انسان کا حاسہ باطنی اور غامدی صاحب

Published On February 13, 2026
غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط سوم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط سوم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ منصب رسالت اور اس پر متفرع احکام کا قرآن وسنت کی روشنی میں جائزہ: ۔ ۔1 ۔  منصب رسالت اور نبوت میں یہ تفریق کوئی قطعی بات نہیں ، اس سے اختلاف کی گنجائش ہے اور ہوا بھی ہے اور یہ رائے زیادہ وزنی بھی نہیں ۔ اس کی بنیاد پر قرآنی آیات و...

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط دوم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط دوم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ   قرآن اور غامدی صاحب کا تصور جہاد:۔ یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ قرآن میں جہاد اقدامی اور اس کے عموم اور تا ئید کے سلسلے میں واضح احکامات موجود ہیں جن سے انکار کیا جا سکتا ہے اور نہ آسانی کے ساتھ انہیں نظر انداز کیا جا...

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط اول )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط اول )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ اسلام کا جنگی نظام " جہاد " عرصہ دراز سے مخالفین اسلام کے طعن و تشنیع اور اعتراضات کا ہدف رہا ہے۔ علماء امت ہر زمانے میں اس کے جوابات بھی دیتے رہے ہیں لیکن ماضی قریب میں جب سے برقی ایجادات عام ہو ئیں ، پرنٹ میڈیا اور انٹرنیٹ پوری...

تصورِ جہاد ( قسط چہارم)

تصورِ جہاد ( قسط چہارم)

شعیب احمد غامدی تصورِ جہاد؟ شهادت علی الناس:۔ شہادت علی الناس کا سیدھا اور سادہ معروف مطلب چھوڑ کر غامدی صاحب نے ایک اچھوتا مطلب لیا ہے جو یہ ہے کہ جیسے رسول اپنی قوم پر شاہد ہوتا ہے اور رسول اللہ ﷺ صحابہ پر شاہد تھے ، ایسے ہی صحابہ کو اور صرف صحابہ کو دیگر محدود...

تصورِ جہاد ( قسط سوم)

تصورِ جہاد ( قسط سوم)

شعیب احمد غامدی تصورِ جہاد؟  غامدی صاحب کے دلائل کا جائزہ:۔ ویسے تو کسی نظریے کے غلط ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ امت کے اجتماعی ضمیر کے فیصلے سے متصادم ہے، لیکن اگر کچھ نادان امت کے اجتماعی ضمیر کو اتھارٹی ہی تسلیم نہ کرتے ہوں اور اپنے دلائل پر نازاں ہوں تو...

تصورِ جہاد ( قسط دوم)

تصورِ جہاد ( قسط دوم)

شعیب احمد غامدی تصورِ جہاد غامدی تصور جہاد کی سنگینی اور انوکھا پن:۔ پوری اسلامی تاریخ میں اہل سنت کا کوئی قابل ذکر فقیہ مجتہد، محدث اور مفسر اس اچھوتے اور قطعی تصور جہاد کا قائل نہیں گذرا، البتہ ماضی قریب میں نبوت کے جھوٹے دعویدار مرزا غلام احمدقادیانی نے اس قبیل کی...

