غامدی صاحب اور الحاد کا مقدمہ

Published On February 25, 2026
تصورِ جہاد ( قسط اول)

تصورِ جہاد ( قسط اول)

شعیب احمد غامدی تصورِ جہاد کچھ عرصہ قبل راقم نے غامدی صاحب کے شاگر در شید اور مولانا زاہد الراشدی صاحب کے فرزند من پسند جناب عمار خان ناصر صاحب کے نظریہ جہاد کے نقد و تجزیے کے لیے ایک مضمون سپر د قلم کیا تھا، جو ماہنامہ صفدر میں قسط وار چھپنے کے علاوہ "عمار خان کا نیا...

سود ، غامدی صاحب اور قرآن

سود ، غامدی صاحب اور قرآن

حسان بن علی پہلے یہ جاننا چاہیے کہ قرآن نے اصل موضوع سود لینے والے کو کیوں بنایا. اسے درجہ ذیل نکات سے سمجھا جا سکتا ہے ١) چونکا سود کے عمل میں بنیادی کردار سود لینے والے کا ہے لہذا قرآن نے اصل موضوع اسے بنایا. ٢) سود لینے والے کے لیے مجبوری کی صورت نہ ہونے کے برابر...

سود اور غامدی صاحب

سود اور غامدی صاحب

حسان بن علی غامدی صاحب کے ہاں سود دینا (سود ادا کرنا) حرام نہیں ہے (جس کی کچھ تفصیل ان کی کتاب مقامات میں بھى موجود ہے) اور جس حدیث میں سود دینے والے کی مذمت وارد ہوئی ہے، غامدی صاحب نے اس میں سود دینے والے سے مراد وہ شخص لیا ہے جو کہ سود لینے والے کے لیے گاہک تلاش...

علم کلام پر جناب غامدی صاحب کے تبصرے پر تبصرہ

علم کلام پر جناب غامدی صاحب کے تبصرے پر تبصرہ

ڈاکٹر زاہد مغل ایک ویڈیو میں محترم غامدی صاحب علم کلام پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے ایک حرف غلط قرار دے کر غیر مفید و لایعنی علم کہتے ہیں۔ اس کے لئے ان کی دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ فلسفے کی دنیا میں افکار کے تین ادوار گزرے ہیں:۔ - پہلا دور وہ تھا جب وجود کو بنیادی حیثیت دی گئی...

شریعت خاموش ہے “ پر غامدی صاحب کا تبصرہ”

شریعت خاموش ہے “ پر غامدی صاحب کا تبصرہ”

ڈاکٹر زاہد مغل ایک ویڈیو میں جناب غامدی صاحب حالیہ گفتگو میں زیر بحث موضوع پر اپنا موقف واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ دین یا شریعت خاموش ہونے سے ان کی مراد یہ نہیں ہوتی کہ شریعت نے اس معاملے میں سرے سے کوئی حکم ہی نہیں دیا بلکہ مراد یہ ہوتی ہے کہ شارع نے یہاں کوئی معین...

قرآن کا میزان و فرقان ہونا اور منشائے متکلم کا مبحث

قرآن کا میزان و فرقان ہونا اور منشائے متکلم کا مبحث

جہانگیر حنیف کلام کے درست فہم کا فارمولہ متکلم + کلام ہے۔ قاری محض کلام تک محدود رہے، یہ غلط ہے اور اس سے ہمیں اختلاف ہے۔ کلام کو خود مکتفی قرار دینے والے حضرات کلام کو کلام سے کلام میں سمجھنا چاہتے ہیں۔ جو اولا کسی بھی تاریخی اور مذہبی متن کے لیے ممکن ہی نہیں۔ اور...

