وجودی حقائق اور غامدی صاحب 2

Published On February 25, 2026
غامدی صاحب کا تصور تبیین اور مسئلہ بقرۃ پر ان کی وضاحت پر تبصرہ

غامدی صاحب کا تصور تبیین اور مسئلہ بقرۃ پر ان کی وضاحت پر تبصرہ

ڈاکٹر زاہد مغل کچھ عرصہ قبل ایک تحریر میں متعدد مثالوں کے ذریعے یہ واضح کیا گیا تھا کہ اصولیین جسے نسخ، تقیید و تخصیص (اصطلاحاً بیان تبدیل و تغییر) کہتے ہیں، قرآن کے محاورے میں وہ سب “بیان” ہی کہلاتا ہے اور اس حوالے سے محترم مولانا اصلاحی صاحب اور محترم جاوید احمد...

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط چہارم)

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط چہارم)

ڈاکٹر خضر یسین غامدی صاحب نے اپنی دینی فکر میں بہت ساری باتیں، خود سے وضع کی ہیں۔ ان کے تصورات درحقیقت مقدمات ہیں، جن سے اپنے من پسند نتائج تک وہ رسائی چاہتے ہیں۔ "قیامِ شھادت" کا تصور درحقیقت ایک اور تصور کی بنیاد ہے۔ اسی طرح نبوت و رسالت کے فرق کا مقدمہ بھی ایک اور...

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط چہارم)

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط سوم)

ڈاکٹر خضر یسین غامدی صاحب نے بعض دینی تصورات خود سے وضع کئے ہیں یا پھر ان کی تعریف ایسی کی ہے جو خانہ زاد ہے۔ ان تصورات میں "نبوت" اور "رسالت" سب سے نمایاں ہیں۔ ان کے نزدیک انبیاء و رسل دونوں کا فارسی متبادل "پیغمبر" ہے۔ نبی بھی پیغمبر ہے اور رسول بھی پیغمبر ہے۔ مگر...

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط چہارم)

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط دوم)

ڈاکٹر خضر یسین غامدی کے تصور "سنت" کے متعلق غلط فہمی  پیدا کرنا ہمارا مقصد ہے اور نہ غلط بیانی ہمارے مقصد کو باریاب کر سکتی ہے۔ اگر غامدی صاحب کے پیش نظر "سنت" منزل من اللہ اعمال کا نام ہے اور یہ اعمال آنجناب علیہ السلام پر اسی طرح وحی ہوئے ہیں جیسے قرآن مجید ہوا ہے...

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط چہارم)

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط اول)

ڈاکٹر خضر یسین یہ خالصتا علمی انتقادی معروضات ہیں۔ غامدی صاحب نے اپنی تحریر و تقریر میں جو بیان کیا ہے، اسے سامنے رکھتے ہوئے ہم اپنی معروضات پیش کر رہے ہیں۔ محترم غامدی صاحب کے موقف کو بیان کرنے میں یا سمجھنے میں غلطی ممکن ہے۔ غامدی صاحب کے متبعین سے توقع کرتا ہوں،...

جناب جاوید احمد غامدی کی  دینی سیاسی فکرکا ارتقائی جائزہ

جناب جاوید احمد غامدی کی دینی سیاسی فکرکا ارتقائی جائزہ

 ڈاکٹر سید متین احمد شاہ بیسویں صدی میں مسلم دنیا کی سیاسی بالادستی کے اختتام اور نوآبادیاتی نظام کی تشکیل کے بعد جہاں ہماری سیاسی اور مغرب کے ساتھ تعامل کی پالیسیوں پر عملی فرق پڑا ، وہاں ہماری دینی فکر میں بھی دور رس تبدیلیاں آئیں۔دینی سیاسی فکر میں سب سے بڑی تبدیلی...

