غامدی صاحب کا اپنے ہی اصولوں کو پامال کرنا | محرماتِ طعام سنت ہیں

جہانگیر حنیف اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ غامدی صاحب کے لیے یہ تضاد کیسے ممکن ہوا۔ اُنھوں نے اصول و مبادی کے آغاز میں محرماتِ طعام کے سنت ہونے کا دعویٰ فرمایا اور خور و نوش کے باب میں اِنھی محرمات کو قرآن مجید سے ماخوذ احکامات کے طور پر پیش کیا۔ یہ اُن کے فکر و عمل میں ایک...

فکرِ غامدی کے تناقضات | خور و نوش سے مزید استشہاد

جہانگیر حنیف بیانِ شریعت کو بیانِ فطرت قرار دینے سے کیا علمی و فقہی مسائل پیدا ہوتے ہیں، اس کی وضاحت پہلے گزر چکی ہے۔ غامدی صاحب نے شراب کی حرمت کو بیانِ فطرت قرار دیا، حالانکہ قرآن مجید اِسے رجس قرار دیتا ہے۔ قرآن مجید نے مردار، خون اور خنزیر کے گوشت کو رجس قرار دیا۔...

قرآن کے متواتر یا قطعی الثبوت ہونے کا مطلب

ڈاکٹر زاہد مغل قرآن و سنت کی بحث میں خلط مبحث پیدا کرنے والے جدید لوگ “قرآن تواتر سے منقول ہوا” پر خوب زور دیتے ہیں، لیکن اس جملے کا مطلب نہیں سمجھتے۔ قرآن کے الفاظ میں شرعی دلائل ہیں اور ان کے متواتر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ قرآن اپنے قطعی، ظنی و مجمل دلائل...

نسخ القرآن بذریعہ سنت : مولانا اصلاحی

ڈاکٹر زاہد مغل مولانا اصلاحی صاحب مبادی تدبر حدیث میں نسخ القرآن بذریعہ سنت کی ممانعت پر حجت قائم کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ حدیث میں ضعف کے اتنے پہلو ہیں کہ اس کا قرآن جیسی قطعی الدلالت چیز کو منسوخ کردینا بالکل خلاف عقل ہے۔ مولانا اصلاحی صاحب کی یہ بات محض ایک خطابی...

سورۃ بقرۃ آیت 62 اور مدار نجات

ڈاکٹر زاہد مغل سورۃ بقرۃ کی آیت 62 سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اخروی نجات کے لئے نبیﷺ کو ماننا ضروری نہیں بلکہ مسلمان، یہود، نصاری و صائبین میں سے جو بھی اللہ پر ایمان لائے اور نیک کام کرے اسے اجر ملے گا۔ آیت سے کئے جانے والے اس استدلال میں متعدد جھول ہیں:...

علم النبی اور قرآن کا تعلق: حسن الیاس صاحب کا مغالطہ

ڈاکٹر زاہد مغل جناب حسن الیاس صاحب فرماتے ہیں کہ جناب غامدی صاحب نے حدیث کو قرآن کی شرح و وضاحت کے طور پر بٹھا کر منکرین سنت کا ناطقہ بند کردیا ہے اور اب حدیث کا انکار قرآن کے انکار کے بغیر ممکن نہیں رہ گیا اس لئے کہ شرح کا انکار اصل کا انکار ہے۔ تاہم یہ بیان مبالغہ...