سائنس میں عقلی امکانات اور غامدی صاحب

Published On February 10, 2026
بیس رکعت تراویح اور غامدی صاحب کا موقف

بیس رکعت تراویح اور غامدی صاحب کا موقف

سوال : جاوید احمد غامدی کے نزدیک تراویح کی نماز سرے سے ہے ہی نہیں, برائے کرم مفصل جواب عنایت فرمائیں؟ جواب بیس رکعت تراویح ادا کرنا سنتِ مؤکدہ ہے اور یہی رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا، البتہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یا تین روز تراویح کی باقاعدہ...

حضرت عیسیٰ علیہ السلام  کی قبر

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر

مولانا عند الحمید تونسوی     اہلِ اسلام کا متفقہ عقیدہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام  کو اﷲ تعالیٰ نے اپنی قدرتِ کاملہ سے بغیر باپ کے پیدا فرمایا اور انہیں سولی پر نہیں چڑھایا گیا، بلکہ زندہ ہی آسمانوں پر اُٹھالیا گیا، قیامت کے قریب وہ آسمان سے زمین پر نازل ہوں...

اسلام اور ریاست

اسلام اور ریاست

مفتی تقی عثمانی صاحب   بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم الحمد للّٰہ رب العالمین والصلٰوۃ والسلام علی نبیہ الکریم وعلی آلہٖ وأصحابہٖ أجمعین وعلٰی کل من تبعہم بإحسان إلٰی یوم الدین أمابعد غیر منقسم ہندوستان میں قائد اعظم کی قیادت میں قیام پاکستان کی جو تحریک چلی، اس کی...

ڈاڑھی : غامدی موقف پر نقد

ڈاڑھی : غامدی موقف پر نقد

ناقد :شیخ عثمان ابن فاروق تلخیص : زید حسن ​   غامدی صاحب کا دعوی ہے کہ وہ منکرِ حدیث نہیں ہیں ۔ ان سے ڈاڑھی کی بابت سوال کیا گیا تو فرمایا: یہ ایک اچھی  چیز ہے اور نبی علیہ السلام نے ڈاڑھی رکھی ہے لیکن اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اس امر کو نبی ﷺ نے امت میں بحیثیت...

مورگیج پر گھر لینا : غامدی موقف پر نقد

مورگیج پر گھر لینا : غامدی موقف پر نقد

ناقد :شیخ عثمان صفدر تلخیص : زید حسن    مورگیج ایک صورت ہے جس میں  گھر کو خریدا جاتا ہے اور اسکی بابت علماء کا موقف یہی ہے کہ یہ حرام ہے لیکن جاوید غامدی صاحب نے اسکی بابت موقف اختیار کیا ہے کہ  نہ صرف یہ کہ یہ سود نہیں بلکہ یہ احسان ہے ۔ انکا موقف ہے کہ "جب پیسہ...

بہتر حوریں : انکارِ حدیث سے انکارِ قرآن تک

بہتر حوریں : انکارِ حدیث سے انکارِ قرآن تک

ناقد :شیخ توصیف الرحمن تلخیص : زید حسن    غامدی صاحب سے کسی نے سوال کیا کہ جنت میں حوریں ہوں گی ؟ جواب میں فرمایا : کہ یہ دنیا ہی کی عورتیں ہوں گی ۔ سائل نے پوچھا کہ انکی تو آنکھیں بڑی ہوں گی ؟ تو فرمایا اللہ آپکی بیویوں ہی کی آنکھیں بڑی کر دے گا ۔ اصل میں جاوید...

