انسان کا حاسہ باطنی اور غامدی صاحب

Published On February 13, 2026
غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 96)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 96)

مولانا واصل واسطی آج اس سلسلے کی تیسری آیت کا مطالعہ کرتے ہیں ۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں" وامآتاکم الرسول فخذوہ ومانہاکم عنہ فانتہوا "( الحشر 7) یعنی  جوکچھ رسول تمہیں دیں وہ لے لو اور جس چیز سے وہ تم کو روک دیں  اس سے رک جاؤ " اس آیت کو سمجھنے کے لیے چند باتوں کاجاننا...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 96)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 95)

مولانا واصل واسطی اب دوسری آیت کا مطالعہ کرتے ہیں ۔ وہ  سورہِ النساء میں ہے ۔ آیت ہے " یاایہاالذین امنوا اطیعوااللہ واطیعواالرسول واولی الامرمنکم" ( النساء 59) یعنی   اے ایمان والو!  اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو ۔ اوران کی جوتم میں معاملات کے ذمہ...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 96)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 94)

مولانا واصل واسطی اب ایک دوباتیں جناب غامدی کی بھی ہوجائیں ۔ قران مجید   میں بعض آیات ہیں   جن کو اگر کماحقہ سمجھا جائے   تو پھر بندہ کبھی منکرِحدیث نہیں بنتا ۔ لیکن جب ان آیات کے مطالب میں بندہ ڈنڈی مارتا ہے  یاکم ازکم اس سے کنی کتراکے گذر جاتا ہے   تو پھراس کے لیے...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 96)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 93)

مولانا واصل واسطی آج ہم دوتین مزید مقامات کامطالعہ کرتے ہیں تاکہ ان لوگوں کی حقیقت خوب احباب کے سامنے واضح ہو سکے ۔ پہلے  جناب غامدی کے  استاد امام کی عربی تحقیق کی ایک مثال دیکھ لیتے ہیں ۔ وہ " نبا "کی تحقیق میں لکھتے ہیں کہ   لفظ نبا  کی تحقیق اس کے محل میں ہم بیان...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 96)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 92)

مولانا واصل واسطی لغت وادب پرنظر رکھنا سلفی نوجوانوں کے لیے تو ہرلحاظ سے بہت ضروری ہے ۔ دیکھو فقہ میں وہ کیسے کام آتا ہے ۔ ایک حدیث شریف میں جمعہ کے باب میں  لوگوں کے متعلق وارد ہے " عن عائشة زوج النبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔ کان الناس ینتابون یوم الجمعة من منازلہم ...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 96)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 91)

مولانا واصل واسطی ایک بات جس کو ہم اپنے احباب کے ساتھ شریک کرنا چاہتے ہیں   اور جو بات آج تک ضروری ہونے کے باوجود نظر انداز ہوتی چلی جارہی ہے ۔ وہ یہ ہے کہ منکرینِ حدیث کے جواب میں جس طرح تاریخ کی تمام کتابوں کو کھنگالنا ضروری ہے بالکل اسی طرح بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ...

