وجودی حقائق اور غامدی صاحب

Published On February 25, 2026
غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 10)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 10)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی کےاس کلیہ پرہم نےمختصر بحث گذشتہ مضمون میں کی تھی ۔مگر احبابِ کرام اس کو تازہ کرنے کے لیے ذرا جناب غامدی کی عبارت کا وہ ٹکڑا ایک بار پھر دیکھ لیں وہ لکھتے ہیں ۔"پہلی ( بات) یہ کہ قران کے باہر کوئی وحی خفی یا جلی ، یہاں تک کے خداکا وہ...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 10)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 9)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی نے دوسری ایک ایسی بات لکھی ہے کہ جس کو ہم جیسے گناہ گار بندوں کو بھی کہنے سے ڈرلگتا ہے ۔ وہ یہ ہے کہ ،، یہاں تک کہ خداکا وہ پیغمبر بھی جس پر یہ (قران) نازل ہواہے ، اس کےکسی حکم کی تحدید وتخصیص یا اس میں کوئی ترمیم وتغیرنہیں کرسکتا ۔ پتہ...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 10)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 8)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی نے جو تیسری آیت اس سلسلہ میں استدلال کے لیے پیش کی ہے  وہ سورۃ المائدہ کی 48 نمبر آیت ہے ۔وہ پھر ان تین آیتوں سے کچھ  مصنوعی قواعد بناتے ہیں ۔ جس کا ہم آگے چل کر تجزیہ پیش کرینگے ۔ مگر اس آیت کا تعلق  ماضی کے صحیفوں سے ہے ۔کہ قرآن ان پر...

دورانِ عدت نکاح پر غامدی صاحب کی غلط فہمیاں

دورانِ عدت نکاح پر غامدی صاحب کی غلط فہمیاں

پروفیسر ڈاکٹر محمد مشتاق احمد عدت کے دوران میں نکاح کے متعلق غامدی صاحب اور ان کے داماد کی گفتگو کا ایک کلپ کسی نے شیئر کیا اور اسے دیکھ کر پھر افسوس ہوا کہ بغیر ضروری تحقیق کیے دھڑلے سے بڑی بڑی باتیں کہی جارہی ہیں۔ اگر غامدی صاحب اور ان کے داماد صرف اپنا نقطۂ نظر...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 10)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 7)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی نے قرآن مجید کے متعلق بھی مختصر سی بحث کی ہے ۔جس پر بہت کچھ کہنے کے لیے موجود ہے  مگر ہم اس کی تفصیل کرنے سے بقصدِ اختصار اعراض کرتے ہیں ۔ جناب نے قرآن کے اوصاف میں ایک وصف ،، فرقان ،،  ذکر کیاہے ۔اور دوسرا وصف ،، میزان ،، ذکرکیاہے ۔پھراس...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 10)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 6)

مولانا واصل واسطی ہم اس وقت ،، حدیث وسنت ،، کے موضوع سے ایک اور بحث کی طرف توجہ کرتے ہیں۔ کیونکہ جناب غامدی نے ،، حدیث اور سنت ،، نے مبحث کو مختلف مقامات میں پھیلا رکھاہے۔درمیان میں دیگر مباحث چھیڑ دیئے ہیں ، ہم بھی انہیں کے مطابق چلنے کی کوشش کرتے ہیں ۔جاوید غامدی نے...

