وجودی حقائق اور غامدی صاحب 2

Published On February 25, 2026
فکرِ غامدی : قرآن فہمی کے بنیادی اصول ( قسط چہارم)

فکرِ غامدی : قرآن فہمی کے بنیادی اصول ( قسط چہارم)

ناقد :ڈاکٹرحافظ محمد زبیر تلخیص : وقار احمد اس ویڈیو میں ہم غامدی صاحب کے اصول تدبر قرآن میں میزان و فرقان میں قرات کے اختلاف پر گفتگو کریں گے غامدی صاحب لکھتے ہیں۔۔۔ایک یہ کہ قرآن میں بعض مقامات پر قراء ت کے اختلافات ہیں ۔یہ اختلافات لفظوں کے اداکرنے ہی میں نہیں...

فکرِ غامدی : قرآن فہمی کے بنیادی اصول ( قسط چہارم)

فکرِ غامدی : مبادیء تدبرِ قرآن ، میزان اور فرقان (قسط سوم، حصہ دوم)

ناقد :ڈاکٹرحافظ محمد زبیر تلخیص : وقار احمد اس ویڈیو میں زبیر احمد صاحب غامدی صاحب کے نظریہِ تفہیم و تبیین پر گفتگو فرمائی ہے۔وہ فرماتے ہیں کہ غامدی صاحب کا ماننا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرآن مجید کے کسی حکم کی تحدید و تخصیص نہیں کرسکتے ہاں البتہ تفہیم...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 100)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 100)

مولانا واصل واسطی  جناب غامدی آگے اپنی تائید میں اپنے استاد کی عبارت پیش کرتے ہیں کہ " استاد امام امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں " نظم کے متعلق یہ خیال بالکل غلط ہے کہ وہ محض علمی لطائف کی قسم کی ایک چیز ہے جس کی قران کے اصل مقصد کے نقطہ نظر سے کوئی خاص قدروقیمت نہیں ہے "...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 100)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 99)

مولانا واصل واسطی آگے جناب غامدی"نظمِ قران " کے عنوان کے متعلق خیالات کااظہار کرتے ہیں کہ " آٹھویں چیز یہ ہے کہ قران کی ہرسورہ کا ایک متعین نظمِ کلام ہے ۔ وہ اللہ تعالی کی طرف سے الگ الگ اورمتفرق ہدایات  کا کوئی مجموعہ نہیں ہے ۔ بلکہ اس کا ایک موضوع اور اس کی تمام...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 100)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 98)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی اتمامِ حجت کے بعد عذاب کی دوقسمیں مقرر کرتے ہیں (1) اول قسم کے متعلق لکھتے ہیں کہ " پہلی صورت میں رسول کے قوم کوچھوڑدینے کے بعدیہ ذلت ان پراس طرح مسلط کی جاتی ہے کہ آسمان کی فوجیں نازل ہوتی ، ساف وحاصب کاطوفان اٹھتا اورابروباد کے لشکران...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 100)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 97)

مولانا واصل واسطی  جناب غامدی  پیغمبر کی سرگذشت کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں " رسالت ایک خاص منصب ہے جونبیوں میں چند ہی کو حاصل ہواہے ۔ قران میں اس کی تفصیلات کے مطابق رسول اپنے مخاطبین کےلیے خداکی عدالت بن کرآتا ہے اور ان کافیصلہ کرکے دنیا سے رخصت ہوتا ہے ۔ قران بتاتا...

