وجودی حقائق اور غامدی صاحب

Published On February 25, 2026
غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 30)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 30)

مولانا واصل واسطی چوتھے اعتراض میں جناب غامدی لکھتے ہیں کہ ،، یہی معاملہ ان روایتوں کا بھی ہے جو سیدنا صدیق اور ان کے بعد سیدنا عثمان کے دور میں قرآن کی جمع وتدوین سے متعلق حدیث کی کتابوں میں نقل ہوئی ہیں۔ قران  جیسا کہ اس بحث کی ابتداء میں بیان ہوا ، اس معاملے میں...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 30)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 29)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی مسئلہِ قراءآت پر چوتھا اعتراض یوں کرتے ہیں "کہ اس میں بعض دیگر چیزیں بھی ملاکر خوب زہرآلود جام بناکرعوام کے سامنے پلانے کےلیے رکھ دیتے ہیں ، ملاحظہ ہو ،، چہارم یہ کہ ہشام کے بارے میں معلوم ہے کہ فتحِ مکہ کے دن ایمان لائے تھے  لہذااس روایت...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 30)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 28)

مولانا واصل واسطی تیسرااعترض جناب غامدی نے اس روایت پر یہ کیاہے کہ ،، سوم یہ کہ اختلاف اگر الگ الگ قبیلوں کے افراد میں بھی ہوتا تو ،، انزل ،، کالفظ اس روایت میں ناقابلِ توجیہ ہی تھا  اس لیے کہ قران نے اپنے متعلق پوری صراحت کے ساتھ بیان فرمائی ہے کہ وہ قریش کی زبان میں...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 30)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 27)

مولانا واصل واسطی تیسری گزارش جناب غامدی کے اس قول کے حوالے سے یہ ہے کہ اس حدیث کا معنی صرف معما ہے ۔کوئی بھی اس معما کو امت کی تاریخ میں حل نہیں کرسکا بلکہ وہ حدیث بے معنی ہے ۔ ہم عرض کرتے ہیں کہ امت نے اس کا مفہوم سمجھ لیا تھا   تب ہی تو انھوں اس کے متعلق ،، اجماع...

غامدی صاحب کا تصور تبیین اور لونڈیوں کی سزا پر ان کی وضاحت پر

غامدی صاحب کا تصور تبیین اور لونڈیوں کی سزا پر ان کی وضاحت پر

ڈاکٹر زاہد مغل تبصرہ محترم جناب غامدی صاحب کے تصور تبیین کی قرآن کے محاورے میں غلطی واضح کرنے کے لئے دی گئیں چھ میں سے آخری مثال بدکار مرد و عورت کی سزا سے متعلق تھی۔ سورۃ نور کی آیت 2 میں ان کی سزا 100 کوڑے بیان ہوئی تاہم سورۃ نساء آیت 4 میں ارشاد ہوا کہ بدکار لونڈی...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 30)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 26)

مولانا واصل واسطی دوسری گذارش اس اعترض کے حوالے سے یہ ہے کہ اس حدیث کا معنی ومفہوم بھی اہلِ علم کو معلوم ہے اورانھوں نے اس مسئلے کا حل نکالا بھی ہے۔ بہت سارے محققین نے امام ابن جریر الطبری کی اس رائے کو اختیار کیا ہے ، کہ ،، سبعةاحرف ،، سے مراد مختلف قبیلوں کے لہجے...

