وجودی حقائق اور غامدی صاحب 2

Published On February 25, 2026
غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط ہشتم)

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط ہشتم)

ڈاکٹر خضر یسین حدیث کے متعلق غامدی صاحب کا موقف کسی اصول پر مبنی نہیں ہے اور نہ ہی انہیں اس بات سے دلچسپی ہے کہ حدیث کی فنی حیثیت متعین کریں اور لوگوں کو بتائیں کہ حدیث کا مدار اعتبار "قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم" ہے، نہ کہ "قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم"...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 12)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 12)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی نے یہ بات تولکھی ہے کہ ،، تخصیص وتحدیدِ قران کسی قسم کی وحی سے نہیں ہوسکتی ، اورنہ پیغمبر ہی اس میں کوئی ترمیم وتغیرکرسکتاہے (میزان ص 24) مگر تخصیص اورنسخ میں کوئی فرق وہ بیان نہیں کرتے ہیں حالانکہ اہلِ علم دونوں کے درمیان بہت سے فروق بیان...

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط ہشتم)

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط ہفتم)

ڈاکٹر خضر یسین قرآن مجید کے متعلق غامدی صاحب کی تحریر و تقریر سے یہ تاثر لئے بغیر، آپ نہیں رہ سکتے کہ وہ کسی ادبی کتاب کے متعلق اپنی انتقادی تحسین بیان کر رہے ہیں۔ الوہی ہدایت کے مقابل، ہدایت وصول کرنے والے انسان کا طرزعمل اور احساس و تاثر ایک نقاد کا کبھی نہیں ہوتا۔...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 12)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 11)

مولانا واصل واسطی احبابِ کرام جناب غامدی کی توجیہِ حدیث سے پہلے اس حدیث کا ترجمہ ان کے قلم سے پڑھ لیں ، جوکل کی پوسٹ میں گذرگئی ہے ۔وہ لکھتے ہیں :عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ رفاعہ نے اپنی بیوی کو طلاق دی تو اس کے ساتھ عبدالرحمن بن الزبیر قرظی نے نکاح کرلیا ، سیدہ عائشہ...

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط ہشتم)

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط ششم)

ڈاکٹر خضر یسین غامدی صاحب کی دینی فکر اور اس کے پورے تنظیمی ڈھانچے کو سمجھنا خاصہ دشوار کام ہے کیونکہ ان کا بیان ایک منظم فکر کی ضرورت کو پورا کرتا ہے اور نہ دین اور دینی شعور کے تقاضوں پر پورا اترتا ہے۔ ممکن ہے، میرا یہ تبصرہ بعض احباب کو سخت گیری کا مظہر لگے۔ لیکن...

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط ہشتم)

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط پنجم)

ڈاکٹر خضر یسین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت، خاتم الوحی ہے اور آنجناب علیہ السلام کی ذات، خاتم النبیین ہیں۔ قرآن مجید کے بعد نہ ایسی وحی ممکن ہے جو انسانیت پر واجب الایمان و العمل ہو اور نہ آنجناب علیہ السلام کے بعد کوئی نبی و رسول ممکن ہے۔ آنجناب علیہ...

محمد حسنین اشرف

جاوید صاحب جب وجودی حقائق کی تعریف کرتے ہیں تو یوں کرتے ہیں کہ یہ ایسے حقائق ہیں جن کا انکار ممکن نہیں ہوتا۔ اب چونکہ اس میں بہت بحث تمحیص پڑتی ہے اور بہت سے ایسے حقائق جن کو وجودی حقائق مانا جا رہا تھا اور اب اٗن کا انکار ہوگیا ہے تو وہ اس پر مزید ایک دلیل دیتے ہیں کہ آپ کا عمل آپ کے انکار کی تکذیب کردے گا۔ حالانکہ یہ جملہ اصلا علمیاتی گفتگو سے انحراف ہے جو علمیاتی گفتگو میں نہیں بولا جانا چاہیے کیونکہ میرا عمل محض علمیات کا پیدا کردہ نہیں ہوتا بلکہ یہ میری نفسیات سے بھی پیدا ہوتا ہے، میری عادات سے پیدا ہوتا ہے اور رائج علمیات کا اس میں بہت عمل دخل ہوتا ہے۔ سو یوں علمیاتی مسئلے کو نفسیاتی مسائل سے کنفیوز کردیا جاتا ہے۔ اسے خالص علمیاتی گفتگو سے ثابت کرنا چاہیے۔ اگر کوئی انکار ہو رہا ہے تو اس انکار کا یہ جواب الزامی جواب ہے جس کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں۔ یہ نہ صرف خلط مبحث پیدا کرتا ہے بلکہ بات سمجھنے میں بھی رکاوٹ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فرماتے ہیں: “عقل حواس سے حاصل ہونے والے علم کا تجزیہ کرتی ہے۔ اس میں ایسا ہوسکتا ہے کہ میں سراب سے دوچار ہوگیا ہوں آپ نہ ہوئے ہوں۔ میرے آپ کے مابین اختلاف ہوا تو وہ مسلمہ نہیں بنے گا۔ اس کے مسلمہ بننے کا پھر عمل ہوتا ہے یعنی یہ ایسے نہیں ہوجاتا کہ علم و عقل کے مسلمات کی فہرست چلتے چلتے بن جاتی ہے۔ اس میں یہ سارے معلاملات ہوئے ہوتے ہیں۔ براہ راست دیکھا اتفاق ہوگیا، تجزیہ کیا اتفاق ہوگیا، علمی طریقے سے مطالعہ شروع کیا اتفاق ہوگیا، عقلی امکانات پر کام شروع کیا اور کسی امکان نے واقعہ کی صورت اختیار کرلی تو اتفاق ہوگیا تو اگر غور کریں آپ تو علم و عقل کے مسلمات کی تعبیر اسی لیے اختیار کی جاتی ہے۔ جہاں سے اختلاف شروع ہوتا ہے وہاں سے مشاہدہ شروع ہوتا ہے۔ وہ کس وقت سب کی مانی ہوئی حقیقت بن جائے گا، جب وہ بن جائے گا تب وہ بنائے استدلال بنے گا۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر کل والی وجودی حقیقت آج چیلنج ہوگئی ہے اور آج والی کل ہوسکتی ہے تو یہ کس معنی میں اضطراری علم ہوا؟ اچھا آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اضطراری علم موجود ہے لیکن اس تک میری رسائی یقنی نہیں ہے، تو اگر میری رسائی یقنی نہیں ہے تو اضطراری علم میرے لیے کس صورت میں
Binding
ہوگا؟
۲۔ اسی طرح اس علم نے تو مجھ پر حاکمیت قائم کرنی تھی اور اگر میں اس کو حاصل کرنے میں دھوکے کھاتا رہوں گا بایں معنی آج میں نے کسی چیز کو وجودی حقیقت تسلیم کیا اور کل کسی نے اس سے اختلاف کیا تو وہ یہ کس معنی میں مجھ پر حاکم ہے؟
۳۔ حواس دھوکہ کھا سکتے ہیں تو عقل دھوکہ کیوں نہیں کھا سکتی؟ محض یہ کہہ دینا کہ عقل حکم لگاتی ہے اور اس پر الہام ہوا ہے ہمیں یہ نہیں بتاتا کہ
الف: اس الہام تک ہماری بلا خطا رسائی کیسے ہوتی ہے؟
ب: عقل کی کونسی فعالیت ہے جو حکم لگانے میں چوکتی نہیں ہے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ عقل بہت بار چوکتی ہے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

No Results Found

The page you requested could not be found. Try refining your search, or use the navigation above to locate the post.