محمد حسنین اشرف

جاوید صاحب جب وجودی حقائق کی تعریف کرتے ہیں تو یوں کرتے ہیں کہ یہ ایسے حقائق ہیں جن کا انکار ممکن نہیں ہوتا۔ اب چونکہ اس میں بہت بحث تمحیص پڑتی ہے اور بہت سے ایسے حقائق جن کو وجودی حقائق مانا جا رہا تھا اور اب اٗن کا انکار ہوگیا ہے تو وہ اس پر مزید ایک دلیل دیتے ہیں کہ آپ کا عمل آپ کے انکار کی تکذیب کردے گا۔ حالانکہ یہ جملہ اصلا علمیاتی گفتگو سے انحراف ہے جو علمیاتی گفتگو میں نہیں بولا جانا چاہیے کیونکہ میرا عمل محض علمیات کا پیدا کردہ نہیں ہوتا بلکہ یہ میری نفسیات سے بھی پیدا ہوتا ہے، میری عادات سے پیدا ہوتا ہے اور رائج علمیات کا اس میں بہت عمل دخل ہوتا ہے۔ سو یوں علمیاتی مسئلے کو نفسیاتی مسائل سے کنفیوز کردیا جاتا ہے۔ اسے خالص علمیاتی گفتگو سے ثابت کرنا چاہیے۔ اگر کوئی انکار ہو رہا ہے تو اس انکار کا یہ جواب الزامی جواب ہے جس کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں۔ یہ نہ صرف خلط مبحث پیدا کرتا ہے بلکہ بات سمجھنے میں بھی رکاوٹ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فرماتے ہیں: “عقل حواس سے حاصل ہونے والے علم کا تجزیہ کرتی ہے۔ اس میں ایسا ہوسکتا ہے کہ میں سراب سے دوچار ہوگیا ہوں آپ نہ ہوئے ہوں۔ میرے آپ کے مابین اختلاف ہوا تو وہ مسلمہ نہیں بنے گا۔ اس کے مسلمہ بننے کا پھر عمل ہوتا ہے یعنی یہ ایسے نہیں ہوجاتا کہ علم و عقل کے مسلمات کی فہرست چلتے چلتے بن جاتی ہے۔ اس میں یہ سارے معلاملات ہوئے ہوتے ہیں۔ براہ راست دیکھا اتفاق ہوگیا، تجزیہ کیا اتفاق ہوگیا، علمی طریقے سے مطالعہ شروع کیا اتفاق ہوگیا، عقلی امکانات پر کام شروع کیا اور کسی امکان نے واقعہ کی صورت اختیار کرلی تو اتفاق ہوگیا تو اگر غور کریں آپ تو علم و عقل کے مسلمات کی تعبیر اسی لیے اختیار کی جاتی ہے۔ جہاں سے اختلاف شروع ہوتا ہے وہاں سے مشاہدہ شروع ہوتا ہے۔ وہ کس وقت سب کی مانی ہوئی حقیقت بن جائے گا، جب وہ بن جائے گا تب وہ بنائے استدلال بنے گا۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر کل والی وجودی حقیقت آج چیلنج ہوگئی ہے اور آج والی کل ہوسکتی ہے تو یہ کس معنی میں اضطراری علم ہوا؟ اچھا آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اضطراری علم موجود ہے لیکن اس تک میری رسائی یقنی نہیں ہے، تو اگر میری رسائی یقنی نہیں ہے تو اضطراری علم میرے لیے کس صورت میں
Binding
ہوگا؟
۲۔ اسی طرح اس علم نے تو مجھ پر حاکمیت قائم کرنی تھی اور اگر میں اس کو حاصل کرنے میں دھوکے کھاتا رہوں گا بایں معنی آج میں نے کسی چیز کو وجودی حقیقت تسلیم کیا اور کل کسی نے اس سے اختلاف کیا تو وہ یہ کس معنی میں مجھ پر حاکم ہے؟
۳۔ حواس دھوکہ کھا سکتے ہیں تو عقل دھوکہ کیوں نہیں کھا سکتی؟ محض یہ کہہ دینا کہ عقل حکم لگاتی ہے اور اس پر الہام ہوا ہے ہمیں یہ نہیں بتاتا کہ
الف: اس الہام تک ہماری بلا خطا رسائی کیسے ہوتی ہے؟
ب: عقل کی کونسی فعالیت ہے جو حکم لگانے میں چوکتی نہیں ہے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ عقل بہت بار چوکتی ہے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

No Results Found

The page you requested could not be found. Try refining your search, or use the navigation above to locate the post.