محمد حسنین اشرف

 دوسری قسط میں غامدی صاحب وجودی حقائق کی تعریف یوں کرتے ہیں:
“وجودی حقائق اٗن حقائق کو کہتے ہیں کہ آپ چاہیں تو آپ اپنا سر اٗن سے ٹکرا کر اس کو پھوڑ سکتے ہیں اٗن کا انکار نہیں کرسکتے۔”
اس سے قبل انہوں نے سوال کے جواب میں ہیوم کی دیکارت پر نقد (وجودی حقیقت کے انکار) سے متعلق فرمایا کہ
“اگر ہیوم بھی یہاں بیٹھے ہوئے ہوں اور وہ یہ تقریر کردیں کہ یہ میز جو تمہیں نظر آ رہی ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے، تو وہ کرسکتے ہیں لیکن جس وقت اٗٹھیں گے تو وہ اٗن کا عمل تکذیب کردے گا۔ اس لیے اٗنہیں بھی اٗٹھتے وقت اس بات کا خیال کرنا پڑے گا کہ میں کہیں اس سے ٹکرا نہ جاوں۔”
سو اگر غامدی صاحب کی تعریف اور دلیل کو رکنسٹرکٹ کیا جائے تو وہ یوں ہے کہ
۱۔ وجودی حقائق وہ ہیں جن کا انکار کرنا ممکن نہیں ہے۔
۲۔ چونکہ انسان کسی بھی شے کا انکار کرسکتے ہیں۔
تو
۳۔ وجودی حقائق وہ ہوں گے کہ جن کا انکار کیا جائے تو “عمل تکذیب” کردے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۔ مسئلہ یہ ہے کہ غامدی صاحب مستقل علمیاتی اور نفسیاتی میں فرق نہیں کر رہے۔ یہ فرق نہایت ضروری ہے کسی بھی شے سے میرا ابا یا اس کا میرا انکار (اسی طرح اقرار) نفسیاتی ہوسکتا ہے جو یہ لازم نہیں کرتا کہ یہ علمیاتی بھی ہو۔ اس لیے ان دونوں کو علیحدہ رکھتے ہوئے بحث کرنا لازم ہوتا ہے۔ نفسیاتی دلیل سے علمیاتی مقدمات نہ تو ثابت کیے جاسکتے ہیں اور نہ ہی ان کو مضبوط کیا جاسکتا ہے۔
۳۔ اگر کوئی دیکارت سے کہے کہ “میں” تمہاری اس دلیل (یا وجودی حقیقت) کا انکار کرتا ہوں کہ “میں” سوچتا ہوں اس لیے “میں” ہوں۔ تو دیکارت یہ نہیں کہہ سکتا کہ آہا، دیکھا، میری بات کا انکار کرنے کے لیے بھی تمہیں لفظ “میں” بولنا پڑا تو دیکھا تمہاری بات نے ہی تمہاری تکذیب کردی ہے۔ اگر وہ ایسا کرے گا تو وہ کیے جانے والے نقد سے انگیج نہیں کرے گا۔ ہیوم جس جگہ زد کر رہا ہے وہ دیکارت کا بنیادی نکتہ ہے جس میں وہ یہ دیکھانا چاہتا ہے کہ یہ علمیاتی طرز استدلال آپ کو سچائی تک پہنچائے گا جبکہ ہیوم یا کوئی بھی دوسرا شخص اس کا سقم واضح کرنے کی سعی کر رہا ہے۔ جس کا جواب یہ نہیں ہے کہ دیکھو میری بات کا جواب دیتے وقت تمہارے پاس کوئی چارہ نہیں تھا ماسوائے یہ کہ تم لفظ “میں” کا انتخاب کرو وغیرہ وغیرہ۔ یہ مجبوری لسانی ہوسکتی ہے اور اس کی بہت سی دوسری جہتیں واضح کی جاسکتی ہیں۔
۲۔ میرا انکار و اقرار قدیم علم یا غلط عقائد کی بنیاد پر بھی ہوسکتا ہے۔ بطلیموسی ھیت کے زمانے میں اگر کوئی شخص سورج کو نظام شمسی کا مرکز قرار دیتا تو اس کا عمل/گفتگو/زبان تکذیب کردیتا لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ بطلیموس درست تھا؟ اس وقت اپنا سر ٹکرا کر پھوڑا جاسکتا تھا لیکن بطلیموس کا انکار نہیں کیا جاسکتا تھا۔ یہ علم کی خاصیت ہے جو اس کے سچے ہونے سے متصل نہیں ہے۔ یہ علم کا سماجی پہلو ہے سو یہاں میرا انکار مجھے علم فراہم نہیں کررہا بلکہ وہ علم کی سماجی تشکیل سے باوصف ہے۔ اس سے وجودی حقائق کیسے ثابت ہوتے ہیں اور اگر وجودی حقائق اسی طرح بنتے اور ڈھے جاتے ہیں تو وجودی حقائق ہوئے ہی کیوں؟

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

No Results Found

The page you requested could not be found. Try refining your search, or use the navigation above to locate the post.