بیسویں صدی کی علمیاتی بحث اور حجیتِ سنت کا انکار

ڈاکٹر زاہد مغل سنت کی حجیت کے انکار یا اس پر تحفظات و شبہات کے پس پشت انیسویں و بیسویں صدی کی علمیاتی بحثوں کا بھی عمل دخل ہے جہاں قطعی و آفاقی نوعیت کے علم پر زور دیا جاتا تھا اور گمان غالب کے درجے کی بات کو مفید نہیں سمجھا جاتا تھا۔ چنانچہ ٹھیٹھ منکرین سنت ہوں یا...

اخبارِ آحاد بحیثیت مفسر، مخصص،ناسخ ایک شبہے کا ازالہ

ڈاکٹر زاہد مغل “نبی دین کسی کے کان میں نہیں بتاتے تھے” کے شبہے پر قاضی باقلانی کا تبصرہ اخبار احاد سے ثابت بیان تفسیر، تخصیص و نسخ کو مشکوک بنانے کے لئے ایک شبہ یہ پیدا کیا جاتا ہے کہ نبیﷺ دین کا حکم کسی کے کان میں تھوڑی بتاتے تھے، گویا جس طرح مجمل و عام و...

اصولیین کا قطعیت کا مفہوم اور نسخ: غامدی صاحب کا خلط مبحث

ڈاکٹر زاہد مغل مقامات میں اپنی تحریر “قطعی و ظنی” میں جناب غامدی صاحب لکھتے ہیں کہ ائمہ اصول کے ہاں قطعیت احتمال کی نفی کا نام ہے اور یہ نفی دو طرح کی ہے: 1) جب سرے سے احتمال نہ ہو، (حنفی اصطلاحات کی رعایت کرتے ہوئے) اس کی مثال محکم و متواتر ہیں، 2) جب...

غامدی نظریہ حدیث

ڈاکٹر زاہد مغل اس ویڈیو میں احناف و جمہور متکلمین اہل سنت کے نظریہ بیان اور قرآن و سنت کے باہمی تعلق کو واضح کرتے ہوئے غامدی صاحب کے نظریہ حدیث، جسے وہ قرآن کی شرح و وضاحت بھی کہتے ہیں، کا اصولیین کے نظرئیے سے موازنہ کیا گیا ہے۔ علمی زبان کی رو سے غامدی صاحب سنت و...

غامدی نظریہ حدیث کا جائزہ

ڈاکٹر زاہد مغل غامدی صاحب کا دعوی ہے کہ لفظ بیان کے دو معنی ہیں: اظہار الشیئ اور اظہار ما فی الشیئ۔ اس قسط میں ان کے نظریہ حدیث پر نقد کا آغاز کرتے ہوئے یہ بتایا گیا ہے کہ ان کے دعوے کے برعکس لغوی طور پر لفظ بیان کا ایک ہی مطلب ہے نہ کہ دو۔ اس کے ساتھ یہ بھی واضح کیا...