محمد حسنین اشرف

غامدی صاحب وجودی حقائق  پر مزید گفتگو کریں گے تو لطف کی شے ہوگی لیکن سر دست دو چیزوں کو دیکھنا دلچسپ ہے۔
عقل (وہ فرماتے ہیں): “(۔۔۔) ان کو سمجھنے کے لیے جو ملکہ انسان کو عطا ہوا ہے اسے ہم عقل سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہی انسان کا اصلی شرف ہے۔ اس کو جو ذرائع نفس اور مادہ دونوں تک پہنچنے کے لیے میسر ہیں یعنی وہ ملکہ کیا ہے، عقل، اس عقل کو اب رسائی حاصل کرنی ہے، اپنے موضوع تک، موضوع کیا ہے، نفس اور مادہ، ان تک وہ کیسے رسائی حاصل کرے گی، یعنی عقل جو میرے اندر ایک ملکہ کی حیثیت سے موجود ہے اسے تعلق پیدا کرنا ہے۔ اس کا تعلق پیدا نہیں ہوا، اس کی رسائی نہیں ہے تو علم کی ابتدا ہی نہیں ہوسکتی۔ اس کو جو ذرائع نفس اور مادہ دونوں تک پہنچنے کے لیے میسر ہیں اٗنہیں حواس کہا جاتا ہے (۔۔۔)”۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سو عقل حواس کے بنا اندھی ہے اور وہ ذرائع پر منحصر ہے۔ خوب، سو اب (غامدی صاحب کے مطابق) اس کے پاس دو ذرائع ہیں جن سے اسے علم تک پہنچنا ہے۔ اس کا حاسہ ظاہری ہے اور حاسہ باطنی ہے یعنی ظاہر میں کچھ حسیات ہیں جیسے دیکھنا، سننا، سونگھنا وغیرہ اور باطن میں کچھ حسیات ہیں جو بالترتیب مادہ و نفس تک رسائی دیتی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باطنی حواس کی مثال دیتے ہوئے غامدی فرماتے ہیں:
“باطنی حواس وہ ہیں جو میرے غم کو محسوس کرتے ہیں، جو میرے درد کو محسوس کرتے ہیں، میرے اندر اٹھنے والے خیالات کو دیکھتے اور جانتے ہیں، میری کیفیات کا ادراک کرتے ہیں۔ تو وہاں بھی حواس ہیں۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب مسائل دیکھیے:
۱۔ باطنی حواس پر گفتگو کرتے ہوئے وہ حواس نہیں گنوا رہے جیسے ظاہری حواس گنوائے جاسکتے ہیں مثلا دیکھنا، سننا، سونگھنا وغیرہ۔ کیوں؟ اگر میں “ظاہری حواس” تک رسائی حاصل کرسکتا ہوں تو باطنی حواس تک میری رسائی کیوں نہیں ہے؟
۲۔ اسی طرح اگر میری عقل اور میرے نفس کے درمیان حواس حائل ہیں یعنی میرے نفس تک میری رسائی
mediated
ہے تو میرے حواس، میری عقل اور جس تک وہ رسائی دے رہا ہے اس میں ایک حد فاصل ہونی چاہیے جیسے ظاہری حواس کی صورت میں ہے مثلا:
کرسی ۰۰ آنکھ ۰۰ عقل
ہم یہ صلاحیت رکھتے ہیں کہ ان تینوں کو علیحدہ علیحدہ ان کی فعالیت اور محدودیت کے ساتھ جان سکیں۔ یہ کام باطنی حواس سے متعلق بھی ہونا چاہیے۔
۳۔ بصورت دیگر غامدی صاحب نے جتنی مثالیں بیان فرمائیں ان کو کیوں عقل کی
self-reflexive
خاصیت یا خارج کے اسٹیمولیس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مینٹل اسٹیٹس کے تحت بیان نہیں کیا جاسکتا؟
۴۔ اسی طرح محض اس حس کو بیان کرنا کافی نہیں ہے اس کی فعالیت اور اس کی تحدید کو دیکھنا لازم ہوتا ہے کیونکہ اس کے بغیر میں حس کو بہ طور حس نہیں جان سکتا اور وہ حس مجھے خارج میں موجود شے تک کیسی اور کتنی رسائی دیتی ہے۔ میرے لیے یہ جاننا بھی ممکن نہیں رہتا اور یہ نہایت ضروری معلومات ہے۔ کیونکہ اسی سے میں جان سکوں گا کہ مجھ تک پہنچنے والے علم میں صداقت کتنی ہے۔ مثلا اگر کوئی شخص کہے کہ نرے سورج کے مشاہدے سے میں، سورج کا قطر معلوم کرسکتا ہوں تو میں مشاہدے کی تحدیدات اور اس کے مسائل سے واقف ہونے کی بنا پر اس دعوی کی تغلیط و تصدیق کرنے کی حالت میں ہوتا ہوں۔
۵۔ آخری بات یہ کہ خارج میں پڑی ہوئے شے کو خارج میں دکھانا لازم ہے مثلا شاید جاوید صاحب اسی حاسہ باطنی میں، حاسہ اخلاقی کو بھی شامل کریں تو اس پر مزید اور نہایت دلچسپ سوال پیدا ہوں گے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

No Results Found

The page you requested could not be found. Try refining your search, or use the navigation above to locate the post.