وجودی حقائق اور غامدی صاحب 2

Published On February 25, 2026
غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 34)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 34)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی نے اگے کچھ مباحث بیان کیے ہیں جن کے بارے میں ہم اپنی گذارشات احباب کے سامنے پیش کرچکے ہیں ۔آگے انھوں نے ،، حدیث اور قران ،، کے زیرِ عنوان ان حدیثی مسائل پر لکھا ہے  جن کے متعلق ھہارے عام علماء کرام کا تصور یہ ہے کہ ان سے قران کے نصوص منسوخ...

از روئے قرآن بیان نسخ: احکام زنا کی تدریج کی روشنی میں غامدی صاحب کے تصور بیان کا جائزہ

از روئے قرآن بیان نسخ: احکام زنا کی تدریج کی روشنی میں غامدی صاحب کے تصور بیان کا جائزہ

ڈاکٹر زاہد مغل   مشرف بیگ اشرف جناب جاوید احمد غامدی صاحب کے ہاں "تبیین" کی بحث بہت کلیدی حیثیت رکھتی ہے اور آپ کی رائے میں بیان وہ امر ہے جو لفظ یا صیغہ نیز سیاق کلام وغیرہ سے سمجھا جا سکتا ہو وگرنہ وہ نسخ یا ترمیم کہلائے گا جو کسی صورت بیان نہیں۔ اس کے لیے آپ کا...

لفظ تبیین میں “ترمیم و تبدیلی” کا مفہوم شامل ہے: قرآن سے دو شہادتیں

لفظ تبیین میں “ترمیم و تبدیلی” کا مفہوم شامل ہے: قرآن سے دو شہادتیں

ڈاکٹر زاہد مغل ایک تحریر میں قرآن مجید کے متعدد نظائر سے یہ ثابت کیا گیا تھا کہ قرآن کے محاورے کی رو سے نسخ، اضافہ، تخصیص و تقیید وغیرہ تبیین کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ اس کے لئے ہم نے قرآن مجید میں مذکور احکام سے استشہاد کیا تھا۔ یہاں ہم دو مثالوں سے یہ واضح کرتے...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 34)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 33)

مولانا واصل واسطی دوسری بات اس حوالے سے یہ ہے کہ جناب غامدی نے لکھاہے کہ ،، لہذا یہ بات عام طور پر مانی جاتی ہے کہ ان کی کوئی تعداد متعین نہیں کی جاسکتی  بلکہ ہر وہ قراءتِ قران جس کی سند صحیح ہو ، جومصاحفِ عثمانی سے احتمالا ہی سہی موافقت رکھتی ہو ، اور کسی نہ کسی پہلو...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 34)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 32)

مولانا واصل واسطی قراءآتِ متواترہ پراعتراضات کے سلسلے کا اخری ٹکڑا یہ ہے جس میں جناب غامدی لکھتے ہیں کہ ،، ان کی ابتدا ہوسکتا ہے کہ عرضہِ اخیرہ سے پہلے کی قراءآت پر بعض لوگوں کا اصرار اور ان کے راویوں کے سہو ونسیان سے ہوئی ہو  لیکن بعد میں انہی محرکات کے تحت جووضعِ...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 34)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 31)

مولانا واصل واسطی تیسری گذارش اس آخری اعتراض کے سلسلے میں یہ ہے کہ ،، لیث بن سعد ،،  کے جس خط کا حوالہ جناب غامدی نے دیا ہے  اس سے پہلے دوفقروں میں اس کا نتیجہ بھی ہمارے سامنے رکھ دیا ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ ،، اس کے ساتھ اگر ان کے وہ خصائص بھی پیشِ نظر رہیں جوامام لیث...