محمد حسنین اشرف

جاوید صاحب جب وجودی حقائق کی تعریف کرتے ہیں تو یوں کرتے ہیں کہ یہ ایسے حقائق ہیں جن کا انکار ممکن نہیں ہوتا۔ اب چونکہ اس میں بہت بحث تمحیص پڑتی ہے اور بہت سے ایسے حقائق جن کو وجودی حقائق مانا جا رہا تھا اور اب اٗن کا انکار ہوگیا ہے تو وہ اس پر مزید ایک دلیل دیتے ہیں کہ آپ کا عمل آپ کے انکار کی تکذیب کردے گا۔ حالانکہ یہ جملہ اصلا علمیاتی گفتگو سے انحراف ہے جو علمیاتی گفتگو میں نہیں بولا جانا چاہیے کیونکہ میرا عمل محض علمیات کا پیدا کردہ نہیں ہوتا بلکہ یہ میری نفسیات سے بھی پیدا ہوتا ہے، میری عادات سے پیدا ہوتا ہے اور رائج علمیات کا اس میں بہت عمل دخل ہوتا ہے۔ سو یوں علمیاتی مسئلے کو نفسیاتی مسائل سے کنفیوز کردیا جاتا ہے۔ اسے خالص علمیاتی گفتگو سے ثابت کرنا چاہیے۔ اگر کوئی انکار ہو رہا ہے تو اس انکار کا یہ جواب الزامی جواب ہے جس کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں۔ یہ نہ صرف خلط مبحث پیدا کرتا ہے بلکہ بات سمجھنے میں بھی رکاوٹ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فرماتے ہیں: “عقل حواس سے حاصل ہونے والے علم کا تجزیہ کرتی ہے۔ اس میں ایسا ہوسکتا ہے کہ میں سراب سے دوچار ہوگیا ہوں آپ نہ ہوئے ہوں۔ میرے آپ کے مابین اختلاف ہوا تو وہ مسلمہ نہیں بنے گا۔ اس کے مسلمہ بننے کا پھر عمل ہوتا ہے یعنی یہ ایسے نہیں ہوجاتا کہ علم و عقل کے مسلمات کی فہرست چلتے چلتے بن جاتی ہے۔ اس میں یہ سارے معلاملات ہوئے ہوتے ہیں۔ براہ راست دیکھا اتفاق ہوگیا، تجزیہ کیا اتفاق ہوگیا، علمی طریقے سے مطالعہ شروع کیا اتفاق ہوگیا، عقلی امکانات پر کام شروع کیا اور کسی امکان نے واقعہ کی صورت اختیار کرلی تو اتفاق ہوگیا تو اگر غور کریں آپ تو علم و عقل کے مسلمات کی تعبیر اسی لیے اختیار کی جاتی ہے۔ جہاں سے اختلاف شروع ہوتا ہے وہاں سے مشاہدہ شروع ہوتا ہے۔ وہ کس وقت سب کی مانی ہوئی حقیقت بن جائے گا، جب وہ بن جائے گا تب وہ بنائے استدلال بنے گا۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر کل والی وجودی حقیقت آج چیلنج ہوگئی ہے اور آج والی کل ہوسکتی ہے تو یہ کس معنی میں اضطراری علم ہوا؟ اچھا آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اضطراری علم موجود ہے لیکن اس تک میری رسائی یقنی نہیں ہے، تو اگر میری رسائی یقنی نہیں ہے تو اضطراری علم میرے لیے کس صورت میں
Binding
ہوگا؟
۲۔ اسی طرح اس علم نے تو مجھ پر حاکمیت قائم کرنی تھی اور اگر میں اس کو حاصل کرنے میں دھوکے کھاتا رہوں گا بایں معنی آج میں نے کسی چیز کو وجودی حقیقت تسلیم کیا اور کل کسی نے اس سے اختلاف کیا تو وہ یہ کس معنی میں مجھ پر حاکم ہے؟
۳۔ حواس دھوکہ کھا سکتے ہیں تو عقل دھوکہ کیوں نہیں کھا سکتی؟ محض یہ کہہ دینا کہ عقل حکم لگاتی ہے اور اس پر الہام ہوا ہے ہمیں یہ نہیں بتاتا کہ
الف: اس الہام تک ہماری بلا خطا رسائی کیسے ہوتی ہے؟
ب: عقل کی کونسی فعالیت ہے جو حکم لگانے میں چوکتی نہیں ہے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ عقل بہت بار چوکتی ہے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

No Results Found

The page you requested could not be found. Try refining your search, or use the navigation above to locate the post.