حجیتِ حدیث : قادیانیت و غامدیت

Published On October 21, 2024
حاسہ باطنی کی تعبیر اور غامدی صاحب

حاسہ باطنی کی تعبیر اور غامدی صاحب

محمد حسنین اشرف یہ بات بہرحال غامدی صاحب کو ہی ثابت کرنی ہے کہ حاسہ باطنی سے مراد کونسی حسیات ہیں اور ان کے لیے "حس" کی اصطلاح کیوں موزوں ہے؟ سر دست یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کیوں یہ اصطلاح بہت حوالوں سے غیر موزوں ہے: ۱۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہ اصطلاح خلط مبحث پیدا کرتی ہے...

وجودی حقائق اور غامدی صاحب 2

وجودی حقائق اور غامدی صاحب 2

محمد حسنین اشرف جاوید صاحب جب وجودی حقائق کی تعریف کرتے ہیں تو یوں کرتے ہیں کہ یہ ایسے حقائق ہیں جن کا انکار ممکن نہیں ہوتا۔ اب چونکہ اس میں بہت بحث تمحیص پڑتی ہے اور بہت سے ایسے حقائق جن کو وجودی حقائق مانا جا رہا تھا اور اب اٗن کا انکار ہوگیا ہے تو وہ اس پر مزید ایک...

وجودی حقائق اور غامدی صاحب 2

وجودی حقائق اور غامدی صاحب

محمد حسنین اشرف  دوسری قسط میں غامدی صاحب وجودی حقائق کی تعریف یوں کرتے ہیں: "وجودی حقائق اٗن حقائق کو کہتے ہیں کہ آپ چاہیں تو آپ اپنا سر اٗن سے ٹکرا کر اس کو پھوڑ سکتے ہیں اٗن کا انکار نہیں کرسکتے۔" اس سے قبل انہوں نے سوال کے جواب میں ہیوم کی دیکارت پر نقد (وجودی...

غامدی صاحب اور الحاد کا مقدمہ

غامدی صاحب اور الحاد کا مقدمہ

محمد حسنین اشرف باطنی حواس پر غامدی صاحب گفتگو کچھ یوں فرماتے ہیں: "جس طریقے سے ظآہری حواس کو لوگوں نے حواس کی تعبیر دی ہے، اگر آپ غور کریں تو وہ باطنی حواس کو بھی دیے ہوئے ہیں۔ ہم عام زبان میں کہتے ہیں کہ میری حس جمالیات اس سے متاثر ہوئی ہے۔ میرے حاسہ اخلاقی نے یہ...

حاسہ باطنی کی تعبیر اور غامدی صاحب

انسان کا حاسہ باطنی اور غامدی صاحب 2

محمد حسنین اشرف باطنی حواس پر غامدی صاحب گفتگو کچھ یوں فرماتے ہیں: "جس طریقے سے ظآہری حواس کو لوگوں نے حواس کی تعبیر دی ہے، اگر آپ غور کریں تو وہ باطنی حواس کو بھی دیے ہوئے ہیں۔ ہم عام زبان میں کہتے ہیں کہ میری حس جمالیات اس سے متاثر ہوئی ہے۔ میرے حاسہ اخلاقی نے یہ...

عبد اللہ معتصم

احادیث مبارکہ محدثین کی اصطلاح میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے قول، فعل اور تقریر کو کہتے ہیں۔ احادیث مبارکہ کی گراں قدر امانت حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ، صحابہ کرام سے تابعین، تبع تابعین اور پھر ہر دور میں ایک جماعت سے سینہ بہ سینہ ہم تک پہنچی ہے۔ غامدی صاحب نے دوسرے عقائد واعمال کی طرح احادیث پر بھی اپنا زہریلا پنجہ مار دیا۔ لکھتے ہیں: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وفعل اور تقریر وتصویب کی روایتیں جو زیادہ تر اخبار آحاد کے طریقے پر نقل ہوئی ہیں اور جنہیں اصطلاح میں حدیث کہا جاتا ہے ،ان کے بارے میں دو باتیں ایسی واضح ہیں کہ کوئی صاحب علم انہیں ماننے سے انکار نہیں کر سکتا۔ ایک یہ کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی حفاظت اور تبلیغ واشاعت کے لیے کبھی کوئی اہتمام نہیں کیا۔ دوسری یہ کہ ان سے جو علم حاصل ہوتا ہے وہ کبھی علم یقین کے درجے تک نہیں پہنچتا۔ حدیث سے متعلق یہی دو حقائق ہیں جن کی بناء پر یہ ماننا تو ناگزیر ہے کہ اس سے دین میں کسی عقیدہ وعمل کا اضافہ نہیں ہوا۔“ (میزان ص68)

انکار حدیث کے لیے بطور مقدمہ کے غامدی صاحب نے جو دو دعوے پیش کیے وہ بالکل بے بنیاد اور مبنی برجہل ہیں۔ پہلی بات کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث کی حفاظت واشاعت کا اہتمام نہیں کیا، غلط اور بے اصل ہے۔ اس لیے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو احادیث سننے، ان کو حفظ کرنے اور ان کی کتابت وتحریر کرنے کی تاکید فرمائی اور ایسا کرنے والوں کے حق میں دعا فرمائی۔ اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حفظ اور کتابت دونوں ذرائع سے کام لیتے ہوئے احادیث کی حفاظت اور ان کی تبلیغ واشاعت کا اہتمام فرمایا۔ حضرت زید بن ثابت فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ: ”نضّر الله امرأ سمع منا حدیثاً فحفظہ حتیٰ یبلغہ غیرہ․“ (ترمذی، رقم:2656) (کہ الله اس آدمی کو تروتازہ اور شاداب رکھے جس نے ہم سے کوئی حدیث سن کر یاد کر لی اور اسے دوسروں تک پہنچا دیا۔)

اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے روز جو خطبہ ارشاد فرمایا۔ اس میں فرمایا: ”ویبلغ الشاہد الغائب․“ (بخاری:154) (کہ جو یہاں حاضر ہے وہ میری باتیں غائبوں تک پہنچائے۔) صحابہ کرام نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ بالا ارشادات کی روشنی میں احادیث کا بہت بڑا ذخیرہ یاد کر لیا۔ اسے لکھ کر محفوظ کیا۔ اس پر عمل کیا اور اسے دوسروں تک پہنچا دیا۔ مرزاقادیانی بھی احادیث مبارکہ کا انکار کرتا ہے۔ لیکن وہ ایک قدم بڑھ کر سخت بے ادبی کے الفاظ استعمال کرکے احادیث مبارکہ کی توہین بھی کرتا ہے۔ چناں چہ لکھتا ہے: ”میرے اس دعویٰ کی بنیاد حدیث نہیں، بلکہ قرآن مجید اور وحی ہے، جو میرے پرنازل ہوئی۔ ہاں! تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق اور میری وحی کے معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔“(اعجاز احمدی، ص30، خزائن ج19 ص140)

جاوید غامدی نے بھی احادیث کو ناقابل استدلال قرار دیا اور دین سے خارج قرار دیا اور مرزاقادیانی نے بھی ناقابل اعتبار گردانا۔ فرق صرف یہ کہ غامدی صاحب نے تمہید باندھ کر اور الفاظ کو گھما پھرا کر احادیث کی حجیت سے انکار کیا ہے اور مرزاقادیانی نے بد اخلاقی کا مظاہرہ کر کے خوب دھڑلے سے انکار کیا۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…