غامدی صاحب اور الحاد کا مقدمہ

Published On February 25, 2026
عدت میں نکاح: جناب محمد حسن الیاس کی عذر خواہی پر تبصرہ : قسط اول

عدت میں نکاح: جناب محمد حسن الیاس کی عذر خواہی پر تبصرہ : قسط اول

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد عدت میں نکاح کے متعلق جناب جاوید احمد غامدی اور جناب محمد حسن الیاس کی وڈیو کلپ پر میں نے تبصرہ کیا تھا اور ان کے موقف کی غلطیاں واضح کی تھیں۔ (حسب معمول) غامدی صاحب نے تو جواب دینے سے گریز کی راہ اختیار کی ہے، لیکن حسن صاحب کی عذر خواہی آگئی ہے۔...

عدت کے دوران نکاح پر غامدی صاحب اور انکے داماد کی غلط فہمیاں

عدت کے دوران نکاح پر غامدی صاحب اور انکے داماد کی غلط فہمیاں

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد عدت کے دوران میں نکاح کے متعلق غامدی صاحب اور ان کے داماد کی گفتگو کا ایک کلپ کسی نے شیئر کیا اور اسے دیکھ کر پھر افسوس ہوا کہ بغیر ضروری تحقیق کیے دھڑلے سے بڑی بڑی باتیں کہی جارہی ہیں۔ اگر غامدی صاحب اور ان کے داماد صرف اپنا نقطۂ نظر بیان کرتے،...

حضرت عیسی علیہ السلام کا رفع الی السماء اور غامدی موقف

حضرت عیسی علیہ السلام کا رفع الی السماء اور غامدی موقف

مولانا محبوب احمد سرگودھا اسلامی عقائد انتہائی محکم ، واضح اور مدلل و مبرہن ہیں ، ان میں تشکیک و تو ہم کی گنجائش نہیں ہے۔ ابتدا ہی سے عقائد کا معاملہ انتہائی نازک رہا ہے، عقائد کی حفاظت سے اسلامی قلعہ محفوظ رہتا ہے۔ عہدِ صحابہ رضی اللہ عنہم ہی سے کئی افراد اور جماعتوں...

مسئلہ نزولِ عیسی اور قرآن

مسئلہ نزولِ عیسی اور قرآن

بنیاد پرست غامدی صاحب لکھتے ہیں :۔ ایک جلیل القدر پیغمبر کے زندہ آسمان سے نازل ہو جانے کا واقعہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ لیکن موقعِ بیان کے باوجود اس واقعہ کی طرف کوئی ادنی اشارہ بھی قرآن کے بین الدفتین کسی جگہ مذکور نہیں ہے۔ علم و عقل اس خاموشی پر مطمئن ہو سکتے ہیں...

مسئلہ حیاتِ عیسی اور قرآن : لفظِ توفی کی قرآن سے وضاحت

مسئلہ حیاتِ عیسی اور قرآن : لفظِ توفی کی قرآن سے وضاحت

بنیاد پرست قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ جب یہود نے عیسی علیہ السلام کو صلیب دے کر قتل کرنے کی کوشش کی تو قرآن نے جو فرمایا کہ” اللہ نے انہیں اپنی طرف بلند کر دیا “وہ حقیقت میں انہیں بلند نہیں کیا گیا تھا بلکہ ان کے درجات بلند کر دیے گئے تھے ، اس جگہ پر درجات کے بلندی کا...

غامدی صاحب کا استدلال کیوں غلط ہے ؟

غامدی صاحب کا استدلال کیوں غلط ہے ؟

صفتین خان غامدی صاحب کا تازہ بیان سن کر صدمے اور افسوس کے ملے جلے جذبات ہیں۔ یہ توقع نہیں تھی وہ اس حد تک جا کر خاکی فصیل کا دفاع کریں گے۔ یہ خود ان کے اوپر اتمام حجت ہے۔ ان کے انکار کے باوجود فوجی بیانیہ کے خلاف ان کے تمام سابقہ فلسفے اس تازہ کلام سے منسوخ و کالعدم...

