اصولیین کا قطعیت کا مفہوم اور نسخ: غامدی صاحب کا خلط مبحث

Published On October 27, 2025
پردے کے بارے میں غامدی صاحب کی مغالطہ انگیزیاں

پردے کے بارے میں غامدی صاحب کی مغالطہ انگیزیاں

محمد رفیق چوہدری عور ت کے پردے کے بارے میں جناب جاوید احمدغامدی صاحب کا کوئی ایک موقف نہیں ہے بلکہ وہ وقت اور حالات کے مطابق اپنا موقف بدلتے رہتے ہیںکبھی فرماتے ہیں کہ عورت کے لئے چادر، برقعے، دوپٹے اور اوڑھنی کا تعلق دورِنبویؐ کی عرب تہذیب و تمدن سے ہے اور اسلام میں...

غامدی صاحب اور انکارِ حدیث (قسط 4)

غامدی صاحب اور انکارِ حدیث (قسط 4)

محمد رفیق چوہدری غامدی صاحب کے انکارِ حدیث کا سلسلہ بہت طولانی ہے۔ وہ فہم حدیث کے لئے اپنے من گھڑت اُصول رکھتے ہیں جن کا نتیجہ انکارِ حدیث کی صورت میں نکلتا ہے۔ وہ حدیث اور سنت کی مسلمہ اصطلاحات کا مفہوم بدلنے کا ارتکاب کرتے ہیں، وہ حدیث کو دین کا حصہ نہیں سمجھتے۔ وہ...

غامدی صاحب اور انکارِ حدیث (قسط 4)

غامدی صاحب اور انکارِ حدیث (قسط 3)

محمد رفیق چوہدری اس سلسلۂ مضامین میں اُن اُمور پر تفصیلی بحث و گفتگو کی جارہی ہے، جن کی بنا پر ہمارے نزدیک غامدی صاحب کا شمار منکرین حدیث میں ہوتا ہے اور اُن کا نظریۂ حدیث انکارِ حدیث پر مبنی ہے۔ پہلی قسط میں ہم نے غامدی صاحب کو اس لئے منکر ِحدیث قرار دیا تھا کہ وہ...

غامدی صاحب اور انکارِ حدیث (قسط 4)

غامدی صاحب اور انکارِ حدیث (قسط 2)

محمد رفیق چوہدری میرے نزدیک غامدی صاحب نہ صرف منکر ِحدیث ہیں۔ بلکہ اسلام کے متوازی ایک الگ مذہب کے علمبردار ہیں ۔ ان کے بارے میں ، سال بھر سے مسلسل میں ماہنامہ 'محدث' میں لکھ رہا ہوں اور یہ تمام تحریریں ایک مستقل  کتاب 'غامدی مذہب کیا ہے؟' کی صورت میں مطبوعہ شکل میں...

غامدی صاحب اور انکارِ حدیث (قسط 4)

غامدی صاحب اور انکارِ حدیث (قسط 1)

محمد رفیق چوہدری سنت کیسے ثابت ہوتی ہے؟سنت کا شرعی واصطلاحی مفہوم چھوڑکر غامدی صاحب پہلے تو اس کا ایک نرالا مفہوم مراد لیتے ہیں اور پھر اس کے ثبوت کے لئے انوکھی شرطیں عائد کردیتے ہیں ۔ ان کے نزدیکسنت کا ثبوت خبر واحد سے نہیں ہوتا بلکہ اس کا ثبوت کبھی صحابہ کرامؓ کے...

نسخ قرآن سے متعلق غامدی صاحب کے متضاد و متناقض خیالات

نسخ قرآن سے متعلق غامدی صاحب کے متضاد و متناقض خیالات

سید خالد جامعی قرآ ن کی آیتوں کو صرف قرآن کے سواکوئی منسوخ نہیں کرسکتا: غامدی برہان ص ۲۰۱۳ء ص ۵۱ ، ۵۲قرآن کی آیتوں کوصرف اور صرف تحقیق سے منسوخ کیا جاسکتا ہے : غامدی، میزان ۲۰۱۵ء،ص ۴۹کتابیہ عورت سے نکاح کی اجازت مشرکانہ تہذیب پر دین کے غلبے سے مشروط تھی غامدی میزان ص...

