سائنس میں عقلی امکانات اور غامدی صاحب

Published On February 10, 2026
غامدی صاحب کے نظریہ اخلاق کا تنقیدی جائزہ

غامدی صاحب کے نظریہ اخلاق کا تنقیدی جائزہ

ڈاکٹر زاہد مغل  اس مضمون میں ہم جاوید احمد غامدی صاحب کے نظریہ اخلاق کا ایک مختصر مگر جامع تنقیدی جائزہ پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔ غامدی صاحب کا نظریہ اخلاق درحقیقت اسلام کے بجائے مغربی ما بعد الطبیعیات پر مبنی ہے اور امت مسلمہ کو اعتزال قدیمہ کی راہوں پر ڈالنے کی مکمل...

غامدی صاحب کے تصور سنت کا تنقیدی جائزہ

غامدی صاحب کے تصور سنت کا تنقیدی جائزہ

ڈاکٹر حافظ محمد زبیر اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے انسانوں کی رہنمائی کے لیے ہر دور اور ہر قوم میں اپنے انبیا و رسل بھیجے اور ان کی رہنمائی کے لیے وحی کا سلسلہ جاری فرمایا ۔اس وحی کے نزول کے دو طریقے ہیں  اول ۔  بعض اوقات یہ وحی لفظاً ہوتی ہے یعنی اس میں الفاظ بھی اللہ کے...

اسلام اور ریاست ۔ غامدی صاحب کے حالیہ مضمون کا جائزہ

اسلام اور ریاست ۔ غامدی صاحب کے حالیہ مضمون کا جائزہ

ابو عمار زاہد الراشدی جناب جاوید احمد غامدی کا ایک حالیہ مضمون ان دنوں دینی حلقوں میں زیر بحث ہے جس میں انہوں نے بنیادی طور پر یہ تصور پیش کیا ہے کہ اسلام کا خطاب فرد سے ہے سوسائٹی سے نہیں ہے، اور اسلام کا ریاست کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس لیے اس وقت عالم اسلام میں...

اسلام میں پردے کے احکام اور غامدی صاحب

اسلام میں پردے کے احکام اور غامدی صاحب

ابو عمار زاہد الراشدی ساتویں صدی ہجری کے معروف مفسر قرآن امام ابو عبد اللہ محمد بن احمد انصاریؒ نے ’’تفسیر قرطبی‘‘ میں ایک واقعہ نقل کیا ہے۔ ترجمان القرآن حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اپنے علمی حلقے میں تشریف فرما تھے کہ ایک شخص نے آ کر مسئلہ پوچھا کہ اگر کوئی...

رجم کی شرعی حیثیت اور غامدی صاحب

رجم کی شرعی حیثیت اور غامدی صاحب

ابو عمار زاہد الراشدی ہم محترم جاوید احمد غامدی صاحب کا یہ ارشاد گزشتہ کالم میں پیش کر چکے ہیں کہ سنت ان کے نزدیک دین ابراہیمیؑ کی کسی ایسی روایت کے تسلسل کا نام ہے جسے جناب نبی اکرمؐ نے بھی مناسب ترمیم و اضافہ کے ساتھ باقی رکھا ہو۔ ان کے اس ارشاد کی کسوٹی پر ہم رجم...

غامدی صاحب اور خبر واحد

غامدی صاحب اور خبر واحد

ابو عمار زاہد الراشدی علماء کے سیاسی کردار، کسی غیر سرکاری فورم کی طرف سے جہاد کے اعلان کی شرعی حیثیت، علماء کرام کے فتویٰ جاری کرنے کے آزادانہ استحقاق، اور زکوٰۃ کے علاوہ کسی اور ٹیکس کی شرعی ممانعت کے حوالہ سے محترم جناب جاوید احمد غامدی صاحب کے بعض حالیہ ارشادات کے...

