وجودی حقائق اور غامدی صاحب

Published On February 25, 2026
علامہ جاوید احمد غامدی کا بیانیہ  : قسط دوم

علامہ جاوید احمد غامدی کا بیانیہ : قسط دوم

مفتی منیب الرحم علامہ غامدی نے کہا: ''میں نے بارہا عرض کیا : جامع مسجد ریاست کے کنٹرول میں ہونی چاہیے ،دنیا بھر میں ریاست کے کنٹرول میں ہوتی ہے ،ملائشیا میں ریاست کے کنٹرول میں ہے ،عرب ممالک میں ریاست کے کنٹرول میں ہے ،ہمارے ملک میں نہیں ہے ، ریاست یہ اِقدام نہیں...

علامہ جاوید احمد غامدی کا بیانیہ  : قسط اول

علامہ جاوید احمد غامدی کا بیانیہ : قسط اول

مفتی منیب الرحمن ۔13مارچ کومیں نے ایک ٹی وی چینل کے پروگرام میںمختصر بات کی ،اُس کے بعد علامہ جاوید احمد غامدی کو اپنی بات تفصیل سے کہنے کا موقع دیا گیا ۔میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ بیانیہ جدید دور کی اصطلاح ہے ۔اصولی طور پر کسی ملک وقوم کا دستور ہی اُس کا اجتماعی...

اسرائیلی خونریزی اور جاوید احمد غامدی

اسرائیلی خونریزی اور جاوید احمد غامدی

تنویر قیصر شاہد اسرائیل کی وحشت اور دہشت کا عالم یہ ہے کہ وہ کسی ملک، عالمی ادارے یا قانون کو ماننے پر تیار نہیں۔ فلسطین کی ایک چھوٹی سی پٹّی ، غزہ، میں محصور فلسطینیوں کے خلاف صیہونی اسرائیلی افواج کو بروئے کار آئے ہُوئے آج ایک مہینہ اور تین دن ہو چکے ہیں۔ اِس...

کیا اللہ حقوق العباد معاف کر سکتا ہے ؟

کیا اللہ حقوق العباد معاف کر سکتا ہے ؟

ناقد : شیخ عبد اللہ ناصر رحمانی تلخیص : زید حسن غامدی  صاحب کا عموم پر رکھتے ہوئے یہ کہنا کہ " حقوق العباد" معاف ہی نہیں ہوتے ، درست نہیں ہے ۔ اللہ اگر چاہے تو حقوق العباد بھی معاف کر سکتا ہے ۔" ان اللہ یغفر الذنوب جمیعا " میں عموم ہے ۔ البتہ" ان اللہ لا یغفر  ان یشرک...

موسیقی کی بابت غامدی صاحب کی رائے پر رد

موسیقی کی بابت غامدی صاحب کی رائے پر رد

ناقد : شیخ عبد الجبار بلال تلخیص : زید حسن غامدی صاحب سے موسیقی، میوزک ، انٹرٹینمنٹ  کے بارے میں پوچھا گیا کہ وہ جائز ہے یا ناجائز ؟ ارشاد فرمایا :  یہ سب حلال ہیں ۔ اور اپنے بیانیے کا مقدمہ اس طرح باندھا کہ "مختلف چیزوں کو حرام کہنا اور اسکے ذریعے سے استبداد پادریوں...

جمعہ کی نماز اور غامدی صاحب

جمعہ کی نماز اور غامدی صاحب

ناقد : شیخ عبد الجبار بلال تلخیص : زید حسن ایک سوال کیا گیا کہ بیرون ملک مقیم افراد کے لئے جمعہ کا کیا حکم ہے ؟ غامدی صاحب نے جو جواب عنایت فرمایا اس پر ہمارے کچھ ملاحظات ہیں ۔ غامدی صاحب نے تین باتیں کیں جو درج ذیل ہیں ۔ اول ۔ " جمعہ ریاست پر فرض ہے "۔ اگر اس سے انکی...

