انسان کا حاسہ باطنی اور غامدی صاحب

Published On February 13, 2026
کیا غامدی فکر و منہج ائمہ سلف کے فکر و منہج کے مطابق ہے؟   قسطِ دوم

کیا غامدی فکر و منہج ائمہ سلف کے فکر و منہج کے مطابق ہے؟ قسطِ دوم

مولانا حافظ صلاح الدین یوسف صحابہ کرام کا عمل اور رویہ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے قرآن کریم اور احادیث رسول میں کوئی فرق نہیں کیا اور دونوں کو نہ صرف یکساں واجب الاطاعت جانا بلکہ احادیث کو قرآن ہی کا حصہ گردانا۔ چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت عبد اللہ بن...

کیا غامدی فکر و منہج ائمہ سلف کے فکر و منہج کے مطابق ہے؟   قسطِ دوم

کیا غامدی فکر و منہج ائمہ سلف کے فکر و منہج کے مطابق ہے؟ قسطِ اول

مولانا حافظ صلاح الدین یوسف ماہنامہ الشریعہ میں مولانا زاہد الراشدی حفظہ اللہ کے کتابچے ’’غامدی صاحب کا تصور حدیث وسنت‘‘ کا اور ’’الشریعہ‘‘ کی خصوصی اشاعت بنام ’’الشریعہ کا طرز فکر اور پالیسی: اعتراضات واشکالات کا جائزہ‘‘ کا اشتہار دیکھا تو راقم نے نہایت ذوق وشوق کے...

امام غزالی، درجات توحید اور غامدی صاحب کی تکفیری تلوار : قسط اول

امام غزالی، درجات توحید اور غامدی صاحب کی تکفیری تلوار : قسط اول

ڈاکٹر زاہد مغل تعارف جناب جاوید احمد غامدی صاحب نے اپنی کتاب "برہان" میں تصوف کے موضوع کو تختہ مشق بناتے ہوئے اکابر صوفیاء کرام بشمول امام غزالی پر ضلالت اور کفریہ و شرکیہ  نظریات فروغ دینے کے فتوے جاری فرمائے ہیں۔ نیز ان کے مطابق حضرات صوفیاء کرام نے خدا کے دین کے...

جمعے کی امامت اور غامدی صاحب کا نقطۂ نظر

جمعے کی امامت اور غامدی صاحب کا نقطۂ نظر

الیاس نعمانی ندوی ماہنامہ اشراق (بابت ماہ اپریل ۲۰۰۸ء) کے شذرات کے کالم میں جناب جاوید احمد غامدی صاحب کی گفتگو پر مبنی ایک تحریر نظر نواز ہوئی ہے۔ عنوان ہے: ’’جمعے کی امامت‘‘۔ اسی کی بابت کچھ عرض کرنے کا اس وقت ارادہ ہے۔ غامدی صاحب کا حاصل مدعا خود انہی کے الفاظ میں...

غامدی صاحب کے تصور ’فطرت‘ کا تنقیدی جائزہ

غامدی صاحب کے تصور ’فطرت‘ کا تنقیدی جائزہ

ڈاکٹر حافظ محمد زبیر المورد اسلامک انسٹی ٹیوٹ کے سرپرست ‘ماہنامہ ’اشراق کے مدیر اور’ آج ‘ ٹی وی کے نامور اسکالر جناب جاوید احمد غامدی صاحب کے دو اہم اصولوں ’سنت ابراہیمی ‘ اور ’نبیوں کے صحائف ‘ کا تنقیدی اورتجزیاتی مطالعہ ماہنامہ ’الشریعہ ‘ کے صفحات میں پیش کیا جا چکا...

غامدی صاحب کا تصور تاریخ: ایک تنقیدی جائزہ

غامدی صاحب کا تصور تاریخ: ایک تنقیدی جائزہ

محمد حسنین اشرف غامدی صاحب کی میٹافزکس میں جہاں بہت سے تصورات تنقیح طلب ہیں ان میں سے ایک تصورِ تاریخ بھی ہے۔ یہ ایسا تصور ہے جو ان کے الہیاتی اور فقہی، دونوں فریم ورکس کا حصہ ہے۔ غامدی صاحب اس پر بہت سی عمارتیں بلند کرتے ہیں لیکن یہ ابھی تک نہایت بنیادی شکل میں موجود...