محمد حسنین اشرف

 دوسری قسط میں غامدی صاحب وجودی حقائق کی تعریف یوں کرتے ہیں:
“وجودی حقائق اٗن حقائق کو کہتے ہیں کہ آپ چاہیں تو آپ اپنا سر اٗن سے ٹکرا کر اس کو پھوڑ سکتے ہیں اٗن کا انکار نہیں کرسکتے۔”
اس سے قبل انہوں نے سوال کے جواب میں ہیوم کی دیکارت پر نقد (وجودی حقیقت کے انکار) سے متعلق فرمایا کہ
“اگر ہیوم بھی یہاں بیٹھے ہوئے ہوں اور وہ یہ تقریر کردیں کہ یہ میز جو تمہیں نظر آ رہی ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے، تو وہ کرسکتے ہیں لیکن جس وقت اٗٹھیں گے تو وہ اٗن کا عمل تکذیب کردے گا۔ اس لیے اٗنہیں بھی اٗٹھتے وقت اس بات کا خیال کرنا پڑے گا کہ میں کہیں اس سے ٹکرا نہ جاوں۔”
سو اگر غامدی صاحب کی تعریف اور دلیل کو رکنسٹرکٹ کیا جائے تو وہ یوں ہے کہ
۱۔ وجودی حقائق وہ ہیں جن کا انکار کرنا ممکن نہیں ہے۔
۲۔ چونکہ انسان کسی بھی شے کا انکار کرسکتے ہیں۔
تو
۳۔ وجودی حقائق وہ ہوں گے کہ جن کا انکار کیا جائے تو “عمل تکذیب” کردے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۔ مسئلہ یہ ہے کہ غامدی صاحب مستقل علمیاتی اور نفسیاتی میں فرق نہیں کر رہے۔ یہ فرق نہایت ضروری ہے کسی بھی شے سے میرا ابا یا اس کا میرا انکار (اسی طرح اقرار) نفسیاتی ہوسکتا ہے جو یہ لازم نہیں کرتا کہ یہ علمیاتی بھی ہو۔ اس لیے ان دونوں کو علیحدہ رکھتے ہوئے بحث کرنا لازم ہوتا ہے۔ نفسیاتی دلیل سے علمیاتی مقدمات نہ تو ثابت کیے جاسکتے ہیں اور نہ ہی ان کو مضبوط کیا جاسکتا ہے۔
۳۔ اگر کوئی دیکارت سے کہے کہ “میں” تمہاری اس دلیل (یا وجودی حقیقت) کا انکار کرتا ہوں کہ “میں” سوچتا ہوں اس لیے “میں” ہوں۔ تو دیکارت یہ نہیں کہہ سکتا کہ آہا، دیکھا، میری بات کا انکار کرنے کے لیے بھی تمہیں لفظ “میں” بولنا پڑا تو دیکھا تمہاری بات نے ہی تمہاری تکذیب کردی ہے۔ اگر وہ ایسا کرے گا تو وہ کیے جانے والے نقد سے انگیج نہیں کرے گا۔ ہیوم جس جگہ زد کر رہا ہے وہ دیکارت کا بنیادی نکتہ ہے جس میں وہ یہ دیکھانا چاہتا ہے کہ یہ علمیاتی طرز استدلال آپ کو سچائی تک پہنچائے گا جبکہ ہیوم یا کوئی بھی دوسرا شخص اس کا سقم واضح کرنے کی سعی کر رہا ہے۔ جس کا جواب یہ نہیں ہے کہ دیکھو میری بات کا جواب دیتے وقت تمہارے پاس کوئی چارہ نہیں تھا ماسوائے یہ کہ تم لفظ “میں” کا انتخاب کرو وغیرہ وغیرہ۔ یہ مجبوری لسانی ہوسکتی ہے اور اس کی بہت سی دوسری جہتیں واضح کی جاسکتی ہیں۔
۲۔ میرا انکار و اقرار قدیم علم یا غلط عقائد کی بنیاد پر بھی ہوسکتا ہے۔ بطلیموسی ھیت کے زمانے میں اگر کوئی شخص سورج کو نظام شمسی کا مرکز قرار دیتا تو اس کا عمل/گفتگو/زبان تکذیب کردیتا لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ بطلیموس درست تھا؟ اس وقت اپنا سر ٹکرا کر پھوڑا جاسکتا تھا لیکن بطلیموس کا انکار نہیں کیا جاسکتا تھا۔ یہ علم کی خاصیت ہے جو اس کے سچے ہونے سے متصل نہیں ہے۔ یہ علم کا سماجی پہلو ہے سو یہاں میرا انکار مجھے علم فراہم نہیں کررہا بلکہ وہ علم کی سماجی تشکیل سے باوصف ہے۔ اس سے وجودی حقائق کیسے ثابت ہوتے ہیں اور اگر وجودی حقائق اسی طرح بنتے اور ڈھے جاتے ہیں تو وجودی حقائق ہوئے ہی کیوں؟

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

No Results Found

The page you requested could not be found. Try refining your search, or use the navigation above to locate the post.