محمد حسنین اشرف

جاوید صاحب جب وجودی حقائق کی تعریف کرتے ہیں تو یوں کرتے ہیں کہ یہ ایسے حقائق ہیں جن کا انکار ممکن نہیں ہوتا۔ اب چونکہ اس میں بہت بحث تمحیص پڑتی ہے اور بہت سے ایسے حقائق جن کو وجودی حقائق مانا جا رہا تھا اور اب اٗن کا انکار ہوگیا ہے تو وہ اس پر مزید ایک دلیل دیتے ہیں کہ آپ کا عمل آپ کے انکار کی تکذیب کردے گا۔ حالانکہ یہ جملہ اصلا علمیاتی گفتگو سے انحراف ہے جو علمیاتی گفتگو میں نہیں بولا جانا چاہیے کیونکہ میرا عمل محض علمیات کا پیدا کردہ نہیں ہوتا بلکہ یہ میری نفسیات سے بھی پیدا ہوتا ہے، میری عادات سے پیدا ہوتا ہے اور رائج علمیات کا اس میں بہت عمل دخل ہوتا ہے۔ سو یوں علمیاتی مسئلے کو نفسیاتی مسائل سے کنفیوز کردیا جاتا ہے۔ اسے خالص علمیاتی گفتگو سے ثابت کرنا چاہیے۔ اگر کوئی انکار ہو رہا ہے تو اس انکار کا یہ جواب الزامی جواب ہے جس کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں۔ یہ نہ صرف خلط مبحث پیدا کرتا ہے بلکہ بات سمجھنے میں بھی رکاوٹ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فرماتے ہیں: “عقل حواس سے حاصل ہونے والے علم کا تجزیہ کرتی ہے۔ اس میں ایسا ہوسکتا ہے کہ میں سراب سے دوچار ہوگیا ہوں آپ نہ ہوئے ہوں۔ میرے آپ کے مابین اختلاف ہوا تو وہ مسلمہ نہیں بنے گا۔ اس کے مسلمہ بننے کا پھر عمل ہوتا ہے یعنی یہ ایسے نہیں ہوجاتا کہ علم و عقل کے مسلمات کی فہرست چلتے چلتے بن جاتی ہے۔ اس میں یہ سارے معلاملات ہوئے ہوتے ہیں۔ براہ راست دیکھا اتفاق ہوگیا، تجزیہ کیا اتفاق ہوگیا، علمی طریقے سے مطالعہ شروع کیا اتفاق ہوگیا، عقلی امکانات پر کام شروع کیا اور کسی امکان نے واقعہ کی صورت اختیار کرلی تو اتفاق ہوگیا تو اگر غور کریں آپ تو علم و عقل کے مسلمات کی تعبیر اسی لیے اختیار کی جاتی ہے۔ جہاں سے اختلاف شروع ہوتا ہے وہاں سے مشاہدہ شروع ہوتا ہے۔ وہ کس وقت سب کی مانی ہوئی حقیقت بن جائے گا، جب وہ بن جائے گا تب وہ بنائے استدلال بنے گا۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر کل والی وجودی حقیقت آج چیلنج ہوگئی ہے اور آج والی کل ہوسکتی ہے تو یہ کس معنی میں اضطراری علم ہوا؟ اچھا آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اضطراری علم موجود ہے لیکن اس تک میری رسائی یقنی نہیں ہے، تو اگر میری رسائی یقنی نہیں ہے تو اضطراری علم میرے لیے کس صورت میں
Binding
ہوگا؟
۲۔ اسی طرح اس علم نے تو مجھ پر حاکمیت قائم کرنی تھی اور اگر میں اس کو حاصل کرنے میں دھوکے کھاتا رہوں گا بایں معنی آج میں نے کسی چیز کو وجودی حقیقت تسلیم کیا اور کل کسی نے اس سے اختلاف کیا تو وہ یہ کس معنی میں مجھ پر حاکم ہے؟
۳۔ حواس دھوکہ کھا سکتے ہیں تو عقل دھوکہ کیوں نہیں کھا سکتی؟ محض یہ کہہ دینا کہ عقل حکم لگاتی ہے اور اس پر الہام ہوا ہے ہمیں یہ نہیں بتاتا کہ
الف: اس الہام تک ہماری بلا خطا رسائی کیسے ہوتی ہے؟
ب: عقل کی کونسی فعالیت ہے جو حکم لگانے میں چوکتی نہیں ہے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ عقل بہت بار چوکتی ہے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

No Results Found

The page you requested could not be found. Try refining your search, or use the navigation above to locate the post.