محمد حسنین اشرف

 دوسری قسط میں غامدی صاحب وجودی حقائق کی تعریف یوں کرتے ہیں:
“وجودی حقائق اٗن حقائق کو کہتے ہیں کہ آپ چاہیں تو آپ اپنا سر اٗن سے ٹکرا کر اس کو پھوڑ سکتے ہیں اٗن کا انکار نہیں کرسکتے۔”
اس سے قبل انہوں نے سوال کے جواب میں ہیوم کی دیکارت پر نقد (وجودی حقیقت کے انکار) سے متعلق فرمایا کہ
“اگر ہیوم بھی یہاں بیٹھے ہوئے ہوں اور وہ یہ تقریر کردیں کہ یہ میز جو تمہیں نظر آ رہی ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے، تو وہ کرسکتے ہیں لیکن جس وقت اٗٹھیں گے تو وہ اٗن کا عمل تکذیب کردے گا۔ اس لیے اٗنہیں بھی اٗٹھتے وقت اس بات کا خیال کرنا پڑے گا کہ میں کہیں اس سے ٹکرا نہ جاوں۔”
سو اگر غامدی صاحب کی تعریف اور دلیل کو رکنسٹرکٹ کیا جائے تو وہ یوں ہے کہ
۱۔ وجودی حقائق وہ ہیں جن کا انکار کرنا ممکن نہیں ہے۔
۲۔ چونکہ انسان کسی بھی شے کا انکار کرسکتے ہیں۔
تو
۳۔ وجودی حقائق وہ ہوں گے کہ جن کا انکار کیا جائے تو “عمل تکذیب” کردے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۔ مسئلہ یہ ہے کہ غامدی صاحب مستقل علمیاتی اور نفسیاتی میں فرق نہیں کر رہے۔ یہ فرق نہایت ضروری ہے کسی بھی شے سے میرا ابا یا اس کا میرا انکار (اسی طرح اقرار) نفسیاتی ہوسکتا ہے جو یہ لازم نہیں کرتا کہ یہ علمیاتی بھی ہو۔ اس لیے ان دونوں کو علیحدہ رکھتے ہوئے بحث کرنا لازم ہوتا ہے۔ نفسیاتی دلیل سے علمیاتی مقدمات نہ تو ثابت کیے جاسکتے ہیں اور نہ ہی ان کو مضبوط کیا جاسکتا ہے۔
۳۔ اگر کوئی دیکارت سے کہے کہ “میں” تمہاری اس دلیل (یا وجودی حقیقت) کا انکار کرتا ہوں کہ “میں” سوچتا ہوں اس لیے “میں” ہوں۔ تو دیکارت یہ نہیں کہہ سکتا کہ آہا، دیکھا، میری بات کا انکار کرنے کے لیے بھی تمہیں لفظ “میں” بولنا پڑا تو دیکھا تمہاری بات نے ہی تمہاری تکذیب کردی ہے۔ اگر وہ ایسا کرے گا تو وہ کیے جانے والے نقد سے انگیج نہیں کرے گا۔ ہیوم جس جگہ زد کر رہا ہے وہ دیکارت کا بنیادی نکتہ ہے جس میں وہ یہ دیکھانا چاہتا ہے کہ یہ علمیاتی طرز استدلال آپ کو سچائی تک پہنچائے گا جبکہ ہیوم یا کوئی بھی دوسرا شخص اس کا سقم واضح کرنے کی سعی کر رہا ہے۔ جس کا جواب یہ نہیں ہے کہ دیکھو میری بات کا جواب دیتے وقت تمہارے پاس کوئی چارہ نہیں تھا ماسوائے یہ کہ تم لفظ “میں” کا انتخاب کرو وغیرہ وغیرہ۔ یہ مجبوری لسانی ہوسکتی ہے اور اس کی بہت سی دوسری جہتیں واضح کی جاسکتی ہیں۔
۲۔ میرا انکار و اقرار قدیم علم یا غلط عقائد کی بنیاد پر بھی ہوسکتا ہے۔ بطلیموسی ھیت کے زمانے میں اگر کوئی شخص سورج کو نظام شمسی کا مرکز قرار دیتا تو اس کا عمل/گفتگو/زبان تکذیب کردیتا لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ بطلیموس درست تھا؟ اس وقت اپنا سر ٹکرا کر پھوڑا جاسکتا تھا لیکن بطلیموس کا انکار نہیں کیا جاسکتا تھا۔ یہ علم کی خاصیت ہے جو اس کے سچے ہونے سے متصل نہیں ہے۔ یہ علم کا سماجی پہلو ہے سو یہاں میرا انکار مجھے علم فراہم نہیں کررہا بلکہ وہ علم کی سماجی تشکیل سے باوصف ہے۔ اس سے وجودی حقائق کیسے ثابت ہوتے ہیں اور اگر وجودی حقائق اسی طرح بنتے اور ڈھے جاتے ہیں تو وجودی حقائق ہوئے ہی کیوں؟

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

No Results Found

The page you requested could not be found. Try refining your search, or use the navigation above to locate the post.