وجودی حقائق اور غامدی صاحب

Published On February 25, 2026
علامہ غامدی اور امت کے اجماعی مسائل

علامہ غامدی اور امت کے اجماعی مسائل

 ناقد : مولانا الیاس گھمن تلخیص : زید حسن   غامدی صاحب نے دین کو بگاڑ کر پیش کیا ہے ۔ اور وہ بدعت کا نہیں الحاد کا فتنہ ہیں  کیونکہ شریعت کے ثابت شدہ مسئلے کا انکار الحاد ہے ۔ غامدی صاحب نے بھی بہت سے مسلم مسائل کا انکار کیا ہے ۔ انکے نظریات کی مثالیں   انکی اپنی...

غامدی صاحب کی انتہاپسندی

غامدی صاحب کی انتہاپسندی

 محمد عبدالاکرم سہیل محترم جاوید احمد غامدی علم دین کے اعتبار سے دنیا کی ایک قابل قدر شخصیت ہیں اور پاکستان جیسے ملک میں فرقہ بندی کو مٹانے کیلئے آپ نے جس کار تجدید کا کام انجام دیا ہے اور دین پر بات کرنے کاجو ڈھنگ آپ نے سکھایا ہے وہ نہایت ہی قابل تعریف ہے اور شاید...

غلبہء دین اور جاوید احمد غامدی

غلبہء دین اور جاوید احمد غامدی

شبیع الزمان  مسلمانوں کے اجتمائی ظہور کی جتنی کچھ عملی شکلیں ممکن ہو سکتی تھیں،نظم جماعت،قوم یا ریاست ان تمام سے متعلق غامدی صاحب کو جمہور علماء کے تصور سے اختلاف ہے۔نہ ہی وہ اجتماعت کو تسلیم کرتے ہیں اور نہ ہی قومیت کی بناء اسلام تسلیم کرتے ہیں۔اپنی کتاب ’مقامات‘ میں...

قائلینِ جوازِ موسیقی  کے استدلالات کا جواب

قائلینِ جوازِ موسیقی کے استدلالات کا جواب

ناقد : مفتی یاسر ندیم تلخیص : زید حسن ایک  میوزیک کمپوزر  ( جو موسیقی کے جواز و عدمِ جواز کی بابت جاننے کے متمنی تھے)کے سوال کے جواب میں سپیکر نے  غامدی صاحب کے موسیقی کی بابت جواز کے تصور پر نقد کیا ہے ۔ سپیکر نے اشراق میں غامدی صاحب کے مضامین کا حوالہ دیتے ہوئے...

فکرِ غامدی ، قرآن فہمی کے بنیادی اصول : ایک نقد (قسط دوم)

فکرِ غامدی ، قرآن فہمی کے بنیادی اصول : ایک نقد (قسط دوم)

ناقد :ڈاکٹرحافظ محمد زبیر تلخیص : وقار احمد اس ویڈیو میں ہم جاوید احمد غامدی کی کتاب میزان کے باب مبادی تدبر قرآن کا دوسرا اور تیسرا اصول "زبان کی ابانت " اور "اسلوب کی ندرت "زیر بحث لائیں گے۔زبان کی ابانت:غامدی صاحب اس بارے لکھتے ہیں کہ "قرآن عربی میں نازل ہوا ہے...

جاوید غامدی اور انکارِ حدیث

جاوید غامدی اور انکارِ حدیث

مصنف : پروفیسر محمد رفیق تلخیص : زید حسن اس کتاب میں ایک مقدمہ اور چودہ ابواب ہیں ۔ بابِ اول میں مصنف نے سنت کیا ہے اور کیا نہیں ؟ پر بحث کی ہے اور غامدی صاحب کے تصورِ سنت اور اس اصطلاح کے مخصوص معنی پر غامدی صاحب کے لغوی استدلالات پر بحث کی ہے ۔ دوسرے باب میں ایک اہم...

