انسان کا حاسہ باطنی اور غامدی صاحب

Published On February 13, 2026
امام النواصب جاوید غامدی

امام النواصب جاوید غامدی

احمد الیاس ہر ضلالت کی طرح ناصبیت بھی اپنی ہر بات کی تردید خود کرتی ہے۔ ایک طرف یہ ضد ہے کہ سسر اور برادر نسبتی کو بھی اہلبیت مانو، دوسری طرف انتہاء درجے کی بدلحاظی اور بدتمیزی کے ساتھ امام النواصب جاوید غامدی کہتے ہیں کہ داماد اہلبیت میں نہیں ہوتا لہذا علی بن ابی...

سیدنا علی اور سیدنا معاویہ کی سیاسی اہلیت کا تقابل

سیدنا علی اور سیدنا معاویہ کی سیاسی اہلیت کا تقابل

محمد فہد حارث محترم جاوید احمد غامدی کے سیدنا علیؓ اور سیدنا معاویہؓ کے شخصی فضائل و سیاسی اہلیت کے تقابل سے متعلق ایک ویڈیو بیان کو لیکر آج کل کافی شور مچا ہوا ہے۔ اس سے پہلے کہ ہم اس ویڈیو کے سلسلے میں جناب جاوید احمد غامدی صاحب کی شخصیت پر تبصرہ کریں جیسا کہ بیشتر...

کیا سیدنا علی کوئی مغلوب حکمران تھے ؟

کیا سیدنا علی کوئی مغلوب حکمران تھے ؟

شاہ رخ خان غامدی صاحب سیدنا علی -رضی اللہ عنہ- کی حکومت کے متعلق یہ تاثر دیے چلے آ رہے ہیں کہ سیدنا علیؓ اپنی سیاست میں ایک کمزور حکمران تھے۔ جب کہ ابھی تک یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ موصوف کے نزدیک سیاست کس چیز کا نام ہے؟ اگر غلبہ کی بات کی جائے تو وہ تو سیدنا علیؓ...

اتہامِ انکارِ حدیث اور غامدی حلقے کی پہلو تہی

اتہامِ انکارِ حدیث اور غامدی حلقے کی پہلو تہی

محمد خزیمہ الظاہری غامدی حلقہ انکار حدیث کی صاف تہمت سے اس لئے بچ نکلتا ہے کہ بہت سی بنیادی چیزیں (نماز کا طریقہ وغیرہ) حدیث سے نہیں بھی لیتا تو تواتر سے لے لیتا ہے. یعنی یہاں صرف مصدریت میں اختلاف ہے کہ ایک ہی چیز دو طبقے لے رہے ہیں مگر ایک حدیث سے, دوسرا تواتر سے۔...

انتقالِ دین میں تواتر کی شرط اور خوارج و روافض

انتقالِ دین میں تواتر کی شرط اور خوارج و روافض

محمد خزیمہ الظاہری دین و شریعت کے قابلِ قبول ہونے کے لئے تواتر کی شرط لگانا روافض و خوارج کی ایجاد ہے۔ اہل علم نے ہمیشہ اس موقف کی تردید کی ہے۔ ان اہل علم کا تعلق صرف اہل ظاہر سے نہیں بلکہ ان میں کثرت سے مذاہبِ اربعہ کے فقہاء بھی شامل ہیں۔ چنانچہ امام بخاری نے اپنی...

ہدایتِ دین اور شرطِ تواتر

ہدایتِ دین اور شرطِ تواتر

محمد خزیمہ الظاہری دین کی ہر ہدایت کا تواتر سے منتقل ہونا ضروری نہیں ہے اور نا ہی کسی نقل ہونے والی چیز کے ثبوت کا اکلوتا ذریعہ تواتر ہے.. سب سے پہلی اصل اور بنیاد کسی بات کے ثبوت پر اطمینان ہے اور اسکے لئے ہمہ وقت تواتر کا احتیاج نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دینی لٹریچر کو...

