انسان کا حاسہ باطنی اور غامدی صاحب

Published On February 13, 2026
داڑھی کی بابت جاوید احمد غامدی صاحب کے مؤقف کا جائزہ

داڑھی کی بابت جاوید احمد غامدی صاحب کے مؤقف کا جائزہ

مولانا نیاز محمد مروت صاحب جناب جاوید غامدی صاحب نے مردوں کے داڑھی رکھنے کے معمول چلے آنے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے داڑھی رکھنے کی عادت کا اعتراف کیا ہے ، جو کہ حق بات ہے، بشرطیکہ طبعی عادت کے طور پر نہیں، بلکہ معمول کے طور پر داڑھی رکھنا مراد ہو، چنانچہ اس پر...

تفہیمِ غامدی ، خبرِ واحد اور تصورِ سنت

تفہیمِ غامدی ، خبرِ واحد اور تصورِ سنت

ڈاکٹر حافظ محمد زبیر صاحب تلخیص : زید حسن اس ویڈیو میں سپیکر حافظ محمد زبیر صاحب نے " بعض افراد" کے اس دعوے کہ آپ کی تفہیمِ غامدی درست نہیں ، کو موضوعِ بحث بنایا ہے ۔ لیکن اس پر از راہِ تفنن گفتگو کرنے کے بعد چند اہم مسائل کی طرف اشارہ کیا ہے اور غامدی منہج پر سوالات...

تراویح کے متعلق غامدی صاحب کے غلط نظریات کا رد

تراویح کے متعلق غامدی صاحب کے غلط نظریات کا رد

ڈاکٹر نعیم الدین الازہری صاحب تلخیص : زید حسن رمضان المبارک کی بابرکت ساعات میں امتِ مسلمہ روزے اور عبادات میں مشغول ہے ، لیکن سوشل میڈیا پر چند ایسی آوازیں گاہے بگاہے اٹھتی نظر آتی ہیں جن میں ان عبادات کا انکارکیا گیا ہے جن پر امتِ مسلمہ ہزاروں سالوں سے عمل کرنی چلی...

ابن عابدین شامی کی علامہ غامدی کو نصیحت

ابن عابدین شامی کی علامہ غامدی کو نصیحت

سمیع اللہ سعدی علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ فتاوی شامی میں متعدد مقامات پر مسئلہ ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں :۔و ھذا مما یعلم و یکتم یعنی یہ مسئلہ سیکھنا تو چاہیے ،لیکن عممومی طور پر بتانے سے گریز کیا جائے ۔فقاہت اور دین کی گہری سمجھ کا یہی تقاضا ہے کہ کتابوں میں...

علمِ کلام پر غامدی صاحب کی غلط فہمی

علمِ کلام پر غامدی صاحب کی غلط فہمی

ڈاکٹر زاہد مغل صاحب   جناب غامدی صاحب علم کلام پر ماہرانہ تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ علم بے معنی و غیر ضروری ہے اس لئے کہ یہ فلسفے کے اس دور سے متعلق ہے جب وجود کو علمیات پر فوقیت دی جاتی تھی، علم کلام وجودی فکر والوں کے طلسم خانے کا جواب دینے کے لئے وضع کیا...

آنلائن تراویح کا جواز : غامدی صاحب کا نیا فتوی

آنلائن تراویح کا جواز : غامدی صاحب کا نیا فتوی

مفتی طارق مسعود صاحب تلخیص : زید حسن مسئلہ پوچھا گیا ہے کہ کیا تراویح کی نماز یوٹیوب پر لگا کر اسکی اقتداء میں پڑھ سکتے ہیں؟یہ غامدی صاحب نے نیا مسئلہ بیان کر دیا ہے اور اسکی علت یہ بیان کرتے ہیں کہ آجکل گلوبل ویلج ہے، ایک دوسرے کی حرکات و سکنات دیکھی جا سکتی ہیں اور...

