انسان کا حاسہ باطنی اور غامدی صاحب

Published On February 13, 2026
تصورِ جہاد ( قسط اول)

تصورِ جہاد ( قسط اول)

شعیب احمد غامدی تصورِ جہاد کچھ عرصہ قبل راقم نے غامدی صاحب کے شاگر در شید اور مولانا زاہد الراشدی صاحب کے فرزند من پسند جناب عمار خان ناصر صاحب کے نظریہ جہاد کے نقد و تجزیے کے لیے ایک مضمون سپر د قلم کیا تھا، جو ماہنامہ صفدر میں قسط وار چھپنے کے علاوہ "عمار خان کا نیا...

سود ، غامدی صاحب اور قرآن

سود ، غامدی صاحب اور قرآن

حسان بن علی پہلے یہ جاننا چاہیے کہ قرآن نے اصل موضوع سود لینے والے کو کیوں بنایا. اسے درجہ ذیل نکات سے سمجھا جا سکتا ہے ١) چونکا سود کے عمل میں بنیادی کردار سود لینے والے کا ہے لہذا قرآن نے اصل موضوع اسے بنایا. ٢) سود لینے والے کے لیے مجبوری کی صورت نہ ہونے کے برابر...

سود اور غامدی صاحب

سود اور غامدی صاحب

حسان بن علی غامدی صاحب کے ہاں سود دینا (سود ادا کرنا) حرام نہیں ہے (جس کی کچھ تفصیل ان کی کتاب مقامات میں بھى موجود ہے) اور جس حدیث میں سود دینے والے کی مذمت وارد ہوئی ہے، غامدی صاحب نے اس میں سود دینے والے سے مراد وہ شخص لیا ہے جو کہ سود لینے والے کے لیے گاہک تلاش...

علم کلام پر جناب غامدی صاحب کے تبصرے پر تبصرہ

علم کلام پر جناب غامدی صاحب کے تبصرے پر تبصرہ

ڈاکٹر زاہد مغل ایک ویڈیو میں محترم غامدی صاحب علم کلام پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے ایک حرف غلط قرار دے کر غیر مفید و لایعنی علم کہتے ہیں۔ اس کے لئے ان کی دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ فلسفے کی دنیا میں افکار کے تین ادوار گزرے ہیں:۔ - پہلا دور وہ تھا جب وجود کو بنیادی حیثیت دی گئی...

شریعت خاموش ہے “ پر غامدی صاحب کا تبصرہ”

شریعت خاموش ہے “ پر غامدی صاحب کا تبصرہ”

ڈاکٹر زاہد مغل ایک ویڈیو میں جناب غامدی صاحب حالیہ گفتگو میں زیر بحث موضوع پر اپنا موقف واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ دین یا شریعت خاموش ہونے سے ان کی مراد یہ نہیں ہوتی کہ شریعت نے اس معاملے میں سرے سے کوئی حکم ہی نہیں دیا بلکہ مراد یہ ہوتی ہے کہ شارع نے یہاں کوئی معین...

قرآن کا میزان و فرقان ہونا اور منشائے متکلم کا مبحث

قرآن کا میزان و فرقان ہونا اور منشائے متکلم کا مبحث

جہانگیر حنیف کلام کے درست فہم کا فارمولہ متکلم + کلام ہے۔ قاری محض کلام تک محدود رہے، یہ غلط ہے اور اس سے ہمیں اختلاف ہے۔ کلام کو خود مکتفی قرار دینے والے حضرات کلام کو کلام سے کلام میں سمجھنا چاہتے ہیں۔ جو اولا کسی بھی تاریخی اور مذہبی متن کے لیے ممکن ہی نہیں۔ اور...

