اصولیین کا قطعیت کا مفہوم اور نسخ: غامدی صاحب کا خلط مبحث

Published On October 27, 2025
نظمِ قرآن : غامدی صاحب کی تفسیر “البیان” کا ایک مختصر تقابلی مطالعہ

نظمِ قرآن : غامدی صاحب کی تفسیر “البیان” کا ایک مختصر تقابلی مطالعہ

جہانگیر حنیف فصل اوّل: تعارف مدرسۂ فراہی کا موقف ہے کہ نظم شرطِ کلام ہے۔ کلام نظم کے ساتھ وجود پذیر ہوتا ہے اور نظم کے تحت ہی فہم کی تحویل میں آتا ہے۔ اُن کےنزدیک نظم کی نفی کلام کی فطری ساخت کا انکار اور کلام کے درست فہم میں رکاوٹ ہے۔ لہذا امام فراہی، مولانا اصلاحی...

قرآن مجید کو سرگذشت قرار دینا کیوں غلط ہے؟

قرآن مجید کو سرگذشت قرار دینا کیوں غلط ہے؟

جہانگیر حنیف غامدی صاحب نے قرآن مجید کو ”سر گذشتِ انذار“ قرار دیا ہے۔ لکھتے ہیں: ”اپنے مضمون کے لحاظ سے قرآن ایک رسول کی سرگذشتِ انذار ہے۔“¹  قرآن مجید کے نذیر ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ لیکن اسے ”سرگذشت“ قرار دینے سے بہت سے علمی و ایمانی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ لہذا ہمیں...

فکرِ غامدی کا اصل مسئلہ

فکرِ غامدی کا اصل مسئلہ

جہانگیر حنیف غامدی صاحب کو چونکہ میں نے بہت قریب سے دیکھا ہے، لہذا میں اعتماد اور یقین کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہوں کہ غامدی صاحب کے ہاں ایمان کا مسئلہ نہیں۔ انھوں نے جو مسئلہ پیدا کیا ہے، وہ علمی نوعیت کا ہے۔ وہ دین کو فرد کا مسئلہ سمجھتے ہیں۔ دین کا آفاقی پہلو ان کی...

جاوید غامدی کی تکفیری مہم: وحدت الوجود اور دبِستانِ شبلی

جاوید غامدی کی تکفیری مہم: وحدت الوجود اور دبِستانِ شبلی

نادر عقیل انصاری اسلامی تاریخ میں یونان و روم کے فکری تصورات کی یورش، منگولوں کے حملے، اور صلیبی جنگوں جیسے مصائب معلوم و معروف ہیں، اور ان میں مضمر خطرات کی سنگینی سے مسلمان بالعموم باخبر ہیں۔ یوروپی استعمار زہرناکی میں ان فتنوں سے بڑھ کر تھا۔ مغربی استعمار کا تہذیبی...

جاوید احمد غامدی اور بنو امیہ کے سرکاری بیانیہ کی ترجمانی

جاوید احمد غامدی اور بنو امیہ کے سرکاری بیانیہ کی ترجمانی

عامر حسینی جاوید احمد غامدی صاحب کی سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے۔ اس ویڈیو میں ان سے حضرت علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ اور معاویہ ابن ابی سفیان کے بارے میں سوال ہوا کہ کس کا موقف درست تھا۔ اس کے جواب میں انھوں نے جو گفتگو کی اس کا لب لباب یہ تھا:۔ غامدی...

حدیثِ عمار رضی اللہ عنہ

حدیثِ عمار رضی اللہ عنہ

ایڈمن آف اسلام اینڈ ڈائورسٹی حدیث نبوی، حدیث عمار (رض) ہمارے لئے قطعی نص ہے اور رسول اللہ (ع) کی نبوت کی واضح نشانیوں میں سے ہے اور ہمارے لئے خط احمر کا درجہ رکھتی ہے،اس پر تشکیک کرنے والا ہمارے نزدیک ضال ومضل ہے – غامدی صاحب نے اس صحیح حدیث کا انکار کر کے اپنی ناصبیت...

