غامدی صاحب کا تصورِ نظم : چند سوالات

ڈاکٹر فرخ نوید ۔1- آیات کے معانی کی تعیین کے لئے مکتب فراہی بشمول غامدی صاحب نظم کو ضروری قرار دیتا ہے۔ لیکن نظم کو ملحوظ رکھ کر معنی کی تعیین تو خود ایک انسانی کاوش اور استنباطی عمل ہے کیونکہ نظم قرآن کی روشنی میں ایک ہی آیت کے مدعا و معنی کو متعین کرنے میں بھی...

غامدی صاحب کے ہاں مجمل کی چند مثالیں

ڈاکٹر زاہد مغل غامدی صاحب کا کہنا ہے کہ قرآن مجمل مفتقر الی البیان سے خالی ہے اور اس مقصد کے لئے وہ سنت کو ماقبل قرآن کہتے ہیں تاکہ یہ کہا جاسکے کہ جب صلوۃ و حج وغیرہ کی آیات نازل ہوئیں تو مخاطبین ان اعمال کی تفصیلات سے واقف تھے اور قرآن کی آیات ان مخصوص اعمال کی جانب...

مجمل مفتقر الی البیان کا معنی

ڈاکٹر زاہد مغل جناب حسن الیاس صاحب اپنی حالیہ ویڈیو میں فرماتے ہیں کہ: “(علمائے اصولیین کے مطابق) قرآن مجید کے اندر بہت ساری ایسی اصطلاحات الفاظ استعمال ہوئے ہیں جو مجمل مفتقر الی البیان ہیں۔ اس مجمل مفتقر الی البیان کا مطلب یہ ہے کہ قرآن نے ایک لفظ استعمال کیا...

نسخ القرآن بذریعہ سنت : مولانا اصلاحی

ڈاکٹر زاہد مغل مولانا اصلاحی صاحب مبادی تدبر حدیث میں نسخ القرآن بذریعہ سنت کی ممانعت پر حجت قائم کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ حدیث میں ضعف کے اتنے پہلو ہیں کہ اس کا قرآن جیسی قطعی الدلالت چیز کو منسوخ کردینا بالکل خلاف عقل ہے۔ مولانا اصلاحی صاحب کی یہ بات محض ایک خطابی...

اصولیین کا قطعیت کا مفہوم اور نسخ: غامدی صاحب کا خلط مبحث

ڈاکٹر زاہد مغل مقامات میں اپنی تحریر “قطعی و ظنی” میں جناب غامدی صاحب لکھتے ہیں کہ ائمہ اصول کے ہاں قطعیت احتمال کی نفی کا نام ہے اور یہ نفی دو طرح کی ہے: 1) جب سرے سے احتمال نہ ہو، (حنفی اصطلاحات کی رعایت کرتے ہوئے) اس کی مثال محکم و متواتر ہیں، 2) جب...

بیان و سورۃ نحل آیت : 44 ، ابن عاشور اور غامدی صاحب – قسط سوم

ڈاکٹر زاہد مغل ، مشرف بیگ اشرف – علامہ ابن عاشور کے کلام کا تجزیہ اس تناظر کے واضح ہونے کے بعد ہم علامہ ابن عاشور کے کلام کے تجزیے کی طرف آتے ہیں۔ علامہ نے اپنی تفسیر میں اس آیت کی جن دو توجیہات کا ذکر کیا وہ دراصل اسی بحث سے متعلق ہیں جسے اوپر اصولیین کے ہاں...