محمد حسنین اشرف

اپنی حالیہ ویڈیو میں گفتگو کرتے ہوئے غامدی صاحب نے کچھ یوں فرمایا ہے:
“حیاتیات میں نظریہ ارتقا کیا ہے؟ یعنی عقلی امکانات میں سے ایک امکان، وہ امکان بہت قوی ہوسکتا ہے اس میں ظن غالب کی حد تک آپ کسی چیز کو درست قرار دے سکتے ہیں لیکن وہ ہے عقلی امکان ہی میں سے ایک چیز۔ اسی طرح کا معاملہ اگر آپ دیکھیے تو بگ بینگ کے نظریے کا ہے۔ یہی صورتحال بعض اٗن نظریات کی ہے جو اس پچھلے زمانے میں بہت زیر بحث ہیں۔ مثال کے طور پر اس دنیا میں جو مسائل موجود ہیں خاص طور طبیعات کے علم میں اس کو ایک سے زیادہ دنیاوں کے تصور سے حل کرلیا جائے یا خصوصی نظریہ اضافیت کے زیل میں یہ بحث کہ کیا ہم ایک بلاک یونیورس میں رہ رہے ہیں، یہ سب عقلی امکانات ہیں، چنانچہ ان کو بھی اگر آپ دیکھیے تو یہ بنائے استدلال بنتے ہیں، ان کو لوگ پیش کرتے ہیں (۔۔۔)۔”
۱۔ یہ نہایت نامناسب بات معلوم ہوتی ہے کہ آپ کسی بھی علم میں رائج اصطلاحات کو کسی غیر معروف اصطلاح سے بدل دیں اور اس اصطلاح کو اچھے طریقے سے ڈویلوپ کیے بغیر بیان بھی کردیں۔ یعنی عقلی امکان سے یہاں کیا مراد ہے؟ کیا اس سے مراد
Abductive reasoning
ہے؟ یہ اصطلاح کہاں سے مستعار لی گئی ہے؟
۲۔ اسی طرح اس اصطلاح کے ذیل میں آپ مختلف ابحاث کو ایک جگہ باندھ دیں۔ مثلا یہ کہ بگ بینگ، نظریہ ارتقا، ملٹی ورس اور بلاک یونیورس یہ سب عقلی امکانات ہیں۔ اس سے آپ اس بحث کو جس تنوع سے بیان ہونا چاہیے اس کا حق ادا نہیں کر رہے۔ کیا نظریہ ارتقا (اس کو ظن میں غالب اور ضعف کی بائنری قائم کرکے معاملہ نہیں حل کیا جاسکتا) اور ملٹی ورس ایک ہی نوعیت کی شے ہے؟ پھر نظریہ ارتقا میں چیزیں اپنے ثبوت کے اعتبار سے منقسم ہیں۔ اس سب کو عقلی امکان کی اصطلاح سے اور اس پر بہت سے عقلی امکانات کے درمیان باندھ کر بیان کرنا کیونکر مفید ہے؟
۳۔ سائنس میں سائنسی طریقہ کار (یاد رہے سائنس میں ایک سائنسی طریقہ کار نہیں ہے بلکہ متعدد طریقہ کار ہیں اور ہر طریقہ کار میں مزید چیزیں ہیں سو ان کو گھٹاتے گھٹاتے کسی ایک اصطلاح میں بند کردینا مناسب نہیں ہے) کس طریقے سے چیزوں کو طے کرتے ہیں اس کے لیے عقلی امکان کی اصطلاح کس قدر مفید ہے اس پر گفتگو نہایت ضروری ہے بصورت دیگر خلط مبحث پیدا ہوتا ہے۔
۴۔ اسی طرح بحث کو گھٹاتے گھٹاتے آپ کیٹیگریز کو
Collapse
نہیں کرسکتے اور نہ کرنا چاہیے۔ بصورت دیگر سامنے والے کا مقدمہ درست بیان نہیں ہو پاتا۔ مثلا اگر میں یہ کہوں کہ غامدی صاحب کی تمام ترابحاث تو ہیں ہی “یقین محض” ہیں سو میں نے ایک بہت بڑی کیٹیگری کے ذیل میں غامدی صاحب کے سسٹم کو
Collapse
کروا دیا ہے۔ اب یہ نئی تیار کردہ کیٹیگری اتنی بڑی ہے کہ غامدی صاحب جو بھی بات کریں گے وہ باآسانی “یقین محض” کے ذیل میں بیان کی جاسکتی ہے۔ اس سے غامدی صاحب کے طرز استدلال کا تنوع جس حق سے بیان کیے جانے کا متقاضی ہے وہ پورا نہیں ہو پاتا۔
۵۔ اس نوعیت کی اصطلاحات اور خاص طور پر وہ جو ان مضامین یا ان سے متعلق مضامین میں رائج اصطلاحات نہ ہوں۔ اٗن کا استعمال سامع و قاری کے لیے مزید مشکل یہ پیدا کرتا ہے کہ وہ اسے ٹیسٹ نہیں کرسکتے کہ آپ جو بات کہہ رہے ہیں وہ کس قدر درست ہے!

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

No Results Found

The page you requested could not be found. Try refining your search, or use the navigation above to locate the post.