ڈاکٹر زاہد مغل

مقامات میں اپنی تحریر “قطعی و ظنی” میں جناب غامدی صاحب لکھتے ہیں کہ ائمہ اصول کے ہاں قطعیت احتمال کی نفی کا نام ہے اور یہ نفی دو طرح کی ہے:
1) جب سرے سے احتمال نہ ہو، (حنفی اصطلاحات کی رعایت کرتے ہوئے) اس کی مثال محکم و متواتر ہیں،
2) جب احتمال کے لئے پیش کردہ دلیل ناقابل التفات ہو (اسے غیر ناشی عن دلیل احتمال کہتے ہیں)، اس کی مثال ظاہر، نص و خبر مشہور ہیں۔
چنانچہ قطعی کا مطلب وہ صفت ہے جس سے حقائق میں ایسا امتیاز حاصل ہو جائے کہ نقیض کا احتمال نہ رہے۔
یہاں تک بات ٹھیک ہوگئی۔ تاہم آگے جاکر اسے قرآنی آیات سے متعلق کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ
“ان کے الفاظ ہی ان کی تفسیر ہیں اور ان میں نسخ، تخصیص یا تبدیلی اور تغیر کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا”۔
یہاں انہوں نے قطعیت کے درج بالا تصورات کو جس طرح نسخ پر لاگو کردیا ہے یہ خلط مبحث ہے اس لئے کہ احناف کے نزدیک نبیﷺ کی حین حیات قرآن میں مذکور “محکم” کے سوا ہر حکم کو نسخ کا احتمال لاحق رہتا ہے۔ ان کے نزدیک سرے سے نسخ کے احتمال سے منزہ محکم دو طرح کا ہے:
(الف) حسن و قبح عقلی سے ثابت مقدمات جیسے شکر منعم کا حسن اور جھوٹ وغیرہ کا قبیح ہونا،
(ب) وہ احکام جو لفظ “ہمیشگی” کے مفہوم کا فائدہ دینے والے الفاظ (جیسے “ابدا”) کے ساتھ نازل ہوئے ہوں،
ان کے سوا مفسر، نص و ظاہر سب کو نسخ کا صرف احتمال نہیں ہوتا بلکہ وہ ناشی عن دلیل احتمال ہوتا ہے اور اسی لئے احناف کے نزدیک نبیﷺ کی حین حیات خبر واحد تک سے نسخ جائز ہوتا ہے اس لئے کہ اس وقت تک حکم کی تابید صرف استصحاب حال پر مبنی ہوتی ہے جو کہ ظنی دلیل ہے۔ چنانچہ وہ احکام جو نسخ کا احتمال نہ ہونے کی بنا پر درج بالا مفہوم میں قطعی ہیں، احناف کے نزدیک وہ گنتی کے چند احکام ہیں۔ البتہ عام کی دلالت چونکہ اعیان یا افراد پر احناف کے نزدیک قطعی ہے، لہذا متصل تخصیص ہوئے بغیر وہ دوسرے معنی (ناشی عن دلیل احتمال سے پاک ہونے کے مفہوم) میں قطعی ہے۔ رہ گئے احناف کے سوا دیگر جمہور اصولیین، تو ان کے نزدیک چونکہ حسن و قبح عقلی معتبر نہیں اور راجح رائے کے مطابق لفظ “ابدا” کی دلالت بھی تخصیص قبول کرتی ہے لہذا ان کے نزدیک حنفی اصطلاح محکم کے درجے پر کوئی آیت نہیں جو سرے سے نسخ کے احتمال سے منزہ ہوسکے۔ رہا تخصیص کا احتمال، تو اس حوالے سے ان کا موقف واضح ہے کہ عام کی دلالت ظنی ہے۔
الغرض غامدی صاحب نے یہاں بھی اصولیین کے کچھ تصورات کو لے کر ان کی بحث میں خلط مبحث پیدا کرکے مقصد حاصل کرنے کی کوشش کی ہے اور نسخ سے متعلق درج بالا سطور لکھتے ہوئے وہ اس حقیقت پر بھی غور نہ کرسکے کہ اگر آیات قرآنیہ کو ناشی عن دلیل نسخ کا احتمال لاحق ہی نہیں تو بعض قرآنی احکام منسوخ کیسے ہوئے، چاہے قرآن سے ہوئے ہوں؟
یہاں اس بات کا ذکر مفید ہوگا کہ احناف کے نزدیک بھی سارا قرآن درج بالا دوسرے معنی میں قطعی نہیں اس لئے کہ وہ الفاظ کی دلالتوں کے فرق کو بخوبی جانتے تھے اور انہوں نے اس کا لحاظ رکھا ہے۔ البتہ مولانا فراہی صاحب نے کسی لسانیاتی اصول کی نشاندہی کے بغیر نظم قرآن کے تصور کے زور پر سارے قرآن کو قطعی قرار دے دیا ہے حالانکہ جزوی مسائل میں زیر بحث احتمالات جس قسم کے لسانیاتی امور سے جنم لیتے ہیں انہیں حل کرنے میں سورتوں کے جوڑے، سورت کا عمود، سورت کے مضامین وغیرہ جیسے استقرائی امور اکثر و بیشتر غیر متعلق ہوتے ہیں۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…