محمد حسنین اشرف

غامدی صاحب وجودی حقائق  پر مزید گفتگو کریں گے تو لطف کی شے ہوگی لیکن سر دست دو چیزوں کو دیکھنا دلچسپ ہے۔
عقل (وہ فرماتے ہیں): “(۔۔۔) ان کو سمجھنے کے لیے جو ملکہ انسان کو عطا ہوا ہے اسے ہم عقل سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہی انسان کا اصلی شرف ہے۔ اس کو جو ذرائع نفس اور مادہ دونوں تک پہنچنے کے لیے میسر ہیں یعنی وہ ملکہ کیا ہے، عقل، اس عقل کو اب رسائی حاصل کرنی ہے، اپنے موضوع تک، موضوع کیا ہے، نفس اور مادہ، ان تک وہ کیسے رسائی حاصل کرے گی، یعنی عقل جو میرے اندر ایک ملکہ کی حیثیت سے موجود ہے اسے تعلق پیدا کرنا ہے۔ اس کا تعلق پیدا نہیں ہوا، اس کی رسائی نہیں ہے تو علم کی ابتدا ہی نہیں ہوسکتی۔ اس کو جو ذرائع نفس اور مادہ دونوں تک پہنچنے کے لیے میسر ہیں اٗنہیں حواس کہا جاتا ہے (۔۔۔)”۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سو عقل حواس کے بنا اندھی ہے اور وہ ذرائع پر منحصر ہے۔ خوب، سو اب (غامدی صاحب کے مطابق) اس کے پاس دو ذرائع ہیں جن سے اسے علم تک پہنچنا ہے۔ اس کا حاسہ ظاہری ہے اور حاسہ باطنی ہے یعنی ظاہر میں کچھ حسیات ہیں جیسے دیکھنا، سننا، سونگھنا وغیرہ اور باطن میں کچھ حسیات ہیں جو بالترتیب مادہ و نفس تک رسائی دیتی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باطنی حواس کی مثال دیتے ہوئے غامدی فرماتے ہیں:
“باطنی حواس وہ ہیں جو میرے غم کو محسوس کرتے ہیں، جو میرے درد کو محسوس کرتے ہیں، میرے اندر اٹھنے والے خیالات کو دیکھتے اور جانتے ہیں، میری کیفیات کا ادراک کرتے ہیں۔ تو وہاں بھی حواس ہیں۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب مسائل دیکھیے:
۱۔ باطنی حواس پر گفتگو کرتے ہوئے وہ حواس نہیں گنوا رہے جیسے ظاہری حواس گنوائے جاسکتے ہیں مثلا دیکھنا، سننا، سونگھنا وغیرہ۔ کیوں؟ اگر میں “ظاہری حواس” تک رسائی حاصل کرسکتا ہوں تو باطنی حواس تک میری رسائی کیوں نہیں ہے؟
۲۔ اسی طرح اگر میری عقل اور میرے نفس کے درمیان حواس حائل ہیں یعنی میرے نفس تک میری رسائی
mediated
ہے تو میرے حواس، میری عقل اور جس تک وہ رسائی دے رہا ہے اس میں ایک حد فاصل ہونی چاہیے جیسے ظاہری حواس کی صورت میں ہے مثلا:
کرسی ۰۰ آنکھ ۰۰ عقل
ہم یہ صلاحیت رکھتے ہیں کہ ان تینوں کو علیحدہ علیحدہ ان کی فعالیت اور محدودیت کے ساتھ جان سکیں۔ یہ کام باطنی حواس سے متعلق بھی ہونا چاہیے۔
۳۔ بصورت دیگر غامدی صاحب نے جتنی مثالیں بیان فرمائیں ان کو کیوں عقل کی
self-reflexive
خاصیت یا خارج کے اسٹیمولیس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مینٹل اسٹیٹس کے تحت بیان نہیں کیا جاسکتا؟
۴۔ اسی طرح محض اس حس کو بیان کرنا کافی نہیں ہے اس کی فعالیت اور اس کی تحدید کو دیکھنا لازم ہوتا ہے کیونکہ اس کے بغیر میں حس کو بہ طور حس نہیں جان سکتا اور وہ حس مجھے خارج میں موجود شے تک کیسی اور کتنی رسائی دیتی ہے۔ میرے لیے یہ جاننا بھی ممکن نہیں رہتا اور یہ نہایت ضروری معلومات ہے۔ کیونکہ اسی سے میں جان سکوں گا کہ مجھ تک پہنچنے والے علم میں صداقت کتنی ہے۔ مثلا اگر کوئی شخص کہے کہ نرے سورج کے مشاہدے سے میں، سورج کا قطر معلوم کرسکتا ہوں تو میں مشاہدے کی تحدیدات اور اس کے مسائل سے واقف ہونے کی بنا پر اس دعوی کی تغلیط و تصدیق کرنے کی حالت میں ہوتا ہوں۔
۵۔ آخری بات یہ کہ خارج میں پڑی ہوئے شے کو خارج میں دکھانا لازم ہے مثلا شاید جاوید صاحب اسی حاسہ باطنی میں، حاسہ اخلاقی کو بھی شامل کریں تو اس پر مزید اور نہایت دلچسپ سوال پیدا ہوں گے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

No Results Found

The page you requested could not be found. Try refining your search, or use the navigation above to locate the post.