محمد حسنین اشرف

غامدی صاحب وجودی حقائق  پر مزید گفتگو کریں گے تو لطف کی شے ہوگی لیکن سر دست دو چیزوں کو دیکھنا دلچسپ ہے۔
عقل (وہ فرماتے ہیں): “(۔۔۔) ان کو سمجھنے کے لیے جو ملکہ انسان کو عطا ہوا ہے اسے ہم عقل سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہی انسان کا اصلی شرف ہے۔ اس کو جو ذرائع نفس اور مادہ دونوں تک پہنچنے کے لیے میسر ہیں یعنی وہ ملکہ کیا ہے، عقل، اس عقل کو اب رسائی حاصل کرنی ہے، اپنے موضوع تک، موضوع کیا ہے، نفس اور مادہ، ان تک وہ کیسے رسائی حاصل کرے گی، یعنی عقل جو میرے اندر ایک ملکہ کی حیثیت سے موجود ہے اسے تعلق پیدا کرنا ہے۔ اس کا تعلق پیدا نہیں ہوا، اس کی رسائی نہیں ہے تو علم کی ابتدا ہی نہیں ہوسکتی۔ اس کو جو ذرائع نفس اور مادہ دونوں تک پہنچنے کے لیے میسر ہیں اٗنہیں حواس کہا جاتا ہے (۔۔۔)”۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سو عقل حواس کے بنا اندھی ہے اور وہ ذرائع پر منحصر ہے۔ خوب، سو اب (غامدی صاحب کے مطابق) اس کے پاس دو ذرائع ہیں جن سے اسے علم تک پہنچنا ہے۔ اس کا حاسہ ظاہری ہے اور حاسہ باطنی ہے یعنی ظاہر میں کچھ حسیات ہیں جیسے دیکھنا، سننا، سونگھنا وغیرہ اور باطن میں کچھ حسیات ہیں جو بالترتیب مادہ و نفس تک رسائی دیتی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باطنی حواس کی مثال دیتے ہوئے غامدی فرماتے ہیں:
“باطنی حواس وہ ہیں جو میرے غم کو محسوس کرتے ہیں، جو میرے درد کو محسوس کرتے ہیں، میرے اندر اٹھنے والے خیالات کو دیکھتے اور جانتے ہیں، میری کیفیات کا ادراک کرتے ہیں۔ تو وہاں بھی حواس ہیں۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب مسائل دیکھیے:
۱۔ باطنی حواس پر گفتگو کرتے ہوئے وہ حواس نہیں گنوا رہے جیسے ظاہری حواس گنوائے جاسکتے ہیں مثلا دیکھنا، سننا، سونگھنا وغیرہ۔ کیوں؟ اگر میں “ظاہری حواس” تک رسائی حاصل کرسکتا ہوں تو باطنی حواس تک میری رسائی کیوں نہیں ہے؟
۲۔ اسی طرح اگر میری عقل اور میرے نفس کے درمیان حواس حائل ہیں یعنی میرے نفس تک میری رسائی
mediated
ہے تو میرے حواس، میری عقل اور جس تک وہ رسائی دے رہا ہے اس میں ایک حد فاصل ہونی چاہیے جیسے ظاہری حواس کی صورت میں ہے مثلا:
کرسی ۰۰ آنکھ ۰۰ عقل
ہم یہ صلاحیت رکھتے ہیں کہ ان تینوں کو علیحدہ علیحدہ ان کی فعالیت اور محدودیت کے ساتھ جان سکیں۔ یہ کام باطنی حواس سے متعلق بھی ہونا چاہیے۔
۳۔ بصورت دیگر غامدی صاحب نے جتنی مثالیں بیان فرمائیں ان کو کیوں عقل کی
self-reflexive
خاصیت یا خارج کے اسٹیمولیس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مینٹل اسٹیٹس کے تحت بیان نہیں کیا جاسکتا؟
۴۔ اسی طرح محض اس حس کو بیان کرنا کافی نہیں ہے اس کی فعالیت اور اس کی تحدید کو دیکھنا لازم ہوتا ہے کیونکہ اس کے بغیر میں حس کو بہ طور حس نہیں جان سکتا اور وہ حس مجھے خارج میں موجود شے تک کیسی اور کتنی رسائی دیتی ہے۔ میرے لیے یہ جاننا بھی ممکن نہیں رہتا اور یہ نہایت ضروری معلومات ہے۔ کیونکہ اسی سے میں جان سکوں گا کہ مجھ تک پہنچنے والے علم میں صداقت کتنی ہے۔ مثلا اگر کوئی شخص کہے کہ نرے سورج کے مشاہدے سے میں، سورج کا قطر معلوم کرسکتا ہوں تو میں مشاہدے کی تحدیدات اور اس کے مسائل سے واقف ہونے کی بنا پر اس دعوی کی تغلیط و تصدیق کرنے کی حالت میں ہوتا ہوں۔
۵۔ آخری بات یہ کہ خارج میں پڑی ہوئے شے کو خارج میں دکھانا لازم ہے مثلا شاید جاوید صاحب اسی حاسہ باطنی میں، حاسہ اخلاقی کو بھی شامل کریں تو اس پر مزید اور نہایت دلچسپ سوال پیدا ہوں گے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

No Results Found

The page you requested could not be found. Try refining your search, or use the navigation above to locate the post.