محمد حسنین اشرف

 دوسری قسط میں غامدی صاحب وجودی حقائق کی تعریف یوں کرتے ہیں:
“وجودی حقائق اٗن حقائق کو کہتے ہیں کہ آپ چاہیں تو آپ اپنا سر اٗن سے ٹکرا کر اس کو پھوڑ سکتے ہیں اٗن کا انکار نہیں کرسکتے۔”
اس سے قبل انہوں نے سوال کے جواب میں ہیوم کی دیکارت پر نقد (وجودی حقیقت کے انکار) سے متعلق فرمایا کہ
“اگر ہیوم بھی یہاں بیٹھے ہوئے ہوں اور وہ یہ تقریر کردیں کہ یہ میز جو تمہیں نظر آ رہی ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے، تو وہ کرسکتے ہیں لیکن جس وقت اٗٹھیں گے تو وہ اٗن کا عمل تکذیب کردے گا۔ اس لیے اٗنہیں بھی اٗٹھتے وقت اس بات کا خیال کرنا پڑے گا کہ میں کہیں اس سے ٹکرا نہ جاوں۔”
سو اگر غامدی صاحب کی تعریف اور دلیل کو رکنسٹرکٹ کیا جائے تو وہ یوں ہے کہ
۱۔ وجودی حقائق وہ ہیں جن کا انکار کرنا ممکن نہیں ہے۔
۲۔ چونکہ انسان کسی بھی شے کا انکار کرسکتے ہیں۔
تو
۳۔ وجودی حقائق وہ ہوں گے کہ جن کا انکار کیا جائے تو “عمل تکذیب” کردے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۔ مسئلہ یہ ہے کہ غامدی صاحب مستقل علمیاتی اور نفسیاتی میں فرق نہیں کر رہے۔ یہ فرق نہایت ضروری ہے کسی بھی شے سے میرا ابا یا اس کا میرا انکار (اسی طرح اقرار) نفسیاتی ہوسکتا ہے جو یہ لازم نہیں کرتا کہ یہ علمیاتی بھی ہو۔ اس لیے ان دونوں کو علیحدہ رکھتے ہوئے بحث کرنا لازم ہوتا ہے۔ نفسیاتی دلیل سے علمیاتی مقدمات نہ تو ثابت کیے جاسکتے ہیں اور نہ ہی ان کو مضبوط کیا جاسکتا ہے۔
۳۔ اگر کوئی دیکارت سے کہے کہ “میں” تمہاری اس دلیل (یا وجودی حقیقت) کا انکار کرتا ہوں کہ “میں” سوچتا ہوں اس لیے “میں” ہوں۔ تو دیکارت یہ نہیں کہہ سکتا کہ آہا، دیکھا، میری بات کا انکار کرنے کے لیے بھی تمہیں لفظ “میں” بولنا پڑا تو دیکھا تمہاری بات نے ہی تمہاری تکذیب کردی ہے۔ اگر وہ ایسا کرے گا تو وہ کیے جانے والے نقد سے انگیج نہیں کرے گا۔ ہیوم جس جگہ زد کر رہا ہے وہ دیکارت کا بنیادی نکتہ ہے جس میں وہ یہ دیکھانا چاہتا ہے کہ یہ علمیاتی طرز استدلال آپ کو سچائی تک پہنچائے گا جبکہ ہیوم یا کوئی بھی دوسرا شخص اس کا سقم واضح کرنے کی سعی کر رہا ہے۔ جس کا جواب یہ نہیں ہے کہ دیکھو میری بات کا جواب دیتے وقت تمہارے پاس کوئی چارہ نہیں تھا ماسوائے یہ کہ تم لفظ “میں” کا انتخاب کرو وغیرہ وغیرہ۔ یہ مجبوری لسانی ہوسکتی ہے اور اس کی بہت سی دوسری جہتیں واضح کی جاسکتی ہیں۔
۲۔ میرا انکار و اقرار قدیم علم یا غلط عقائد کی بنیاد پر بھی ہوسکتا ہے۔ بطلیموسی ھیت کے زمانے میں اگر کوئی شخص سورج کو نظام شمسی کا مرکز قرار دیتا تو اس کا عمل/گفتگو/زبان تکذیب کردیتا لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ بطلیموس درست تھا؟ اس وقت اپنا سر ٹکرا کر پھوڑا جاسکتا تھا لیکن بطلیموس کا انکار نہیں کیا جاسکتا تھا۔ یہ علم کی خاصیت ہے جو اس کے سچے ہونے سے متصل نہیں ہے۔ یہ علم کا سماجی پہلو ہے سو یہاں میرا انکار مجھے علم فراہم نہیں کررہا بلکہ وہ علم کی سماجی تشکیل سے باوصف ہے۔ اس سے وجودی حقائق کیسے ثابت ہوتے ہیں اور اگر وجودی حقائق اسی طرح بنتے اور ڈھے جاتے ہیں تو وجودی حقائق ہوئے ہی کیوں؟

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

No Results Found

The page you requested could not be found. Try refining your search, or use the navigation above to locate the post.