محمد حسنین اشرف

غامدی صاحب وجودی حقائق  پر مزید گفتگو کریں گے تو لطف کی شے ہوگی لیکن سر دست دو چیزوں کو دیکھنا دلچسپ ہے۔
عقل (وہ فرماتے ہیں): “(۔۔۔) ان کو سمجھنے کے لیے جو ملکہ انسان کو عطا ہوا ہے اسے ہم عقل سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہی انسان کا اصلی شرف ہے۔ اس کو جو ذرائع نفس اور مادہ دونوں تک پہنچنے کے لیے میسر ہیں یعنی وہ ملکہ کیا ہے، عقل، اس عقل کو اب رسائی حاصل کرنی ہے، اپنے موضوع تک، موضوع کیا ہے، نفس اور مادہ، ان تک وہ کیسے رسائی حاصل کرے گی، یعنی عقل جو میرے اندر ایک ملکہ کی حیثیت سے موجود ہے اسے تعلق پیدا کرنا ہے۔ اس کا تعلق پیدا نہیں ہوا، اس کی رسائی نہیں ہے تو علم کی ابتدا ہی نہیں ہوسکتی۔ اس کو جو ذرائع نفس اور مادہ دونوں تک پہنچنے کے لیے میسر ہیں اٗنہیں حواس کہا جاتا ہے (۔۔۔)”۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سو عقل حواس کے بنا اندھی ہے اور وہ ذرائع پر منحصر ہے۔ خوب، سو اب (غامدی صاحب کے مطابق) اس کے پاس دو ذرائع ہیں جن سے اسے علم تک پہنچنا ہے۔ اس کا حاسہ ظاہری ہے اور حاسہ باطنی ہے یعنی ظاہر میں کچھ حسیات ہیں جیسے دیکھنا، سننا، سونگھنا وغیرہ اور باطن میں کچھ حسیات ہیں جو بالترتیب مادہ و نفس تک رسائی دیتی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باطنی حواس کی مثال دیتے ہوئے غامدی فرماتے ہیں:
“باطنی حواس وہ ہیں جو میرے غم کو محسوس کرتے ہیں، جو میرے درد کو محسوس کرتے ہیں، میرے اندر اٹھنے والے خیالات کو دیکھتے اور جانتے ہیں، میری کیفیات کا ادراک کرتے ہیں۔ تو وہاں بھی حواس ہیں۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب مسائل دیکھیے:
۱۔ باطنی حواس پر گفتگو کرتے ہوئے وہ حواس نہیں گنوا رہے جیسے ظاہری حواس گنوائے جاسکتے ہیں مثلا دیکھنا، سننا، سونگھنا وغیرہ۔ کیوں؟ اگر میں “ظاہری حواس” تک رسائی حاصل کرسکتا ہوں تو باطنی حواس تک میری رسائی کیوں نہیں ہے؟
۲۔ اسی طرح اگر میری عقل اور میرے نفس کے درمیان حواس حائل ہیں یعنی میرے نفس تک میری رسائی
mediated
ہے تو میرے حواس، میری عقل اور جس تک وہ رسائی دے رہا ہے اس میں ایک حد فاصل ہونی چاہیے جیسے ظاہری حواس کی صورت میں ہے مثلا:
کرسی ۰۰ آنکھ ۰۰ عقل
ہم یہ صلاحیت رکھتے ہیں کہ ان تینوں کو علیحدہ علیحدہ ان کی فعالیت اور محدودیت کے ساتھ جان سکیں۔ یہ کام باطنی حواس سے متعلق بھی ہونا چاہیے۔
۳۔ بصورت دیگر غامدی صاحب نے جتنی مثالیں بیان فرمائیں ان کو کیوں عقل کی
self-reflexive
خاصیت یا خارج کے اسٹیمولیس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مینٹل اسٹیٹس کے تحت بیان نہیں کیا جاسکتا؟
۴۔ اسی طرح محض اس حس کو بیان کرنا کافی نہیں ہے اس کی فعالیت اور اس کی تحدید کو دیکھنا لازم ہوتا ہے کیونکہ اس کے بغیر میں حس کو بہ طور حس نہیں جان سکتا اور وہ حس مجھے خارج میں موجود شے تک کیسی اور کتنی رسائی دیتی ہے۔ میرے لیے یہ جاننا بھی ممکن نہیں رہتا اور یہ نہایت ضروری معلومات ہے۔ کیونکہ اسی سے میں جان سکوں گا کہ مجھ تک پہنچنے والے علم میں صداقت کتنی ہے۔ مثلا اگر کوئی شخص کہے کہ نرے سورج کے مشاہدے سے میں، سورج کا قطر معلوم کرسکتا ہوں تو میں مشاہدے کی تحدیدات اور اس کے مسائل سے واقف ہونے کی بنا پر اس دعوی کی تغلیط و تصدیق کرنے کی حالت میں ہوتا ہوں۔
۵۔ آخری بات یہ کہ خارج میں پڑی ہوئے شے کو خارج میں دکھانا لازم ہے مثلا شاید جاوید صاحب اسی حاسہ باطنی میں، حاسہ اخلاقی کو بھی شامل کریں تو اس پر مزید اور نہایت دلچسپ سوال پیدا ہوں گے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

No Results Found

The page you requested could not be found. Try refining your search, or use the navigation above to locate the post.