محمد حسنین اشرف

غامدی صاحب وجودی حقائق  پر مزید گفتگو کریں گے تو لطف کی شے ہوگی لیکن سر دست دو چیزوں کو دیکھنا دلچسپ ہے۔
عقل (وہ فرماتے ہیں): “(۔۔۔) ان کو سمجھنے کے لیے جو ملکہ انسان کو عطا ہوا ہے اسے ہم عقل سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہی انسان کا اصلی شرف ہے۔ اس کو جو ذرائع نفس اور مادہ دونوں تک پہنچنے کے لیے میسر ہیں یعنی وہ ملکہ کیا ہے، عقل، اس عقل کو اب رسائی حاصل کرنی ہے، اپنے موضوع تک، موضوع کیا ہے، نفس اور مادہ، ان تک وہ کیسے رسائی حاصل کرے گی، یعنی عقل جو میرے اندر ایک ملکہ کی حیثیت سے موجود ہے اسے تعلق پیدا کرنا ہے۔ اس کا تعلق پیدا نہیں ہوا، اس کی رسائی نہیں ہے تو علم کی ابتدا ہی نہیں ہوسکتی۔ اس کو جو ذرائع نفس اور مادہ دونوں تک پہنچنے کے لیے میسر ہیں اٗنہیں حواس کہا جاتا ہے (۔۔۔)”۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سو عقل حواس کے بنا اندھی ہے اور وہ ذرائع پر منحصر ہے۔ خوب، سو اب (غامدی صاحب کے مطابق) اس کے پاس دو ذرائع ہیں جن سے اسے علم تک پہنچنا ہے۔ اس کا حاسہ ظاہری ہے اور حاسہ باطنی ہے یعنی ظاہر میں کچھ حسیات ہیں جیسے دیکھنا، سننا، سونگھنا وغیرہ اور باطن میں کچھ حسیات ہیں جو بالترتیب مادہ و نفس تک رسائی دیتی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باطنی حواس کی مثال دیتے ہوئے غامدی فرماتے ہیں:
“باطنی حواس وہ ہیں جو میرے غم کو محسوس کرتے ہیں، جو میرے درد کو محسوس کرتے ہیں، میرے اندر اٹھنے والے خیالات کو دیکھتے اور جانتے ہیں، میری کیفیات کا ادراک کرتے ہیں۔ تو وہاں بھی حواس ہیں۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب مسائل دیکھیے:
۱۔ باطنی حواس پر گفتگو کرتے ہوئے وہ حواس نہیں گنوا رہے جیسے ظاہری حواس گنوائے جاسکتے ہیں مثلا دیکھنا، سننا، سونگھنا وغیرہ۔ کیوں؟ اگر میں “ظاہری حواس” تک رسائی حاصل کرسکتا ہوں تو باطنی حواس تک میری رسائی کیوں نہیں ہے؟
۲۔ اسی طرح اگر میری عقل اور میرے نفس کے درمیان حواس حائل ہیں یعنی میرے نفس تک میری رسائی
mediated
ہے تو میرے حواس، میری عقل اور جس تک وہ رسائی دے رہا ہے اس میں ایک حد فاصل ہونی چاہیے جیسے ظاہری حواس کی صورت میں ہے مثلا:
کرسی ۰۰ آنکھ ۰۰ عقل
ہم یہ صلاحیت رکھتے ہیں کہ ان تینوں کو علیحدہ علیحدہ ان کی فعالیت اور محدودیت کے ساتھ جان سکیں۔ یہ کام باطنی حواس سے متعلق بھی ہونا چاہیے۔
۳۔ بصورت دیگر غامدی صاحب نے جتنی مثالیں بیان فرمائیں ان کو کیوں عقل کی
self-reflexive
خاصیت یا خارج کے اسٹیمولیس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مینٹل اسٹیٹس کے تحت بیان نہیں کیا جاسکتا؟
۴۔ اسی طرح محض اس حس کو بیان کرنا کافی نہیں ہے اس کی فعالیت اور اس کی تحدید کو دیکھنا لازم ہوتا ہے کیونکہ اس کے بغیر میں حس کو بہ طور حس نہیں جان سکتا اور وہ حس مجھے خارج میں موجود شے تک کیسی اور کتنی رسائی دیتی ہے۔ میرے لیے یہ جاننا بھی ممکن نہیں رہتا اور یہ نہایت ضروری معلومات ہے۔ کیونکہ اسی سے میں جان سکوں گا کہ مجھ تک پہنچنے والے علم میں صداقت کتنی ہے۔ مثلا اگر کوئی شخص کہے کہ نرے سورج کے مشاہدے سے میں، سورج کا قطر معلوم کرسکتا ہوں تو میں مشاہدے کی تحدیدات اور اس کے مسائل سے واقف ہونے کی بنا پر اس دعوی کی تغلیط و تصدیق کرنے کی حالت میں ہوتا ہوں۔
۵۔ آخری بات یہ کہ خارج میں پڑی ہوئے شے کو خارج میں دکھانا لازم ہے مثلا شاید جاوید صاحب اسی حاسہ باطنی میں، حاسہ اخلاقی کو بھی شامل کریں تو اس پر مزید اور نہایت دلچسپ سوال پیدا ہوں گے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

No Results Found

The page you requested could not be found. Try refining your search, or use the navigation above to locate the post.