محمد حسنین اشرف

اپنی حالیہ ویڈیو میں گفتگو کرتے ہوئے غامدی صاحب نے کچھ یوں فرمایا ہے:
“حیاتیات میں نظریہ ارتقا کیا ہے؟ یعنی عقلی امکانات میں سے ایک امکان، وہ امکان بہت قوی ہوسکتا ہے اس میں ظن غالب کی حد تک آپ کسی چیز کو درست قرار دے سکتے ہیں لیکن وہ ہے عقلی امکان ہی میں سے ایک چیز۔ اسی طرح کا معاملہ اگر آپ دیکھیے تو بگ بینگ کے نظریے کا ہے۔ یہی صورتحال بعض اٗن نظریات کی ہے جو اس پچھلے زمانے میں بہت زیر بحث ہیں۔ مثال کے طور پر اس دنیا میں جو مسائل موجود ہیں خاص طور طبیعات کے علم میں اس کو ایک سے زیادہ دنیاوں کے تصور سے حل کرلیا جائے یا خصوصی نظریہ اضافیت کے زیل میں یہ بحث کہ کیا ہم ایک بلاک یونیورس میں رہ رہے ہیں، یہ سب عقلی امکانات ہیں، چنانچہ ان کو بھی اگر آپ دیکھیے تو یہ بنائے استدلال بنتے ہیں، ان کو لوگ پیش کرتے ہیں (۔۔۔)۔”
۱۔ یہ نہایت نامناسب بات معلوم ہوتی ہے کہ آپ کسی بھی علم میں رائج اصطلاحات کو کسی غیر معروف اصطلاح سے بدل دیں اور اس اصطلاح کو اچھے طریقے سے ڈویلوپ کیے بغیر بیان بھی کردیں۔ یعنی عقلی امکان سے یہاں کیا مراد ہے؟ کیا اس سے مراد
Abductive reasoning
ہے؟ یہ اصطلاح کہاں سے مستعار لی گئی ہے؟
۲۔ اسی طرح اس اصطلاح کے ذیل میں آپ مختلف ابحاث کو ایک جگہ باندھ دیں۔ مثلا یہ کہ بگ بینگ، نظریہ ارتقا، ملٹی ورس اور بلاک یونیورس یہ سب عقلی امکانات ہیں۔ اس سے آپ اس بحث کو جس تنوع سے بیان ہونا چاہیے اس کا حق ادا نہیں کر رہے۔ کیا نظریہ ارتقا (اس کو ظن میں غالب اور ضعف کی بائنری قائم کرکے معاملہ نہیں حل کیا جاسکتا) اور ملٹی ورس ایک ہی نوعیت کی شے ہے؟ پھر نظریہ ارتقا میں چیزیں اپنے ثبوت کے اعتبار سے منقسم ہیں۔ اس سب کو عقلی امکان کی اصطلاح سے اور اس پر بہت سے عقلی امکانات کے درمیان باندھ کر بیان کرنا کیونکر مفید ہے؟
۳۔ سائنس میں سائنسی طریقہ کار (یاد رہے سائنس میں ایک سائنسی طریقہ کار نہیں ہے بلکہ متعدد طریقہ کار ہیں اور ہر طریقہ کار میں مزید چیزیں ہیں سو ان کو گھٹاتے گھٹاتے کسی ایک اصطلاح میں بند کردینا مناسب نہیں ہے) کس طریقے سے چیزوں کو طے کرتے ہیں اس کے لیے عقلی امکان کی اصطلاح کس قدر مفید ہے اس پر گفتگو نہایت ضروری ہے بصورت دیگر خلط مبحث پیدا ہوتا ہے۔
۴۔ اسی طرح بحث کو گھٹاتے گھٹاتے آپ کیٹیگریز کو
Collapse
نہیں کرسکتے اور نہ کرنا چاہیے۔ بصورت دیگر سامنے والے کا مقدمہ درست بیان نہیں ہو پاتا۔ مثلا اگر میں یہ کہوں کہ غامدی صاحب کی تمام ترابحاث تو ہیں ہی “یقین محض” ہیں سو میں نے ایک بہت بڑی کیٹیگری کے ذیل میں غامدی صاحب کے سسٹم کو
Collapse
کروا دیا ہے۔ اب یہ نئی تیار کردہ کیٹیگری اتنی بڑی ہے کہ غامدی صاحب جو بھی بات کریں گے وہ باآسانی “یقین محض” کے ذیل میں بیان کی جاسکتی ہے۔ اس سے غامدی صاحب کے طرز استدلال کا تنوع جس حق سے بیان کیے جانے کا متقاضی ہے وہ پورا نہیں ہو پاتا۔
۵۔ اس نوعیت کی اصطلاحات اور خاص طور پر وہ جو ان مضامین یا ان سے متعلق مضامین میں رائج اصطلاحات نہ ہوں۔ اٗن کا استعمال سامع و قاری کے لیے مزید مشکل یہ پیدا کرتا ہے کہ وہ اسے ٹیسٹ نہیں کرسکتے کہ آپ جو بات کہہ رہے ہیں وہ کس قدر درست ہے!

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

No Results Found

The page you requested could not be found. Try refining your search, or use the navigation above to locate the post.