محمد حسنین اشرف

غامدی صاحب وجودی حقائق  پر مزید گفتگو کریں گے تو لطف کی شے ہوگی لیکن سر دست دو چیزوں کو دیکھنا دلچسپ ہے۔
عقل (وہ فرماتے ہیں): “(۔۔۔) ان کو سمجھنے کے لیے جو ملکہ انسان کو عطا ہوا ہے اسے ہم عقل سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہی انسان کا اصلی شرف ہے۔ اس کو جو ذرائع نفس اور مادہ دونوں تک پہنچنے کے لیے میسر ہیں یعنی وہ ملکہ کیا ہے، عقل، اس عقل کو اب رسائی حاصل کرنی ہے، اپنے موضوع تک، موضوع کیا ہے، نفس اور مادہ، ان تک وہ کیسے رسائی حاصل کرے گی، یعنی عقل جو میرے اندر ایک ملکہ کی حیثیت سے موجود ہے اسے تعلق پیدا کرنا ہے۔ اس کا تعلق پیدا نہیں ہوا، اس کی رسائی نہیں ہے تو علم کی ابتدا ہی نہیں ہوسکتی۔ اس کو جو ذرائع نفس اور مادہ دونوں تک پہنچنے کے لیے میسر ہیں اٗنہیں حواس کہا جاتا ہے (۔۔۔)”۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سو عقل حواس کے بنا اندھی ہے اور وہ ذرائع پر منحصر ہے۔ خوب، سو اب (غامدی صاحب کے مطابق) اس کے پاس دو ذرائع ہیں جن سے اسے علم تک پہنچنا ہے۔ اس کا حاسہ ظاہری ہے اور حاسہ باطنی ہے یعنی ظاہر میں کچھ حسیات ہیں جیسے دیکھنا، سننا، سونگھنا وغیرہ اور باطن میں کچھ حسیات ہیں جو بالترتیب مادہ و نفس تک رسائی دیتی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باطنی حواس کی مثال دیتے ہوئے غامدی فرماتے ہیں:
“باطنی حواس وہ ہیں جو میرے غم کو محسوس کرتے ہیں، جو میرے درد کو محسوس کرتے ہیں، میرے اندر اٹھنے والے خیالات کو دیکھتے اور جانتے ہیں، میری کیفیات کا ادراک کرتے ہیں۔ تو وہاں بھی حواس ہیں۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب مسائل دیکھیے:
۱۔ باطنی حواس پر گفتگو کرتے ہوئے وہ حواس نہیں گنوا رہے جیسے ظاہری حواس گنوائے جاسکتے ہیں مثلا دیکھنا، سننا، سونگھنا وغیرہ۔ کیوں؟ اگر میں “ظاہری حواس” تک رسائی حاصل کرسکتا ہوں تو باطنی حواس تک میری رسائی کیوں نہیں ہے؟
۲۔ اسی طرح اگر میری عقل اور میرے نفس کے درمیان حواس حائل ہیں یعنی میرے نفس تک میری رسائی
mediated
ہے تو میرے حواس، میری عقل اور جس تک وہ رسائی دے رہا ہے اس میں ایک حد فاصل ہونی چاہیے جیسے ظاہری حواس کی صورت میں ہے مثلا:
کرسی ۰۰ آنکھ ۰۰ عقل
ہم یہ صلاحیت رکھتے ہیں کہ ان تینوں کو علیحدہ علیحدہ ان کی فعالیت اور محدودیت کے ساتھ جان سکیں۔ یہ کام باطنی حواس سے متعلق بھی ہونا چاہیے۔
۳۔ بصورت دیگر غامدی صاحب نے جتنی مثالیں بیان فرمائیں ان کو کیوں عقل کی
self-reflexive
خاصیت یا خارج کے اسٹیمولیس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مینٹل اسٹیٹس کے تحت بیان نہیں کیا جاسکتا؟
۴۔ اسی طرح محض اس حس کو بیان کرنا کافی نہیں ہے اس کی فعالیت اور اس کی تحدید کو دیکھنا لازم ہوتا ہے کیونکہ اس کے بغیر میں حس کو بہ طور حس نہیں جان سکتا اور وہ حس مجھے خارج میں موجود شے تک کیسی اور کتنی رسائی دیتی ہے۔ میرے لیے یہ جاننا بھی ممکن نہیں رہتا اور یہ نہایت ضروری معلومات ہے۔ کیونکہ اسی سے میں جان سکوں گا کہ مجھ تک پہنچنے والے علم میں صداقت کتنی ہے۔ مثلا اگر کوئی شخص کہے کہ نرے سورج کے مشاہدے سے میں، سورج کا قطر معلوم کرسکتا ہوں تو میں مشاہدے کی تحدیدات اور اس کے مسائل سے واقف ہونے کی بنا پر اس دعوی کی تغلیط و تصدیق کرنے کی حالت میں ہوتا ہوں۔
۵۔ آخری بات یہ کہ خارج میں پڑی ہوئے شے کو خارج میں دکھانا لازم ہے مثلا شاید جاوید صاحب اسی حاسہ باطنی میں، حاسہ اخلاقی کو بھی شامل کریں تو اس پر مزید اور نہایت دلچسپ سوال پیدا ہوں گے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

No Results Found

The page you requested could not be found. Try refining your search, or use the navigation above to locate the post.