محمد حسنین اشرف

باطنی حواس پر غامدی صاحب گفتگو کچھ یوں فرماتے ہیں:
“جس طریقے سے ظآہری حواس کو لوگوں نے حواس کی تعبیر دی ہے، اگر آپ غور کریں تو وہ باطنی حواس کو بھی دیے ہوئے ہیں۔ ہم عام زبان میں کہتے ہیں کہ میری حس جمالیات اس سے متاثر ہوئی ہے۔ میرے حاسہ اخلاقی نے یہ فیصلہ سنایا ہے۔ آپ اس کی جگہ کوئی دوسری تعبیر بھی اختیار کرسکتے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ظاہری حواس کے مقابلے میں یہی موزوں تعبیر ہے (۔۔۔۔) بلکہ آپ نے یہ بھی سنا ہوگا کہ میری چھٹی حس یہ کہتی ہے۔ تو یہ کیا چیز ہے؟ یہ سب چیزیں وہی ہیں جن میں آپ باطنی حواس کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ تو انہیں اسی تعبیر کے ذریعے متعارف کروانا چاہیے”۔
دوسری نشست میں غامدی صاحب کی گفتگو میں شاید یہ حصہ سب سے زیادہ کم ڈویلپڈ محسوس ہوا خاص طور یہ کمی اس لیے بھی زیادہ محسوس ہوئی کیونکہ یہ حصہ سب سے زیادہ اہم ہے۔ اس حصہ کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ غامدی صاحب ان حسیات کو ذرائع علم اور بنائے استدلال بنانے والے ہیں اور اخلاقیات سے لے کر بقیا تمام مذہبی مقدمات کو یہیں سے جنم لینا ہے اگر اس پر سیر حاصل گفتگو نہیں ہوگی اور ان ذرائع علم اور بنا ہائے استدلال پر اعتماد قائم نہیں ہوگا تو بات سمجھنے میں مشکل ہوگی۔ غامدی صاحب ہی کی زبانی یہ اکثر سٗنا ہے:
خشت اول گر نهد معمار کج تا ثریا می‌رود دیوار کج
۱۔ “آپ اس کی جگہ کوئی دوسری تعبیر بھی اختیار کرسکتے ہیں”
یہ کام غامدی صاحب کا ہے کہ وہ تجزیہ کرکے بتائیں کے ان کے لیے کونسی اصطلاح موزوں ہے، محض یہ کہہ دینا کہ آپ اس کے لیے کوئی دوسری تعبیر بھی اختیار کرسکتے ہیں یہ ظاہر کرتا ہے کہ غامدی صاحب کے نزدیک غالبا یہ بیان کرنا کم اہمیت کا حامل ہے کہ اس شے کی حقیقت کیا ہے جس کو ہم ذریعہ علم بنا رہے ہیں۔ حالانکہ یہ بہت بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ اصطلاحات محض نام نہیں ہیں بلکہ وہ ہمارے لیے شے کو جاننے کی ایک کوشش ہے، آنکھ محض ایک عضو کا نام نہیں ہے بلکہ لفظ آنکھ اور اس سے جڑا مشاہدہ اپنے آپ میں ایک پوری دنیا سموئے ہوئے ہے۔ اسی طرح ظاہری حسیات محض ایک نام نہیں ہیں بلکہ علمیات میں ان پر مستقل کلام ہوتا ہے۔ جسے محض یہ کہہ نہیں گزرا جاسکتا ہے کہ لوگ اسے ظاہری حسیات کہتے ہیں آپ چاہیں تو کوئی اور تعبیر بھی اختیار کرسکتے ہیں۔
۲۔ “میں سمجھتا ہوں کہ ظاہری حواس کے مقابلے میں یہی موزوں تعبیر ہے”
