اصولیین کا قطعیت کا مفہوم اور نسخ: غامدی صاحب کا خلط مبحث

Published On October 27, 2025
مجمل مفتقر الی البیان کا معنی

مجمل مفتقر الی البیان کا معنی

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE

علم النبیﷺ پر غامدی صاحب کے لئے سوالات

علم النبیﷺ پر غامدی صاحب کے لئے سوالات

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE

چند اجماعی مسائل اور جاوید احمد غامدی : قسط دوم

چند اجماعی مسائل اور جاوید احمد غامدی : قسط دوم

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE

چند اجماعی مسائل اور جاوید احمد غامدی : قسط دوم

چند اجماعی مسائل اور جاوید احمد غامدی : قسط اول

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE

حجیتِ اجماع  غامدی صاحب کے شبہات کا ازالہ : قسط چہارم

حجیتِ اجماع غامدی صاحب کے شبہات کا ازالہ : قسط چہارم

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE

حجیتِ اجماع  غامدی صاحب کے شبہات کا ازالہ : قسط چہارم

حجیتِ اجماع غامدی صاحب کے شبہات کا ازالہ : قسط سوم

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE

ڈاکٹر زاہد مغل

مقامات میں اپنی تحریر “قطعی و ظنی” میں جناب غامدی صاحب لکھتے ہیں کہ ائمہ اصول کے ہاں قطعیت احتمال کی نفی کا نام ہے اور یہ نفی دو طرح کی ہے:
1) جب سرے سے احتمال نہ ہو، (حنفی اصطلاحات کی رعایت کرتے ہوئے) اس کی مثال محکم و متواتر ہیں،
2) جب احتمال کے لئے پیش کردہ دلیل ناقابل التفات ہو (اسے غیر ناشی عن دلیل احتمال کہتے ہیں)، اس کی مثال ظاہر، نص و خبر مشہور ہیں۔
چنانچہ قطعی کا مطلب وہ صفت ہے جس سے حقائق میں ایسا امتیاز حاصل ہو جائے کہ نقیض کا احتمال نہ رہے۔
یہاں تک بات ٹھیک ہوگئی۔ تاہم آگے جاکر اسے قرآنی آیات سے متعلق کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ
“ان کے الفاظ ہی ان کی تفسیر ہیں اور ان میں نسخ، تخصیص یا تبدیلی اور تغیر کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا”۔
یہاں انہوں نے قطعیت کے درج بالا تصورات کو جس طرح نسخ پر لاگو کردیا ہے یہ خلط مبحث ہے اس لئے کہ احناف کے نزدیک نبیﷺ کی حین حیات قرآن میں مذکور “محکم” کے سوا ہر حکم کو نسخ کا احتمال لاحق رہتا ہے۔ ان کے نزدیک سرے سے نسخ کے احتمال سے منزہ محکم دو طرح کا ہے:
(الف) حسن و قبح عقلی سے ثابت مقدمات جیسے شکر منعم کا حسن اور جھوٹ وغیرہ کا قبیح ہونا،
(ب) وہ احکام جو لفظ “ہمیشگی” کے مفہوم کا فائدہ دینے والے الفاظ (جیسے “ابدا”) کے ساتھ نازل ہوئے ہوں،
ان کے سوا مفسر، نص و ظاہر سب کو نسخ کا صرف احتمال نہیں ہوتا بلکہ وہ ناشی عن دلیل احتمال ہوتا ہے اور اسی لئے احناف کے نزدیک نبیﷺ کی حین حیات خبر واحد تک سے نسخ جائز ہوتا ہے اس لئے کہ اس وقت تک حکم کی تابید صرف استصحاب حال پر مبنی ہوتی ہے جو کہ ظنی دلیل ہے۔ چنانچہ وہ احکام جو نسخ کا احتمال نہ ہونے کی بنا پر درج بالا مفہوم میں قطعی ہیں، احناف کے نزدیک وہ گنتی کے چند احکام ہیں۔ البتہ عام کی دلالت چونکہ اعیان یا افراد پر احناف کے نزدیک قطعی ہے، لہذا متصل تخصیص ہوئے بغیر وہ دوسرے معنی (ناشی عن دلیل احتمال سے پاک ہونے کے مفہوم) میں قطعی ہے۔ رہ گئے احناف کے سوا دیگر جمہور اصولیین، تو ان کے نزدیک چونکہ حسن و قبح عقلی معتبر نہیں اور راجح رائے کے مطابق لفظ “ابدا” کی دلالت بھی تخصیص قبول کرتی ہے لہذا ان کے نزدیک حنفی اصطلاح محکم کے درجے پر کوئی آیت نہیں جو سرے سے نسخ کے احتمال سے منزہ ہوسکے۔ رہا تخصیص کا احتمال، تو اس حوالے سے ان کا موقف واضح ہے کہ عام کی دلالت ظنی ہے۔
الغرض غامدی صاحب نے یہاں بھی اصولیین کے کچھ تصورات کو لے کر ان کی بحث میں خلط مبحث پیدا کرکے مقصد حاصل کرنے کی کوشش کی ہے اور نسخ سے متعلق درج بالا سطور لکھتے ہوئے وہ اس حقیقت پر بھی غور نہ کرسکے کہ اگر آیات قرآنیہ کو ناشی عن دلیل نسخ کا احتمال لاحق ہی نہیں تو بعض قرآنی احکام منسوخ کیسے ہوئے، چاہے قرآن سے ہوئے ہوں؟
یہاں اس بات کا ذکر مفید ہوگا کہ احناف کے نزدیک بھی سارا قرآن درج بالا دوسرے معنی میں قطعی نہیں اس لئے کہ وہ الفاظ کی دلالتوں کے فرق کو بخوبی جانتے تھے اور انہوں نے اس کا لحاظ رکھا ہے۔ البتہ مولانا فراہی صاحب نے کسی لسانیاتی اصول کی نشاندہی کے بغیر نظم قرآن کے تصور کے زور پر سارے قرآن کو قطعی قرار دے دیا ہے حالانکہ جزوی مسائل میں زیر بحث احتمالات جس قسم کے لسانیاتی امور سے جنم لیتے ہیں انہیں حل کرنے میں سورتوں کے جوڑے، سورت کا عمود، سورت کے مضامین وغیرہ جیسے استقرائی امور اکثر و بیشتر غیر متعلق ہوتے ہیں۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

نسخ القرآن بذریعہ سنت : مولانا اصلاحی

نسخ القرآن بذریعہ سنت : مولانا اصلاحی

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE

علم النبی اور قرآن کا تعلق: حسن الیاس صاحب کا مغالطہ

علم النبی اور قرآن کا تعلق: حسن الیاس صاحب کا مغالطہ

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE

بیسویں صدی کی علمیاتی بحث اور حجیتِ سنت کا انکار

بیسویں صدی کی علمیاتی بحث اور حجیتِ سنت کا انکار

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE