وجودی حقائق اور غامدی صاحب

Published On February 25, 2026
غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 40)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 40)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی نے اسی مسئلے پرآگے لکھا ہے کہ بعض روایتوں میں بیان ہوا ہے  کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچلی والے درندوں ، چنگال والے پرندوں ، اورپالتو گدھے کا گوشت کھانے سے منع فرمایاہے ۔ اوپر کی بحث سے واضح ہے کہ یہ اسی فطرت کا بیان ہے   جس کا علم انسان...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 40)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 39)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی ،،طیبات اورخبائث ،، کی اس مبحث کو بڑھاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ،، جانوروں کی حلت وحرمت میں شریعت کا موضوع اصلا یہی چارہی چیزیں ہیں ۔چنانچہ قرآن نے بعض جگہ ،، قل لااجد فی ما اوحی الیّ ،، اور بعض جگہ ،، انما ،، کے الفاظ میں پورے حصر کے ساتھ...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 40)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 38)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی طیبات اورخبائث کے بارے میں اپنے نقطہ نظر کی وضاحت کرتے ہوئے اگے لکھتے ہیں ،، چانچہ شریعت کا موضوع اس باب میں صرف وہ جانوراور ان کے وہ متعلقات  ہیں   جن کی حلت وحرمت کا فیصلہ تنہا عقل وفطرت کی راہنمائی میں کرلینا انسان کےلیے ممکن نہ تھا...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 40)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 37)

مولانا واصل واسطی دوسری بات اس سلسلے میں یہ ہے کہ  جناب غامدی صاحب  اپنی  باتیں اس طرح پیش کرتے ہیں  جیسے وہ دنیا کے مسلمہ حقائق ہوں۔ وہ کہتے ہیں کہ ،، انسانوں کی عادات کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ ان کی بڑی تعداد اس معاملے   یعنی طیبات اور خبائث کے پہچاننے کے معاملے ،،...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 40)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 36)

مولانا واصل واسطی جمہورامت اس بات پر متفق ہیں  کہ مذکورہ تحریر میں درج  قرانی آیت مخصوص بالحدیث ہے۔  حج میں عرفہ اور مزدلفہ کے مقامات میں جمع بین الصلواتین ثابت ہے ، جمع تقدیم بھی ثابت ہے اورجمع تاخیر بھی ۔ ہاں اس میں بحث بہرحال موجود ہے کہ یہ سنت ہے یا مستحب ہے یا...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 40)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 35)

مولانا واصل واسطی اب ان مذکورہ سوالات کے بعد ایک اور بات کی طرف ہم دوستوں کی توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں ۔ اس کےبعد ہم اس دوسرے مسئلے کی طرف متوجہ ہونگے  جو جناب غامدی نے اس ،، قاعدے ،، کی مدد سے حل کیا ہے ۔ وہ بات یہ ہے کہ ہم جناب غامدی سے اس بات میں ( کچھ وقت کےلیے )...