محمد حسنین اشرف

باطنی حواس پر غامدی صاحب گفتگو کچھ یوں فرماتے ہیں:
“جس طریقے سے ظآہری حواس کو لوگوں نے حواس کی تعبیر دی ہے، اگر آپ غور کریں تو وہ باطنی حواس کو بھی دیے ہوئے ہیں۔ ہم عام زبان میں کہتے ہیں کہ میری حس جمالیات اس سے متاثر ہوئی ہے۔ میرے حاسہ اخلاقی نے یہ فیصلہ سنایا ہے۔ آپ اس کی جگہ کوئی دوسری تعبیر بھی اختیار کرسکتے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ظاہری حواس کے مقابلے میں یہی موزوں تعبیر ہے (۔۔۔۔) بلکہ آپ نے یہ بھی سنا ہوگا کہ میری چھٹی حس یہ کہتی ہے۔ تو یہ کیا چیز ہے؟ یہ سب چیزیں وہی ہیں جن میں آپ باطنی حواس کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ تو انہیں اسی تعبیر کے ذریعے متعارف کروانا چاہیے”۔
دوسری نشست میں غامدی صاحب کی گفتگو میں شاید یہ حصہ سب سے زیادہ کم ڈویلپڈ محسوس ہوا خاص طور یہ کمی اس لیے بھی زیادہ محسوس ہوئی کیونکہ یہ حصہ سب سے زیادہ اہم ہے۔ اس حصہ کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ غامدی صاحب ان حسیات کو ذرائع علم اور بنائے استدلال بنانے والے ہیں اور اخلاقیات سے لے کر بقیا تمام مذہبی مقدمات کو یہیں سے جنم لینا ہے اگر اس پر سیر حاصل گفتگو نہیں ہوگی اور ان ذرائع علم اور بنا ہائے استدلال پر اعتماد قائم نہیں ہوگا تو بات سمجھنے میں مشکل ہوگی۔ غامدی صاحب ہی کی زبانی یہ اکثر سٗنا ہے:
خشت اول گر نهد معمار کج تا ثریا می‌رود دیوار کج
۱۔ “آپ اس کی جگہ کوئی دوسری تعبیر بھی اختیار کرسکتے ہیں”
یہ کام غامدی صاحب کا ہے کہ وہ تجزیہ کرکے بتائیں کے ان کے لیے کونسی اصطلاح موزوں ہے، محض یہ کہہ دینا کہ آپ اس کے لیے کوئی دوسری تعبیر بھی اختیار کرسکتے ہیں یہ ظاہر کرتا ہے کہ غامدی صاحب کے نزدیک غالبا یہ بیان کرنا کم اہمیت کا حامل ہے کہ اس شے کی حقیقت کیا ہے جس کو ہم ذریعہ علم بنا رہے ہیں۔ حالانکہ یہ بہت بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ اصطلاحات محض نام نہیں ہیں بلکہ وہ ہمارے لیے شے کو جاننے کی ایک کوشش ہے، آنکھ محض ایک عضو کا نام نہیں ہے بلکہ لفظ آنکھ اور اس سے جڑا مشاہدہ اپنے آپ میں ایک پوری دنیا سموئے ہوئے ہے۔ اسی طرح ظاہری حسیات محض ایک نام نہیں ہیں بلکہ علمیات میں ان پر مستقل کلام ہوتا ہے۔ جسے محض یہ کہہ نہیں گزرا جاسکتا ہے کہ لوگ اسے ظاہری حسیات کہتے ہیں آپ چاہیں تو کوئی اور تعبیر بھی اختیار کرسکتے ہیں۔
۲۔ “میں سمجھتا ہوں کہ ظاہری حواس کے مقابلے میں یہی موزوں تعبیر ہے”
یہ جانے و بیان کیے بغیر کہ ظاہری حسیات اور باطنی حسیات میں کیا اقدار مشترک ہیں یہ جاننا ممکن نہیں ہے کہ ان کو ظاہری حواس کے مقابلے میں باطنی حواس کہنا کس قدر موزوں ہے۔ اسی طرح یہ حسیات جس شے تک ہمیں رسائی دیتی ہیں، اس شے کو یہ کس معنی میں حس کرتی ہیں اور کیا اسے حس کیا بھی جاسکتا ہے یا نہیں وغیرہ وغیرہ۔ یہ سوالات نہایت اہم ہیں ان کے جواب دیے بغیر یہ واضح نہیں ہوسکتا آیا کہ ظاہری حسیات کے مقابلے یہ موزوں تعبیر ہے یا نہیں۔ مثلا میں کمزور اور مضبوط دونوں مثالیں لیتا ہوں:
الف (کمزور مثال): چھٹی حس
میری چھٹی حس کیسے کام کرتی ہے اور مجھے کس شے تک رسائی دیتی ہے یہ جانے بغیر محض لوگوں کے اس لفظ کو استعمال کرلینے سے وہ شے “حس” نہیں بن جاتی، کیا انسان بہت سی چیزوں سے متعلق دھوکے میں مبتلا نہیں ہوتا. کیا غامدی صاحب واقعی ہی سمجھتے ہیں کہ لوگوں کے لفظ چھٹی حس کو استعمال کرلینے کا مطلب چھٹی حس کا بہ طور حس وجود رکھنا بھی ہے؟
ب (مضبوط مثال): حاسہ اخلاقی
انسان اخلاقی کانٹینٹ تک رسائی رکھتا ہے لیکن وہ رسائی اسے کسی خاص حس جسے ہم حاسہ اخلاقی سے تعبیر کرتے کے ذریعے حاصل ہے اس کے لیے دو مقدمات ثابت کرنا ضروری ہے؛ ایک یہ وہ حس وجود رکھتی ہے اور دوسرا یہ کہ اخلاقیات یا اخلاقی کانٹینٹ جس شے سے اخذ کیا جا رہا ہے وہ وجود رکھتا ہے اور محض وجود کے دعوی پر یہ مقدمہ موقوف نہیں ہوگا بلکہ ہمارے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ حس کی حقیقت کیا ہے اور جو شے وجود رکھتی ہے اس کی حقیقت کیا ہے؟
۳۔ یہ فرق بہرحال قائم ہونا چاہیے کہ غامدی صاحب اس وقت لوگوں کے لسانی استعمالات کو بیان نہیں کر رہے بلکہ وہ ایک علمیاتی گفتگو کر رہے ہیں اور جب کوئی شخص یہ گفتگو کرتا ہے تو اس کا موضوع بحث وہ شے اور اس شے سے متعلق جانکاری بہم پہنچانا ہے نہ کہ یہ دیکھنا کہ لوگ فلاں شے کے لیے کیا لفظ استعمال کر رہے ہیں۔ اٗن کا کام یہ تجزیہ کرکے بتانا ہے کہ یہ شے وجود رکھتی ہے، ہم اس شے تک اتنی رسائی حاصل کرسکتے ہیں اور اس شے کی فلاں تحدیدات ہیں وغیرہ وغیرہ!
غامدی صاحب کی گفتگو سے یہ احساس نہایت پختہ ہوتا جاتا ہے کہ وہ محض زبان کے استعمال کو حقیقت تک رسائی کا حصہ سمجھتے ہیں یا کم از کم اسے اشارتی طور پر ضرور دیکھتے ہیں۔ اس تاثر کو یا ثابت ہونا چاہیے بہ طور حقیقت یا اس کو زائل ہونا چاہیے ورنہ یہ بہت
misleading
ہے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

No Results Found

The page you requested could not be found. Try refining your search, or use the navigation above to locate the post.