ڈاکٹر زاہد مغل

مقامات میں اپنی تحریر “قطعی و ظنی” میں جناب غامدی صاحب لکھتے ہیں کہ ائمہ اصول کے ہاں قطعیت احتمال کی نفی کا نام ہے اور یہ نفی دو طرح کی ہے:
1) جب سرے سے احتمال نہ ہو، (حنفی اصطلاحات کی رعایت کرتے ہوئے) اس کی مثال محکم و متواتر ہیں،
2) جب احتمال کے لئے پیش کردہ دلیل ناقابل التفات ہو (اسے غیر ناشی عن دلیل احتمال کہتے ہیں)، اس کی مثال ظاہر، نص و خبر مشہور ہیں۔
چنانچہ قطعی کا مطلب وہ صفت ہے جس سے حقائق میں ایسا امتیاز حاصل ہو جائے کہ نقیض کا احتمال نہ رہے۔
یہاں تک بات ٹھیک ہوگئی۔ تاہم آگے جاکر اسے قرآنی آیات سے متعلق کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ
“ان کے الفاظ ہی ان کی تفسیر ہیں اور ان میں نسخ، تخصیص یا تبدیلی اور تغیر کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا”۔
یہاں انہوں نے قطعیت کے درج بالا تصورات کو جس طرح نسخ پر لاگو کردیا ہے یہ خلط مبحث ہے اس لئے کہ احناف کے نزدیک نبیﷺ کی حین حیات قرآن میں مذکور “محکم” کے سوا ہر حکم کو نسخ کا احتمال لاحق رہتا ہے۔ ان کے نزدیک سرے سے نسخ کے احتمال سے منزہ محکم دو طرح کا ہے:
(الف) حسن و قبح عقلی سے ثابت مقدمات جیسے شکر منعم کا حسن اور جھوٹ وغیرہ کا قبیح ہونا،
(ب) وہ احکام جو لفظ “ہمیشگی” کے مفہوم کا فائدہ دینے والے الفاظ (جیسے “ابدا”) کے ساتھ نازل ہوئے ہوں،
ان کے سوا مفسر، نص و ظاہر سب کو نسخ کا صرف احتمال نہیں ہوتا بلکہ وہ ناشی عن دلیل احتمال ہوتا ہے اور اسی لئے احناف کے نزدیک نبیﷺ کی حین حیات خبر واحد تک سے نسخ جائز ہوتا ہے اس لئے کہ اس وقت تک حکم کی تابید صرف استصحاب حال پر مبنی ہوتی ہے جو کہ ظنی دلیل ہے۔ چنانچہ وہ احکام جو نسخ کا احتمال نہ ہونے کی بنا پر درج بالا مفہوم میں قطعی ہیں، احناف کے نزدیک وہ گنتی کے چند احکام ہیں۔ البتہ عام کی دلالت چونکہ اعیان یا افراد پر احناف کے نزدیک قطعی ہے، لہذا متصل تخصیص ہوئے بغیر وہ دوسرے معنی (ناشی عن دلیل احتمال سے پاک ہونے کے مفہوم) میں قطعی ہے۔ رہ گئے احناف کے سوا دیگر جمہور اصولیین، تو ان کے نزدیک چونکہ حسن و قبح عقلی معتبر نہیں اور راجح رائے کے مطابق لفظ “ابدا” کی دلالت بھی تخصیص قبول کرتی ہے لہذا ان کے نزدیک حنفی اصطلاح محکم کے درجے پر کوئی آیت نہیں جو سرے سے نسخ کے احتمال سے منزہ ہوسکے۔ رہا تخصیص کا احتمال، تو اس حوالے سے ان کا موقف واضح ہے کہ عام کی دلالت ظنی ہے۔
الغرض غامدی صاحب نے یہاں بھی اصولیین کے کچھ تصورات کو لے کر ان کی بحث میں خلط مبحث پیدا کرکے مقصد حاصل کرنے کی کوشش کی ہے اور نسخ سے متعلق درج بالا سطور لکھتے ہوئے وہ اس حقیقت پر بھی غور نہ کرسکے کہ اگر آیات قرآنیہ کو ناشی عن دلیل نسخ کا احتمال لاحق ہی نہیں تو بعض قرآنی احکام منسوخ کیسے ہوئے، چاہے قرآن سے ہوئے ہوں؟
یہاں اس بات کا ذکر مفید ہوگا کہ احناف کے نزدیک بھی سارا قرآن درج بالا دوسرے معنی میں قطعی نہیں اس لئے کہ وہ الفاظ کی دلالتوں کے فرق کو بخوبی جانتے تھے اور انہوں نے اس کا لحاظ رکھا ہے۔ البتہ مولانا فراہی صاحب نے کسی لسانیاتی اصول کی نشاندہی کے بغیر نظم قرآن کے تصور کے زور پر سارے قرآن کو قطعی قرار دے دیا ہے حالانکہ جزوی مسائل میں زیر بحث احتمالات جس قسم کے لسانیاتی امور سے جنم لیتے ہیں انہیں حل کرنے میں سورتوں کے جوڑے، سورت کا عمود، سورت کے مضامین وغیرہ جیسے استقرائی امور اکثر و بیشتر غیر متعلق ہوتے ہیں۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…