یہ جانے و بیان کیے بغیر کہ ظاہری حسیات اور باطنی حسیات میں کیا اقدار مشترک ہیں یہ جاننا ممکن نہیں ہے کہ ان کو ظاہری حواس کے مقابلے میں باطنی حواس کہنا کس قدر موزوں ہے۔ اسی طرح یہ حسیات جس شے تک ہمیں رسائی دیتی ہیں، اس شے کو یہ کس معنی میں حس کرتی ہیں اور کیا اسے حس کیا بھی جاسکتا ہے یا نہیں وغیرہ وغیرہ۔ یہ سوالات نہایت اہم ہیں ان کے جواب دیے بغیر یہ واضح نہیں ہوسکتا آیا کہ ظاہری حسیات کے مقابلے یہ موزوں تعبیر ہے یا نہیں۔ مثلا میں کمزور اور مضبوط دونوں مثالیں لیتا ہوں:
الف (کمزور مثال): چھٹی حس
میری چھٹی حس کیسے کام کرتی ہے اور مجھے کس شے تک رسائی دیتی ہے یہ جانے بغیر محض لوگوں کے اس لفظ کو استعمال کرلینے سے وہ شے “حس” نہیں بن جاتی، کیا انسان بہت سی چیزوں سے متعلق دھوکے میں مبتلا نہیں ہوتا. کیا غامدی صاحب واقعی ہی سمجھتے ہیں کہ لوگوں کے لفظ چھٹی حس کو استعمال کرلینے کا مطلب چھٹی حس کا بہ طور حس وجود رکھنا بھی ہے؟
ب (مضبوط مثال): حاسہ اخلاقی
انسان اخلاقی کانٹینٹ تک رسائی رکھتا ہے لیکن وہ رسائی اسے کسی خاص حس جسے ہم حاسہ اخلاقی سے تعبیر کرتے کے ذریعے حاصل ہے اس کے لیے دو مقدمات ثابت کرنا ضروری ہے؛ ایک یہ وہ حس وجود رکھتی ہے اور دوسرا یہ کہ اخلاقیات یا اخلاقی کانٹینٹ جس شے سے اخذ کیا جا رہا ہے وہ وجود رکھتا ہے اور محض وجود کے دعوی پر یہ مقدمہ موقوف نہیں ہوگا بلکہ ہمارے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ حس کی حقیقت کیا ہے اور جو شے وجود رکھتی ہے اس کی حقیقت کیا ہے؟
۳۔ یہ فرق بہرحال قائم ہونا چاہیے کہ غامدی صاحب اس وقت لوگوں کے لسانی استعمالات کو بیان نہیں کر رہے بلکہ وہ ایک علمیاتی گفتگو کر رہے ہیں اور جب کوئی شخص یہ گفتگو کرتا ہے تو اس کا موضوع بحث وہ شے اور اس شے سے متعلق جانکاری بہم پہنچانا ہے نہ کہ یہ دیکھنا کہ لوگ فلاں شے کے لیے کیا لفظ استعمال کر رہے ہیں۔ اٗن کا کام یہ تجزیہ کرکے بتانا ہے کہ یہ شے وجود رکھتی ہے، ہم اس شے تک اتنی رسائی حاصل کرسکتے ہیں اور اس شے کی فلاں تحدیدات ہیں وغیرہ وغیرہ!
غامدی صاحب کی گفتگو سے یہ احساس نہایت پختہ ہوتا جاتا ہے کہ وہ محض زبان کے استعمال کو حقیقت تک رسائی کا حصہ سمجھتے ہیں یا کم از کم اسے اشارتی طور پر ضرور دیکھتے ہیں۔ اس تاثر کو یا ثابت ہونا چاہیے بہ طور حقیقت یا اس کو زائل ہونا چاہیے ورنہ یہ بہت
misleading
ہے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

No Results Found

The page you requested could not be found. Try refining your search, or use the navigation above to locate the post.