تفسیر کے لئے بنیادی شرط اور غامدی صاحب – قسط اول

مولانا عبد القدوس قارن صاحب رحمہ اللہ نحمدہ و نصلی علی رسوله الکریم۔ أما بعد علمائے امت نے قرآن کریم کی تفسیر کرنے والے کے لیے جو شرائط مقرر فرمائی ہیں ان میں حدیث، اصولِ حدیث، فقہ، اصولِ فقہ، علومِ بلاغت، صرف، نحو اور اسبابِ نزول وغیرہ میں مہارت ہونا ضروری ہے۔ اور سب...

حصریہ اسلوب

جہانگیر حنیف حصر کا مطلب حصار قائم کرنا ہے۔ جس جملے کے بارے میں حصریہ ہونے کا دعوی کیا جائے، وہ اپنے موضوع کے گرد ایک ایسا دائرہ کھینچتا ہے کہ کوئی ایک بھی چیز اس دائرے سے باہر جا سکتی ہے اور نہ پائی جا سکتی ہے۔ حصر اور حصار کے یہی معنی ہے۔ اگر آپ ان معانی کا انکار...

قرآن مجید کے ساتھ سنت کے متعلق ہونے کی تین جہات

جہانگیر حنیف پہلا درجہ یہ ہے کہ سنت ہر پہلو سے قرآن کے موافق ہو؛ چنانچہ قرآن اور سنت کا کسی ایک حکم پر وارد ہونا دراصل دلائل کے باہم موافقت اور ایک دوسرے کی تائید کی مثال ہے۔ دوسرا درجہ یہ ہے کہ سنت قرآن کے مراد کی توضیح و تشریح کرے اور اس کا بیان بنے۔ تیسرا درجہ یہ...

(2) مجھے خیال ہوتا ہے“ | ’قطعی‘ تفسیر کا عمدہ نمونہ

جہانگیر حنیف آئیے اب ہم اپنے مضمون کے دوسرے حصہ کی جانب بڑھتے ہیں۔ اس حصہ میں ہم دکھائیں گے کہ مذکورہ آیہ مبارکہ کے اس ٹکڑے کا درست معنی کیا ہے۔ اس حصہ میں ہم اپنے قارئین کو یہ بھی دکھانا چاہیں گے کہ غامدی و اصلاحی نے اپنے ترجمہ و تفسیر میں کیسی فاش غلطیوں کا ارتکاب...

(1) مجھے خیال ہوتا ہے“ | ’قطعی‘ تفسیر کا عمدہ نمونہ

جہانگیر حنیف ”مجھے خیال ہوتا ہے“، ایک فقرہ ہے جس کا جو بھی مطلب ہے، اس میں قطعیت نام کی کوئی چیز نہیں۔ یہ ہمارا دعویٰ ہے اور اِس پر ہمیں یقین ہے۔ آپ کوئی ایک دلیل لے آئیں کہ ”مجھے خیال ہوتا ہے“ کا فقرہ کسی بھی طرح کی قطعیت کا حامل ہو سکتا ہے۔ قطعیت تو دور کی بات ہے،...