محمد حسنین اشرف

 دوسری قسط میں غامدی صاحب وجودی حقائق کی تعریف یوں کرتے ہیں:
“وجودی حقائق اٗن حقائق کو کہتے ہیں کہ آپ چاہیں تو آپ اپنا سر اٗن سے ٹکرا کر اس کو پھوڑ سکتے ہیں اٗن کا انکار نہیں کرسکتے۔”
اس سے قبل انہوں نے سوال کے جواب میں ہیوم کی دیکارت پر نقد (وجودی حقیقت کے انکار) سے متعلق فرمایا کہ
“اگر ہیوم بھی یہاں بیٹھے ہوئے ہوں اور وہ یہ تقریر کردیں کہ یہ میز جو تمہیں نظر آ رہی ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے، تو وہ کرسکتے ہیں لیکن جس وقت اٗٹھیں گے تو وہ اٗن کا عمل تکذیب کردے گا۔ اس لیے اٗنہیں بھی اٗٹھتے وقت اس بات کا خیال کرنا پڑے گا کہ میں کہیں اس سے ٹکرا نہ جاوں۔”
سو اگر غامدی صاحب کی تعریف اور دلیل کو رکنسٹرکٹ کیا جائے تو وہ یوں ہے کہ
۱۔ وجودی حقائق وہ ہیں جن کا انکار کرنا ممکن نہیں ہے۔
۲۔ چونکہ انسان کسی بھی شے کا انکار کرسکتے ہیں۔
تو
۳۔ وجودی حقائق وہ ہوں گے کہ جن کا انکار کیا جائے تو “عمل تکذیب” کردے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۔ مسئلہ یہ ہے کہ غامدی صاحب مستقل علمیاتی اور نفسیاتی میں فرق نہیں کر رہے۔ یہ فرق نہایت ضروری ہے کسی بھی شے سے میرا ابا یا اس کا میرا انکار (اسی طرح اقرار) نفسیاتی ہوسکتا ہے جو یہ لازم نہیں کرتا کہ یہ علمیاتی بھی ہو۔ اس لیے ان دونوں کو علیحدہ رکھتے ہوئے بحث کرنا لازم ہوتا ہے۔ نفسیاتی دلیل سے علمیاتی مقدمات نہ تو ثابت کیے جاسکتے ہیں اور نہ ہی ان کو مضبوط کیا جاسکتا ہے۔
۳۔ اگر کوئی دیکارت سے کہے کہ “میں” تمہاری اس دلیل (یا وجودی حقیقت) کا انکار کرتا ہوں کہ “میں” سوچتا ہوں اس لیے “میں” ہوں۔ تو دیکارت یہ نہیں کہہ سکتا کہ آہا، دیکھا، میری بات کا انکار کرنے کے لیے بھی تمہیں لفظ “میں” بولنا پڑا تو دیکھا تمہاری بات نے ہی تمہاری تکذیب کردی ہے۔ اگر وہ ایسا کرے گا تو وہ کیے جانے والے نقد سے انگیج نہیں کرے گا۔ ہیوم جس جگہ زد کر رہا ہے وہ دیکارت کا بنیادی نکتہ ہے جس میں وہ یہ دیکھانا چاہتا ہے کہ یہ علمیاتی طرز استدلال آپ کو سچائی تک پہنچائے گا جبکہ ہیوم یا کوئی بھی دوسرا شخص اس کا سقم واضح کرنے کی سعی کر رہا ہے۔ جس کا جواب یہ نہیں ہے کہ دیکھو میری بات کا جواب دیتے وقت تمہارے پاس کوئی چارہ نہیں تھا ماسوائے یہ کہ تم لفظ “میں” کا انتخاب کرو وغیرہ وغیرہ۔ یہ مجبوری لسانی ہوسکتی ہے اور اس کی بہت سی دوسری جہتیں واضح کی جاسکتی ہیں۔
۲۔ میرا انکار و اقرار قدیم علم یا غلط عقائد کی بنیاد پر بھی ہوسکتا ہے۔ بطلیموسی ھیت کے زمانے میں اگر کوئی شخص سورج کو نظام شمسی کا مرکز قرار دیتا تو اس کا عمل/گفتگو/زبان تکذیب کردیتا لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ بطلیموس درست تھا؟ اس وقت اپنا سر ٹکرا کر پھوڑا جاسکتا تھا لیکن بطلیموس کا انکار نہیں کیا جاسکتا تھا۔ یہ علم کی خاصیت ہے جو اس کے سچے ہونے سے متصل نہیں ہے۔ یہ علم کا سماجی پہلو ہے سو یہاں میرا انکار مجھے علم فراہم نہیں کررہا بلکہ وہ علم کی سماجی تشکیل سے باوصف ہے۔ اس سے وجودی حقائق کیسے ثابت ہوتے ہیں اور اگر وجودی حقائق اسی طرح بنتے اور ڈھے جاتے ہیں تو وجودی حقائق ہوئے ہی کیوں؟

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

No Results Found

The page you requested could not be found. Try refining your search, or use the navigation above to locate the post.