیات کہا جاسکتا ہے؟
۲۔ ہم بہت اچھے سے واقف ہیں کہ ہماری یہ حسیات ہمیں دھوکہ دیتی ہیں اور اس سے برآمد شدہ نتائج اکثر اوقات غلط ثابت ہوتے ہیں اور ہم ان حسیات کی تحدید سے بھی واقف ہوتے ہیں۔ اب غامدی صاحب ان حسیات کے بارے میں، دو میں سے ایک رائے رکھ سکتے ہیں:
الف: باطنی حسیات ظاہری حسیات کے مانند دھوکہ کھا سکتی ہیں۔
ب: یہ دھوکہ نہیں کھاتیں!
ان دونوں سے مزید مسائل جنم لیں گے مثال کے طور اگر باطنی حسیات ظاہری حسیات کی طرح ہمیں دھوکہ دیتی ہیں تو تمام تر بوجھ عقل کی فعالیت پر آن پڑے گا۔ غامدی صاحب کے نزدیک عقل کم و بیش اندھی ہے بایں معنی کہ اسے خارج اور باطن تک رسائی کے لیے حسیات درکار ہیں۔ حسیات دھوکہ دیتی ہیں اور اب ہمیں عقل کی جناب میں سجدہ ریز ہونا پڑے گا اور یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ عقل دھوکہ نہیں کھاتی سو جو کمی و کجی ظاہری و باطنی حسیات سے رہ جاتی ہے وہ عقل پوری کرتی ہے۔ اگر آپ یہ کہیں گے کہ عقل حاکم ہے اور وہ دھوکہ نہیں کھا سکتی تو آپ کو یہ بتانا پڑے گا کہ پھر ہمارے نتائج کیونکر غلط ہوتے ہیں؟ کیا عقل کبھی باطنی حواس کا دھوکہ پکڑ لیتی ہے اور کبھی ناکام رہتی ہے؟ اگر وہ ہمیشہ کامیاب رہتی ہے تو ہم غلطی کیونکر کرتے ہیں۔
اگر میں باطنی احساس سے غامدی صاحب کا اشارہ درست سمجھا ہوں تو اس کی ایک مثال لیجیے، انسان اکثر بھوک اور پیاس کے معاملے میں خطا کھاتا ہے۔ یہ خطا کہاں سے پیدا ہوتی ہے؟ (اس کنفیوژن پر سائنسی لٹریچر دیکھا جاسکتا ہے)
اب باطنی حسیات دھوکہ نہیں کھاتیں تو ہم یہ جانتے ہیں کہ باطن میں پیدا ہونے والے احساسات غلط ہوسکتے ہیں۔ اب مزید سوال یہ باقی رہ جائے گا کہ اس “غلطی” کو کس پر ڈالا جائے؟ اگر باطنی حسیات دھوکہ نہیں کھاتیں تو انسان باطنی احساسات کے معاملے میں غلطی کہاں سے کرتا ہے؟ پھر یا تو عقل خام ہوگی یا حسیات خام ہوں گی۔
مندرجہ بالا گفتگو سے صرف یہ دکھانا مقصود ہے کہ باطنی حسیات پر “حس” کے حوالے سے (احساس کے حوالے سے نہیں) کلام کیے بغیر آپ بات واضح نہیں کرسکتے بلکہ یہ اصطلاح استعمال کرنا خلط مبحث پیدا کرتا ہے۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ یہاں سے غامدی صاحب تمام تر “یقینی علم” کی عمارت اٗٹھا رہے ہیں اور یہاں سے یقینی علم کی عمارت اٹھانا اور وہ بھی ان سوالوں کے جواب دیے بغیر شاید مفید نہیں ہے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

No Results Found

The page you requested could not be found. Try refining your search, or use the navigation above to locate the post.